یاسین صابر۔ سراپا شرافت و علم کا خزانہ
یاسین صابر۔ سراپا شرافت و علم کا خزانہ۔
کمال کا صحافی، سراپا شرافت اور علم کا خزانہ یاسین صابر ہم سے چھوٹ گیا ہے یاسین صابر بظاہر ایک گمنام صحافی تھا لیکن وہ اخبار میں ریڑھ کہ ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ اخبار کی لیڈ سے لے کر عام خبر کی اشاعت ان کی منظوری سے مشروط تھی چونکہ وہ اخبار کے چیف نیوز ایڈیٹر تھے۔ اس لئے پورے اخبار کی ذمہ داری ان کے سر تھی۔ اگر اخبار میں کسی سب ایڈیٹر سے غلطی سرزد ہو جائے تو ذمہ داری چیف نیوز ایڈیٹر کے ذمہ ڈال دی جاتی ہے کیونکہ جب اخبار اشاعت کے لئے پرنٹنگ پریس جاتا ہے۔ تمام کاپیوں پر ایک نظر چیف نیوز ایڈیٹر ایک نظر ڈال دیتا ہے۔ آخری لمحہ کوئی غلطی پکڑی جائے تو اس کی اصلاح کر لی جاتی اکثر اوقات وہ کاپیاں پریس جانے باوجود اس وقت تک دفتر ہی بیٹھے رہتے جب تک اخبار کی پہلی کاپی شائع ہو کر نہیں اکثر و بیشتر سورج طلوع ہونے پر اپنے گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے نیوز ایڈیٹر ہی کی نگرانی میں اخبار مرتب ہوتا ہے۔ اس کا نام اخبار میں چھپتا ہے اور نہ ہی اسے بیشتر لوگ جانتے ہیں البتہ کسی نیوز ایڈیٹر کی حیثیت ایک ایسے سپہ سالار کی ہوتی ہے جو بظاہر گمنام لیکن بے پناہ اختیارات کا حامل ہوتا ہے۔
بعض اوقات وہ اپنی صوابدید پر خطرناک خبر شائع کر دیتا ہے۔ اس کا یہ اختیار اخبار یا اشتہارات کی بندش کا باعث بن سکتا ہے۔ میرا ان سے تعلق زمانہ طالبعلمی سے تھا جب میں شیخ رشید احمد ( جو حال ہی میں 40 روز کا چلہ کاٹ کر منظر عام پر آئے ہیں۔ ) کی خبریں لے کر روزنامہ جنگ اخبار جایا کرتا تھا تو ان کی محبت ہی سمیٹ کر لایا کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ پیش آتے تھے۔ میدان صحافت میں قدم رکھنے کے بعد تو ان سے دوستی ہو گئی ان سے نظریاتی ہم آہنگی تھی۔
لہذا ان سے نظریاتی بنیادوں پر تعلق دوستی مزید مستحکم ہو گئی یاسین صابر باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ وہ پیشہ ورانہ مصروفیت کی وجہ سے عام طور پر تقریبات میں شرکت سے گریز کرتے تھے اور اپنے اپنی سرگرمیاں دفتر تک محدود رکھتے تھے۔ انہوں نے بڑے لوگوں سے ”دوستیاں“ کرنا سیکھا اور نہ ہی بڑے لوگوں کی محافل آرائی کی بلکہ پوری زندگی درویشی میں بسر کر دی وہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس دستور اور راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کی تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔
استادوں کے استاد میدان صحافت کے شہ سوار یاسین صابر کی وفات کی خبر اس وقت معلوم ہوئی جب انہیں ہزاروں من مٹی کے نیچے دفن کر دیا گیا کسی کو خبر نہ ہوئی کہ ملک کا ایک بڑا اخبار نویس اللہ کے حضور پیش ہو گیا سینئر صحافی بشارت علی سید سے یاسین صابر کے جنازہ کے وقت کے بارے میں استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ ان کی صبح 10 بجے تدفین ہو چکی ہے۔ آج میں بہت اداس ہوں یاسین صابر جہاں ملک کے بزرگ صحافیوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہاں مجھے ان کے سامنے زانوئے تلمذ کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ٹریڈ یونین اور پریس کلب کی سیاست کی وجہ سے بھی میرا ان سے رابطہ رہتا تھا۔ نظریاتی طور پر بھی وہ میرے بہت قریب تھے۔ ان کی میرے صحافتی مرشد سید سعود ساحر سے بڑی دوستی تھی۔ سید سعود ساحر ان کے والد محترم ضبط قریشی کے بڑے قریب تھے جب سے یاسین صابر روزنامہ جنگ سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ ان سے گاہے بگاہے ٹیلی فون پر بات چیت ہوتی رہتی تھی لیکن ان سے رابطوں میں اس وقت کمی آ گئی جب انہوں نے اپنے آپ کو گھر کے اندر مقید کر لیا جب میں نے میڈیا ٹاؤن اسلام آباد میں ڈیرہ ڈالا تو ان سے فون پر رابطہ کی کوشش کی لیکن مجھے بتایا گیا کہ وہ اپنے صاحبزادے کے پاس بیرون ملک چلے گئے ہیں۔
