امید گروں کی داستان


میں جو سوچوں تو کیا کیا نہ دیکھوں
میں جو دیکھوں تو کیا کیا نہ سوچوں
میں وہ قادر کہ گم قدرتوں میں
میں وہ شاعر کہ چپ حیرتوں میں
تجھ کو سوچوں تو کچھ بھی نہ دیکھوں
تجھ کو دیکھوں تو کچھ بھی نہ سوچوں (عطا شاد)

اس لیے کہ یہ کتاب، ون اینڈ ون میک الیون، اس طرح کی ہے کہ آپ کو سوچنے کے لیے بے پناہ مواد فراہم کرتی ہے۔ کچھ مصنف اور کتابیں ایسی ہوتی ہیں جہاں کیا کیسے لکھا جا رہا ہے کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے اور کچھ مصنفین اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو زبان پر اور ادب کی اصناف پہ اپنی قدرت کا لوہا منوا چکے ہوتے ہیں اور اپنے الفاظ سے کیا کہہ رہے ہیں کو بہت اہم جانتے ہیں ان کا پیغام اہم ہوتا ہے اور یہ کتاب ایسے دو مصنفین کی ہے جو ادب برائے ادب پر یقین نہیں رکھتے بلکہ اس کے ذریعے معاشرہ میں سدھار کا باعث بننے اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بننے پر یقین رکھتے ہیں ڈاکٹر خالد سہیل کی دفعہ یہ بات کہ revolution through evolution کر کے اپنے نظریے کو واضح کر چکے ہیں اور اسی کتاب میں writers and social change میں رقمطراز ہیں کہ

“Fortunate are the communities and cultures that have writers who are not only entertaining but also enlightening, who are not only poetic but also philosophical, who not only have hindsight but also insight and foresight and lead the caravan of humanity.”

اور اسی طرح زہرہ زبیری اپنے کام سے اس بات کا اظہار

کرتی ہیں کہ عورتوں کی تعلیم ان کے مساوی حقوق کی جدوجہد تعلیم امیگرنٹ کے مسائل اور شادی سے جڑے مسائل ان کے دل کے قریب ہیں اور وہ فرسودہ روایات کا بوجھ نئی نسل اور عورتوں کے کندھوں سے اتارنے کے لیے کوشاں ہیں ان کی نظمیں کہانیاں اور ڈرامے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ نئے نظریات اور شخصی آزادی کی داعی ہیں ان دونوں نے اس کتاب کو مل کر لکھا ہے جس کا مقصد نہ صرف نے اپنے تخلیقی عمل کو مزید پراثر اور پر لطف بنانا تھا ہے بلکہ یہ بھی دکھایا ہے کہ اختلاف رائے کو کیسے respectful dialogue میں بدلا جا سکتا ہے آپ کو اس کتاب میں ڈاکٹر خالد سہیل کا مضمون God is a metaphor ”ملے گا وہیں آپ کو زہرہ زبیری کی نظم In worship ملے گی اور ان کے اپنے بارے میں لکھے الفاظ ملیں گے کہ Though I am not religious I am firm believer in high power ملیں گے یہ peaceful co existence آج کے اس خوفناک دور میں سیکھنا سب سے زیادہ اہم ہے جہاں ہر بندہ اپنے سچ کو الہامی مان کر آخری سچ سمجھ رہا ہے۔

