حرفِ دشنام سے سنگِ الزام تک


مرزا غالب کو ایک ناراض شخص کا خط ملا جس میں انہوں نے مرزا غالب کو بے شمار گالیوں سے نوازا۔ مرزا غالب نے خط پڑھ کر اس ناراض شخص کو جو جوابی خط لکھا وہ کچھ اس طرح سے تھا کہ عزیزم آپ کا خط ملا آپ نے جو کچھ لکھا جو اباً وہی کچھ لکھنے کو میرا دل بھی چاہا مگر اس لیے نہ لکھ سکا کہ میاں آپ کو تو یہ بھی نہیں معلوم کے گالی دی کیسے جاتی ہے۔ آپ کی اطلاع کے عرض ہے کہ بچے کو ہمیشہ ماں کی گالی دی جاتی ہے، جوان کو بہن کی گالی دی جاتی ہے، شادی شدہ کو بیوی کی اور بوڑھے کو بیٹی کی گالی دی جاتی ہے مگر چونکہ تم گالی دینے کے بنیادی علم سے بھی نا بلد واقع ہوئے ہو اس لیے تمہیں گالی دینے کو من نہیں کرتا۔

جس طرح مرزا غالب کے دوست گالی دینے میں بالکل اناڑی ثابت ہوئے تھے بالکل اسی طرح ماضی کی مقبول اداکارہ ہاجرہ خان پانیزئی نے بھی اپنی خود نوشت ”ویئر دی اوپیم گروز“ لکھ کر تصنیف و تالیف سے متعلق اپنی انتہائی ناتجربہ کاری اور اعلیٰ درجہ کی نالائقی کا ثبوت دیا ہے۔ ہماری دانست میں ہاجرہ خان پانیزئی کے پاس عمران خان پر الزامات لگانے کے لیے انٹرویو، پریس کانفرنس اور وی لاگ سمیت اَن گنت ایسے میڈیم موجود تھے، جن کا سہارا لے کر نہ صرف وہ عمران خان کے چہرے پر چسپاں پارسائی کا جھوٹا نقاب باآسانی اُتار سکتی تھیں۔ بلکہ وہ مذکورہ اظہاریوں میں سے کسی ایک کو بروئے کار لاکر اپنی بات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا بھی سکتی تھیں اور اگر انہوں نے کتاب لکھنے کا کشٹ ہی اُٹھانا تو کم ازکم کسی ایسے پیشہ ور مصنف کی خدمات حاصل کر لیتیں، جسے تصنیف و تالیف کا تھوڑا سا تو تجربہ ہوتا۔ تاکہ ہاجرہ پانیزئی کی جانب سے عمران خان پر لگائے الزامات کی حقیقت کو کتاب میں موجود تحریری اغلاط کی بھرمار کی وجہ سے رَد کرنا ناقدین کے لیے مشکل ہوجاتا۔

بہرکیف ہاجرہ پانیزئی کی طرف سے عمران خان پر لگائے جانے والے الزامات بادی النظر میں اِس لیے بھی بالکل ٹھیک اور درست محسوس ہوتے ہیں کہ ہاجرہ وہ پہلی انسان تو ہیں نہیں جو عمران خان کی رنگین و سنگین مزاجی کے بارے میں ہوش رُبا انکشافات کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ جب سے عمران خان شہرت کے بالا خانے میں براجمان ہوئے ہیں تب سے لے کر کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب اُن پر کسی نے اخلاق باختگی کے رنگین الزامات عائد نہیں کیے ہوں۔ اَب ایسا تو ہو نہیں کہ ساری دنیا ہی جھوٹ بول کر عمران خان کو اخلاق باختہ ثابت کرنے کی جنون میں مبتلا ہو چکی ہے۔ یقیناً عظیم کھلاڑی کی مینو فیکچرنگ میں ہی کوئی تو ایسا سقم ضرور موجود ہے جو 70 برس کی عمر میں بھی اُن کے منہ سے چھٹتی نہیں ہے کافر لگی ہوئی۔ دراصل عمران خان کی مردانہ طاقت سے بھرپور زندگی سے اگر سیتا وائٹ، ریحام خان اور عائشہ گلالئی جیسے سینکڑوں کرداروں کو نکال دیا جائے تو پھر اُن کے دامن میں آخر بچتا ہی کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں الزام کا پودا یوں تو روزِ اول ہی میں بو دیا گیا تھا لیکن اس پودے کی آبیاری کر کے اِسے تناور درخت بنانے میں جتنی محنت عمران خان اور ان کی جماعت نے کی ہے کوئی دوسرا اُس کا عشر عشیر بھی نہیں کر سکا لیکن افسوس اب اس درخت کے کانٹے عمران خان اور اُن کی جماعت کے لیے ہی راہ کا سب سے بڑا آزار بنتے جا رہے ہیں۔

