ایک انسان دوست بس کنڈکٹر کی کہانی
میں 1975 ء میں ایف ایس سی کے دوسرے سال کا طالب علم تھا۔ اس سال عید کے دوسرے دن میں بڑی بہن سے ملنے لاہور چلا گیا جو بوجوہ عید پر ہمارے پاس نہ آ سکی تھیں۔ عسرت کے دن تھے۔ وہاں سے واپسی پر بس کا کرایہ ادا کر نے کے بعد میری جیب میں فقط پانچ روپے بقایا بچے تھے۔ لاہور سے جہلم پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی۔ گاؤں جانے والی آخری بس جا چکی تھی مجبوراً رات جہلم میں گزارنی پڑی۔ پانچ روپے اس میں خرچ ہو گئے۔ صبح بغیر کچھ کھائے پیئے خالی جیب گاؤں جانی والی بسوں کے اڈے پر پہنچا۔
آدھے گھنٹے بعد جانے والی بس میں اس ارادے سے سوار ہو گیا کہ اگر کنڈکٹر نے کرایہ مانگا تو اگلے دن دینے کا کہہ دوں گا۔ سفر کے دوران کنڈکٹر دو تین دفعہ میری سیٹ کے پاس سے گزرا لیکن اس نے کرایہ نہیں مانگا۔ میں اپنے گاؤں کے سٹاپ پر اتر گیا۔ دوسرے دن شہر کے کالج سے واپسی پر گاؤں تک پھر اسی بس پر سفر کیا۔ ان دنوں طالب علموں سے بس والے کرایہ نہیں لیتے تھے۔ جب کنڈکٹر میری سیٹ کی طرف آیا تو میں نے دو روپے نکال کر اسے دیے کہ یہ کل کا کرایہ ہے۔
اس نے کرایہ نہیں لیا اور کہنے لگا۔ باؤ جی کل کا حساب کتاب ختم ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ مسافروں کو ٹکٹ دے کر میرے پاس آ بیٹھا۔ اس کا نام بشیر تھا، کہنے لگا۔ باؤ جی! کل مجھے پتہ تھا کہ آپ کی جیب خالی ہے، یہ چلتا رہتا ہے۔ اس کے بعد بشیر سے میری جان پہچان ہو گئی۔ کالج سے واپسی پر اس کی بس پر سفر کے دوران اس سے سلام دعا رہنے لگی۔ دو سال بعد کالج سے فارغ ہونے کے فوراً بعد مجھے بینک میں نوکری مل گئی تو میں عملی زندگی میں مصروف ہو گیا۔
آج اتنے سالوں بعد بشیر اپنے بیٹے کی نوکری کے لئے درخواست لیے میرے سامنے بیٹھا تھا۔ مجھے بینک میں ریجنل چیف تعینات ہوئے ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے۔ بشیر سے درخواست لے کر میں نے اپنے سیکرٹری کو دی اور اسے بچے کا آپریشن ہیڈ سے انٹرویو کروانے کو کہا۔ اس کا بیٹا کامرس گریجویٹ تھا اور کافی ہوشیار لگ رہا تھا۔ ہمارے آپریشن ہیڈ بہت سخت تھے، لیکن وہ انٹرویو میں پاس ہو گیا تو ہم نے اس کا کیس ہیڈ آفس کی منظوری کے لیے بھیج دیا۔
اگلے پندرہ بیس دنوں میں اس کا بیٹا بینک میں ایڈہاک افسر بھرتی ہو گیا۔ بیٹے کی تعیناتی کی خوشی میں وہ مٹھائی لے کر میرے دفتر میں آیا تو بڑا ممنون تھا۔ اس دن اتنا کام نہیں تھا، میں بھی فارغ ہی تھا۔ اسے اپنے پاس بٹھا لیا اور اس کے لیے چائے منگوائی۔ اس سے پوچھا کہ آج کل وہ کیا کر رہا ہے۔ جواب میں اس نے بتایا سرکار! اب میں بس چلا رہا ہوں۔ میں نے کرایہ نہ لینے والی بات اسے یاد کروائی تو وہ کہنے لگا۔
