کام چوری کی نفسیات اور وجوہات
زندگی کے کاموں کی طویل فہرست ہے کام سے جی چرانا انسانی معاشرے کے ارتقاء میں خلل اور جمود پیدا کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی انسان کام چوری پر آمادہ رہتے ہیں۔ کیونکہ کام سے جی چرانا بھی انسانی فطرت کا حصہ ہے۔
لیکن کام چوری کی عمومی وجوہات پر روشنی ڈالنے کے لئے آج ہم صرف ان کاموں کا ذکر کریں گے جو گھر داری سے متعلق ہیں اور بنیادی لائف سکلز ہیں لیکن پھر بھی کام چوری ایک عادت ہے۔
وجوہات کچھ یوں ہیں
مردوں کے گھریلو کاموں سے دور رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انہیں کلچر کے دباؤ کے ساتھ اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ چونکہ وہ مرد ہیں لہذا انہیں زیب نہیں دیتا کہ وہ عورت کے شانہ بشانہ گھریلو کاموں میں حصہ لیں۔ اس معاشرتی دباؤ کے تحت انہیں ”زن مرید“ ہونے کا طعنہ ملنے کا خوف بھی کام سے دور رہنے اور کام چوری کو بڑھاوا دیتا ہے۔
عمومی رویے کے طور پر عورتیں اور مرد محض عادتا کیے کرائے کام کی توقع رکھتے ہیں اور دوسروں سے کروانا پسند کرتے ہیں۔ اگر نوکر میسر ہوں تو نوکر رکھ لیتے ہیں۔ لیکن اگر نوکر میسر نہ ہوں تو گھر کے کاموں حتی کہ اپنے حصے کے کام بھی گھر کے دوسرے افراد سے کرواتے ہیں مثلاً پانی کا گلاس بھی دوسروں سے منگواتے ہیں۔ یہ روئے وہ اپنے والدین سے سیکھتے ہیں لیکن محض سہل پسندی کی عادت بھی ہو سکتی ہے۔
کام نہ کرنے والوں کے ساتھ کچھ جینوئن وجوہات بھی منسلک ہوتی ہیں۔
مثلاً طویل جسمانی بیماریاں اور معذوری کی حالتیں۔
نفسیاتی عارضے جس میں ڈپریشن نمایاں ہے جس میں سستی، تساہلی اور کام کو ٹالنے کی عادت مرض کی علامت ہے۔ اس مرض میں فرد کا کسی کام میں دل نہیں لگتا اور ہر چیز میں عدم دلچسپی حتی کہ اپنے آپ کی صفائی اور ضروری کاموں میں بھی دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ دماغ کے کیمیاوی نظام میں عدم توازن کا پیدا ہونا ہے۔ اس قسم کی سستی کاہلی اور ڈپریشن کو اگر جلدی شناخت کر لیا جائے تو مریض کو علاج اور تھیراپی کے ذریعہ کام اور روز مرہ ذمہ داریوں کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔
لیکن خطرناک نفسیاتی مسئلہ جس میں پرسنیلٹی ڈس آرڈر یعنی نارسزم ہو تو ایسے فرد کا کسی گھر میں ہونا ایک آزمائش ہوتی ہے۔
یہ ویسے تو تکمیلیت پسند ہوتے ہیں لیکن اپنی تکمیلیت پسندی کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے دوسروں سے کام کروانا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔
پدر سری معاشروں میں مرد ایسا کرتے ہیں۔ خواہ ان کی کمائی کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو لیکن اپنی بیوی سے دن رات بلا کسی ریلیف اور معاوضے کے کام کرواتے ہیں اور نوکر اور مدد گار کی سہولت فراہم نہیں کرتے۔ ان کے ہاں نوکر اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ کام کروانے کی یہ حد سے بڑھی توقع اور دھونس سے کام کروانے کا حق جتلانا گھریلو تشدد کے زمرے میں آتا ہے جس میں کام کی جبری زیادتی عورت کی صحت بگاڑ کر اسے موت کے منہ میں لے جاتی ہے۔
جدید دور میں عورت کے معاشی طور خودمختار ہونے سے یہ نرگسی رویہ عورتوں کی بڑی تعداد میں دیکھا جاتا ہے۔
اسی طرح دولت مند، خوشحال اور جاگیردار اور اپر کلاس، رشوت خور، بیورو کریٹس اور فوجی گھرانوں میں مردوں عورتوں اور بچوں کا اپنے ہی گھر کے کاموں کو ہاتھ نہ لگانا اور سرکاری خرچ پر ملے اردلیوں، باورچیوں اور مالیوں مزارعوں کے پورے کنبے سے اپنے گھر کے ذاتی کام کروانے کو اپنا پیدائشی حق سمجھنا بھی ایک نرگسی رویہ ہے جس کی وجہ اس طبقے کو ملی ہوئی ناجائز مراعات ہیں۔ یعنی یہاں یہ کہنے میں تامل نہیں کیا جا سکتا کہ دولت کی غیر مساویانہ تقسیم بھی لوگوں کو کام چور اور کاہل بناتی ہے۔ اور ان مراعات کو غریب طبقہ حسرت سے دیکھتا ہے اور جب ان کے پاس جائز ناجائز یا طویل محنت کے بعد دولت آتی ہے تو ان کے بچے کام نہیں کرتے۔ وہ اپنی ماضی کی غربت کے احساس کمتری میں مبتلا رہتے ہیں اور اب کام کو ذلت اور کام چوری کو طاقت سمجھتے ہیں۔