اس کتاب میں بہت سے اہم سماجی، نفسیاتی اور فلسفیانہ موضوعات کے بارے میں ادب کی مختلف اصناف کے ذریعے سے آگاہی دینے کی کوشش کی گئی اور اس میں دونوں مصنفین نے قاری کے اوپر مشکل الفاظ اور لمبی لمبی تقریر نما نصیحتوں کی بجائے جامع لیکن پراثر نظمیں، مضمون اور کہانیاں اپنے اردگرد کے ماحول سے اخذ کر کے تحریر کی ہیں۔ میرے لیے دلچسپ تھا کہ اس کتاب میں جس طرح شادی کے رشتے کو زیر بحث لایا گیا ہے اور اس کے مختلف پہلو اور اس سے جڑے dilemma اور نفسیاتی مسائل بیان کیے گئے ہیں اور یہ اس کتاب کی تھیم کے ساتھ جڑتا ہے کہ شادی میں بھی دو لوگ شامل ہوتے ہیں اور شاذونادر ہی میں نے اس میں ایک اور ایک گیارہ ہوتے دیکھا ہے کمپرومائز، لوگ کیا کہیں گے ماں باپ کی عزت جیسے جملے جو ہمارے ہاں کی شادی کے زہریلے کلچر کے غماز ہیں یا وہ لطیفے جو اکثر بیگمات کے بارے میں سنائے جاتے ہیں یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ ہماری ارینجڈ میرج میں ایک اور ایک گیارہ نہیں صفر ہوتے ہیں مجھے خوشی ہے کہ جنریشن زی اس فرسودہ کلچر سے باہر نکل کر اپنے لیے ایسے شریک حیات کا انتخاب کرتے ہیں جن کے ساتھ وہ بطور دوست باہمی احترام سے اپنی زندگی شیئر کر سکیں اور یہ اس کتاب کا سب سے اہم موضوع ہے لیکن ان دونوں نے اس کو روایتی شادی کے نظریے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس میں love sex and marriage کو ایک triangle کی طرح بیان کیا ہے۔

زہر زبیری کی نظم Thefirst kiss firsہماری روایتی مشرقی محبت کی عکاس ہے جس میں سارا محبت کا جان لیوا نشہ ہجر میں ہے اور وصل شجر ممنوع ہے اس کے اگلے ہی صفحہ پر آپ کو canvas of heart اور platonic love لکھی ہوئی ملے گی جس میں بالکل مشرقی انداز میں محبت فضا میں چھائی، ہے چاہنے اور چاہے جانے کی خواہش بھی ہے لیکن سیکس کے بغیر حالانکہ ہمارے ہاں ایسے رشتے کا تصور مشکل ہے کہ جہاں کہا جاتا ہو کہ جہاں ایک مرد اور عورت ہوتے ہیں وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے وہاں ایسی مبت کا کیا انجام ہو گا لیکن زہرہ ایک خود مختار با اختیار خاتون کی طرح خواہش رکھتی ہیں کہ محبوب پہلے ان کو انسان کا درجہ دے اور ویسے ہی روابط استوار کرے جو ایک انسان دوسرے انسان سے برابری کی سطح پر رکھتا ہے مجھے یہاں لگ کہ زہرہ کا نظریہ محبت اور شادی بہت مشرقیانہ ہے لیکن ان کی کہانی sacrifice or compromise پاکستانی مسلمان گھرانوں میں marriage، divorce or gay کے موضوع کو زیر بحث لاتی ہے کہ ہمارے ہاں طلاق یافتہ یا گے ہونا ایسا ہے جیسے آپ کو چھوت کی بیماری ہوہے۔

یہ ساری روایات زہرہ زبیری اپنے ڈراموں میں توڑ دیتی ہیں اور ان کے ڈرامے prison in paradise کی ہیروئن کیرولین کسی قیمت پر اپنے خاوند کی بے وفائی کو معاف کرنے کو تیار نہیں چاہے وہ ایک platonic love کا کیس تھا وہ تنہا زندگی گزارنے سے نہیں ڈرتی لیکن سب سے دلچسپ from a widows closet ہے جس میں وہ اپنی بوڑھی پاکستانی ہیروئن کی نہ صرف شادی کرواتی ہیں بلکہ ایک غیر مسلم انگریز سے شادی کا فیصلہ وہ استخارہ کے ذریعے ”higher authority“ کی مرضی سے کرواتی ہیں یہ اس معاشرے کی ہیروئن جہاں عورت زندگی بڑھاپے اور بیوگی کے بعد ختم ہو جاتی ہے اور اس کو ایک کونے مے دھکیل دیا جاتا ہے۔

