پاکستان کے پہلے حکیم سعید کو تو اپریل 1971 ہی میں مارا جاچکا تھا


1979 میں جب میں یونیورسٹی کی تعلیم سے فارغ ہوا تو اُس وقت میری عمر بائیس سال تھی۔ میں مڈل کلاس گھرانے کا ایک ایسا نوجوان تھا جس کی آنکھوں میں آئندہ زندگی کے خوبصورت سپنے سجے ہوئے تھے کہ اب برسر روزگار ہو جانے کے بعد ایک خود مختار زندگی کا آغاز ہو گا بہرحال میں نے پہلی بار دفتر جانا شروع کیا تو شام کو پبلک بس سے گھر واپس جاتا تھا، وہ پبلک بس ”آرام باغ“ (جس کا نام تقسیم سے قبل رام باغ تھا) کے اسٹاپ پر کچھ دیر کے لیے رکتی تو میری نظر اکثر اس بورڈ پر پڑتی تھی جو سامنے سڑک کے کنارے ایک دکان پر آویزاں تھا اس بورڈ پر مجھے سب سے عجیب لفظ ”سادھنا اوشدھالیہ“ لگتا تھا۔ میری متجسس طبیعت نے اس کا کھوج لگا کر اس کی حقیقت اور تفصیل جانے کی کوشش شروع کردی، جس کے نتیجے میں ایک دلخراش خونچکاں داستان سامنے آئی۔ اس کہانی کے مظلوم ہیرو کا نام ہے ”جوگیش چندر گھوش“ جو متحدہ ہندوستان کی تقسیم سے کئی دہائیوں قبل یعنی 1887 میں ”برطانوی ہند“ کے شہر ڈھاکہ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ ایک اسکالر، آیور وید  پریکٹیشنر، کاروباری اور مخیر انسان تھے۔ جوگیش چندر گھوش نے 1908 میں صوبہ بہار کے شہر بھاگل پور کالج میں کیمسٹری کے پروفیسر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔

بھاگل پور میں گھوش نے ”آیوروید“ میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ آیور ویدک علاج اور آیور ویدک دوائی تیار کرنے کے طریقہ میں کمال حاصل کیا۔ ”آیور وید“ بر صغیر کا ایک قدیم طبی نظام ہے۔ یہ نظام ہندوستان میں پانچ ہزار سال پہلے شروع ہوا تھا۔

لفظ آیور وید دو سنسکرت الفاظ ”آیوش، جس کے معنی زندگی ہے اور وید جس کا معنی علم ہے سے مل کر بنا ہے، اس لیے اس کے لغوی معنی ہیں“ زندگی کا علم ”۔ 1914 میں انہوں نے ڈھاکا میں“ سادھنا اوشدھالیہ ”کے نام سے ایک“ آیور ویدک دوائی اسٹور ”قائم کیا۔ سادھنا او شد ہا لیہ کی آیور ویدک دوائیں جلد ہی بہت مقبول ہو گئیں اور بنگال کے ساتھ ساتھ برطانوی ہند کے دوسرے حصوں میں بھی اس کی شاخیں کھول لی گئیں۔ اس کے علاوہ چین، شمالی امریکہ اور افریقہ میں بھی تقسیم کار ایجنسیاں قائم ہو گئیں۔ ایک وقت ایسا آیا کہ صرف بنگلہ دیش میں ان کی 68 شاخیں قائم ہو گئیں اور ان کی فارمیسی میں 450 اقسام کی دوائیں تیار کی جا رہی تھیں۔

جوگیش چندر گھوش ”لندن کی کیمیکل سوسائٹی (ایف سی ایس ) کے فیلو اور یو ایس کیمیکل سوسائٹی (ایم سی ایس ) کے ممبر بن گئے۔ انہوں نے بیماریوں کی وجوہات، آیور ویدک دوائی و علاج اور صحت کی سائنس پر متعدد کتابیں بھی لکھیں۔ انہوں نے جلد ہی آیور ویدک دوائیوں پر تحقیق اور تیاری کے لئے ایک کیمیاوی لیبارٹری بھی قائم کر لی۔

