پیپلز پارٹی، زرداری اور بلاول بھٹو سیاست


آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے درمیان حالیہ لفظی جنگ کو محض مصنوعی جنگ سمجھنا درست نہیں بلکہ اسے سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں ہی دو مختلف سیاسی زاویوں کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آج کی طاقت یا اقتدار یا جوڑ توڑ کی سیاست میں اصولی، نظریاتی، فکری اور دیانت کی سیاست کا غلبہ نہیں ہے۔ جو غلبہ ہے وہ محض اقتدار کی سیاست کا ہے اور اقتدار کی سیاست کے اپنے ہی رنگ ہوتے ہیں اور جب بھی ہم اس کو ایک بڑے سیاسی اور جمہوری فریم ورک میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عمومی طور پر جوڑ توڑ یا اقتدار یا اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ معاملات کو طے کرنے یا ان کے قریب رہنے کے ہنر میں آصف علی زرداری کو کمال حاصل ہے۔ آصف زرداری یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار اور طاقت کی سیاست کا راستہ عوامی مینڈیٹ کے مقابلے میں اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت سے جڑا ہوا ہے اور ان کی مرضی کے بغیر اقتدار کے کھیل میں شمولیت ممکن نہیں۔

اس لیے اگر آصف علی زرداری نے اپنے ہی بیٹے کو واضح انداز میں ریڈ لائن کی نشاندہی کی ہے یا ان کو بتایا ہے کہ ان کا سیاسی دائرہ کار کیا ہے اور کہاں تک وہ اختیار رکھتے ہیں یا کہاں تک ان کو بولنے کی آزادی ہے یا ان کے پاس فیصلے کرنے کی طاقت ہے تو اس پر تنقید کیونکر ہو رہی ہے۔ یہ ہی ہماری سیاست کا رنگ ہے اور اس کی بھرپور سیاسی عکاسی آصف زرداری نے کی ہے۔ جو تجربہ آصف زرداری کے پاس ہے اہم سیاسی و غیر سیاسی قوتوں سے ڈیل کرنے کا واقعی وہ تجربہ بلاول بھٹو کے پاس نہیں ہو سکتا ۔

خود بلاول بھٹو کا وزیر خارجہ بننا یا اسے اس عہدہ تک لانے میں بھی آصف زرداری کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ لیکن کیونکہ بلاول بھٹو تسلسل سے ایک ہی نقطہ پر زور دے رہے تھے کہ سیاسی بزرگ بشمول آصف زرداری نئی قیادت کے لیے راستہ چھوڑیں اور ان کو سیاسی فیصلوں میں آزادی دی جائے۔ اس بات کا گلہ جہاں دیگر سیاسی سطح کی شخصیات نے کیا وہیں آصف زرداری کو بھی ہوا۔ اس لیے جو کچھ آصف زرداری نے کیا وہ بڑی سیاسی قیادتوں کی ترجمانی تھی جس میں ان کو واضح پیغام دیا گیا کہ سیاسی جماعتوں میں قیادت اور فیصلوں کا ریموٹ کنٹرول ان ہی کے ہاتھ میں رہے گا اور آپ کو وہی کچھ کرنا ہو گا جو فیصلہ ہم آپ کے بارے میں کریں گے۔

بلاول بھٹو کافی عرصہ سے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ ان کی سیاسی حیثیت یا فیصلوں کے اختیار میں مکمل آزادی نہیں دی جا رہی اور ان کو پارٹی کی سطح پر ایک نمائشی کردار تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول پارٹی کو محض اندرون سندھ تک محدود کرنے کی آصف زرداری کی پالیسی بھی پارٹی مفاد میں نہیں اور پارٹی کا مکمل اسٹیبلیشمنٹ پر انحصار بھی ان کی جماعت کو بڑی عوامی قوت بننے سے روک رہا ہے۔ بلاول بھٹو کو اندازہ ہے کہ ان کی جماعت سکڑ رہی ہے اور اسے اگر دوبارہ فعال اور عوامی جماعت بنانا ہے تو آصف زرداری کی سیاسی حکمت عملی کارگر نہیں ہے یا ہمیں متبادل پالیسی درکار ہے۔

اس لیے جب بھی بلاول بھٹو نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ ہی پارٹی میں اہم بھی ہیں اور فیصلے کا اختیار بھی رکھتے ہیں تو اس سیاسی جواب آصف زرداری کسی نہ کسی شکل میں دے کر بلاول بھٹو کو پیغام دیتے ہیں کہ ابھی تم بچے ہو اور باپ کو ہی بڑا سمجھو اور اسی میں تمہارا سیاسی مفاد بھی ہے۔ لیکن اس حالیہ انٹرویو میں آصف زرداری کچھ زیادہ ہی بول گئے کیونکہ ایک طرف بلاول بھٹو کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وہی اگلے وزیر اعظم ہوں گے ۔

لیکن دوسری طرف بلاول بھٹو کے بارے میں آصف زرداری کا یہ کہنا کہ وہ ابھی بچہ ہے یا ابھی اس کا تجربہ زیادہ نہیں یا وہ سیکھ رہا ہے اور میں ہی تین پی پی کے مقابلے میں چار پی پی کا سربراہ ہوں اور میں نے ہی پارٹی کا ٹکٹ بلاؤل بھٹو کو بھی دینا ہے، کچھ زیادہ ہی ہو گیا اور اگر اب اس پر بلاول بھٹو کا ردعمل کسی نہ کسی شکل میں سامنے آیا ہے تو یہ فطری امر تھا۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ باپ بیٹے میں اختلافات شدت اختیار کر گئے یا بات سیاسی دشمنی یا بغاوت تک پہنچ گئے ہیں درست تجزیہ نہیں۔ کیونکہ آصف زرداری بلاؤل بھٹو کے باپ ہیں اور بلاول بھی سمجھتا ہے کہ اگر انہوں نے کچھ واقعی بڑی سیاسی کامیابی حاصل کرنی ہے تو اس کا راستہ ان کے والد کی سیاسی حکمت عملی سے ہی جڑا ہوا ہے۔ اس لیے دونوں کا رشتہ اور سیاسی مفاد ایک ہے یا اس سے باہر نکل کر سوچنا دونوں سمیت پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے۔