جیسے puzzleکے pieces ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں اس طرح ڈاکٹر خالد سہیل کی تحریریں اس موضوع کے پوشیدہ پہلوؤں کو قاری کے سامنے لاتے ہیں۔ جہاں سے زہرہ نے اس موضوع کو چھوڑا ہے وہاں سے ڈاکٹر حالی دہیل نے آگے بڑھایا ہے وہ اپنی زندگی میں بھی محبت کے داعی ہیں اور ایسے رشتے جو کمپرومائز اور مجبوریوں کی بیساکھیوں کے سہارے کھڑے ہوں ان کو انسانی ذہن اور روح پر بوجھ سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنے مضمون Story telling and story writing میں خلیل جبران کی ان لائنوں کو ایک مکمل کہانی کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں

”A woman was sitting between two men
Her one cheek was pink , the other pale ”
یہ لائنیں اپنے اندر محبت اور شادی کے رشتوں کے معمہ کو سموئے ہوئے ہیں کہ صحت مند رشتے میں دو لوگ کیسے مل کر آگے بڑھتے ہیں اور محبت کیسے باغ و بہار رکھتی ہے اور یہی رشتہ مجبوری اور عدم مطابقت کی بدولت کیسے زہر بن کر نسوں میں اتر جاتا ہے اور انسان نہ صرف وقت سے پہلے بوڑھا ہو جاتا ہے بلکہ اس کے اندر کی ان تمام برائیوں کو باہر لا کر کھڑا کر دیتا جو نہ صرف ایک خاندان بلکہ معاشرے کے لیے بھی بوجھ بنتے ہیں وہ اس کو صرف ایک فلسفی کی زبان سے بیان نہیں کر رہے ہیں بلکہ اپنے مضمون Dr Wolf and the miracle of a healing relationship میں ایک نفسیاتی مریض کی transformation کا حوالہ دے کر اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ کیسے اس رشتے کی عدم مطابقت ایک ہنستے کھیلتے انسان کو خودکشی کی طرف دھکیل دیتی ہے اور کیسے صرف چند بنیادی تبدیلیاں جیسے میاں بیوی کے درمیان بات چیت اور، بات چیت کے درمیان بہتر الفاظ کا چناؤ، پرسنل باؤنڈریز، ایک دوسرے کو اسپیس دینا، اور اپنے الگ الگ حلقہ احباب مشترکہ حلقہ احباب کے ساتھ، ہفتے میں ایک دفعہ اکیلے باہر جانا اس رشتے کو زہر سے امرت میں بدل سکتا ہے اور اگر ایسا نہیں تو چاہے آپ کی زندگی دوسروں کو کتنی پکچر پرفیکٹ کیوں نہ دکھتی ہو کسی بھی لمحے ایک ہلکی سی چوٹ اس رشتے کو آئینہ کی طرح چکنا چور کر سکتی ہے اور ان کی کہانی Turbulence اس حقیقت کو کھول کر بیان کرتی ہے ایک بظاہر پکچر پرفیکٹ زندگی منٹوں میں راکھ کا ڈھیر بنتی ہے اور سب بڑے بزرگوں کی سمجھ سے باہر ہے کہ ایسا کیوں ہے سوائے ان کے بچوں کے جن کی گفتگو آپ کو اس بریک ڈاؤن کی وجہ بتاتی ہے

”There was no common interest in mother and father relationship.Like lot of other Asian faytge only reason for them being together is their children.It is only because of them they are bound together.

