پاکستانی میڈیا اور پی پی پی
اس وقت ہم بچے تھے جب محترمہ بینظیر صاحبہ کے دوسرے دور حکومت میں ہمارے آبائی علاقے سوات میں مولانا صوفی محمد کے زیر قیادت تحریک نفاذ شریعت محمدی کے نام سے ایک تحریک کا آغاز ہوا۔ تحریک کے واقعات جس کے کچھ نہ کچھ نقوش آج بھی میرے ذہن میں ہیں ان میں نمایاں بزرگوں کے محترمہ کو دیے ہوئے القابات اور ایسے نعرے تھے جن کا حاصل یہ تھا ملک خداداد میں اسلامی قوانین کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف محترمہ ہی ہیں۔ محترمہ ملکی مذہبی اور نظریاتی تشخص کو مسخ کر کے اسے ایک لبرل سیکولر اور لادین ریاست بنانے کے راہ پہ گامزن ہیں۔ اور تو اور محترمہ امریکی اور دوسرے بیرونی دشمن ممالک کے اشیر باد سے ہی وزیر اعظم بنی ہیں اور ایک دن یہ ملک کے ایٹمی تنصیبات اور حساس رازوں کو ان عناصر کو دے کر ملک کے غیرت کا سودا کرے گی۔ لغاری کے ہاتھوں حکومت کی برطرفی کو اس طرح چار چاند لگا دیے گئے کہ محترمہ تو ملکی خزانے سے ہیرے جواہرات کے بھرے صندوقوں کے ساتھ جہاز میں ملک سے فرار ہو رہی تھی یہ تو شکر ہے ایک محب وطن صدر کے طرف سے اس کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔
اسی طرح 2007 میں ہم عوام کو یہی باتیں رٹائی گئیں کہ محترمہ کی واپسی امریکہ کے ساتھ اس ڈیل کا نتیجہ ہے جس کے رو سے وزیر اعظم بننے کے بعد محترمہ کی حکومت ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان کے امریکیوں کو حوالگی اور قبائلی علاقوں میں امریکہ کو طالبان جنگجووں کے خلاف کھلم کھلا آپریشن کے اجازت ہو گی۔ محترمہ کی شہادت کے بعد پی پی پی پی اور اس کے رہنماؤں خاص کر پارٹی کا شریک چیرمین آصف علی زرداری پر بھی آج تک اس قسم کی لغو اور بے جاء الزامات عائد کرنے میں کوئی کمی نہیں آئیں۔
یہ لمبے تمہید لکھنے کا مقصد کہ یہ اور اس طرح کے اوور ڈھیر ساری باتیں ایک عرصے تک میرے دل و دماغ پر بھی چھائی رہیں اور حیرت آج اس بات پر ہے کہ اس پر مجھے ایمان کے حد تک یقین بھی تھا۔
پی پی پی کے 2008 سے 2013 کے دور حکومت کو کچھ اس طرح زیادہ مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بدانتظامی، بدامنی، کرپشن اور اقربا پروری جیسے شدید نوعیت کے سنگین الزامات کا سامنا تھا۔ اس میں یقیناً کچھ حد تک سچائی بھی ہوتی ہوگی لیکن وقت نے ثابت کیا کہ بہت سے الزامات پانی کے بلبلے ہی ثابت ہوئے۔ الزامات کو حقیقت کا روپ دینے کی سعی میں عسکری اسٹبلشمنٹ، عدلیہ، میڈیا اور موقع پرست سیاستدان سیم پیج پر تھی۔ چوہدری کورٹ کے جوڈیشل ایکٹوازم نے تو ایک طرف ساری ہی حکومتی مشینری کو مفلوج کر دیا گیا تھا دوسری طرف ججز کے ریمارکس تو کچھ اس طرح سماں باندھ دیتے کہ حکومتی اراکین فیصلے آنے سے پہلے ہی مجرم نظر آنے لگتے تھے۔
رہی سہی کسر رات کو الیکٹرانک چینلز کے توسط سے جو میڈیا ٹرائل برپا کیا جاتا پورا کیا جاتا۔ افغان ناکام پالیسیوں کی وجہ سے عسکری تنظیموں کی روزانہ کے بنیاد پر حملوں دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ نے حکومتی گرفت کو ایک حد تک محدود کر دیا تھا دوسری طرف میموں گیٹ نامی ایک نام نہاد سکینڈل کے ذریعے اسٹیبلیشمنٹ بڑے میاں صاحب کو کالا کوٹ پہنا کر عدالت کے توسط سے سول حکومت کو تقریباً بے دست و پا کر گئے۔
ان تمام تر مصائب و مشکلات کے باوجود پی پی پی حکومت اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ دینے میں کامیاب ہوئی۔ ان آئینی پیکیجز کا مقصد ملکی آمدن سے صوبوں کو یقینی ادائیگیوں کے لیے شفاف اور خودکار طریقہ کار وضع کرنا تھا اور ساتھ ساتھ بہت حد تک خودمختاری دے کر قدرتی وسائل پر سب سے پہلے صوبوں کا حق تسلیم کیا گیا۔ اٹھارہویں ترمیم پر آج بھی جمہور دشمن قوتیں شاکی ہیں اور اسے وفاق کو کمزور کرنے سے تعبیر کرتے ہیں جبکہ جمہوری قوتیں اسے آمریت کے راہ میں سب سے رکاوٹ گردانتی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے چھوٹے صوبوں کے بہت سے مشکلات کا ازالہ ہو سکے گا۔
پی پی پی دور کے 1973 کے آئین، بینظیر دور کے اصلاحات، اٹھارہویں ترمیم اور اس طرح کی اوور اقدامات جس سے ملک میں جمہوریت جڑ پکڑ سکے، ملک مستحکم ہوں، عام آدمی کو اس کے حقوق ملے جمہوری دشمن قوتیں شاید ان سب کو دل پہ لے کی پی پی پی کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کی حق میں نہیں۔ اور میڈیا ہمیشہ کے طرح ان عناصر کی الہ کار بن کر اب ایک انٹرویو کا اڑ لے ہوئے زرداری اور بلاول میں اختلاف کا شوشہ تو شہ سرخیوں میں شائع کرتا ہیں لیکن بلاول کی اکیلے میں شروع کردہ انتخابی کمپین کی بامقصد باتیں اور دیر بالا میں سکول کے بچوں کے ساتھ تصویر کو فرنٹ پیج پر جگہ نہیں ملتی۔