1914 میں قائم ہونے والی یہ لیبارٹری مشرقی بنگال میں سادھنا اوشدھالیہ اسٹور کی طرح اپنی نوعیت کی پہلی لیبارٹری تھی اور اس نے آیور ویدک دوائیوں کو فروغ دینے میں کئی دہائیوں تک شاندار خدمات سر انجام دیں۔ ان کی وسیع تر تحقیق اور مشق سے ہی دیگر ادویاتی نظاموں کے برعکس ”آیوروید“ بیماریوں کے علاج کے ساتھ ساتھ صحت مند طرز زندگی پر زیادہ دھیان مرکوز کرتا ہے۔ آیور وید علاج مکمل طور پر قدرتی جڑی بوٹیوں سے کیا جاتا ہے۔

ہندوستان 1947 میں تقسیم ہو گیا اور اس کے نتیجے میں ایک نیا ملک پاکستان وجود میں آیا جو دو خطوں پر مشتمل تھا۔ ان دونوں خطوں کے درمیان ایک ہزار میل کا فاصلہ تھا۔ پاکستان کا مشرقی خطہ مشرقی پاکستان کہلانے لگا اس کا صوبائی دارالحکومت ڈھاکہ تھا۔ جوگیش چندر گھوش ڈھاکہ میں ہی قیام پذیر تھے۔ لیکن آنے والی دو دہائیوں کے بعد پھر سے پاکستان کے دونوں خطوں کے درمیان تقسیم کا بھیانک عمل شروع ہوا اور اس نئی ہونے والی تقسیم کے دوران ہی ہماری کہانی کے اسکالر ہیرو کو ختم کر دیا گیا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ 1971 میں بنگلا دیش کی جنگ آزادی کے آغاز کے ساتھ ہی ” فوج“ نے ڈھا کہ میں خاص طور پر ”ہندوؤں“ کی رہائش گاہوں پر چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دیں۔

”سادھنا اوشدھالیہ“ کے تمام ہندو ورکرز نے ہندوستان میں محفوظ پناہ کے لیے سرحد عبور کرلی اور فیکٹری کو چھوڑ دیا مگر ”جوگیش گھوش“ نے اپنی جنم بھومی کو چھوڑ نے سے انکار کر دیا اور تن تنہا اپنی اس بڑی فیکٹری میں رہنے لگے۔ چار اپریل 1971 کی صبح کو ”فوج“ کا ایک گروپ مقامی امن کمیٹی کے ایک ممبر کی سربراہی میں 71 دینا ناتھ سین روڈ، گندریہ ڈھا کہ میں سادھنا اوشد ہالیہ کی فیکٹری میں دفتر کی تلاشی لینے کے بہانے داخل ہوا۔ ان میں سے چار فوجیوں نے 48 سالہ ”جوگیش چندر“ کو اوپر کی منزل پر چلنے کو کہا، ساتھ ساتھ ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انہوں نے ”آزادی پسندوں“ کو پناہ اور مدد بھی فراہم کی تھی اور یوں ان کو عمارت کی پہلی منزل پر ان کے اپنے چیمبر میں گولی مارکر ہلاک کر دیا گیا۔ چند گھنٹوں میں ہی ”سادھنا اوشدھالیہ“ کے دیگر اداروں سمیت پوری فیکٹری کو تباہ کر دیا گیا اور قیمتی سامان لوٹ لیا گیا۔

