انوکھے شہید: راشدین (دو راشد) اور راشد آباد


ٹنڈو الہ یار، سندھ میں راشد آباد نام کا ایک ایسا نخلستان موجود ہے۔ جو راتوں رات اُمید کے صحرا میں خود بخود پیدا نہیں ہوتا۔ راشد آباد ٹرسٹ کے تحت ایک ایسا علاقہ جہاں وہ سب سہولتیں غریب کے لئے مفت موجود ہیں، جو پاکستان کے کئی شہروں کے امراء کو مہنگے داموں بھی میسر نہیں۔ راشد آباد کی کہانی پاک فضائیہ سے تعلق رکھنے والے دو غازیوں اور دو شہیدوں سے جڑی ہے۔ غازی بھی وہ جو گئے تھے سر پر کفن باندھ کر، مگر قدرت نے ان کے لئے کچھ اور ہی فیصلہ کر رکھا تھا۔

سن 1971 کی جنگ کے دوران انڈیا کے شہر جام نگر کے ہوائی اڈے، انڈین نیوی کی اہم بندرگاہ دوارکا اور وہاں موجود اہم تنصیبات کو تباہ کرنے کے لئے پاک فضائیہ کے یکے بعد دیگرے تین بمبار طیارے کراچی سے اڑے، مگر تمام جہازوں کے سینیئر پائلٹ اور نیوی گیٹروں نے جام شہادت نوش کیا۔ جام نگر، موت کا دوسرا نام بن گیا۔ ایسے وقت میں ایک جونیئر پائلٹ فلائٹ لیفٹیننٹ شبیر، بسم اللہ کر کے آگے بڑھا اور نہ صرف مشن مکمل کیا بلکہ جام نگر پر موجود تیل اور اسلحے کے ذخیرے کو تباہ کرتے ہوئے اس کے ناقابل تسخیر ہونے کے طلِسم کو بھی توڑ دیا۔ شبیر احمد خان کے لئے اس کارنامے پر ستارہ جرات دینے کا فیصلہ کیا گیا، تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ ان کی ڈیوٹی تھی اور اپنے سینیئرز سے گزارش کی کہ پہلے ان تمام شہیدوں کو ستارہ جرات دیا جائے جو نہ وطن واپس آ سکے اور نہ ان کے گھر والے ان کا آخری دیدار کرسکے۔ یوں صرف جام نگر پر حملے کے دوران شہید ہونے والے کم و بیش سات پاکستانیوں کو ستارہ جرات ملا۔ ان میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے جہاز تباہ ہونے کے بعد دشمن کی زمین پر اترنے کی بجائے شارک مچھلیوں سے بھرے سمندر میں پیراشوٹ سے اترنے کو ترجیح دی۔

غازی شبیر احمد کے کارنامے سے چھ سال پہلے، چھ ستمبر 1965 ء کی رات جب انڈیا کی فوجوں نے لاہور پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، تو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے پاکستان آرمی کے شانہ بشانہ نا صرف ان کی اس کوشش کو ناکام بنانے میں اہم کردار کیا۔ بلکہ اگلی دوپہر کو ”دِن دیہاڑے“ انڈیا کے ہوائی اڈوں پر حملہ کر کے طیاروں اور حساس تنصیبات کی ایک بڑی تعداد کو بھی تباہ کر دیا۔ ان تمام جان لیوا مشن میں کچھ پائلٹ شہید ہوئے اور باقی غازی ٹھہرے۔ اعزازات تو چند کو ملے مگر پاکستانی آج بھی ان تمام غازیوں اور شہیدوں کو یاد رکھتے ہیں۔ غازیوں میں ایک اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم بھی تھے جن کو اس دن، آدم پور پر حملے کے دوران دشمن کے جہاز، تباہ کرنے پر ستارہ جرات ملا تھا۔

