شب ظلمت میں نکلا چاند  (1)


کون یہ جانتا ہے کہ کالی سیاہ رات اپنے اندر کیسی کیسی ظلمتوں کو چھپائے ہوئے ہے۔ کتنے ہی لوگوں کے گناہ اور کتنے ہی لوگوں کی بے بسی اس رات کے اندھیرے میں گم ہوجاتی ہے۔ زاہدوں کی عبادتیں، عیاشوں کی معصیتیں اور مظلوموں کی فریادیں سب رات کی کالی چادر میں لپٹ جاتی ہیں۔

ایسے میں چہرے پر آنسووں کی آڑی ترچھی لکیریں اور وجود پر دکھ اور بے بسی کا بوجھ لا دے شاہ بانو کے قدم کس سمت جا رہے تھے اس کا انہیں کچھ ہوش نہ تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب زمان ٹاؤن کی سڑکوں پر رات کا اندھیرا اور ہوکا عالم چھایا ہوا تھا۔ بندہ تھا نہ بندے کی ذات۔ ایسے میں وہ چلتی ہی چلی جا رہی تھیں صرف ایک طمانچے کا احساس باقی تھا جو ان کے شوہر رحمٰن نے ان کی جوان اولاد کے سامنے رقیق الزام لگا کر مارا تھا۔

ٹائروں کی شدید چرچراہٹ کی آواز ان کے نزدیک گونجی تو وہ سہم کر ہوش میں آئیں۔ رات گئے سنسان سڑک پر تنہا عورت کو جاتا دیکھ کر ٹیکسی ڈرائیور بھی حیران تھا۔ چند لمحے ان کا جائزہ لینے کے بعد وہ ٹیکسی سے اتر کر ان کے پاس آ گیا۔ نہ جانے اس کا ارادہ کیا تھا پر آنسووں سے تر شاہ بانو کا چہرہ دیکھ کر تعجب زدہ رہ گیا۔

” کیا ہوا بہن۔ سب خیریت تو ہے۔ اتنی رات کو روتی ہوئی کہاں جا رہی ہو“ ۔ شاہ بانو کے گلے میں پھندے سے لگ گئے۔ بہ مشکل خود پر کنٹرول کرتی ہوئی وہ بولیں۔

” بھائی! مجھے شاہ فیصل کالونی پہنچا دو گے“ ۔
” ہاں ہاں۔ کیوں نہیں“ ۔

ڈرائیور نے پچھلا دروازہ ان کے لیے کھول دیا۔ تمام راستہ شاہ بانو کی آنکھیں نیر بہاتی ہی رہیں۔ زینت اپارٹمنٹس کے سامنے انہوں نے ٹیکسی رکوائی۔ ان کے پاس ٹیکس ڈرائیور کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا تو انہوں نے اپنے کان سے ایک بالی اتار کر اس کی طرف بڑھا دی۔

” میں کوئی اچھا آدمی نہیں ہوں بہن لیکن اتنا بے غیرت بھی نہیں ہوں کہ بہن کہہ کر ایک مجبور عورت سے اس کا زیور لے لوں“ ۔

ڈرائیور نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا
” بس اپنے اس بھائی کو دعا میں یاد رکھنا“ ۔

یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ شاہ بانو اپنا زندہ لاشہ کھینچتی ہوئی دوسری منزل پر واقع ثمر کہ فلیٹ کے سامنے آ گئیں۔ پانچویں چھٹی بار بیل دبانے پر اندر سے نیند میں ڈوبی ثمر کی تفتیشی آواز آئی۔

” کون ہے“ ۔
باہر سے ہلکے ہلکے روتے ہوئے ہچکیاں لینے کی آواز پر اس نے فوراً دروازہ کھول دیا۔
” آپا۔ آپ۔ آپ، اس وقت“ ۔