میں سوچتا ہوں کہ وہ عالم فاضل طبیب جس نے 1947 کے صد مے کو بھی جھیلا تھا لیکن ترک وطن کا خیال بھی کبھی دل میں نہیں لایا ہو گا کہ اسے اپنی اس زمین سے محبت تھی اور اسے اس طرح مار دیا گیا۔ وہ چاہتا تو آرام سے ترک وطن کر کے اپنی زندگی کو ان درندوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے محفوظ بنا سکتا تھا۔ کبھی کبھی تو میں حیران بھی ہوتا ہوں اور پریشان بھی کہ عبدالکلام کو بھارت کا صدر بنا دیا جاتا ہے اور عبدالقدیر خان کو ہمارے یہاں بے عزت کیا جاتا ہے، یہاں پروفیسر ڈاکٹر ظفر عارف پراسرار حالات میں قتل کر دیے جاتے ہیں اور وہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسین کو بھارت کا صدر بنایا جاتا ہے۔ حکیم محمد سعید ہمارے ہی شہر کی ایک سڑک پر جیتے جاگتے انسان سے لاش بنا دیے جاتے ہیں اور بھارت میں ان کے بڑے بھائی ”حکیم عبد الحمید“ کو بھارت کے سب سے بڑے ایوارڈ ”پدم بھوشن“ سے نوازا جاتا ہے۔

آہ افسوس کہ یہاں پر جوگیش چندر جیسے با کمال عالم اپنے ہی ہم وطنوں کی طرف سے چلائی جانے والی گولیوں سے بھون دیے جاتے ہیں!

Facebook Comments HS

One thought on “پاکستان کے پہلے حکیم سعید کو تو اپریل 1971 ہی میں مارا جاچکا تھا

  • 07/12/2023 at 2:52 صبح
    Permalink

    وکی پیڈیا پر موجود ہر بات سچ نہیں ہوتی۔
    یہ وہ یکطرفہ منفی خبر ہے جو مکتی باہنی یا بنگالیوں نے پاکستانی فوج کے بابت مشہور کررکھی تھی۔
    اس میں بھی شک نہیں کہ ہندوستانی جاسوسوں اور مکتی باہنی کے باغیوں کی ایک بڑی تعداد نے مقامی ھندوئوں کے گھروں اور فیکٹریوں میں پناہ لے رکھی تھی۔
    افسوس اس بات کا بھی ہے کہ متعدد ایسے مقامات بھی تھے جہاں سے فوج جب واپس آگئی تو انہی پاکستان دشمن عناصر نے ان جگہوں پر جاکر متعدد پاکستان حامی لوگوں کو بے رحمی سے قتل کیا اور اس کا بعد میں الزام پاکستانی فوج پر ڈال دیا۔ اور ہمارے اج کے بقلم اور بزعم خود دانشور اسی پروپیگنڈے کو آنکھ بند کرکے آگے کردیتے ہیں۔

    اگر فوج چوراسی سالہ (48 سالہ نہین) معذور جوگیش چندر کو قتل کرسکتی تھی تو ان دو گارڈز کو بھی ماردیتی جو وہاں تعینات تھے۔ امکان یہی ہے کہ فوج کے جانے کے بعد انہی گارڈز نے جوگیش چندر کا قتل کیا اور اس وقت کے کئی لاکھ لوٹنے کے بعد ملبہ پاکستانی فوج پر ڈال دیا۔

    جہاں تک ہماری اس ٹھرک کا سوال ہے کہ ڈاکٹر قدیر صدر نہیں بن سکے تو اطلاعاً عرض ہے کہ وہ ایک مکمل سرکاری افسر تھے۔ سرکاری افسر چاہے وہ ایم ایم عالم ہی کیوں نہ ہو اسنے ایک دن ریٹائر ہونا ہوتا ہے اصولاً ڈاکٹر قدیر نے ساٹھ سال کی عمر میں 1996 میں ریٹائر ہوجانا تھا۔ لیکن مختلف صدور اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے انکو ایکسٹنشن دیتے رہے جس سے زیادتی ان لوگوں کے ساتھ ہوئی جو ان سے جونیئر تھے اور انکی ترقی رکی رہی۔ ایک طرف ہم آرمی چیف کی ایکسٹنشن کے مخالف ہیں دوسری طرف یہاں لگ بھگ 64 سال کی عمر تک ڈاکٹر قدیر سرکاری نوکری کرتے رہے۔ 2000 کے آس پاس جب وہ ریٹائر ہوئے اس وقت اور اسکے بعد مشرف پاکستان کے ۔ صدر 2008 تک رہے تھےاس لئے اس وقت تک انکا صدر بننا عبث تھا۔