لیکن سب سے زیادہ میرے لیے مزیدار اور حیران کن ان کی کہانی Bigamy ہے جس میں ان کی ہیروئن کو ایک محبت سے بھرپور رشتے کی ضرورت ہے محبت کی خیرات کی نہیں جو اس کا پاکستانی شوہر سمجھنے سے قاصر ہے اور باوجود اس کے کے وہ اپنے رشتے کو ایک موقع اور دینے اور اپنی خاوند کی دوسری شادی کی مجبوری کو سمجھنے کے لیے ایک ایسی خاتون سے ملتی ہے جس کے شوہر کی دو بیویاں ہیں اور وہاں اس کی ملاقات اس عورت کی ملازمہ نوراں سے ہوتی ہے جس کے دو شوہر ہیں یقین مانیے میں واقعی یہ سمجھی کہ یہ ڈاکٹر صاحب مادر شاہی معاشرے کی ایک مثال دے رہے ہیں یا وہ پارٹنرز کو خاوند کے ساتھ مکس کر رہے ہیں اور جب میں نے ان سے فون پر وضاحت چاہی تو انہوں نے بڑے سکون سے جواب دیا حیرت ہے آپ Annie nun کو بھول رہی ہیں ان کے دو شوہر تھے اور یہ میں نے کافرستان کی ایک خاتون کی کہانی بیان کی ہے اور یہ میرے لیے بھی نیا تھا لیکن اس میں بھی کیں تلخی نہیں بلکہ صرف between the lines یہ پیغام ہے کہ Monongamy، polygamy مرد عورت کے لیے برابر ہے لیکن محبت کی تقسیم آسان نہیں اور ہر کسی کے بس کی بات نہیں کہ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے احترام کے ساتھ الگ ہوجانا ساری عمر سلگتے رہنے سے بہتر ہے۔ اس میں مجھے ڈاکٹر خالد سہیل کو سراہتی ہوں کہ انہوں نے مرد اور عورت دونوں کے اس رشتے میں احساسات کو بیان کیا ہے اور ان کی ہیرو نز زیادہ مضبوط اعصاب کی مالک ہیں کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو نفسیاتی مریض اور کمزور دکھایا جاتا ہے۔

اس کتاب کا دوسرا بہت موضوع امیگریشن اور اس سے جڑے مسائل ہیں کہ حالیہ سالوں میں بہت بڑی تعداد میں پاکستانی امیگرنٹ کی آمد کے سبب آپ کو کینڈین اور پاکستانی کلچرز اک بہت ہی پرلطف امتزاج ملتا ہے اس کی جھلک آپ کو اس کتاب میں نظر آتی ہے زہرا زبیری نے نوعمری میں پاکستان چھوڑا اور ایک دفعہ نہیں دو دفعہ دو مختلف ممالک میں گھر بنایا مکان آپ کہیں بھی بنا سکتے ہیں لیکن گھر صرف اس وقت بنا پاتے ہیں جب آپ کا دل اس شخص کے ساتھ دھڑکتا ہو جس کے ساتھ آپ یہ زندگی شروع کر رہے ہوتے ہیں اور خاص کر اگر آپ عورت ہیں اور امیگریشن کے عمل سے گزرے ہیں تو آپ پر فوراً سے پہلے نئی جگہ اور نئے کلچر کو اپنانے کی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے لیکن اس روایات کی لائن کے اندر جو آپ کے اردگرد کھینچ دی گئی ہے یہ دہری زندگی اپنے اندر اور خاص ایک امیگرنٹ عورت کے لیے جسمانی اور نفسیاتی طور پر تھا دینے والا عمل ہے کہ آپ کو ایک دہری زندگی گزارنی پڑتی ہے اس کا اندازہ آپ زہرہ ربیری کی نظموں امیگرنٹ وومن اور ”Against the wind“ سے ہوتا ہے کہ کھلی فضا میں سانس لیتی امیگرنٹ عورت جب باہر نکلتی ہے اور اپنی کامیابی ذہانت کے باعث ایک نئی جگہ پر اپنے آپ کو منوا لیتی ہے تو اس کو فوراً اس کی جگہ یاد دلائی جاتی ہے اور آپ کو فوراً اس false ego کی satisfaction کے لیے دو قدم پیچھے جانا پڑتا نہیں تو قیمت ادا کرنی ہوتی ہے کہ اپنی بہترین صلاحیتوں اور ذہانت کے باوجود عورت کو ڈسپلن رکھنے کی ذمہ داری اس کے باپ بھائی اور شوہر نے اٹھا رکھی ہے اور جو اس سے انکار کرتی ہیں ان کے لیے ہم کیا زبان استعمال کرتے ہیں اور جو رویہ اختیار کرتے ہیں اس نے ایک مستقل نفسیاتی اثر چھوڑا ہے۔