آصف زرداری بنیادی طور پر مزاحمت کے نہیں بلکہ مفاہمت کے آدمی ہیں اور انہوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ ہمیں سیاسی و غیر سیاسی مفاہمت یا عدم ٹکراؤ کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آصف زرداری کی مجموعی سیاست اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ہی کھڑی نظر آتی ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ بلاول بھی اسی راستے کو بنیاد بنا کر آگے بڑھے اور وہ غلطی نہ کرے جو بے نظیر بھٹو نے کی تھی۔ پیپلز پارٹی بالخصوص سندھ آصف زرداری کی سیاسی حکمت عملی کی حامی ہے اور وہ سمجھتی ہے کہ طاقت اور اقتدار کی سیاست میں آصف زرداری کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے اور 18 ویں ترمیم کو بنیاد بنا کر جس انداز میں انہوں نے سندھ کی طاقت ور حکمرانی کو مضبوط بنایا ہے وہ ہمیں اقتدار کی سیاست سے جوڑے رکھے گی اور اسی بنیاد پر آصف زرداری کا پیپلز پارٹی پر کنٹرول ہے۔ البتہ دیگر صوبوں بشمول پنجاب میں پیپلز پارٹی کے لوگ بلاول بھٹو کو ہی امید سمجھتے ہیں کہ وہ پنجاب میں پارٹی کو فعال بنائے گا۔ کیونکہ آصف زرداری کی سیاست سندھ تک محدود ہے اور سندھ میں موجود پیپلز پارٹی کے لوگوں کی پنجاب میں پارٹی فعالیت پر کوئی دلچسپی نہیں۔

البتہ یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ آصف زرداری کے حالیہ بیانات نے بلاول بھٹو کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچایا ہے۔ یہ تربیت کی کمی یا بچہ سمیت سیاسی ناتجربہ کاری یا مزید سیکھنے کی بات بلاول بھٹو کی سیاست کا پیچھا کرے گی اور وہ دفاعی سطح پر کھڑے ہوں گے ۔ کیونکہ اب جب بھی بلاول کوئی بڑی بات کرنے کی کوشش کرے گا تو آصف زرداری کے بیانات نا پختہ کاری یا تجربہ کاری کا سیاسی طعنہ اول ان کو اپنے ہی سیاسی مخالفین کی جانب سے سننے کو ملے گا یا ان کا پیچھا کرے گا وہیں دوئم ان کی سیاست کو کمزور بھی کرے گی۔

اسی طرح اس بات کا امکان بھی ہے کہ آنے والے دنوں میں آصفہ بھٹو کو بھی سیاسی میدان میں اتارا جاسکتا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھی آصف زرداری کا نیا سیاسی کارڈ ہو گا۔ بلاول بھٹو کے پارلیمنٹ میں ادا کیے جانے والے الفاظ ”نواز شریف اور آصف زرداری کو ایسے فیصلے کرنے چاہیے جس سے میرے لیے اور مریم نواز کے لیے سیاست آسان ہو، مشکل نہ ہو۔ کیونکہ جس طریقے سے ہم چل رہے ہیں اس کو دیکھ کر تو ایسے لگتا ہے کہ ہمارے بڑوں نے یہ ہی فیصلہ کیا ہے جو تیس برس آپ لوگوں نے سیاسی بھگتی ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ اگلے 30 برس ہم وہی سیاست کریں۔“ اس بیان کی گہرائی میں جاکر آپ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے درمیان حالیہ لفظی جنگ کے معاملات کو سمجھ سکتے ہیں کہ دونوں کہاں کھڑے ہیں۔

جو لوگ بھی بلاول بھٹو کو آصف زرداری کے ساتھ مقابلہ پر لاکر کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا ان کو یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ وہی اصل سیاسی شخصیت ہیں اور ان ہی کو بڑے سیاسی فیصلے کرنے ہیں وہ واقعی پارٹی مفاد کے حق میں نہیں۔ کیونکہ اس وقت جو سیاست پاکستان میں ہو رہی ہے اس میں بلاول بھٹو ہوں یا آصف زرداری دونوں کو سیاسی حکمت عملیوں پر جو بھی اعتراضات یا تحفظات ہیں ان کو بند کمروں تک محدود کر کے ہی اس کا علاج کرنا چاہیے۔

کیونکہ جو لوگ یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ بلاول کا اعلان جنگ پیپلز پارٹی کو مقبول بنائے گا وہ ممکن نہیں۔ کیونکہ بلاول بھٹو اور مریم نواز کی قیادت سے ان کی پارٹی کی عوامی مقبولیت میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا، اس کی وجہ اقتدار کی اس جنگ میں کہیں بھی سیاسی قیادتیں اہمیت نہیں رکھتیں بلکہ سیاسی قیادتیں جوڑ توڑ کی بنیاد پر یا اسٹیبلیشمنٹ کے ایجنڈے پر عملدرآمد کر کے ہی عملی طور پر اقتدار کا راستہ تلاش کر رہی ہیں اور یہ محض آصف زرداری ہی نہیں بلکہ بلاول بھٹو بھی اسی ایجنڈے کے تحت سیاست کر رہے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments