کہانی: منٹگمری حصہ چھ


کہانی کار : وقار مصطفی سپرا

ڈپٹی کمشنر کا علاقائی دربار راوی کے کنارے پہ سابقہ ضلع مقام گوگیرہ پر لگا تھا۔ فوری امور کے علاقائی مقدمات صاحب کو پیش کیے گئے۔ مقدمات کی سماعت کرتے کرتے فلاور مین اکتا گیا تھا۔ گرمی کا موسم آ رہا تھا۔ گوگیرہ کے قدیم تعمیر شدہ کمرہ اور کچہری کی عمارت میں بے حد رش اور بدبو عرض وہ اکتا کر لسٹ کو دیکھتا ہے اور آخری مقدمہ کو شروع کرنے کا کہتا ہے۔ مقدمہ تھا ملنگ بنام سرکار جس میں ملنگ نے سر کاری اہلکار کا سر کھول دیا تھا۔ ملنگ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملنگ کو چار سپاہیوں نے پکڑا ہوا تھا۔ ملنگ کے لمبے لمبے بال اور داڑھی اور کپڑے پرانے جس پر خون کے داغ اور آنکھیں لال۔ عرض بے حد خوفناک حلیہ

فلاور مین نے تھکے ہوئے اعصاب کے ساتھ اعلان کیا کہ آج کا یہ آخری مقدمہ ہے۔ وہ آب تک 15 مقدمات سن کر ان کے فیصلے کر چکا تھا۔ زیادہ تر مقدمات حد بار داری اور پانی کی باری ( وارہ بندی ) کے متعلق تھے۔ وہ ہر دو کی بات سن کر جو سمجھ آتا تھا۔ وہی حکم لکھتا گیا۔ عرض اب یہ آخری مقدمہ تھا۔ جس میں ملنگ کو اس کے سامنے پیش کیا گیا۔ ملنگ کا حلیہ اور آنکھوں سے نکالتی آگ کو فلاور مین نے کرسی پر بیٹھے محسوس کیا۔ فلاور مین کو تفصیل بتائی گئی کہ اس نے سپاہی کا سر کھول دیا ہے اور اس کے گاؤں کے لوگ بھی اب مکمل مالیہ دینے سے انکاری ہیں۔

فلاور مین نے ملنگ سے بات کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ملنگ سوال کے جواب میں چپ کر کے صرف دیکھتا رہا۔ فلاور مین نے تمام حقائق معلوم کیے اور پھر ملنگ کی طرف دیکھنے لگ پڑا۔ فلاور مین کو ضلع کی ریڈ بک لکھا یہ حکم نما مشورہ یاد تھا کہ راوی کنارے کے ہر مقدمہ کو صرف قانونی ہی نہیں بلکہ سیاسی طور پر دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ ملنگ جو کہ مسلسل چپ تھا۔ اچانک بولا :: برکلے صاحب! عملے نے فوراً کہا برکلے نہیں۔ فلاور مین ملنگ بولا : نہیں برکلے صاحب! تیری حکومت نے ظلم کیا۔ ان جنگلوں کو برباد کیا۔ ان میں نہر نکالی۔ مجھے پتہ ہے برکلے صاحب! تم شکل بدل بدل کر جادو کے زور پر بار بار آتے ہو۔ لیکن یاد رکھنا! راوی لال ہوئے گا۔ یہ لوئر بار لال بہے گئی۔ یہ سب اجڑ جائے گا۔ جیسے جنگل واسی کا جیون اجڑ گیا۔ ویسے یہ سب بھی اجڑ جائے گا اور تیرے راج بھی اجڑ جائے گا۔ تمام عدالت پر مارے خوف کے چپ طاری ہو گئی۔ فلاور مین نے پر خیال نظروں سے ملنگ کو دیکھتا رہا

فلاور مین نے مقدمات کی لسٹ کو بلاوجہ پھر دیکھا۔ اداسی ملنگ بنام سرکار مقدمہ کی مثل کو آگے پیچھے کرنے لگا پھر یک سطری حکم لکھا ”ملنگ کو امرتسر میں ماہر نفسیات کے پاس برائے علاج بھیجا جائے اور مقدمہ بعد از علاج خاص ڈی سی کی عدالت میں بھیجا جائے۔ یہ لکھ کر خلاف معمول حکم سنائے بغیر اٹھ کھڑا ہوا۔ ملنگ نے دوبارہ کہا : برکلے جی“ یاد رکھنا سب لال بہے گا۔ لہو سے لال نہ ہوئے تا میں اداسی ہی نہیں۔ لہو سے لال۔ لال او لال۔ سپاہی اس کو پکڑ کر بخشی خانہ لے گئے