اسی تسلسل کی ان کی نظم Multitasking ہے میرے لیے یہ بہت دلچسپ ہے کیونکہ Multitasking کے نام پر جتنا ابیوز عورتوں کو اور خاص کر امیگرنٹ عورتوں کو کیا گیا اس کی مثال کسی مرد کی زندگی میں نہیں ملے گی ایک امیگرنٹ خاتون کو نہ صرف اپنے آپ کو پروفیشنل زندگی کو بھی منوانا ہے بلکہ گھر میں ایک ساتھ دس کام انجام دینے ہیں جبکہ آج بھی ہمارے ایشیائی مرد اس کو اپنا حق سمجھتے ہیں کہ دفتر سے آئے جوتے اتارے اور پاؤں ہزار کے ٹی وی کے آگے لیٹ گئے کام میں مدد کروانا تو دور کی بات ہے اپنی بیوی کی ایموشنل ضروریات کو سمجھنا بھی ان کی مردانگی کی توہین ہے اور اگر اس میں سے کوئی کام عورت نہ کر پایے تو سست اور اگر اپنی مینٹل ہیلتھ کی قربانی دے کر کرے اور نتیجہ چڑچڑے پن یا مینٹل exhaustion کا شکار ہو تو اس کو فوراً ذہنی مریض کا لیبل لگا دیا جاتا ہے ہمارے قومی لطیفے اس کی مثال ہیں اور ذہنی بیماریوں کے اسٹرفیکٹ دینے کے تو ہم ایکسپرٹ ہیں۔

زہرہ نے صرف ایک عورت ہی نہیں بلکہ بطور ایک انسان بھی اس دکھ کی عکاسی کی ہے جو آپ کو اس وقت برداشت کرنا پڑتا ہے جب اس جگہ جس کو آپ اپنا نیا ملک کہتے ہیں آپ کو بغیر جرم کے صرف آپ کی جلد کے رنگ اور مذہب کی بنیاد پر کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں ”A hyphenated Canadian“ اس دکھ کا اظہار ہے جو ہر men and women of colour اور ہر مسلمان کسی بھی قسم کے حادثے کے بعد محسوس کرتے ہیں یہ وہ بیگیج ہے جو آپ کو ذہنی طور پر تھکا دیتا ہے اور یہاں تک کہ ایڈورڈ سعید جیسے انسان کو اپنی آٹو بائیوگرافی کو out of place کا نام دینے پر مجبور کر دیتا ہے لیکن ڈاکٹر خالد سہیل کی نظموں، کہانیوں اور مضامین میں یہ بغاوت کی صورت میں نمودار ہوتا ہے انہوں نے کن وجوہات کی وجہ سے امیگریشن کی وہ اپنے دماغ میں بالکل واضح ہیں وہ ایک ایسے سسٹم سے نفرت کرتے ہیں جس میں عورت کو سیکنڈ کلاس سیٹیزن کا درجہ دیا جاتا ہے اور اس کو وہ اپنی نظم ”Mother Earth is calling“ میں یہ لائنیں لکھ کر کرتے ہیں

