عارضی جنگ بندی


یہ افسانہ 25 نومبر 2023 کے دن کے متعلق ہے۔

بمباری بند ہونے والی ہے۔
یہ خبر ٹی وی کی خبروں کے ساتھ دنیا میں پھیل چکی تھی لیکن کیمپ میں نہ ٹی وی تھا نہ بجلی کہ فون یا ایمیل سے خبر مل جاتی۔ لیکن کوئی دوڑتا ہوا آیا تھا اور اس نے پھولی ہوئی سانسوں سے بتایا تھا کہ اس کو کسی نے بتایا ہے کہ جو بات چیت جنگ بندی کے لیے ہو رہی تھی وہ مکمل ہو گئی ہے اور اس نے یہ خبر کسی معتبر شخص سے سنی تھی۔ اب کیمپ میں اسی طرح زبانی خبریں ملتی تھیں۔ چالیس دن کی بمباری کے بعد اب بھی شمال کی طرف سے لوگ پیدل جنوبی غزہ کی طرف آرہے تھے۔ یہ تھکے ہارے جب دکھائی دیتے تھے تو دیکھنے والے دوڑ کر ان کے تھیلے اور سامان سنبھال لیتے تھے اکثر وہ تکان سے انجان مہربانوں کی بانہوں میں جھول جاتے تھے۔ فاقہ زدہ گھروں میں ان کی ضیافت ہوتی تھی اور اس کے بدلے وہ ان منہدم عمارات کے بارے میں بتاتے تھے جن کو انھوں نے راستے میں دیکھا تھا یا ناقابل استعمال سڑکوں کے بارے میں۔ ان خبروں کو سن کر کئی آنکھوں میں امید کی لو بجھ جاتی تھی، کبھی کوئی مرد اٹھ کر باہر جاتا اور دیوار سے سر ٹکا کر رونے لگتا تھا۔

لیکن یہ کل کی باتیں تھیں آج تو کوئی جہاز بم نہیں گرائے گا۔

ام سلیم کو خیال آیا کہ شاید اب باقی عزیزوں کی خیریت مل جائے، کون زندہ ہے، کس کی نمازِ جنازہ پڑھی جا چکی ہے اور کس کی لاش اب تک ملبے میں دبی ہوئی ہے۔ وہ روزانہ جا کر چندھی چندھی آنکھوں سے محکمہ صحت کی لگائی ہوئی لسٹ پر ان لوگوں کے نام پڑھتی تھیں جن کی نماز جنازہ پڑھی جا چکی ہے۔ مرنے والے اتنے زیادہ تھے کہ ان کا دل سن سا ہو گیا تھا لیکن اب بھی کوئی پہچانا ہوا نام پڑھ کر چاہے وہ ان کی سڑک پر ٹھیلا لگانے والے کا کیوں نہ ہوتا ان کی زبان سے کلمہ استرجہ کسی بین کی طرح نکلتا تھا اور وہ مرنے والے کے بجائے اس کے لواحقین کے لیے دعا کرنے لگتی تھیں۔ شہید تو اللہ کے پاس تھا جنت میں تھا، زندہ بچ جانے والے دنیا کے جہنم میں، بھوکے پیاسے، بہت سے زخمی، مکانوں کے ملبے میں ٹانگ ہاتھ گنوا کر درد سے تڑپ رہے تھے۔ اسپتال سے انھیں آپریشن کے بعد کیمپ بھیج دیا گیا تھا، وہاں نئے زخمیوں کے لیے جگہ چاہیے تھی۔

ام صہیب نے دیکھا کہ مرد اور ان کے ساتھ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے لڑکے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ مضبوط لکڑیاں، لوہے کے پائپ اور سریے، رسیاں اور کدالیں لے کر اس عمارت کا رخ کر رہے ہیں جو کل رات بم کا نشانہ بنی تھی۔ رات کے اندھیرے میں جس کسی کی چیخیں ان تک پہنچیں ان کو وہ نکال لائے تھے لیکن اب دن کی روشنی میں وہ پھر کسی زخمی کو بچانے یا کسی لاشے کو شناخت کر کے اسے مٹی دینے جا رہے تھے۔ مرنے والا ایک انسان تھا یہ انسانیت کی تذلیل تھی اگر اس کو سپرد خاک نہ کیا جاتا۔

