”ہجر کربناک ہوتا ہے“ :ایک تاثر


شاعری احساس اور جذبے کو مجسم کرنے کا فن ہے۔ یہ الفاظ کی ایسی جادوگری ہے کہ جذبے اور الفاظ کی ہم آہنگی سے پراسرار شعری آہنگ تخلیق کرتی چلی جاتی ہے۔ ارفع تخیل اور عمدہ فکر کے امتزاج سے تشکیل پذیر ہونے والی شاعری قاری کے قلب و روح کو سحر آگیں کیفیات سے سر شار کر دیتی ہے۔ ”ہجر کربناک ہوتا ہے“ کی شاعری منفرد اور ممتاز اسلوب کی شاعری ہے۔ ڈاکٹر میمونہ سبحانی نے مذکورہ کتاب کی نظموں کی بدولت اردو نظم کی روایت میں منفرد شناخت قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

مذکورہ کتاب کی شاعری کا فکری محاکمہ کیا جائے تو عیاں ہوتا ہے کہ اس میں کہانی کو مرکزیت حاصل ہے۔ دیکھا جائے تو اس کائنات کی تخلیق اور اس کے تمام مظاہر، تخلیق آدم، تغیر پذیر موسم، ہجر و وصال اور حسن و عشق، ہر کہیں کہانی ہی کہانی کارفرما ہے۔ حیات و کائنات کے آفاقی نظام میں کہانی کے متنوع روپ لمحہ بہ لمحہ ارتقائی جست بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تخلیقی تناظر میں دیکھا جائے تو تخلیق کار، تخلیقی عمل کے دوران میں تخیل و وجدان کی حیرت انگیز طاقت پرواز سے نہ صرف کائنات کے اجنبی اور ان دیکھے آفاق تک رسائی حاصل کرتا ہے بلکہ احساس اور جذبے کی تجسیم و تحلیل سے لاشعور سے شعور کی سطح پر ایسے تمثال روشن کرتا ہے جو حیات و کائنات میں کار فرما مہا کہانی کی کسی نہ کسی ارتقائی حیثیت کو چشم بینا کے سامنے مثل آئینہ عیاں کرتے ہیں۔ یہ کار جاں گسل، جگر سنگ سے چشمہ آب رواں کے مترادف ہے :

”وہ جو ایک کرب تھا
وہ جو ایک خیال تھا
خون بن کے میری آنکھ سے ابل پڑا ہے
بوند بوند لفظ کی
ہستیوں میں جب ڈھلا
میرا اور نظم کا روپ دھارنے لگا ” ( تخلیقی عمل)
”آج پھر اپنی ڈائری کھولی
آج پھر خیالوں میں
اس کا عکس رقصاں ہے
ذہن کے جھروکوں سے
یاد رفتگاں
جانے محو کیوں نہیں ہوتی؟ ”

” ہجر کربناک ہوتا ہے“ کی شاعری آفاقی کہانی کے جس روپ کی عکاس ہے اس میں محبت اور رومانیت کو گہرا دخل ہے۔ اس میں ایسے پیکر حسن و جمال کا تصور دکھائی دیتا ہے جس کا حسن و جمال کائنات کے ذرے ذرے میں کار فرما ہے۔ بارش، ہوا، پانی، پھول، بادل، چاند، تارے، وادیاں، کہسار، گنگناتے چشمے، بدلتے موسم اور پرندوں کے مدھر گیت ڈاکٹر میمونہ سبحانی کے دل و دماغ کو مسحور کر دینے والے تجاذب کا منبع یہی مظاہر فطرت ہیں۔ اس خوب صورت اور دل افروز پیکر کے وصال کی آرزو شاعرہ کے روح و بدن میں خون تازہ کی طرح رواں دواں ہے :

”رات کے آخری پہر میں ستاروں کو دیکھ کر
میری تمنا ہوتی ہے
زندگی یہیں تھم جائے اور کبھی ختم نہ ہو
وہ ہر گز نہیں جانتے تھے
مجھے ان سے
کتنا پیار ہے، کتنا مان ہے
وہ جب مجھے سہارا دیتے
وہ زندگی بہت حسین لگتی
ہریالی اور پھول ہی پھول
اس دنیا میں نظر آتے ” ( مرگ مسلسل)

” ہجر کربناک ہوتا ہے“ کی شاعری میں رومانیت پسندی کے رویے سے ایک خاص قسم کا جمالیاتی رنگ اجاگر ہوا ہے۔ یہ معاصر زیست کی تلخیوں، احساس محرومی اور ناآسودہ خواہشات کا رد عمل اور زندگی کی حقیقتوں سے فرار کا نفسیاتی حربہ ہے یا فطرت کے حسن و جمال سے سر شار تخلیق کار کے احساس و جذبات کی حدت سے لبریز سحر آفریں شاعری ہے جو فطرت اور ساز ہستی سے ہم آہنگ تخلیقی تجربے کی زائیدہ ہے :

”تمھیں یاد کرتی ہوں
اکثر خود سے باتیں کرتی ہوں
کاش میں اکیلی یہاں نہ ہوتی، سب کا ارمان نہ ہوتی
اپنے وعدوں سے مجبور نہ ہوتی
ان باتوں کو یاد کرتی ہوں اور اکثر رو دیتی ہوں
تمھارے بن میں کیسے جی پاؤں اور تمھیں کیسے بتاؤں
تمھاری یاد کو کیسے بھلاؤں
کہ میں یہاں اکیلی ہوں
مگر سب کی سہیلی ہوں ” ( یاد)

اس شاعری میں حسن و عشق اور کیفیات حسن و محبت کا اظہار ایک خاص جمالیاتی رنگ کا حامل ہے۔ ان کیفیات کے بیان میں لطافت اور توازن موجود ہے۔ مجموعے کی تمام نظموں میں موضوع اور صورت حال کی مناسبت سے ایسی زبان کا استعمال کیا گیا ہے جس سے فکری ترو تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ ڈاکٹر میمونہ سبحانی کی شاعری میں حیات و کائنات کی پراسراریت، گردش لیل و نہار میں زندگی کی بے ثباتی سے عبارت عصری حسیت کی لہریں دائرہ در دائرہ پھیلتی محسوس ہوتی ہیں۔ ان کی شاعری کا سفر ابھی جاری ہے۔ ان کے شعری مزاج اور تخلیقی رویوں میں ابھی کئی موڑ آئیں گے جس میں شاعرہ ذات اور کائنات کے دائروں کو توڑ کر خود محو گردش ہوگی تو تب یقیناً اس کا فن امر ہو جائے گا۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ شاعر اپنی شاعری کا آغاز ذات کے دکھ سے کرتے ہیں اور پھر اس کا دائرہ انسانیت کے دکھ تک پھیلا دیتے ہیں لیکن میمونہ سبحانی نے انسانیت کا دکھ پہلے محسوس کیا ہے اور پھر کا تجربہ اوڑھے اپنی ذات کے گھروندے میں داخل ہوئی ہے۔ اس انوکھے تجربے کے نتیجے میں اس کے ہاں محبت کے اظہار میں خاص ٹھہراؤ محسوس ہوتا ہے۔ فکری سطح پر کوئی بے چینی دکھائی نہیں دیتی اور نہ ہی لفظوں کے چناؤ میں جلد بازی کا احساس دکھائی دیتا ہے۔

Facebook Comments HS