اگر غور و فکر کیا جائے تو منکشف ہو گا کہ دوسروں پر الزام لگانا بھی انسان کے مزاج اور سرشت کا ایک حصہ ہے بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اس فعل ِ قبیح سے پرہیز کر سکتے ہیں۔ کبھی نہ کبھی ہم میں سے ہر شخص کی زبان پر غصہ کے وقت کوئی نہ کوئی الزام اپنے مخالف کے لیے آہی جاتا ہے۔ ہمیں دیکھنا یہ چاہیے کہ آخر الزامات کا ماخذ کیا ہے۔ قیاس یہ کیا جاسکتا ہے کہ جوں جوں انسان کے سماجی تعلقات بڑھے اور تہذیب و تمدن نے ترقی کی منازل طے کیں۔ اسی قدر انسان کے اظہار کی قوتیں بھی بڑھتی گئیں کیونکہ انسان کے تعلقات و روابط کا سب سے بڑا وسیلہ قوت ِ اظہار ہی تھی اس لیے تعلقات بڑھنے سے محبت و نفرت بھی بڑھنے لگی۔ اب یہ بات لازم تھی کہ محبت و نفرت کا اثر انسان کی قوتِ اظہار پر بھی پڑے۔ پس محبت نے وہ تمام الفاظ پیدا کیے جو دعاؤں میں، تہنیتوں میں، تعریفوں میں استعمال کیے جاتے ہیں اور نفرت نے الزامات، بددعائیں اور مذمت کے کلمات کو ایجاد کیا۔ پھر مختلف حالات، زمانوں، مختلف طبیعتوں اور مواقعوں نے اُن میں اس قدر گوناگوں کثرت پیدا کردی کہ آج اگر ہم صرف پاکستانی سیاست میں ایک دوسرے پر عائد الزامات کی لغت ترتیب دینے بیٹھ جائیں تو قوی اُمید ہے کہ دنیا کی سب سے ضخیم کتاب منصہ شہود پر آ جائے گی۔

الزامات کی بے شمار قسمیں ہوتی ہیں۔ اپنی عصمت و عزت کا پاس کیونکہ ہر شخص کو سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے اس لیے کسی کے لیے سب سے سنگین الزام اس کی عصمت و عفت پر لگایا ہوا الزام ہی ہوتا، بہرحال ایک بات طے ہے آپ پر جو بھی شخص الزام لگائے گا وہ آپ کا واقف کار اور جاننے والا ضرور ہو گا۔ کسی اجنبی کو کسی اجنبی پر الزام لگانے کا تاریخ میں کوئی قابلِ ذکر ریکارڈ دستیاب نہیں۔ جو شخص انسان کو سب سے زیادہ عزیز ہوتا ہے اُس کا الزام سب سے زیادہ صدمہ پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔ ہاجرہ پانیزئی میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں اُنہوں نے الزام بھی عمران کی عصمت و عفت پر لگا یا ہے اور وہ ایک زمانہ میں عمران خان کے بے حد قریب رہنے کا شرف بھی حاصل کرچکی ہیں۔ اب اُن کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا عمران خان کو کتنا نقصان ہو گا اس کا فیصلہ تو ہاجرہ پانیزئی کی استقامت کرے گی۔ اگر ہاجرہ پانیزئی اپنے الزامات پر ڈٹی رہیں تو بہت حد تک عمران خان کو زبردست سیاسی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ مگر ہاجرہ خان پانیزئی، ریحام خان اور عائشہ گلالئی کے الزامات کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ اُس نے پاکستانی سیاست میں متحرک تمام سیاسی خواتین کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ جس کا خمیازہ پاکستانی سیاست کا ذوق و شوق رکھنی والی خواتین کو کافی عرصہ تک بھگتنا ہو گا۔

ہم تو صرف اُمید ہی کر سکتے ہیں کہ وہ لوگ جو سیاست میں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے کے دعویدار ہیں اور مستقبل میں اپنے لیے نیک نامی اور اچھی شہرت کے طلب گار ہیں کم ازکم انہیں تو اپنے مخالفین پر ہر قسم کے الزامات سے قطعاً پرہیز کرنا چاہیے۔ نہ جانے کب ہمارے سیاستدان زندگی گزارنے کے اس بنیادی نقطہ کو سمجھیں گے کہ قوت ِ اظہار ہی انسان کی تہذیب و تمدن کا پہلا معیار ہے اور اس کا پورا معاشرے پر اثر بدرجہ اتم ہوتا ہے۔ اس لیے جو کسی پر الزام لگاتا ہے تو پھر اُس پر بھی کبھی نہ کبھی الزام ضرور لگتا ہے۔ الزامات سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ اپنے کسی بھی مخالف پر بلا تحقیق اور بلا ثبوت الزامات لگانے سے اجتناب برتا جائے۔ مگر کیا اتنی معمولی سی بات کبھی ہمارے سیاستدانوں کو سمجھ آئے گی؟

Facebook Comments HS