شدید حیرت زدہ انداز میں ثمر نے شاہ بانو کو تھاما۔ جوان بھائی کو سامنے دیکھ کر شاہ بانو اپنا ضبط کھو بیٹھیں اور ثمر سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔

***********
” ماما! بھئی چینی نہیں مل رہی“ ۔
دوسری تیسری بار ایمن کے چلانے پر مہرین کو اپنے کمرے کی سیٹنگ چھوڑ کر کچن میں آنا ہی پڑا۔
”کہاں چلی گئی چینی، پورے پانچ کلو کا پیکٹ تھا“ ۔
انھوں نے چیزیں ادھر ادھر کر کے ڈھونڈنا شروع کر دیا۔

” ماما! مجھے لگ رہا ہے وہ سامان کے ساتھ آئی ہی نہیں یا پھر جس ٹرک میں سامان آیا ہے واپس اس میں ہی چلی گئی“ ۔

” پھر اب کیا کریں، مجھے تو یہاں آس پاس کوئی سٹور بھی دکھائی نہیں دیا جہاں سے منگوا لوں اور چائے کی طلب شدید ہے“ ۔

مہرین خود بھی مایوس سی ہو گئیں۔
” آئیڈیا۔ پڑوس سے لے آتی ہوں“ ۔
ایمن نے چٹکی بجا کر آئیڈیا پیش کر دیا۔

نہیں ایمن برا لگتا ہے پڑوسی کیا سوچیں گے ابھی تین گھنٹے پہلے شفٹ ہوئے ہیں اور یہ چیزیں مانگنے بھی آ گئے ”۔

” او ہو۔ ماما! ایک تو اپ بھی نا۔ پڑوسیوں کو خود ہمارا خیال کر کے چائے بھجوانی چاہیے تھی۔ اب پاپا کے انتظار میں کب تک چائے کو ترستے رہیں بس میں جا رہی ہوں چینی لینے“ ۔

وہ دوپٹہ پھیلا کر اوڑھتی اٹھ کھڑی ہوئی
” اچھا تو پھر کام والی ماسی کا بھی پوچھ لینا“ ۔
” اوکے“

گھر سے نکل کر ایمن سامنے والے بنگلے کی طرف بڑھ گئی۔ بیل بجانے پر دروازہ ایک خوبرو نوجوان نے کھولا جو شاید بھاگتا ہوا آیا تھا اور اب ایک ہاتھ میں ریکٹ تھامے ہانپ سا رہا تھا۔

” السلام علیکم“
ایمن کے سلام کرنے پر نوجوان نے جواب دیتے ہوئے اسے دلچسپی سے دیکھا
” تھوڑی چینی مل جائے گی“ ۔
” بالکل مل جائے گی پر اپ کون؟“ ۔
” میں ایمن۔ وہ سامنے والے بنگلو سے آئی ہوں۔ ہم آج ہی یہاں شفٹ ہوئے ہیں“
” اوہ“
” کون ہے ماحد بھائی“
نوجوان کے پیچھے ایک سولہ سترہ سالہ لڑکی نمودار ہوئی۔
” زینی یہ ایمن ہیں، انہیں امی کے پاس لے جاؤ“ ۔

لڑکی نے بڑی پیاری مسکراہٹ کے ساتھ اسے ویلکم کیا اور اپنے ساتھ گھر کے اندر لے گئی۔ بے حد خوبصورت اور قرینے سے سجے گھر کے اندر اسے نہایت شفیق اور سوبر سی خاتون ملیں۔ پھول دار پرنٹڈ سوٹ پر پشمینہ کی شال لپیٹے قدرے بھاری تن و توش کی شاہ بانو ابھی ابھی نماز پڑھ کر اٹھی تھیں۔ ایمن کچھ دیر ان کے نورانی چہرے سے نگاہ نہیں ہٹا سکی