”سرکار، بہت پرانی بات ہے۔ میں تو اب بھول گیا ہوں۔ آپ اچھے آدمی ہیں۔ ابھی تک بات آپ کو یاد ہے۔“ پھر اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہنے لگا۔ آپ لوگ اچھے طالب علم تھے، ہمارے ساتھ بسوں میں سفر کرتے ہوئے ہم سے تعاون کرتے تھے۔ ہماری عزت کرتے تھے۔ ہمیں کوئی حقیر نگاہ سے نہیں دیکھتا تھا۔ سرکار! اب وقت بدل گیا ہے۔ لوگوں کے پاس پیسہ بہت آ گیا ہے۔ اخلاقی قدریں بدل گئی ہیں۔ ہمیں معاشرے میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ میں آپ کا شکرگزار ہوں۔ آپ نے میرے بیٹے کو ملازمت دلائی ہے۔ میں نے اسے کہا کہ شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ رزق تو اللہ تعالی دیتا ہے، لوگ وسیلہ بنتے ہیں۔ اگر آپ کا بیٹا بینک کے معیار پر نہ اترتا تو ہم اسے کبھی نہیں رکھتے۔ اب بھی اگر وہ محنت کرے گا تو دو تین سال بعد وہ بینک میں مستقل ہو جائے گا۔
مجھے لگ رہا تھا بشیر نے بھی میری طرح اپنی زندگی بہت مشکل میں گزاری ہے۔ سوچا اس کی زندگی کے بارے میں کچھ جانوں۔ یہ خیال آتے ہی میں نے بشیر سے پوچھا۔ اچھا یہ تو بتاؤ کہ زندگی کیسی گزر رہی ہے۔
”سرکار! ہم کیا اور ہماری زندگی کا کیا ہے۔ ہم غریب محنت کش لوگ ہیں۔ اپنی تو ساری زندگی محنت مزدوری کرتے ہوئے گزری ہے۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ زیادہ گزر گئی ہے اور اب تھوڑی باقی رہ گئی ہے۔ “
”پھر بھی کچھ اپنی زندگی کے بارے میں بتاؤ۔“ میں نے اس سے پھر کہا۔
”سر کار! میں دیہات کا رہنے والا ایک عام سا آدمی ہوں۔ نہر اپر جہلم کے کنارے ہمارا گاؤں ہے۔ میں چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا جب میرے والد کا انتقال ہو گیا تھا۔ میں گھر میں سب سے بڑا تھا۔ غربت کا زمانہ تھا۔ پہلے ہی مشکل سے گزر اوقات ہو رہی تھی۔ والد کی وفات کے بعد گزارہ اور زیادہ مشکل ہو گیا تھا۔ گاؤں کے ایک راجہ صاحب کا اپنا ٹرک تھا جسے وہ خود ہی چلاتے تھے۔ وہ والد کی تعزیت کے لیے ہمارے گھر آئے تو والدہ نے ان سے میرے لئے کوئی کام سیکھنے کے حوالہ سے بات کی۔
پڑھائی تو اب مشکل نظر آ رہی تھی۔ پندرہ دن بعد راجہ صاحب جب گاؤں آئے تو جاتے ہوئے اماں سے بات کر کے مجھے اپنے ساتھ شہر لے گئے۔ لاری اڈے کے نزدیک ایک ورکشاپ میں مجھے گاڑیوں کا کام سیکھنے پر لگا دیا۔ ورکشاپ کا مالک تھا تو بڑا کاریگر، لیکن نشہ کرتا تھا۔ ورکشاپ میں میرے علاوہ دو اور لڑکے بھی کام کرتے تھے۔ میں سب سے چھوٹا تھا اور نیا بھی، اس لئے سارا دن میری شامت آئی رہتی تھی۔
”چھوٹے پانی لاؤ، فلاں نمبر کی چابی دو ، فلاں چیز لا کر دو ۔ گاڑی کا ٹائر کھولو۔ ورکشاپ کا مالک چھوٹی چھوٹی باتوں پر پٹائی کر دیتا تھا۔ میں چھوٹا تھا، کبھی ایسا کام نہیں کیا تھا۔ گھر کی بہت یاد آتی تھی لیکن کیا کرتا۔ اڈے میں بچوں کو رنگ برنگے کپڑے پہنے ماں باپ کے ساتھ سفر کرتے دیکھتا تو دل میں ایک ہوک سی اٹھتی اور میں سوچتا میرے ساتھ ایسا کیوں نہیں ہے۔ سرکار! ایسے میں میرے دل میں دکھ بھر جاتا اور میں رونے لگتا لیکن میرا رونا کون دیکھتا۔