عورت کے معاشی طور پر خود مختار ہونے سے عورت اور مرد کے روایتی رول اور ذمہ داریوں میں فرق آنے اور صورتحال مختلف ہونے سے اور ذمہ داریوں میں عدم توازن نے مسائل میں اس طرح اضافہ کیا ہے کہ اب مرد اور عورت دونوں ہی اپنے اپنے آرام کے حق کی جنگ میں گھریلو ذمہ داریوں سے دور بھاگتے ہیں اور اس ضمن میں دیکھا گیا ہے کہ محض ڈش واشنگ کے تنازعہ پر طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔
ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے مرد گھریلو کام کرنا تو چاہتے ہیں لیکن انہیں گھر کے کام کرنا نہیں آتے کیونکہ انہیں ان کی اوائل عمری سے ہی گھریلو کاموں کے بنیادی لائف سکلز اس لئے نہیں سکھائے گئے کہ انہیں مرد ہونے کے ناتے یہ ضروری مہارتیں سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اور نصاب تعلیم میں بھی اس کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔
اسی طرح اب لڑکیوں کے تعلیم اور معاشی ترقی میں شامل ہونے کی وجہ سے یا تو انہیں وقت نہیں ملا یا انہیں بھی سکھانے اور کام کی عادت ڈالنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی کہ وہ اب معاشی طور پر خود کفیل ہیں
ایک اور نفسیاتی وجہ والدین کا اپنے بچوں کی ارتقاء اور پرورش کے ابتدائی زمانے میں انہیں کوالٹی ٹائم نہ دینا اور انہیں گھر کی ذمہ داریوں اور کاموں میں اپنے ساتھ ملانے اور ٹیم ورک کا جذبہ پیدا نہ کرنا ہے۔ اس کوالٹی ٹائم کا فقدان کئی وجوہات کی بناء پر ہو سکتا ہے مثلاً ماں باپ اپنے آپس کے لڑائی جھگڑوں پر اپنی توانائی صرف کر رہے ہوں اور بچے نظر انداز ہو رہے ہوں، یا والدین اپنے روزگار کی بے پناہ مصروفیات سے وقت نکال کر بچوں کو کام سکھانے، اور ان کی نگرانی اور حوصلہ افزائی کے لئے وقت نہ رکھتے ہوں۔
اکثر ایسا تب بھی ہوتا ہے جب والدین اپنی اپنی تفریح طبع اور گھر سے باہر کے مشاغل اور دوستوں میں زیادہ وقت گزارتے ہوں یا بچوں کو بھی بلا ضرورت باہر کی سرگرمیوں میں مصروف رکھتے ہوں۔ اس طرح نہ تو بچوں کو وقت ملتا ہے اور نہ والدین کو کہ وہ گھر پر توجہ دے سکیں۔
جدید زمانے میں ہوٹلوں، ریسٹورنٹ اور فاسٹ فوڈ کے کاروبار نے بھی گھریلو کاموں میں سہولت تو پیدا کردی ہے لیکن سستی، کاہلی اور تن آسانی نے کام چوری کو بھی فروغ دیا ہے۔
ہمیں معاشرے سے کام چوری کو ختم کرنے کے لئے اس بات کو دھرانا ہو گا کہ کام کے بغیر زندگی کا ارتقاء ناممکن ہے۔ کام چوری کسی بھی صنف کے انسانوں کی زندگیوں کو بے کار اور برباد بناتی ہے۔ اس سے فرد اور معاشرہ مجموعی تساہل کا شکار ہو کر قومی بربادی کا شکار ہوتا ہے۔
اس لئے والدین اور تعلیمی نظام بلا تخصیص جینڈر بچوں کو فعال بنانے کے لئے عملی قدم اٹھائیں اور بہت چھوٹی عمر سے ہی ان کی ذہنی اور جسمانی استطاعت کے مطابق کام سکھائیں جس کا پہلا قدم صبح بیداری کے فوراً بعد اپنا بستر درست کر کے دن کا آغاز کرنے کی عادت ڈالنا ہے۔ اگر صبح اٹھتے وقت بچے نے اپنا بستر درست کر لیا تو سمجھیں کہ اس کی زندگی کی شکنیں خود بخود دور ہو جائیں گی اور یہ جان لینا چاہیے کہ صبح اٹھ کر بستر کی شکنیں دور نہ کرنے کی عادت اگر بچپن میں دور نہ ہو سکی تو مرتے دم تک یہ شکنیں اس کی زندگی کے ہر مرحلے پر اسے سست، کاہل اور نکما بنائے رکھیں گی۔ لیکن ضروری ہے کہ گھر میں بچے مساویانہ طور پر اپنے والدین کو رول ماڈل کے طور پر ٹیم ورک کی طرح کام کرتے ہوئے دیکھیں۔ اور کام کی عظمت کا سبق اور عملی مظاہرہ کریں۔
والدین کو تجویز ہے کہ خواہ آپ کے بچے سونے کے نوالے لے کر ہی کیوں نہ پیدا ہوں صنفی امتیاز کیے بغیر گھریلو کاموں کی مہارتیں بچوں کو 6 سال کی عمر سے باقاعدہ سکول کی نصابی سرگرمیوں کی طرح سکھانا شروع کر دینی چاہیں تاکہ وہ کام چور بن کر نہ صرف معاشرے پر بوجھ بنیں بلکہ خدانخواستہ تنہا ہو جانے کی صورت میں زندگی ان کے لئے بوجھ نہ بنے۔ کیونکہ کام زندگی کی امید ہے۔ اس امید کے بغیر زندگی بوریت، مایوسی، ذہنی و جسمانی امراض اور جرم کی طرف چل پڑتی ہے۔