You have to say goodbye to Heavenly Father
And come back to your Mother Earth

لیبل لگا کر ان کی سیلف رسپیکٹ سے محروم کر دیا گیا اور ان کو اپنی آپ کو منوانے کی ریس میں لگا دیا گیا، ۔ Invisible chains ان سب روایات کے بوجھ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو ہمیں دکھائی تو نہیں دیتیں لیکن روشن خیال سے روشن خیال شخص بھی اس مقدس دائرے سے باہر نکلنے کی جرات نہیں کرتا لیکن وہ یہاں پر نہیں رکتے وہ ان سب لوگوں کی آواز بننا چاہتے ہیں جن کو کسی بھی طرح کے جبر کا سامنا کرنا پڑا ہو اور اس سے بڑا جبر کیا ہو گا جب وہ زمیں جس کو آپ اپنا وطن کہیں وہ آپ پر تنگ کر دی جائے اور آپ اپنے وطن میں عام زندگی کے معمولات ادا کرنے پر مجرم بن جائیں اس لیے وہ اس کا اظہار Native Indian literatures کے اردو میں تراجم کر کے اس کا اظہار کرتے ہیں لیکن وہ یہاں پر نہیں رکتے بلکہ ان کی تحریر کردہ کہانی Mother Earth is sad پاکستان کی پچھتر سال کی تاریخ اور جس قسم کے جبر دکھ اور تکلیف کا سامنا اس ملک کے لوگوں کو کرنا پڑا ہے کا احوال ہے کہ وہ خون آشام اقتدار جو انگریز راج کہلایا اس نے ایک ہی ملک میں ایک ہی ساتھ رہنے والوں کو اپنے اقتدار کے اختتام پر ایسی خون آشام آزادی کا تحفہ ملک کو دولخت کر کے دیا جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اپنے ہی گھر میں بے گھر ہوئے، اپنے پرائے ہوئے اور راتوں رات بھرے پرے گھر چھوڑ کر جان بچانے کے لیے ایک جبری ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور اس تقسیم نے جس religious extremism and facisim کو جنم دیا آج تک بھارت اور پاکستان اس کو بھگت رہے ہیں ہم اپنے ہی آپ کو نوچ رہے ہیں اور بہت خوشی محسوس کرتے ہیں۔

ہم نے دیکھا کہ کیسے ڈاکٹر عبدالسلام کو پاکستان چھوڑنا پڑا اور آج بھی ہم نوبل انعام کے باوجود ان کا احترام کرنے سے قاصر ہیں میں چھوڑیں کہ وہ مسلمان ہیں یا نہیں صرف اس لیے ان کا احترام کر لیجیے کہ یہ وہ پاکستانی ہے جس نے آپ کے لیے physics جیسی مشکل فیلڈ میں آپ کے لیے دنیا کا سب سے قابل قدر انعام جیتا ہے لیکن ہم تو یہاں آ کر کھڑے ہیں کہ اگر تم ہمارا فرقہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو تم مسلمان تو کیا تمہیں پاکستان میں رہنے کا حق نہیں۔

میں سمجھتی ہوں کہ ڈاکٹر عبدالسلام خوش قسمت تھے کہ وہ جان بچا کر نکل آئے اور انہوں نے وہ ریسرچ کی جو وہ پاکستان میں نہ کر پاتے کیونکہ یا تو جیل میں ہوتے یا مار دیے جاتے۔ اس میں بدقسمتی یہ ہے کہ جس سیکولر انڈیا کی مثال ہم دیتے تھے ہم وہاں پہ بھی یہی آگ لگے دیکھتے ہیں کہ ہم نے اپنی ہزاروں سال کی اسیکولر تہذیب کو چھوڑ کر انگریزوں کی خون آشام colonial تہذیب کو اپنا لیا ہے جہاں might is right ہے اور وسائل اور زمین پر قبضہ طرح امتیاز ہے جب کہ وہاں کی مقامی آبادی صرف ایک بوجھ ہے جس سے چھٹکارا پا لینا اولین فرض ہے۔