” امی یہ ہماری نئی پڑوسی ہیں ایمن۔ سامنے والے بنگلے میں آج ہی شفٹ ہوئی ہیں“ ۔

زینی ایمن کو شاہ بانو سے متعارف کروا کے چینی لینے چلی گئی۔ شاہ بانو نے پیار سے اسے اپنے پاس بٹھایا اور اس کا اور اس کی فیملی کا حال چال پوچھنے لگیں۔ چینی لے کر وہ واپس آنے لگی تو انہوں نے اسے رات کے کھانے کے زحمت سے بچانے کے لیے کہہ دیا کہ رات کا کھانا میں بھجوا دوں گی وہ ان کا شکریہ ادا کر کے واپس آ گئی لیکن کتنی ہی دیر وہ ان مہربان خاتون کو سوچتی رہی اور ان کا ذکر مہرین سے کرتی رہی۔

*************

رات اٹھ بجے بیل بجی تو اتفاق سے دروازہ ایمن نے ہی کھولا سامنے ماحد ہاتھوں میں کھانے کی بڑی سی ٹرے لیے کھڑا تھا

” آپ۔ آپ نے خواہ مخواہ زحمت کی۔ ہم کچھ نہ کچھ کر لیتے“ ۔
اس کے ہاتھوں سے ٹرے لیتے ہوئے ایمن نے کہا
” اس میں زحمت کی کیا بات ہے، آپ لوگ پڑوسی ہیں ہمارے اور پڑوسیوں کا بہت حق ہوتا ہے“ ۔
اس کی بات پر ایمن مسکراتی ہوئی اندر چلی گئی واپسی پر مہرین ساتھ تھیں۔
” یہ میری ماما ہیں اور ماما یہ ماحد ہیں“ ۔

برتن لوٹاتے ہوئے ایمن نے دونوں کا ایک دوسرے سے تعارف کروایا۔ ماحد نے مہرین کو سلام کیا تو انہوں نے حیرت سے دیکھتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ نجانے کیوں اس کا چہرہ انہیں کچھ جانا پہچانا سا لگ رہا تھا۔

” ایمن تمہاری والدہ کی بہت تعریف کر رہی تھی۔ میری طرف سے ان کا شکریہ ادا کرنا۔ میں تو سیٹنگ میں مصروف ہوں پر تم اپنی والدہ سے کہنا وہ ہمارے گھر ضرور تشریف لائیں“ ۔

مہرین کی بات سن کر ماحد کے چہرے پر چھائی مسکراہٹ لمحے میں غائب ہوئی اور اس کا چہرہ سپاٹ ہو گیا
” جی۔ وہ۔ اچھا کہہ دوں گا“ ۔

یہ کہہ کر وہ مزید رکے بغیر واپس آ گیا۔ اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ میری ماں نے کیا آنا ہے انہوں نے تو یہ کھانا بھی بابا سے چوری چھپے ہی بھجوایا تھا

**********
تیسری بار ماحد نے زینب کی پونی کھینچی تو وہ بلبلا اٹھی۔
” امی دیکھیں نا ماحد بھائی کو، کب سے تنگ کیے جا رہے ہیں“ ۔
”امی دیکھیں نا ماحد بھائی کو۔“ ۔
ماحد نے اس کی نقل اتاری تو زینب نے ٹیبل پر سے کانٹا اٹھا کر اس کے ہاتھ کی پشت میں چبھو دیا۔

دونوں بچوں کی پیار بھری نوک جھونک اور لڑائی دیکھ کر شاہ بانو نے دل ہی دل میں ان کی نظر اتاری مگر جیسے ہی رحمن صاحب نے لاونج میں قدم رکھا تینوں اپنی اپنی جگہ کچھ سہم سے گئے۔ زینب اور ماحد کی بولتی بند ہو گئی۔