ان کی پاکستان واپسی کا علم نہیں تھا۔ ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی خوش قسمت ہیں۔ ان کو ایک عالم و فاضل صحافی کی زندگی کے آخری ایام میں ان کی صحبت حاصل رہی یاسین صابر صرف اور صرف صحافی تھے۔ انہوں نے کئی سال تک روزنامہ جنگ راولپنڈی کے چیف نیوز ایڈیٹر کے فرائض انجام دیے وہ فاروق اعظم مرحوم کی طرح باصلاحیت صحافی تھے کہ ادارہ نے ان کی خدمات اس وقت تک مستعار رکھیں جب انہوں نے خود ہی پیرانہ سالی کے باعث ادارہ سے معذرت کر لی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ دفتری امور نہیں نمٹایا کرتے تھے بلکہ ان کے ہاتھوں میں تربیت پانے صحافیوں کو کہیں خبر کی سرخی لگانے میں مشکل درپیش آ جائے تو وہ رہنمائی کے لئے موجود ہوتے تھے۔
روزنامہ جنگ کی یہی خوبی ہے۔ وہ اپنے تجربہ کار بالخصوص سپہ سالار کی صلاحیتوں کے مالک کو ضائع نہیں ہونے دیتا یاسین صابر مرحوم ان با صلاحیت صحافیوں میں شمار ہوتا ہے جن کا دامن ان لغزشوں سے پاک تھا جن میں آج کے دور کے اکثر صحافی شکار ہیں۔ سرکاری درباروں پر کبھی حاضری دی اور نہ ہی و زراء اور مقتدر لوگوں سے دوستی کی بلکہ آج بڑے بڑے طرم خان سنگل کالم خبر لگوانے اور اپنی تصویر چھپوانے کے لئے خوشامد کرتے تھے۔
ملک کے سب سے بڑے اخبار کے با اختیار صحافی کا کوئی پسندیدہ لیڈر یا جماعت نہیں تھی۔ ادارے کی پالیسی ہی اس کی پسند و نا پسند تھی۔ اخبار کے مالکان مہینوں بیرون ملک ہوں ان کو اخبار کی فکر نہیں ہوتی تھی کیونکہ انہیں علم ہوتا تھا کہ یاسین صابر جیسا ذمہ دار نیوز ایڈیٹر بیٹھا ہے۔ ایسی کوئی خبر شائع نہیں ہونے دے گا جو اخبار بندش کا باعث بنے جچے تلے الفاظ میں خبر کی سرخی نکالنا یاسین صابر کا دائیں ہاتھ کا کھیل تھا یاسین صابر کی موت ایک صحافی نہیں بلکہ عالم کی موت ہے یاسین صابر مختلف زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔
انہیں علم اپنے عظیم والد ضبط قریشی سے ورثے میں ملا تھا جو خود شہرہ آفاق شخصیت کے مالک تھے۔ دست شناسی کی وجہ سے انہوں بڑی شہرت پائی تھی یاسین صابر اردو ادب سے لگاؤ رکھتے تھے۔ شعر و سخن کا ذوق رکھتے تھے۔ ان کی محفل کا لطف ہی کچھ اور تھا۔ وہ راولپنڈی شہر کے وسط سے اٹھ کر میڈیا ٹاؤن کے اے بلاک کی اس گلی میں جا بسے جہاں شعبہ صحافت کے بڑے نام ڈاکٹر زاہد چغتائی کا پہلے ہی سے قبضہ تھا لیکن انہوں نے بھی یاسین صابر کے ساتھ محفلوں کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔
ڈاکٹر زاہد چغتائی ان کی عالمانہ عظمت کے معترف تو تھے۔ ہی۔ ڈاکٹر زاہد چغتائی کی اردو شاید اس پایہ کی نہ ہو جس پایہ کی وہ فارسی میں گفتگو کر تہیں کبھی ان کی فارسی دانی سے ان کے ایرانی ہونے کا شک گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے۔ وہ استاد محترم یاسین صابر سے فارسی شعراء بارے میں اکثر گفتگو کرتے رہتے تھے۔ انہوں نے بھی ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی کو فارسی دانی پر اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ وہ باہم فارسی ادبیات پر گفتگو کرتے رہتے۔
یاسین صابر اس دور کے صحافی تھے جب صحافی کے لئے ادب و شاعری سے رغبت ضروری تھی۔ وہ اپنی یادداشتیں اپنے ساتھ ہی لے کر چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آیا یاسین صابر، سید سعود ساحر، فاروق اعظم، شورش ملک اور ہدایت اختر جیسے بڑے قد کاٹھ کے صحافی ہیں جن کا شمار آسمان صحافت میں عزت و وقار سے نام لیا جاتا ہے۔ گوالمنڈی میں حکیم ضبط قریشی کے مطب کو بڑی شہرت حاصل تھی۔ دست شناسی کی وجہ سے ان کے مریدوں کی بڑی تعداد تھی یاسین صابر علم کا خزانہ تھا۔ افسوس صد افسوس ملک کے سب سے بڑے اخبار کا اپنے دور کا سب سے بڑا صحافی گمنامی کی موت مر گیا۔