شمالی غزہ انسانوں سے خالی ہو چکا تھا اب وہاں صرف اسرائیلی فوجی اور کتے رہ گئے تھے۔ کھنڈرات میں سے لاشوں کے خراب ہونے کی بو پھیل رہی تھی اور کتے گلیوں میں انسانی اعضا بھنبھوڑتے نظر آرہے تھے۔ ام صہیب مردوں کے پیچھے ایک چادر اٹھائے لنگڑاتی ہوئی چل دی اس کی بہو ریم اسی ملبے میں تھی اور بیٹا دفن ہو چکا تھا۔

بچوں کے ہاتھ تھامے مائیں پانی اور کھانے کی تلاش میں نکل چکی تھیں آج کم از کم سب کے زندہ واپس آنے کا تو یقین تھا۔ ان کو ایک طرف سے اٹھتا ہوا دھواں نظر آیا لیکن اس دھویں سے ان کو دہشت نہیں ہوئی، یہ ایک سرمئی سا آسمان کی طرف اٹھتا ہوا مرغولہ تھا جس سے گرم روٹیوں کی اشتہا انگیز خوشبو کی امیدیں وابستہ کی جا سکتی تھیں۔ ان کے قدم تیز ہو گئے۔ تیز چلنے کے لیے ام ایمن نے اسرا سے چھوٹے بھائی کو گود میں اٹھا لینے کو کہا۔ اس نے جھک کر بھائی کو کندھوں پر بٹھا لیا اور سڑک کے بیچ میں بھاگنے لگی، چھوٹا ابراہیم بہن کے بال مٹھیوں میں پکڑ کر کلکاریاں مارنے لگا۔ کئی لڑکوں نے مل کر سڑک کے اوپر پڑے عمارت کے ملبے کو ادھر ادھر ڈھیر کر کے اسے درمیان میں فٹ بال کھیلنے کے لیے صاف کیا تھا۔ اسرا اسی کا فائدہ اٹھا رہی تھی۔ ام ایمن ڈر گئی کہیں ابراہیم گر نہ جائے کہیں یہ لمحہ بھر کی ہنسی اسے مہنگی نہ پڑ جائے۔ اس کو لگتا تھا کہ شوہر اور ان بچوں کے باپ کے مرجانے کے بعد اسے خوشیوں کا کوئی حق نہیں رہا ہے۔ شاید ہر خوشی کا لمحہ اپنے دامن میں غم لیے ہوئے ہے۔

اس نے اسرا کو ڈانٹا، کیا لڑکوں کہ طرح اچھل کود کر رہی ہو۔ اسرا بھی اب تھک کر بھاگنا بند کر چکی تھی۔ اب وہ کھانے کی خوشبو سونگھ سکتے تھے۔ لیکن انھیں وہاں پر لوگوں کے ہجوم کا اندازہ ہوا۔ ایک لمبی لائن بلکہ دو لمبی لائنیں مرد و زن کی بن چکی تھیں تقریباً آدھے عورت مرد بچوں کو گودوں میں لیے کھڑے تھے بلکہ بچے بھی اپنے سے چھوٹے بہن بھائی کا ہاتھ تھامے انھیں بہلا رہے تھے۔ ام ایمن نے دیکھا کہ پانی حاصل کرنے کے لیے ایک الگ قطار ہے۔ اس نے شیرخوار کو سنبھالتے ہوئے ابراہیم کو اسرا سے لے کر اپنے برابر کھڑا کر لیا اور اسرا کو بالٹی دے کر پانی کی لائن میں کھڑا ہونے کا اشارہ کیا، ”یہ بہت بھاری ہوگی“ ، وہ ٹھنکنے لگی۔ ”میری بچی، جب یہ بھر جائے گی تو میں اسے اٹھا لوں گی تم روٹیاں اٹھا لینا، اب جاؤ قطار میں کھڑی ہو جاؤ“ ۔

