چینی منصوبے بی آر آئی کے دس سال


بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو چین کی قیادت میں ایک وسیع انفراسٹرکچر پروجیکٹ ہے۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو نیو سلک روڈ بھی کہا جاتا ہے، انفراسٹرکچر کا دنیا کا سب سے بڑا منصوبوں ہے۔ صدر شی جن پنگ نے 2013 میں شروع کیا، ترقی اور سرمایہ کاری مشرقی ایشیا اور یورپ تک انفراسٹرکچر۔ دی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو چین کی اہم بین الاقوامی تعاون اور اقتصادی منصوبہ ہے۔ بی آر آئی کو ”ون بیلٹ ون روڈ اور سلک روڈ اکنامک بیلٹ اور 21 ویں صدی کی میری ٹائم سلک روڈ“ یا صرف ”نیو سلک روڈ“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ایک دہائی میں اس منصوبے کو افریقہ، اوشیانا اور لاطینی امریکہ تک وسعت ملی ہے۔ 44 ممالک سب صحارا افریقہ میں ہیں۔ 35 ممالک یورپ اور وسطی ایشیا میں ہیں۔ 25 ممالک مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل میں ہیں (بشمول چین) 21 ممالک لاطینی امریکہ اور کیریبین میں ہیں۔ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں 18 ممالک، 6 ممالک جنوب مشرقی ایشیا میں ہیں۔ بی آر آئی میں یورپی یونین کے 18 ممالک اور G 20 کے 9 ممالک کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں۔

بی آر آئی چین دنیا کی دو تہائی آبادی اور عالمی جی ڈی پی کا 40 فیصد حصہ رکھنے والے 149 ممالک نے منصوبوں پر دستخط کیے ہیں۔ ریلوے، توانائی کی پائپ لائنوں، شاہراہوں، اور ہموار سرحدی گزرگاہوں کا ایک وسیع نیٹ ورک سابقہ سوویت جمہوریہ سے ہوتے ہوئے۔ اور جنوب کی طرف، پاکستان، بھارت اور بقیہ جنوب مشرقی ایشیا تک۔ فزیکل انفراسٹرکچر کے علاوہ، چین نے سینکڑوں خصوصی اقتصادی زونز، یا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بنائے گئے صنعتی شعبوں کو فنڈز فراہم کیے ہیں، اور ممالک کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی Huawei کے ذریعے طاقت یافتہ 5 G نیٹ ورک۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کے تحت منصوبے زمین کی تزئین کو تبدیل کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں معاش کو بہتر بنانے میں مدد کر رہے ہیں۔ میں بیلٹ اینڈ روڈ کی سرمایہ کاری کی پائیداری کو مستقل طور پر بہتر بنانے کی کوششوں کو تسلیم کرتا ہوں۔ بی آر آئی کے تحت گرین سلک روڈ کا تصور زندگیوں اور معاش کے تحفظ کے لیے پائیدار اور موسمیاتی لچکدار ترقی کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کی ایجنسیاں بیلٹ اینڈ روڈ کے زیر اہتمام ان منصوبوں کے ڈیزائن اور نفاذ میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ایک اہم منصوبہ ہمیں ایک نئے راستے پر گامزن کر سکتا ہے جو لوگوں اور دنیا کو یکساں طور پر فائدہ پہنچاتا ہے۔

چین اور سعودی عرب نے کرنسی کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط، ایران اور سعودی عرب تعلقات کی بحالی کے لیے چینی ثالثی، عشروں کی دشمنی اور 2016 میں باضابطہ تعلقات منقطع ہونے کے بعد ، اس میل جول کو خطے میں ایک اہم پیش رفت، یہ معاہدہ چین کے لیے ایک سفارتی جیت ہے

چین پاکستان اقتصادی راہداری علاقائی رابطے کا فریم ورک ہے، اس سے صرف چین اور پاکستان کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ایران، افغانستان، وسطی ایشیائی جمہوریہ اور خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جغرافیائی روابط کو بڑھانا جس میں سڑک، ریل اور ہوائی نقل و حمل کے نظام میں بہتری کے ساتھ مسلسل اور آزادانہ تبادلے اور لوگوں سے لوگوں کے رابطے، علمی، ثقافتی اور علاقائی علم و ثقافت کے ذریعے افہام و تفہیم کو بڑھانا، تجارت اور کاروبار کے بہاؤ کے زیادہ حجم کی سرگرمی، زیادہ سے زیادہ بہترین کاروبار کے لیے توانائی کی پیداوار۔ اور تعاون کو بڑھانے کے نتیجے میں مشترکہ ہم آہنگی اور ترقی کا اچھی طرح سے منسلک، مربوط خطہ ہو گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری گلوبلائزڈ دنیا میں اقتصادی علاقائی کاری کی طرف سفر ہے۔ اس نے دنیا کے لیے امن، ترقی ماڈل کی بنیاد رکھی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری امن، ترقی اور معیشت کی ترقی کے ساتھ مستقبل کے بہتر خطے کی امید ہے۔

سی پیک نے پاکستانی معیشت کو پائیدار ترقی کے لیے مثالی زمین فراہم کی ہے، گوادر پورٹ بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کے تحت چین کے سب سے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان کو بندرگاہ پر کارگو ہینڈلنگ کے لیے ممالک سے چارج کر کے حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔ صوبہ بلوچستان طویل عرصے سے ترقی سے محروم رہا ہے اور اسے قدرتی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود نظر انداز کیا گیا ہے۔

