ایک باضمیر امریکی فوجی کی کہانی
تخلیق; جوشوا کی
ترجمہ ڈاکٹر خالد سہیل
نوٹ۔ ۔ ۔ ۔
JOSHUA KEY
اٹھائیس سالہ امریکی فوجی ہیں جنہوں نے جارج بش کی عراق کی جنگ لڑنے سے انکار کر دیا تھا اور کینیڈا میں رفیوجی بن کر پناہ حاصل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں امریکہ واپس بھیجا گیا تو انہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا جوشوا کی عراق میں اپنے مشاہدات اور تجربات کی کہانیاں
The Deserter ’s Tale
میں بیان کی ہے۔ اس کتاب کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص حاضر خدمت ہے
۔ ۔ ۔
مجھے عراق پہنچتے ہی رمادی کی جنگ پر بھیج دیا گیا۔ میں پہلے دن ہی خوفزدہ ہو گیا تھا۔ میرے پہنچنے سے پہلے ہماری ہوائی جہاز نے وہاں بمباری کر رکھی تھی۔ ہم وہاں پہنچے تو ہمیں گلیوں اور بازاروں میں گشت کرنے کا حکم دیا گیا کیونکہ میں نے سو پونڈ کا اسلحہ اٹھا رکھا تھا اس لیے میں کسی گائے کی طرح سست رفتار تھا۔ ہم بیس سپاہی عراقی گلیوں میں گشت کر رہے تھے۔ مجھے اس بات کا شدید احساس تھا کہ کسی مکان کی چھت سے کوئی مسلح نوجوان مجھے گولی مار کر ہلاک کر سکتا ہے۔ میرے اردگرد بچے جمع ہونے لگے اور مجھ سے پانی اور کھانا مانگنے لگے۔
میرے کانوں میں میری بیوی برینڈی کے الفاظ گونجنے لگے جو اس نے امریکہ سے رخصت ہونے سے پہلے مجھے کہے تھے
’تم ان دہشتگردوں کو اپنے قریب نہ آنے دینا چاہے وہ بچے ہی کیوں نہ ہوں۔ اس سے پہلے کہ وہ تم پر حملہ کریں تم انہیں قتل کر دینا‘ ۔
————————————————————————
اس رات مجھے تین بجے جگا کر بتایا گیا تھا کہ ہم نے ایک گھر پر حملہ کرنا ہے جس میں دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ کیپٹن کونڈی نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو اس گھر کی تصویریں دکھائیں تاکہ ہم حملہ کرنے سے پہلے اس کے اندر کے منظر نامے سے واقف ہو جائیں۔
حکم تھا۔
دروازہ توڑ کر اندر جانا دہشت گردی کا سامان تلاش کرنا اور مردوں کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے آنا اور یہ کام جتنی جلد ہو سکے کرنا کیونکہ تم نے زیادہ دیر انتظار کیا تو دہشتگرد گرینیڈ سے حملہ کر کے تمہیں ہلاک کر دیں گے۔
میں اس حملے کے بارے میں کافی دیر تک سوچتا رہا ہاں مجھے مستقبل کے خطرے کا بالکل اندازہ نہ تھا۔
کیا گھر میں داخل ہوتے ہی میں کسی گرینیڈ سے اڑا دیا جاؤں گا؟
کیا کوئی بچہ جس نے چند دن کی فوجی تربیت حاصل کی ہو، مجھے اپنی بندوق کا نشانہ بنائے گا؟
انتظار کے دوران وقت کچھوے کی سست رفتاری سے رینگنے لگا اور وہ گھنٹہ ایک صدی محسوس ہونے لگا۔
جی چاہتا تھا کہ وقت تیزی سے گزرے تا کہ ہم اپنا کام کر سکیں۔ فوجیوں نے ورزش کر کے اپنے آپ کو معرکہ کے لیے تیار کیا گیا۔
میں نے وقت گزارنے کے لیے اپنے ایک فوجی دوست سی ڈی پلیئر لیا اور موسیقی سننے لگا۔
ساتھ ہی شراب کے چند گھونٹ پینے لگا۔
اس موسیقی کی دھن اور ساتھ ہی شراب کے چند گھونٹوں نے میرے خون میں ہلچل پیدا کردی اور مجھے ذہنی طور پر حملے کے لیے تیار کر دیا۔