جنگوں کے دکھ مائگریشن کے دکھ آپ کی نسل یا قومیت نہیں دیکھتے اس لیے جب میں نے زہرہ زبیری کی کہانی Metal children پڑھی تو وہ دکھ جو مجھے میری نانی سے ورثے میں ملا ہے جو انہوں نے ہندوستان سے ہجرت کے وقت اٹھایا اور ساری عمر اپنے والد کو ہندوستان واپسی کے خواب دیکھتے اٹھایا ہے وہ مجھے 2003 کے عراق اور 2023 کے فلسطین لے گیا کہ کپٹیلسٹ colonisers کبھی اپنی فطرت نہیں بدلیں گے جب تک کہ مظلوم آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ نہ روک لیں کہ ہمارے بچوں کی زندگی کی اس طبقاتی نظام میں کوئی اہمیت نہیں۔

اس کتاب میں جتنے موضوعات پر لکھا گیا ہے وہ سب میرے دل کے بہت قریب ہیں لیکن جن جملوں نے اس کتاب کو میرے لیے بہت اہم کیا وہ ڈاکٹر خالد سہیل کے مضمون Story telling and story writing میں موجود ہیں جس میں وہ کینڈین short story writer Alice Munore کو quote کر کے ان خواتین لکھاریوں کے مسائل بیان کر رہے ہیں جن کے پاس اپنے لمبی کمٹمنٹ مانگتے ادبی خواب لکھنے کا وقت نہیں کیونکہ بطور خاتون Alice Munro کے پاس بے شمار ذمہ داریاں تھیں اور خاص کر جب ان کے بچے چھوٹے تھے تو ان کے پاس لمبا پلان کرنے کا وقت نہیں تھا کہ ہر لمحہ سیچویشن بدل جاتی اور ناول لکھنے کے لیے جس یکسوئی اور پرسکون ماحول کی ضرورت ہوتی وہ موجود نہیں تھا انہوں نے اپنے آپ کو تھوڑے وقت میں مختصر کہانیوں کی طرف مائل کیا اور مجھے لگا کہ میں نے اپنے آپ کو ان لائنوں کے عکس میں دیکھا کہ میں نے کتے تحریر چھوٹے چھوٹے مختلف اوقات میں لکھ کر پوری کی ہیں اور جہاں سے آپ تحریر چھوڑتے ہیں اس کو کچھ دنوں کے بعد اسی جگہ سے اسی موڈ میں دوبارہ لکھنا کتنا مشکل ہے یہ وہ جانتے ہیں جو اس سے گزرتے ہیں لیکن یہ الفاظ پڑھ کے مجھے بہت تسلی ہوئی کہ میں اس صورتحال میں اکیلی نہیں۔

میں آخر میں اتنا کہنا چاہوں گی کہ اس کتاب میں جن مضامین کے اوپر لکھا گیا ہے وہ گمبھیر اور بھاری بھرکم ہیں لیکن اس کتاب کو پڑھتے وقت کہیں پر بھی آپ پر مایوسی افسردگی اور نا امیدی کا غلبہ نہیں ہوتا اور یہ جادوئی اثر ڈاکٹر خالد سہیل اور زہرہ زبیری کی شخصیت کا ہے کہ ان تمام تر مسائل کو جاننے اور بے شمار مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود انہوں نے کبھی نہ تو امید کا دامن چھوڑا نہ ہی سچ کا ساتھ دینے سے گھبراتی اور نہ ہی اور مشکل موضوعات پر بات کرنے سے کترائے کیونکہ ان کے نزدیک زندگی کی اس لمبی مسافت میں صرف یہی ایک راستہ ہے زندگی کا ، محبت اور احترام کا انسانیت کی بقا کا اچھے دنوں کی امید کا ، امید گروں کے زندہ رہنے کا واحد راستہ۔

ہست و نا ہست کی قہر باد مسافت میں
امید گر کیسے زندہ رہے تم نے جانا
(یہ مضمون تین دسمبر 2023 کو فیملی آف ہارٹ کے تحت منعقد کی گئی تقریب میں پڑھا گیا )

Facebook Comments HS