خود ہی چپ ہو کر ورکشاپ واپس آ کر کام پر لگ جاتا۔ رات کو میں ورکشاپ کے اندر ہی سو جاتا تھا۔ میرے پاس کپڑوں کا ایک ہی جوڑا تھا۔ تیل اور گریس لگنے سے اس کا رنگ بدل گیا تھا۔ غسل خانہ اور ٹوائلٹ برائے نام سے تھے۔ اتنے گندے کہ اندر جانے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ بیس پچیس دن بعد راجہ صاحب کا ادھر سے گز ر ہوا۔ میرا پتہ کرنے ورکشاپ آئے تو میری حالت دیکھ کر ورکشاپ کے مالک پر بہت غصہ ہوئے۔ مجھے وہاں سے اپنے ساتھ لے کر بازار گئے۔
نئے کپڑے لے کر دیے۔ ایک حمام میں لے گئے جہاں نہا کر میں نے کپڑے بدلے، پرانے وہیں چھوڑ دیے۔ اس دن سے راجہ صاحب نے کنڈکٹر کے ہیلپر کے طور پر اپنے ٹرک پر مجھے بھی ساتھ رکھ لیا۔ اب مہینے میں ایک چکر گاؤں کا لگ جاتا تھا۔ میں سیانا ہو گیا تھا۔ ٹرک پر میرا کام ٹرک کی صفائی کرنا، سامان چڑھانا اور اتارنا تھا۔ سفر کے دوران رات کو جہاں ٹرک کھڑا کرتے، میں ٹرک کے اوپر بنے ہوئے کیبن پر بستر بچھا کر سو جاتا تھا۔ کھانا پینا ٹرک کے ذمہ تھا۔ ہفتہ میں دو تین روپے خرچے کے لئے بھی مل جاتے جو میں سنبھال کر رکھتا اور گاؤں واپس آتے ہوئے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے کچھ لے جاتا تھا۔ تنخواہ گو کہ بہت ہی قلیل تھی وہ اماں جی کو مل جاتی تھی۔
تین چار سال میں نے راجہ صاحب کے ساتھ ٹرک پر گزار دیے۔ وہ ایک یتیم اور گاؤں کا بچہ سمجھ کر میرا بہت خیال رکھتے تھے۔ ایک دن ہم نے ٹرک وزیر آباد اڈے پر کھڑا کیا۔ شام کو کھانا کھانے کے بعد راجہ صاحب بے ہوش ہو گئے۔ ان کو ہسپتال لے گئے تو پتہ چلا کہ خون میں شکر کی زیادتی اور ادویات استعمال نہ کرنے کی وجہ سے وجہ سے ان کی نظر بند ہو گئی ہے۔ بیماری کے دوران ہی انھوں نے ٹرک بیچ دیا اور مستقل گاؤں آ گئے۔ میں بے روز گار ہو گیا۔
ایک ماہ گھر پر پڑا رہا تو اندازہ ہوا کہ کام کیے بغیر گھر چلنا بہت ہی مشکل ہے۔ ایک دن میں شہر گیا۔ ہمارے پڑوسی گاؤں کا ایک آدمی نہر والی سڑک پر میرپور سے جہلم جانے والی بس چلاتا تھا۔ اسے میرے حالات پتہ تھے۔ اس نے مجھے اپنی بس پر ہیلپر رکھ لیا۔ دو ماہ بعد اس کا کنڈکٹر دوبئی چلا گیا تو اس نے مجھے کنڈکٹر رکھ لیا۔ بس کی اندر باہر سے صفائی، سواریوں کو بس میں سوار کرانا، ان کا سامان اتارنا چڑھانا، ٹکٹ دینا، شام کو سارا حساب بنا کر گاڑی کے مالکان کو دینا میری ڈیوٹی میں شامل تھا۔