ام ایمن کو اپنا بڑا بیٹا ایمن یاد آیا جس کے نام پر اس کے دو سال قبل شہید ہو جانے کے باوجود اسے ام ایمن کہا جاتا تھا، ایمن کی ماں، وہ کبھی اس نام کے علاوہ جواب نہیں دیتی تھی۔ اس کا تیرہ سالہ بیٹا، قد نکال آیا تھا لیکن ابھی چہرہ بچوں کے جیسا تھا۔ پندرہ برس پر تو پورا جوان ہوتا۔ فٹ بال کھیل رہا تھا جب کسی اسرائیلی فوجی کی گولی نے اس کی جان لے لی۔ سنا ہے وہ ساتھیوں پر اپنی نشانہ بازی کا سکہ جمانا چاہتا تھا کہ وہ ایک بھاگتے ہوئے لڑکے کے سر کا نشانہ بھی لگا سکتا ہے، اور اس کی شیخی کامیاب ہو گئی۔ ایک آہ اس کے لبوں تک آئی لیکن سوکھی آنکھوں نے اسے واپس سینے میں دھکیل دیا۔ پینتیس سال کی ام ایمن نے آنسو پی لیے، شیرخوار کو سنبھال کر اس نے ابراہیم کو ہاتھ سے آگے کیا اور قطار میں ایک قدم اور آگے بڑھ گئی۔ غزہ میں ہر چیز کے لیے قطار میں لگ کر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ پانی، کھانا، دوا علاج، سر چھپانے کا آسرا بس موت ہے جو بے مانگے بغیر انتظار کے مل جاتی ہے۔

اس کے چاروں طرف ایک شور تھا۔ باتیں، احکامات، گزارشات۔ بھوک کا علاج اب نزدیک تھا، پکا نے اور بانٹنے والے خوش مزاجی سے باتیں کر رہے تھے۔ اسے اندازہ ہوا کہ جو کوئی کسی موت کا ذکر کرتا وہ اپنی آواز کو دھیما کر لیتا تھا تاکہ اس لمحے کی رونق کم نہ ہو۔ موت ایک ایسی حقیقت تھی جس سے ان کے بچے تک بخوبی آشنا تھے لیکن کیا ضرورت تھی کہ ایسی بات کی جائے کہ نوالے حلق سے اتر نہ پائیں۔

ام صہیب اپنے بیٹے کے گھر کے ملبے کا چکر کاٹ کر اس طرف آ چکی تھی جہاں اس کے خیال میں ان کے فلیٹ کا ملبہ تھا۔ یہ خیال اسے ملبے میں دبے ایک پنجرے کی تیلیوں کو دیکھ کر آیا۔ یہ رنگین طوطا اس نے اپنی بہو کو سالگرہ پر دیا تھا پنجرے کا اوپر کا حصہ سنہری گنبد نما تھا جس میں ٹانگنے کا ہک لگا ہوا تھا۔ اسے یاد آیا کہ یہ نیلا پیلا پرندہ اس کی بہو کو کتنا پسند تھا اور ریم کی خوشی دیکھ کر اس کا بیٹا کتنا مسرور تھا۔ اس وقت وہ سنہری گنبد سرمئی سیمنٹ کی خاک میں اٹا ہوا تھا لیکن یہ وہی تھا۔ ام صہیب مٹی کو کرید رہی تھی۔ اسے ہرے رنگ کا کپڑا نظر آیا اس نے لنگڑاتے ہوئے ملبے کے ڈھیر پر قدم جمانے کی کوشش کی اور پھر گرنے کے خوف سے بیٹھ کر اس سبز کپڑے کی سمت اپنے آپ کو کولہوں کے بل گھسیٹنے لگی، اسے اندازہ بھی نہ ہوا کہ ایک جوان اس کے پیچھے اسے روکنے کے لیے آ رہا ہے۔ اس کے کانوں میں سائیں سائیں ہو رہی تھی اور وہ اس کپڑے کا کونا پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کر رہی تھی جب اس جوان نے اسے کندھوں سے تھام کر اٹھایا اور بڑھیا کو ملبے کے ڈھیر پر سے اتار کر کنارے بٹھا آیا۔ شاید اس نے کسی کو آواز دی تھی لیکن ام صہیب کو سنائی نہیں دے رہا تھا اب تین مرد اسی جگہ ایک لمبی لکڑی سیمنٹ کے گرے ہوئے بلاک کے نیچے گھسا کر اسے بلند کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ بلاک بلند ہو رہا تھا اس میں سے لوہے کے سریے ٹوٹی بانہوں ٹانگوں کی طرح غلط جگہ سے مڑے ہوئے نکلے نظر آرہے تھے۔ ایک جوان نے مڑ کر ام صہیب پر نظر ڈالی، وہ سمجھ گئی اور وہیں ڈھیر ہو گئی۔ اس نے پھر اپنی تمام قوت کو مجتمع کیا اور کھڑے ہو کر ان لڑکوں، مردوں کی طرف وہ چادر بڑھا دی جو وہ اسی مقصد کے لیے لے کر آئی تھی۔ کسی نے انا للہ کہا اور انھوں نے شہید لڑکی کے ٹوٹے ہوئے جسم کو چادر میں لپیٹ دیا اور دو آدمی اسے اٹھا کر ام صہیب کے پاس لے آئے۔ انھوں نے بہت تکلف سے ایک کونا اٹھا کر اس کا چہرہ دکھایا۔ اس نے بین کرنے سے پہلے اس کا نام پتہ ان کو لکھوا دیا۔ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مرنے والوں کے گنتی میں ایک اور نام کا اضافہ ہو گیا لیکن یہ گنتی دنیا کی نگاہوں میں کس گنتی میں تھی۔