میں نے کیپٹن کی دی گئی ہدایات کو اپنے ذہن میں محفوظ کیا اور یاد رکھنے کی کوشش کی کہ اس گھر میں کتنے دروازے ہیں اور کتنے کمرے ہیں اور جب ہم حملہ کریں گے تو سب سے پہلے کون اندر جائے گا۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا کی میں تیسرے نمبر پر جاؤں گا جس کا مطلب ہے کے اگر ہم قتل ہوئے تو مجھ سے پہلے کوئی اور بھی قتل ہو گا۔ میرے ہاتھ میں
M-249
کی بندوق تھی جو ضرورت کے وقت ایک منٹ میں دو ہزار گولیاں چلا سکتی تھی لیکن ایسا کرنا ممکن نہ تھا کیونکہ حرارت کی وجہ سے بندوق کی نالی مڑ سکتی تھی۔
—————————————————————
منزل پر پہنچ کر میں نے پلاسٹک کا سی فور گرینیڈ دروازے پر پھینکا اور ہم دور ہٹ گئے۔ تاکہ خود بم کی زد میں نہ آ سکیں۔ میں نے دروازہ توڑا اور ہم چھ سپاہی اندر گئے۔
سب بے پہلے جونز اندر گیا جو دبلا پتلا تھا لیکن مشین گن ہیلمٹ اور جیکٹ سے لیس تھا۔
میں اس حملے سے پہلے کسی عراقی گھر میں داخل نہ ہوا تھا۔ ہم کمرے سے گزر کر باورچی خانے میں گھسے۔ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہر کمرے کے ہر کونے کو دیکھیں اور دہشت پسندوں کا چھپایا ہوا اسلحہ تلاش کریں۔ ہم نے ہر کمرے کے ہر کونے کو چھانا۔ لیکن کچھ نہ پایا۔ میں نے پھر الماری بھی دیکھا اس میں تھوڑا سا کھانا تھا۔ ہم دوسرے کمرے میں گئے تو ہمیں وہاں ایک عورت ایک نوجوان لڑکی اور دو بچے نظر آئے۔ ہمیں دو نوجوان مرد بھی ملے جو شاید بھائی تھے۔ میں چیخا
GET DOWN…GET THE FUCK DOWN
میں نے با آواز بلند دوسرے سپاہیوں کو بلایا۔
عراقی شہری شاید میری زبان نہیں سمجھ رہے تھے۔ وہ بالکل نہیں ہلے۔ میں نے دونوں بھائیوں کو زمین پر گرایا ان کی کمر پر اپنا گھٹنا رکھا اور ان کو ہتھکڑیاں لگائیں۔ میں دو بھائیوں کو لے کر باہر آیا جہاں باقی فوجی ہمارے منتظر تھے۔
وہ دونوں بھائیوں کو امریکی حوالات میں لے گئے جہاں ان کے ساتھ نہ جانے کیا سلوک کیا گیا ہو گا کیونکہ وہ پھر کبھی ان سڑکوں پر نظر نہیں آئے۔ ہم نے اس گھر کے ہر کمرے کو تہہ و بالا کیا لیکن ہمیں کوئی اسلحہ نہیں ملا۔ ہم نے فرنیچر توڑا، بستر چاقو سے پھاڑا اور ہر کونے میں جھانکا لیکن کسی کو یہاں کچھ بھی نہ ملا۔ سوائے ایک سی ڈی کے جس میں صدام حسین کی تقاریر تھیں۔
ہم اس گھر کو تہ و بالا کر چکے تھے تو فوج کا ایک اور گروہ اسے تباہ و برباد کرنے اندر چلایا۔
میرے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ میں عورتوں کی نگہداشت کروں۔ اس دوران ایک لڑکی مجھے گھورنے لگی میں نے اسے نظر انداز کرنا چاہا لیکن وہ مجھ سے بات چیت کرنے لگی۔
جب میں گھر کے اندر چیخ رہا تھا اور گالم گلوچ کر رہا تھا تو میں یہ سمجھ رہا تھا کہ وہاں کوئی انگریزی نہیں جانتا لیکن جب اس لڑکی نے انگریزی میں بات کرنی شروع کی تو میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ اس کی نگاہیں مجھے چھیدتے ہوئے گزر گئیں۔ میرے سراپا میں سرد لہر دوڑ گئی۔ میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا لیکن ان کی نگہداشت کرنا میرے ذمے تھا۔ میں نے ان پر اپنی بندوق تانی ہوئی تھی۔ اس نے نیلے رنگ کا شب خوابی کا لباس اور سفید دوپٹہ پہن رکھا تھا۔ اس نے نقاب نہیں پہنا ہوا تھا اس لئے میں نے اس کے پورے چہرے کو دیکھا اس کی کالی آنکھوں نفرت سے بھری ہوئی تھیں۔