گوادر پورٹ اور علاقے میں ہونے والی دیگر پیشرفت، جن میں سے ایک گوادر فری زون ہے، توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسے ایک بڑے بین الاقوامی تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے پوری دنیا کے سرمایہ کاروں کو راغب کرے گا۔ اس کے علاوہ اس کے پانیوں میں ایک بڑی بندرگاہ کی موجودگی بھی پاکستان کو خطے میں برتری دلائے گی۔ ایک بار مکمل ہونے کے بعد گوادر بندرگاہ خطے کو علاقائی تجارت اور سفری رابطے کا ایک بڑا ذریعہ فراہم کرے گی۔

سی پیک کے تحت گوادر کے مکمل شدہ منصوبے، بندرگاہ اور فری زون کی ترقی، گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان، گوادر میں پاک چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے۔ زیر تعمیر پروجیکٹس، نیو گوادر انٹرنیشنل ائرپورٹ، میٹھے پانی کی صفائی، پانی کی فراہمی اور تقسیم کی ضروری سہولیات، پاک چائنا فرینڈ شپ ہسپتال، گوادر میں 300 میگاواٹ کول سے چلنے والا پاور پروجیکٹ، 1.2 ایم جی ڈی ڈی سیلینیشن پلانٹ، 5 ایم جی ڈی واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ گوادر۔ پائپ لائن پروجیکٹس، بریک واٹر کی تعمیر، برتھنگ ایریاز اور چینلز کی ڈریجنگ، فش لینڈنگ جیٹی اور مغربی خلیج پر ماہی گیروں کی کشتی بنانے کی صنعت، گوادر اسمارٹ انوائرمنٹ سینی ٹیشن سسٹم اور لینڈ فل پروجیکٹ۔

سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبے، مکمل منصوبے 14، زیر تعمیر منصوبے 2، زیر غور منصوبے 21 ہیں۔ سی پیک کے تحت ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے منصوبے 24۔ مکمل منصوبے 6۔ تعمیراتی منصوبے 5۔ پائپ لائن منصوبے 8۔ طویل مدتی منصوبے 5 ہیں۔ صنعتی تعاون/خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) ، زیر تعمیر منصوبے، رشکئی اسپیشل اکنامک زون، دھابیجی اسپیشل اکنامک زون، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی، بوستان اسپیشل اکنامک زون۔ ان پائپ لائن پراجیکٹس، آئی سی ٹی ماڈل انڈسٹریل زون، پاکستان اسٹیل مل زمین پر انڈسٹریل پارک، میرپور انڈسٹریل زون۔ مہمند ماربل سٹی، مقپنڈاس اسپیشل اکنامک زون۔ بڑی تعداد پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت منصوبے ہیں

بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ دنیا کے سامنے ایک کامیاب منصوبہ ہے۔ پاکستان اور چین دشمن مختلف طریقوں سے غلط چیزیں شیر کرتے ہیں۔ مخالفین کئی کاغذی منصوبوں کی باتیں مگر حقیت وہ صفر بلکہ بچوں کے کارٹون سوا کچھ نہیں ہے۔ پاکستان ترقی اور چین کا پاکستان کا ساتھ دشمنوں کو برداشت نہیں ہو رہا سوشل میڈیا ہو ہا مغربی ممالک لیے پالک مختلف شوشے چھوڑ تے رہتے ہیں مگر پاکستان کی عوام کے سامنے صرف دس سال میں تبدیل پاکستان سامنے ہے

چین ہمیشہ مسلمان ممالک کے ساتھ کھڑا ہوا ہے مسئلہ فلسطین پر چین کا موقف اور پاکستان کا موقف یکساں ہے۔ جنگ بندی اور امداد میں چین سب آگے ہے۔ فلسطین کی آواز اس وقت چین ہے۔ چین کی ہمیشہ کوشش رہی ہے دیگر اقوام متحدہ کرے مل عوام کی خوشحالی کے لئے جہدید کریں۔ کچھ ممالک کو اس کی بہت تکلف ہے۔ چین پاکستان کو روس کے قریب کرنا کئی دوسرے جگہ پاکستان کی حمایت بھارت کو سخت ناپسند ہے۔

بھارت کو پاکستان چین دوستی سے شروع سے تکلیف رہی ہے۔ چین نے ہمیشہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی تائید کی۔ بھارت کچھ دیگر ممالک کے ساتھ ہمیشہ عوام کی ترقی اور پاکستان ترقی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خطہ میں سی پیک سے جہاں دوسرے ممالک کو فائدہ ہو گا وہاں بھارت کو بھی مگر اس کو پاکستان کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی وہ راہداری کے بارے میں منفی پروپیگنڈا کرتا ہے۔ راہداری سے جہاں پاکستان معاشیات بہتر ہو رہی وہاں ہمارا دفاعی چیزوں میں ترقی ہو رہی ہے۔

ہم جنگی طیاروں کی پروڈکشن میں عالمی سطح پر چین کے تعاون سے ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ بھارت اس مقابلے مین ہم بہت پیچھے ہے۔ چین ہمیشہ ہر جگہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ جب معاشی بدحالی کا مسئلہ ہو آئی ایم ایف سے مذاکرات چین ہمیشہ کی طرح پاکستان کی مدد کی پاکستان کے ڈالر میں اضافہ ہوا۔ مگر یہاں بھارتی کو سخت تکلیف ہوتی ہے وہ سی پیک پر منفی پروپیگنڈا ساتھ پاکستان کی امداد سے انھوں شدید پریشانی ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS