ہم نہ باز آئیں گے محبت سے
پاکستان آج جس نہج پر کھڑا ہے کوئی اس کا دو خاندانوں کو ذمہ دار سمجھتا کوئی کھلاڑی کو ، کوئی چار ڈکٹیٹروں کو اور کوئی ججوں کو ذمہ دار سمجھتا ہے۔ اس کا ذمہ دار کوئی ایک ادارہ یا کوئی ایک شخص نہیں بلکہ سب وہ لوگ ذمہ دار ہیں جو کسی نا کسی طریقے سے فیصلہ سازی کا حصہ رہے۔ گو کہ ہماری قوم روز اول سے تماشا دیکھنی والی قوم رہی ہے جس نے ہر آنے والے کو وارم ویلکم کیا اور جانے والے کو ملک و قوم کا دشمن قرار دیا۔ لیکن فیصلہ سازوں کی آپس میں لڑائیوں کا سب سے زیادہ بوجھ بھی اسی قوم نے اٹھایا ہے۔
ہر نیا آنے والا حکمران خود کو مسیحا اور تمام مسائل کا حل سمجھتا ہے اور جانے والے کو ان مسائل کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ افسوس یہ ہے اس ساری بلیم گییم کو کہیں بریک نہیں لگ رہی۔ جو بھی آتا ہے وہ اپنے ساتھ ہی اپنا نیا پلان اور نئے مزدور اور مستری لاتا پھر جیسے ہی وہ نکالا جاتا ہے اس کے پلان اور مزدور مستری بھی اسی کے ساتھ روانہ کر دیے جاتے ہیں۔ ہم نالائق اور نا اہل قوم نہیں ہیں اور نہ ہی ہمارے حکمران نالائق و نا اہل رہے ہیں بلکہ ہم اپنے ملک سے مخلص نہیں صرف اپنی ذات سے مخلص ہیں۔
سعودی عرب جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے پسندیدہ نبی محمد مصطفی ﷺ کو بھیجا وہاں وہ سہولیات اور قدرتی وسائل نہیں جو پاکستان کو اللہ تعالی نے دیے پھر بھی ہم ناشکرے ہیں۔ عربوں کے پاس صرف ایک دو چیزیں تھی ریت اور تیل۔ تیل کی دریافت بھی ساٹھ کی دہائی کی بعد ہوئی۔ اس دوران پاکستان اپنے چھ وزرا اعظم کو گھر بھیج چکا تھا۔ پچاس سال بعد بھی یہ کھیل جاری ہے کیونکہ ہم نہ باز آئیں گے محبت سے والا فارمولہ ہماری رگوں میں رچ بس چکا ہے ہم اسی فارمولے کے تحت چل رہے ہیں۔
پاکستان کے قیام کے بعد پہلی بار دیکھا گیا کہ ایک آرمی چیف پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہہ رہا ہے ملک کا انتظام چلانا عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے اور فوج آئین پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور اسی پر عملدرآمد کرے گی۔ کسی خاص شخص یا جماعت کو سپورٹ نہیں کرے گی بلکہ حکومت وقت کے ساتھ چلے گی۔ جبکہ ایجنسی کے سربراہ نے پہلی بار ٹی وی پر آ کر کہا ہم غیر آئینی کام نہیں کریں گے نہ ہی سیاسی معاملات میں مداخلت کریں گے، بڑی دیر کردی صنم آتے آتے، کاش یہ اعلان نوے کی دہائی میں کیے ہوتے جب دنیا میں جدید ترقی کا دور شروع ہو رہا تھا۔
امریکہ، یورپ، روس، چین سب نے نوے کی دہائی کے بعد ترقی کی گو کہ ورلڈ وار ٹو کے بعد ہی امریکہ نے دنیا کی دولت سمیٹنا شروع کردی تھی لیکن جدید ترقی امریکہ نے بھی نوے کی دہائی کے بعد دیکھی۔ اسی دور میں پاکستان میں بھی معاشی ترقی کا پلان بنایا گیا تھا لیکن ہم نے پلان بنانے والے کو ہی ٹھیک دو سال بعد چلتا کیا، پھر صنم ہم کیسے ترقی کرتے، وہی پلان بھارت نے کاپی کیا اور آج چھ سو ارب ڈالر کی معیشت کا مالک بن گیا ہے اور ہم ادھار کے ڈالروں پر تیس سال بعد بھی ملک چلانے پر مجبور ہیں۔
پاکستان میں 12 موٹرویز بن چکی، ملک میں میٹرو بسیں چل رہی، کچھ اچھے برے تعلیمی ادارے اور ہسپتال بن گئے ہیں، سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی لائنز نظر آتی ہیں، ہر دوسرے بندے کے ہاتھ میں ٹچ موبائل ہے، ہم دنیا کی سب سے باشعور، ذہین اور سمجھدار قوم ہیں، اتنی ترقی ہمارے لیے کافی ہے، جدید میٹرو ٹرین، بہترین فضائی سفر، اچھا ماحولیاتی نظام، اربوں ڈالر کی معیشت، چلتے ہوئے کارخانے، جدید ٹیکنالوجی تو کافروں کے لئے ہیں، یہ سب انہی کی ایجاد ہیں ہمیں ان سے کیا لینا دینا ہم نے جتنی ترقی کرنی تھی کرلی یہی ہمارے لیے بہت ہے۔ ہم من سلوی کھانے والی قوم ہیں، ہمارا کافروں والی سہولیات سے کیا لینا دینا ہے۔ ہمیں جو مل رہا ہے وہی کافی ہے کیونکہ ہم نہ باز آئیں گے محبت سے۔