” بڑا شور ہو رہا تھا، اب کیا ہوا، سب کی زبانوں کو تالا کیوں لگ گیا“ ۔
کوٹ چئیر کی پشت پر ڈال کر وہ شاہ بانو کو کھا جاننے والی نظروں سے دیکھتے بیٹھ گئے۔
” اچھی تربیت کر رہی ہو اولاد کی“ ۔

ماحد اور زینب کے سر جھک گئے۔ شاہ بانو کچھ نہیں بولیں اور وہ رحمان صاحب کی طنز برساتی زبان کے سامنے کبھی کچھ بولتی بھی نہیں تھیں۔ ان کی اولاد کے خیال میں ان کی اسی بات کا فائدہ اٹھا کر رحمان صاحب شیر ہوتے تھے مگر وہ اپنے بچوں کو حقیقت حال کبھی بتا ہی نہیں سکیں۔

” سٹڈی کیسی چل رہی ہے تم لوگوں کی“ ۔
رحمان صاحب نے اپنا رخ دونوں کی طرف کیا
” ٹھیک چل رہی ہے بابا“ ۔
ماحد نے بے حد سنجیدہ لہجے میں کہا لیکن زینب کا دل پتے کی طرح لرز رہا تھا
” ٹھیک“

ڈر سے سہمے لہجے میں اس نے صرف اتنا کہنے پر ہی اتفاق کیا۔ شاہ بانو نے چائے بنا کر رحمان صاحب کے سامنے رکھی۔

” یہ تو رزلٹ آنے پر ہی پتہ چلے گا، کیا کیا گل کھلائے جا رہے ہیں“
”یہ کیا ہے“
انہوں نے انڈے کی پلیٹ اٹھا کر شاہ بانو کے سامنے کی۔ شابانو کچھ سمجھیں نہیں
” انڈا ہے“ ۔

” مجھے بھی نظر آ رہا ہے کہ انڈا ہے پر اس کے کنارے کرکرے کیوں ہیں۔ عمر گزر گئی پر تمہیں ایک انڈا تک بنانا نہیں آیا“ ۔

انہوں نے پلیٹ شاہ بانو کے سامنے پٹخ دی
” میں دوسرا بنا لاتی ہوں“ ۔
وہ فوراً اپنی چیئر سے اٹھ گئیں
” اتنا وقت نہیں ہے میرے پاس کم عقل پھوڑ عورت۔ کوئی کام ڈھنگ سے بھی کیا ہے آج تک“ ۔
” رحمان! بس میں دو منٹ میں بنا لاتی ہوں“
” شٹ اپ“
وہ غصے سے چیر دھکیلتے اٹھ کھڑے ہوئے
” ٹھونسو خود بیٹھ کر۔ میری تو ساری عمر برباد کر کے رکھ دی تم نے“ ۔

انہوں نے کوٹ کھینچا اور بریف کیس اٹھا کر باہر نکلتے چلے گئے۔ جوان اولاد کے سامنے تذلیل پر شاہ بانو کا دل کٹ کر رہ گیا اور انکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں۔ وہ بچوں سے آنسو چھپاتی کچن کی طرف چلی گئیں۔ ماحد کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔ زینب کی انکھوں سے قطرے ٹپک ٹپک کر اس کا دامن بھگونے لگے۔

ایسا آج پہلی بار نہیں ہوا تھا۔ اسی ڈر اور خوف کی فضا میں دونوں نے جنم لیا تھا۔ نہ جانے ان کی ماں سے ایسا کیا قصور ہوا تھا جس کی پاداش میں وہ آج تک رحمان صاحب کے عتاب کا نشانہ بنی ہوئی تھیں۔ اتنے پر ہی بس نہیں تھا وہ آئے دن ان پر ہاتھ اٹھانے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ فرق صرف اتنا پڑا تھا کہ پہلے وہ بچوں کے سامنے مارتے تھے مگر جب سے ماحد بڑا ہو رہا تھا وہ اپنے کمرے میں مارتے تھے۔

**********
جاری ہے

Facebook Comments HS