    سن 2008 میں کیا زرداری صاحب ڈاکٹر صاحب کو صدر بناتے؟

    ڈاکٹر قدیر کے انٹرویوز اور معصوم صورت پر مت جائیں۔ وہ ہمارے ہیرو ضرور تھے اور رہیں گے لیکن عالمی دنیا کیلئے وہ اپنی ایٹمی پروگرام کی فروخت کیوجہ سے انتہائی مطلوب افراد میں سے ایک تھے۔

    ڈاکٹر قدیر پر جو مقدمات چلے وہ سو فی صد سے بھی زیادہ درست تھے اور فوج یا مشرف کو بچانے کیلئے نہیں چلے تھے۔ ڈاکٹر صاحب پر متعدد غیرملکی ایجنسیوں نے پاکستان میں ہی قاتلانہ حملے کروائے جو بروقت ناکام بنادیئے گئے۔

    یہ انکے بھی علم میں تھا۔ میں نہت کچھ لکھ سکتا ہوں لیکن تھوڑے کو کافی جانیں۔

    ڈاکٹر صاحب نے ایک سیاسی پارٹی بھی بنائی تھی۔ مصنف نے اس وقت اس کا ممبر بن کر انکے ہاتھ پر بیعت کیوں نہیں لے لی۔

    بے نظیر کے دور میں اسکے کہنے پر پاکستان نے شمالی کوریا کی مدد کی جس کے بدلے میں ہمیں میزائل ٹیکنالوجی ملی۔ لیکن اسکے بعد ڈاکٹر صاحب نے اپنے طور پر ایران اور لیبیا کی بھی مدد کی اور بعد میں یہ کئی ملین ڈالر کی رقم بحق سرکار چپ چاپ ضبط کرلی گئی تھی تاکہ ڈاکٹر صاحب کی بدنامی نہ ہو۔

    پاکستان اور غیرملک میں انکے اکائونٹس کی تفصیلات اگر کبھی منظر عام پر آئیں تو لوگوں کی طبیعت صاف ہوجائے گی۔ لیکن یہ ساری دولت پاکستان سے کرپشن یا کک بیک کے ذریعے نہیں کمائی گئی تھی بلکہ ایران اور لیبیا کے علاوہ چند اور ملکوں کی مدد سے حاصل کی گئی تھی۔ انکی پنشن بھی ریٹائرمنٹ پر 25 سے 30 ہزار ہی تھی۔

    حکیم سعید یا ظفر عارف کا قتل سرکاری سرپرستی میں نہیں ہوا تھا۔ انکے قتل کے جو بھی محرکات تھے وہ کسی بھی پاکستانی کے ساتھ کبھی بھی پیش آسکتے ہیں۔ حکیم سعید ہی نہیں رئیس امروہوی اور تکبیت کے صلاح الدین کے قتل میں آج تک ایم کیو ایم کو الزام دیا جاتا ہے جبکہ مسئلہ کچھ اور ہی تھا۔ صلاح الدین کو انکے رشت دار نے مروایا تھا۔ رئیس امروہوی شیعہ ہوانے کیوجہ سے شدت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔

    جہاں تک حکیم عبدالحمید کا پدم بھوشن سے تعلق ہے ۔ لکھنے والا شائد پاکستان سے اتنی نفرت کرتا ہے کہ اسے یہ بھی علم نہیں کہ پاکستان کا سب بڑا سویلین اعزاز نشان امتیاز حکیم سعید کو مل چکا ہے۔ جبکہ ستارہ امتیاز انکو 65 کی جنگ کے فورا بعد ایوب دور میں ملا تھا۔ چونکہ حکیم سعید نے پیپلز پارٹی کی طرف سے متعدد الیکشن لڑے تھے اس لئے بعد میں آنے والی حکومتوں نے انہیں اسی لئے متعدد مرتبہ ایوارڈ دینے سے گریز کیا ہوگا۔

Comments are closed.