انتخابات میں التوا کون اور کیوں چاہتا ہے؟


پاکستان میں 8 فروری 2024 کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندیاں مکمل ہو چکیں اور ان پہ 3000 سے زائد اعتراضات پہ بھی تقریباً کام مکمل ہو چکا۔ حلقہ بندیوں کا نوٹیفیکیشن بھی نکل آیا اور ان کی باقاعدہ اشاعت بھی ہو چکی اب صرف انتخابی شیڈول کا اعلان ہونا ہے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے 90 روز کے اندر انتخابات کیس میں الیکشن کمیشن اور صدر مملکت کو انتخابات کی تاریخ کا پابند بنایا تھا جس پہ 8 فروری انتخابات کی تاریخ مقرر ہوئی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اب انتخابات کی تاریخ تبدیل نہیں ہو سکتی نہ ہی سپریم کورٹ ایسا کسی کو کرنے دے گی۔

سپریم کورٹ نے میڈیا کو بھی پابند کیا کہ وہ اپنے پروگراموں میں انتخابات کے التواء کے متعلق کوئی بات نہیں کریں گے ورنہ پیمرا ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرے گا۔

اب پچھلے چند روز سے سپریم کورٹ واضح احکامات اور میڈیا کو دی گئی وارننگ کے باوجود چند میڈیا ہاؤسز ملک میں دہشتگردی کو جواز بنا کر ایک بار پھر انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں۔ کچھ سیاسی جماعتیں بھی ان میڈیا ہاؤسز کی ہم آواز بنی یہ باور کرانا چاہتی ہیں کہ ملک میں بڑھتی دہشتگردی 8 فروری کے انتخابات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

اب اگر دہشتگردی کی بات کریں تو قوم 2013 میں ملک کے امن و امان کی صورتحال نہیں بھولی۔ پاکستان میں انتخابات ہو رہے تھے اور ملک کی ایک بڑی عوامی نظریاتی جماعت پیپلز پارٹی انتخابی مہم چلانے سے قاصر تھی۔ خیبرپختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی، آفتاب شیرپاؤ صاحب کی جماعت سمیت کچھ اور سیاسی جماعتوں کو طالبان دہشتگردوں نے انتخابی مہم چلانے ہی نہ دی۔

اس وقت عمران خان اور نواز شریف کی جماعتیں دہشت گردوں کی لاڈلی پسندیدہ جماعتیں تھیں۔ انہیں انتخابی مہم چلانے کی مکمل آزادی تھی۔ جے یو آئی ف، جماعت اسلامی بھی آزادانہ انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے تھیں۔

ان حالات میں بھی پیپلز پارٹی اور اے این پی، آفتاب شیرپاؤ صاحب نے بڑی محدود مگر دلیرانہ انتخابی مہم چلائی، کوئی بہانہ کوئی عذر پیش نہیں کیا۔

اس کے برعکس آج پاکستان میں دہشت گردی کی صورتحال ویسی ہرگز نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ دہشت گردی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ ہماری دلیر فوج اور سیکیورٹی اداروں کے افسران و جوانوں نے اپنی قیمتی جانی قربانیوں سے دہشتگردی کو بڑھنے سے روکا ہوا ہے۔ اس لیے کسی کا یہ عذر چلے گا نہیں، اوپر سے قاضی فائز عیسیٰ کی قیادت میں سپریم کورٹ کا حکم کہ انتخابات ہر صورت میں اعلان کردہ تاریخ کو ہی ہوں گے کسی کو التوا کی اجازت نہیں دیں گے۔

اب انتخابات کا التوا کون چاہتا ہے اور کیوں۔ یہ سوال بہت اہم ہے۔ انتخابات کے بروقت انعقاد کا مطالبہ پیپلز پارٹی کرتی رہی جبکہ مسلم لیگ نون ان کی اتحادی جے یو آئی ف سمیت نون لیگی ہم خیال کچھ جماعتیں انتخابات کے التوا کے حامی تھے۔

مسلم لیگ نون کی تو سمجھ آتی ہے کہ میاں صاحب کی مفاہمتی وطن واپسی، ریاستی پروٹوکول، عدالتی سہولیات کے باوجود پنجاب میں انہیں اب تک توقعات کے مطابق عوامی پذیرائی حاصل نہ ہو سکی ہے۔