یہ بات یقینی تھی کہ پاک فضائیہ سے تین گنا بڑی ہندوستانی فضائیہ اگلے دن بدلہ لینے ضرور آئے گی۔ یوں 7 ستمبر کی صبح سے ڈھاکہ، کراچی اور سب سے زیادہ سرگودھا کے ہوائی اڈوں پر ہندوستانی طیارے ان چیونٹیوں کی طرح اڑ رہے تھے جن کے پر نکل آئے ہوں۔ لیکن انہیں چائے پلانے کے لئے پاکستانی شاہین بھی وہاں موجود تھے۔ اُس دن دَسیوں ہندوستانی فائٹر طیارے پاکستانی فضا میں فنا ہوئے۔ جو پائلٹ تباہ طیاروں سمیت واپس بھی گئے وہ بھی ایک عرصے تک اپنا نفسیاتی علاج کراتے رہے۔

ستمبر 7، کے اُس دن مگر پائلٹ آف دی کومبیٹ وہ تھا جسے قوم ایم ایم عالم کے نام سے جانتی ہے۔ عالم صاحب کے مخالفین کی بدقسمتی رہی کہ اُس دن، ایک وقت ایسا بھی آیا جب عالم صاحب کے ایف ایٹی سکس سیبر کے سامنے، ہندوستانی ہنٹر طیارے یکے بعد دیگرے آتے گئے اور اُنکے فضائی گولوں کا شکار ہو کر لقمہ اجل بنتے گئے۔ ایک منٹ میں پورے پانچ، ”ابھے نندن“ ۔ جدید فائٹر جہازوں کی تاریخ میں یہ خود ایک یادگار کارنامہ تھا، ہے اور شاید رہے گا۔ اس مین آف دی وار کارنامے پر عالم صاحب کو ایک اور ستارہ جرات ملا (یعنی دو دن میں دو ستارہ جرات) ۔ عام طور پر کسی شخص کی زندگی میں سرکاری یادگاروں یا سڑکوں کے نام نہیں رکھے جاتے، مگر عالم صاحب کو قوم نے یہ اعزاز بھی بخشا اور متعدد شہروں میں نہ صرف سڑکوں یا چوراہوں کے نام ایم ایم عالم کے نام سے منسوب ہوئے۔ بلکہ کئی سالوں تک رنگ و مذہب سے بالاتر ہو کر کئی پاکستانیوں نے اپنے بیٹوں کے نام بھی صرف محمد عالم، عالم مسیح یا عالم کھنہ رکھا۔ وقت گزرتا گیا اور غازی ایم ایم عالم ائر کموڈور کی حیثیت سے 1982 ء میں ریٹائر ہو گئے۔

تحریر کے پہلے غازی شبیر احمد، 20 اگست 71 ء کو حسب معمول اپنے بی 57 بمبار میں ایک مشن پر تھے جب انہیں مسرور کراچی کے ہوائی اڈے سے ایک نوعمر پائلٹ افسر راشد منہاس کے جہاز کے ہائی جیک ہونے کی خبر ملی۔ یہ بات غیر متوقع نہیں تھی اور انٹیلی جنس ذرائع اِس کی طرف پہلے ہی اشارہ کرچکے تھے۔ اسی لئے تمام بنگالی پائلٹ عارضی طور پر فلائنگ یا کسی بھی حساس ڈیوٹی سے نا صرف فارغ کر دیے گئے تھے بلکہ ان سے مخصوص فلائنگ یونیفارم بھی واپس لے لی گئی تھی۔ (راشد کی کہانی تفصیل سے بعد میں ) دس پندرہ منٹ بعد ہی شبیر صاحب کو کنٹرول ٹاور سے یہ پیغام بھی مل گیا کہ محض بیس سال کے راشد نے اغوا کرنے والے سینیئر بنگالی (مگر پاکستانی) پائلٹ کی جہاز کو انڈیا لے جانے کی کوشش کو اس طرح ناکام بنا دیا کہ بھارتی سرحد سے کچھ پہلے اپنے مادر وطن میں جہاز کو زمین سے ٹکرا کر خود شہید اور بنگالی اغواکار فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمن کو مار دیا۔ ایک عام شخص شاید اس معاملہ کو اتنی آسانی سے نہ سمجھ سکے مگر یہ ایسا ہی تھا جیسے کوئی سپاہی سینے پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینک کے سامنے لیٹ کر خود کو اڑا کر اس ٹینک اور اس کے پیچھے آنے والے مزید ٹینکوں کو آگے بڑھنے سے روک لے۔