اس نے پوچھا
”تم میرے بھائیوں کو کہاں لے جا رہے ہو
( اس نے یہ مجھ سے انگریزی میں پوچھا)
مس میں نہیں جانتا ( میں نے کہا )
تم انہیں کیوں لے جا رہے ہو
میں آپ کو نہیں بتا سکتا ( میں نے جواب دیا)
تم انہیں کب واپس لاؤ گے
میں وہ بھی نہیں بتا سکتا
تم ہم سے ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو؟
میں خاموش رہا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں وہ چیخنا چلانا نہ شروع کر دے اور دوسرے فوجیوں کی توجہ اپنی طرف نہ مبذول کر لے جن میں سے ایک دو بندوق مار کر اس کے دانت توڑنے میں ذرا بھی توقف نہ کرتے۔
مجھے عراق آئے ہوئے ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے اور میں اس عجیب و غریب تجربے سے گزر رہا تھا۔ جہاں میں اس خاندان کی نگرانی کر رہا تھا وہیں مجھے یہ بھی خطرہ تھا کہ کہیں کوئی مجھے اپنی بندوق یا گرینیڈ سے نشانہ بھی بنا سکتا تھا۔
میں پہلے دن ہی شرمندگی اور احساس ندامت محسوس کر رہا تھا میں سوچ رہا تھا کہ ہم نے معصوم خاندان کے گھر پر حملہ کیا تھا جہاں سے ہمیں دہشت گردی کا کوئی سامان نہ ملا ہم نے آدھے گھنٹے میں اس لڑکی کا گھر تباہ و برباد کر دیا تھا اور اس کے بھائیوں کو گرفتار کیا۔ اس کے سوالوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا۔
ان سوالوں کے جواب مین اسے کیا اپنے آپ کو بھی نہیں دے سکتا تھا۔
عراق کے قیام کے دوران مجھے معصوم شہریوں کے گھروں پر حملہ کرنے کا بارہا حکم دیا گیا۔ میں نے اپنے فوجی ساتھیوں کے ساتھ تقریباً دو سو گھروں پر حملہ کیا ہو گا۔ ان گھروں میں سے ایک گھر میں بھی ہمیں دہشت گردی کا سامان یا اسلحہ و بارود نہیں ملا۔ حملہ کرنے کا کوئی جواز نظر نہیں آیا۔ وہ سب حملے پریشان کن تھے لیکن ایک حملہ تو زیادہ ہی تکلیف دہ تھا۔
ہم خوبصورت دو منزلہ مکان میں داخل ہوئے حسب معمول میں نے گرینیڈ پھینک کر ان کا دروازہ توڑا اور جب ہم اندر داخل ہوئے تو ہمیں پیچھے عورتیں لڑکھڑاتے ہوئے کمرے سے باہر آتی ہوئی دکھائی دیں۔ ان میں سے تین نوجوان لڑکیاں تھیں۔ انہوں نے فوجیوں کو دیکھا تو چیخنے چلانے لگیں۔
میرے فوجی ساتھیوں نے انہیں علیحدہ کیا اور بندوق کا رخ ان کی طرف کر دیا۔ ہمیں اس گھر میں کوئی مرد نہ ملا۔ گھر کی تلاشی سے فوجیوں کو کوئی اسلحہ و بارود بھی نہیں ملا۔ فوجی مایوس ہوئے تو اور زیادہ غصے میں آ گئے۔ انہوں نے میری نگاہوں کے سامنے بستر، کرسیاں اور الماریاں سب کو توڑ ڈالا۔
ایک لڑکی جو بہت چیخ رہی تھی اسے فوجی ہیز نے چپ ہونے کو کہا جب اس نے چیخنا بند نہ کیا تو اس نے اپنی بندوں کی نالی اس کی کنپٹی پر رکھی۔
تم ہمارے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے ہو؟ وہ چیخی
بکواس بند کرو!