پنجاب کی عوام کی رائے مسلم لیگ نون کی قیادت کے باڈی لینگویج سے صاف ظاہر ہے۔ تحریک انصاف کے لیے پنجاب اور کے پی کے کی عوام کی ہمدردیاں بڑھی ہیں، اس کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہی ہوا ہے اس میں کمی نہیں آئی۔ جبکہ سندھ اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی سیاسی حمایت پہلے بھی محدود تھی۔

میاں نواز شریف کو پنجاب کی طرح بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی کوئی قابل ذکر حمایت حاصل نہیں ہو سکی جس کی انہیں توقع تھی، جبکہ سندھ تو کبھی ان کا تھا ہی نہیں۔ کچھ باخبر حلقۂ یاراں سے اشارے ملے ہیں کہ طاقتوروں نے بھی میاں صاحب کو بتا دیا ہے کہ تمام تر ریاستی سہولیات اور حمایت کے باوجود وہ انہیں یہ یقین دہانی نہیں کرا سکتے کہ پنجاب سے مسلم لیگ نون من پسند نتائج حاصل کر پائے گی، یہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے باوجود ریاستی سرپرستی کے میاں صاحب کی مسلم لیگ نون کو 8 فروری کے انتخابات وارا نہیں کھاتے۔

جے یو آئی ف، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کچھ اضلاع میں اور ایم کیو ایم کراچی و حیدرآباد کے شہری علاقوں کو چھوڑ کر باقی کہیں نہیں ہیں، وہاں بھی انہیں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی جیسے سخت حریفوں کا سامنا ہے، وہ مسلم لیگ نون کی ہم خیال بنی ہوئی ہیں۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تینوں جماعتیں اور جی ڈی اے کی جماعتیں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں اپنے آپ کو کتنا محفوظ سمجھتی ہیں۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی ہے جو پنجاب میں مسلم لیگ نون کے ساتھ مفاہمت کی وجہ سے وسطی پنجاب میں اپنا مضبوط ووٹ بینک کھو چکی ہے لیکن اپنے ووٹ اور ناراض کارکنان کو پارٹی کی جانب واپس لانے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہے۔

جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کا کچھ ووٹ ابھی تک محفوظ ہے مگر وہاں بھی پیپلز پارٹی کو سخت محنت اور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی ہر گزرتے دن اپنی سیاسی پوزیشن کو بہتر بنا رہی ہے، جبکہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی اس وقت سب سے مضبوط پوزیشن میں ہے اور مضبوط الیکٹبلز کی مسلسل پیپلز پارٹی میں شمولیت اسے مزید مستحکم پوزیشن میں لے آئی ہے۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کے مقابلے کے لیے مخالف جماعتیں امیدوار تلاش کرنے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہیں۔ مسلم لیگ نون کے نئے صوبائی صدر کو اور کوئی نہیں ملا کچے کے ڈاکوؤں کا سہولت کار سردار تیغو تیغانی جس کو پیپلز پارٹی ان ہی الزامات کی وجہ سے اپنی پارٹی سے خارج کر چکی نون لیگ میں شامل کرانا پڑا۔

انتخابات میں اب بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے، سوائے پیپلز پارٹی کے کسی سیاسی جماعت نے ابھی تک اپنی انتخابی مہم شروع نہیں کی۔ تحریک انصاف کو جلسہ جلوس نکالنے یا ورکر کنونشن کرنے کی آزادی حاصل نہیں ہے اس کے باوجود وہ انتہائی مضبوط پوزیشن میں نون لیگ کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے۔ میاں صاحب کی ایک نیب کیس میں بریت تو ہو گئی ہے مگر نا اہلی کی تلوار ابھی تک ان کی گردن سے نہیں ہٹی ہے۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر اگر یہ کہا جائے کہ انتخابات میں التوا نون لیگ چاہتی ہے اور اس لیے چاہتی ہے کہ وہ اسے ان انتخابات میں اپنی بھرپور کامیابی کہیں نظر نہیں آ رہی تو یہ غلط نہیں ہو گا۔

Facebook Comments HS