ام صہیب وہیں بیٹھی روتی رہی جب تک ایک گاڑی میں رکھ کر اس لاش کو کسی اجتماعی نماز جنازہ اور مدفن کے لیے نہیں لے گئے۔ وہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھ رہی تھی کہ اسے قریب میں ایک پھڑپھڑاہٹ سنائی دی اور وہ چھوٹا سا ہلکا فیروزی ہلکا زرد طوطا اس کے شانے پر بیٹھ گیا۔ ام صہیب نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا اور وہ پھدک کر اس کی انگلی پر بیٹھ گیا۔ ام صہیب نے پیار سے پرندے کو دیکھا اور اسے انگلی پر بٹھائے کیمپ کی طرف روانہ ہو گئیں۔

ام ایمن کو روٹیاں مل چکی تھیں، بیٹی پانی بھر کر لا چکی تھی، وہ اس انتظار میں تھی کہ اسے پلاسٹک کی تھیلی میں سالن مل جائے اور بچوں کو پلانے کے لیے دودھ کا پاؤڈر بھی۔ کہ ایک ہوائی جہاز کی آواز نے سب کے چہروں کا رخ آسمان کی طرف کر دیا۔ ام ایمن نے جھک کر گود کے بچے اور ابراہیم کو مرغی کے چوزوں کی طرح اپنے جسم کے نیچے چھپا لیا، ان کے منہ سے اسرا کا نام ایک چیخ بن کر نکلا جب تک اسرا ڈر کر ان سے لپٹ نہ گئی۔ قریب میں کسی نے زیرِ لب گالی دی۔ انھیں اندازہ ہوا کہ کوئی پناہ ڈھونڈنے بھاگ نہیں رہا۔ سامنے سالن کی دیگ میں ایک گلابی کاغذ گرا ہوا تھا اور اسی کے جیسے اور کاغذ آسمان سے گر رہے تھے یا گزرنے والا جہاز ان کو گرا کر گیا تھا۔ کوئی کاغذ اٹھا کر بآواز پڑھ رہا تھا۔ ”یہ جنگ کا خاتمہ نہیں ہے یہ چار دن کی جنگ بندی ہے۔ کوئی شمالی غزہ کی طرف جانے کی کوشش نہ کرے۔ “

 

Facebook Comments HS

One thought on “عارضی جنگ بندی

  • 04/04/2024 at 7:51 صبح
    Permalink

    اسلحہ ونفرت سے بھرپورجنگجؤں کا نہتے مظلوموں پر جاری قہر اورقیامت کی نہایت تکلیف دہ اور دل سوز منظر کشی

Comments are closed.