سپاہی چیخا
چپ رہو
لیکن وہ احتجاج کرتی رہی۔
ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟
میں نے بھی اسے چپ رہنے کو کہا
لیکن وہ نہ مانی اس کی چیخنے سے کپتان ہیز آپے سے باہر ہو گیا
اور جب اس عورت نے کہا تم امریکی بہت جابر ہو۔ تم ہم پر اس قدر ظلم کیوں کر رہے ہو؟
تو کپتان ہیز نے اس کے سر پر بندوق کا دستہ مارا اور وہ زمین پر گر گئی۔
اس کے چہرے سے خون بہنے لگا اور وہ خاموش ہو گئی
کپتان ہیز یہ تم کیا کر رہے ہو؟
میں احتجاج کرتے ہوئے چیخا۔ تمہاری تو ایک بیوی بھی ہے اور دو بچے بھی ہیں اور تم ایک عورت پراس طرح حملہ کر رہے ہو؟
کپتان ہیز نے زہر آلود انداز سے میری طرف گھورا۔ اس کا بس چلتا تو مجھے بھی قتل کر دیتا۔ اس کی آنکھوں میں میرے لئے نفرت ہی نفرت تھی۔ لیکن اس کے بعد اس نے اس عورت کو نہ چھوا۔
میرے لیے یہ واقعہ اس لیے بھی پریشان کن تھا کہ عام حالات میں کپتان ہیز ایک تحمل مزاج اور ہمدرد انسان تھا۔ میں نے سوچا کہ جنگ کے حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ اگر کپتان ہیز جیسا بردبار انسان بھی ایک نہتی عورت کو مار سکتا ہے۔ تو ہم میں سے کوئی بھی آپے سے باہر ہو سکتا ہے۔
اس کے بعد وہ واقعہ پیش آیا جو اب بھی ڈراؤنا خواب بن کر مجھے پریشان کرتا ہے۔ چار فوجی آئے اور ان عورتوں کو لے کے اندر چلے گئے انہوں نے دروازے کھڑکیاں بند کر دیں۔ ہم کچھ دیکھ نہیں سکتے تھے لیکن ان معصوم عورتوں کی چیخیں سن سکتے تھے۔ عام حالات میں ہم آدھے گھنٹے میں واپس آ جاتے تھے لیکن ان فوجیوں نے ہمیں ایک گھنٹا انتظار کروایا۔ ہم ان عورتوں کی چیخیں سنتے رہے اور فوجی اپنا کام کرتے رہے آخر وہ باہر نکلے اور ہمیں دفع ہونے کا حکم دیا۔
اس دن مجھے احساس ہوا کہ دہشتگردوں کو تلاش کرتے کرتے ہم امریکی خود دہشت گرد بن گئے ہیں۔ عراقیوں پہ ظلم کرتے، ان کو مارتے پیٹتے، ان کے گھر تباہ و برباد اور ان کی عصمت دری کرتے۔ ایسے حالات میں اگر عراقی ہمیں اور سارے امریکیوں کو قتل کرنا چاہیں تو ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے۔
اس دن کے بعد میرے من میں ایک تکلیف دہ احساس پیدا ہوا جو روز بروز سرطان کی طرح بڑھتا ہی چلا گیا اور وہ احساس یہ تھا کہ ہم امریکی عراق جا کر خود جابر و ظالم دہشت گرد بن گئے ہیں۔
۔ ۔ ۔
جوشوا دسمبر 2005 میں دو ہفتے کی چھٹی پر امریکہ گیا اور پھر عراق کبھی واپس نہیں گیا۔ مارچ 2006 میں اس نے اپنے خاندان کے ساتھ نیاگرا فال کا پل پار کر کے کینیڈا میں پناہ لی اور رفیوجی بن گیا۔
۔ ۔