———– ————————-

فلاور حسین کی عادت تھی کہ وہ صبح بہت جلدی جاگ جاتا اور پھر اپنی بیوی کے ہمراہ ناشتہ کرتا اور اس سے قبل لندن سے آئی تازہ کتب کا کچھ حصہ پڑھنا اس کا معمول تھا۔ وہ بھی معمول کا ایک دن تھا۔ 150 کنال پر پھیلے ڈی سی کے بنگلہ میں فلاور حسین نے صبح ہی جب اس کا ایک اہلکار نئی کتابیں ہے کہ آیا تو اس نے خلاف معمول اس سے نام پوچھا :۔ اس نے مراد نام بتایا۔ اس نے اس کو کہا کہ کیا مجھے کوئی آدمی اب مل سکتا ہے جو کہ لارڈ بر کلے کے قتل والے دن کا قصہ عوامی تاریخ کے حوالے سے سنا سکے۔

کیونکہ حکومت کے کاغذات میں جو قصہ ہے۔ وہ تو بہر حال حقیقت سے کافی فرق ہو گا۔ مراد نے کہا صاحب! مائی دی مسیت کے پاس شیرا ساہی کو اس طرح کے قصہ کہانی یاد ہیں۔ میں اس کو آپ بتائے کہ کب کا ٹائم دو کہ وہ آ کر آپ کو یہ قصہ سنانے۔ فلاور حسین نے لمحہ بھر کو سوچا اور پھر کہا کہ اس طرح کرو کہ اس کو آج شام ہی آنے کا کہو۔

———————————-

اجل سنگھ صبح ناشتہ کے بعد فوری احکامات کے منتظر کاغذات دیکھ رہا تھا کہ اس کی بیوی اور بیٹا کمرہ میں آئے۔ بیٹا خاصا منتشر اور مہتاب کور بھی واضح طور پر پریشان۔

موہن کہنے لگا:۔ ابا رہ رہ بھگت سنگھ آنکھیں کے سامنے آتا ہے اور پھر دل غصہ سے بھر جاتا۔

اجل جو کہ کسی دیرینہ مسئلہ کی مثل پڑھ کر اب اس پر اپنی رائے لکھ رہا تھا۔ یعنی تفصیلی رائے جس کی بنیاد پر ایڈیشنل کمشنر صاحب نے حتمی حکم لکھنا تھا۔ یہ ایک گھوڑی پال مربعے کا مقدمہ تھا۔ جس میں اب تک فریقین کے مجموعی طور پر 5 افراد قتل ہو چکے تھے۔ اجل جو کہ گزشتہ ایک گھنٹے سے اس مثل کو پڑھ رہا تھا۔ پہلے ہی طبیعت بوجھل کر چکا تھا۔ اب ان دونوں کو دیکھو طبیعت مزید زیر بوجھ آئی۔ اس کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ وہ کیسے اور کن لفظوں میں موہن کو تسلی دے اور یہ بات بھی سمجھے کہ ہم لوگ اس قصہ نہیں سوائے اپنے نقصان کے اور کچھ بھی نہ کر سکتے ہیں۔

اس کو اطلاعات مل رہی لگی کہ پنجاب بھر میں نوجوان نے بھگت کے واقعہ کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں غصہ کا اظہار تشدد کے ذریعہ کیا ہے۔ گاندھی نے عدم تشدد کو ہاتھ سے نہ جانے دینے کی اپیل بھی کی ہے۔ لیکن موہن کو کیسے یہ بات سمجھے؟ اس کو سمجھ نہ آئی تھی۔ اس نے کل ہی بابا صاحب فرید گنج شکر کی شاعری کا دیوان منگوائی تھی۔ اس کو خیال آیا کہ اس سے فال لیا جائے۔ اس نے موہن کو اشارہ کیا کہ کتاب لے کر آئے۔ موہن نے کتاب دیکھی تو شیخ فرید کی کتاب کہ کر آنکھوں سے لگائی۔

اجل نے کہا :۔ پتر ترے مسئلہ کا حال بابا صاحب دے کلام تو لیندے ہیں ( بیٹا تیرے مسئلہ کا حل بابا صاحب کے کلام سے لیتے ) ۔ کتاب کھولی تو

فریدا برے دا بھلا کر
غصہ من نہ ہنڈھاء
دیہی روگ نہ لگ ای،
پلے سمجھ کچھ پاء۔

اجل نے با آواز بلند یہ پڑھا۔ مہتاب اور موہن دونوں کے دل اس کو سن کر سکون سے بھر گئے۔ اور اجل نے کتاب انکھوں کو لگا کر اونچی جگہ رکھ دی۔

Facebook Comments HS