گو کہ کنڈکٹر کی تنخواہ کم تھی لیکن اب مجھے کمیشن بھی مل جاتا تھا۔ جس روز دیہاڑی اچھی لگ جاتی، کمیشن بھی اچھا مل جاتا جس سے حالات کچھ سدھرنے شروع ہو گئے تھے۔ ہماری بس صبح جہلم سے روانہ ہو کر سرائے عالم گیر رکتی اور پھر نہر اپر جہلم والی سڑک کے ذریعے میرپور کے لئے روانہ ہوتی اور شام کو میرپور سے واپس جہلم پہنچ جاتی۔ بس اڈے پر کھڑی کرتے اور گرمیوں میں بس کی چھت اور سردیوں میں بس کے اندر سو جاتا۔ میں صبح سویرے اٹھ جاتا۔ بس کی اندر باہر سے صفائی کرتا۔ پھر نہا دھو کر کپڑے تبدیل کرتا۔ میرے کپڑے ہمیشہ صاف ستھرے ہوتے تھے۔ مقررہ وقت پر بس سٹینڈ پر گاڑی لگواتا۔ جہلم سے چل کر ہم دو گھنٹے میں میرپور پہنچتے اور پھر ایک گھنٹا وہاں ریسٹ کرنے کے بعد دوبارہ جہلم کے لیے روانہ ہو جاتے۔
ان دنوں میرپور میں بسوں کا کوئی باقاعدہ اڈا نہیں بنا ہوا تھا۔ موجودہ قائد اعظم سٹیڈیم کی جگہ ایک چٹیل میدان تھا جس کے ایک کونے پر جہلم، کوٹلی اور بھمبر جانے والی بسیں کھڑی ہوتی تھیں۔ جہلم میں بھی ناز سنیما کے پاس پل کے ساتھ تنگ سی جگہ پر میرپور جانے والی بسوں کا اڈا ہوتا تھا۔ بس ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کی اپنی ہی ایک دنیا تھی۔ پندرہ دن بعد میں گاؤں کا چکر لگا لیتا تھا۔ آہستہ آہستہ میں نے بس چلانی سیکھ لی تھی۔
تین چار سال بعد میں بس ڈرائیور بن گیا۔ اب پچھلے بیس پچیس سال سے میں بس چلا رہا ہوں۔ سرکار! اپنی ساری عمر اسی کاروبار میں ملازمت کرتے گزر گئی ہے لیکن اس کام میں ہماری کوئی عزت نہیں ہے۔ دنیا کے لیے ہم جاہل اور گنوار ڈرائیور ہی رہیں گے۔ میری شادی ماموں کی بیٹی سے ہو گئی تھی۔ دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ سرکار! میں خود تو نہیں پڑھ سکا لیکن اپنے بچوں کو تعلیم دلوائی ہے۔ بڑا بیٹا دوبئی میں ہے۔ دونوں بیٹیوں کو چودہ جماعتیں پڑھائی ہیں، اب ان کی شادیاں ہو گئی ہے۔ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ نئی ٹرانسپورٹ آنے کی وجہ سے بسوں کی آمدنی بھی بہت کم ہو گئی ہے۔ بس گزارہ ہو رہا ہے۔ بڑے بیٹے نے بہت دفعہ بس ڈرائیور کی نوکری چھوڑ دینے کو کہا ہے۔ چھوٹے بیٹے کو آپ کے وسیلہ سے بینک میں نوکری مل گئی ہے۔ اب بیوی بھی کہتی ہے کہ نوکری چھوڑ دو لیکن سرکار میں بیکار نہیں بیٹھ سکتا۔
میرے پاس کچھ مہمان آ جانے پر وہ میرا ایک بار پھر شکریہ ادا کر کے چلا گیا تو میں سوچنے لگا۔ ”ہمارا معاشرہ انسانیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ آدمی کے کام کی نوعیت کو دیکھ کر اس کی عزت کرتا اور اہمیت دیتا ہے۔ ایسے چھوٹے چھوٹے کام کرنے والوں کی بھی ایک اہمیت ہے۔ اسلام تو ہمیں برابری کا درس دیتا ہے تو ہم ایسا کیوں نہیں کرتے ہیں۔



ایک اچھی تحریر جسے پڑھ کر اپنا پن سا محسوس ہوا۔
اللہ تعالی ہمیں انسانوں کو انسانوں کی طرح سمجھنے کی آنکھ اور صلاحیت دے۔