شبیر صاحب کو افسر میس میں ڈرا سہما بیس سالہ جونیئر راشد منہاس یاد آ گیا۔ ایک انتہائی نوعمر، نا تجربہ کار اور لگ بھگ بچہ، جو اپنے پہلے یا شاید دوسرے سولو (انسٹرکٹر کے بغیر تنہا پرواز) کے لئے اڑا تھا۔ شبیر صاحب کے گھر اُنہی دنوں ننھے مہمان کی آمد متوقع تھی۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اس ننھے شہید کی تکریم میں وہ بیٹے کا نام راشد اور بیٹی ہوئی تو راشدہ رکھیں گے۔ چند مہینوں بعد شبیر احمد خان کے گھر، ننھے راشد احمد خان نے آنکھیں کھولیں۔ قسمت کا پہیہ بھی عجیب طرح سے یوں گھوما کہ راشد جونیئر بھی پاک فضائیہ میں کمیشن حاصل کر کے پائلٹ بنتا ہے۔ باپ اور راشد منہاس کے قدموں پر چلتے ہوئے کئی سالوں بعد اُسی مسرور کے فضائی اڈے پر بحیثیت فائٹر پائلٹ تعینات۔ راشد منہاس کی شہادت کے 24 سال بعد قدرت کو مگر کچھ اور منظور تھا۔

دسمبر 1997 ء کے ایک دن راشد جونیئر اپنے اسلحے اور تیل کی اضافی ٹینکیوں سمیت میراج طیارے کے ساتھ مسرور کے اُسی اڈے سے ایک مشن پر جانے کے لئے روانہ ہوتا ہے۔ مگر ٹیک آف کے فوراً بعد جہاز کے انجن میں فنی خرابی سے آگ لگ جاتی ہے۔ کنٹرول ٹاور سے بار بار جہاز چھوڑ دینے کا حکم ملتا ہے مگر راشد کو نیچے ناظم آباد اور شیرشاہ کے گھروں میں رہنے والے لوگ اور گلیوں میں کھیلتے بچے نظر آتے ہیں۔ جو جہاز چھوڑنے کے نتیجے میں اسلحے اور تیل سے کسی بھی لمحے موت کے منہ میں چلے جاتے۔ راشد بے قابو جہاز کو کسی حد تک ایسی جگہ لے جانے میں کامیاب رہا جو آبادی سے دور تھا مگر خود اس کے لئے بہت دیر ہو چکی تھی۔ لاکھوں لوگوں میں سے سب کی جان بچ گئی لیکن ماں، باپ اور دو بہنوں کی آنکھیں اپنے اکلوتے اور لاڈلے بھائی کے لئے اشک بار ہو گئیں۔

غازی ایم ایم عالم (جنہوں نے شادی نہیں کی) ستارہ جرات کے ساتھ ملنے والے مالی فوائد کو اپنے گیارہ بہن بھائیوں کی تعلیم و تربیت کے بعد ، روس کے خلاف افغان جہاد اور سماجی کاموں کے لئے مختص کر دیا۔ اس غازی نے کم و بیش دو سال تک گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے شانہ بشانہ کوہ ہندوکش کی پہاڑیوں، پنچ شیر کی وادیوں اور کئی حساس مقامات پر روس کے خلاف جہاد افغانستان میں بھی حصہ لیا۔ یہ دونوں مجاہد اپنے اس محسن کو عقیدت سے جنرل عالم کہتے تھے۔ 1994 ء میں عالم صاحب اور ائرفورس کے متعدد افسران نے ٹنڈو الہ یار میں سو ایکڑ زمین حاصل کر کے ایک ایسے ماڈل ولیج کا خواب دیکھا جہاں ذات پات اور رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر ہر طالب علم کو معیاری تعلیم اور سب پاکستانیوں کو صحت کی سہولیات میسر ہوں۔

فلائٹ لیفٹیننٹ راشد احمد خان کی بے وقت شہادت نے ٹنڈو الہ یار کے پاس 1994 میں سماجی خدمت کے لئے حاصل کی گئی زمین کے مقصد کو ایک نئی شکل دے دی۔ ایم ایم عالم صاحب نے اصرار کیا کہ اس آئیڈیل ولیج کا نام شبیر صاحب کے شہید بیٹے کے نام پر راشد آباد رکھا جائے۔ کیونکہ انہوں نے غیر شادی شدہ بیٹے کی شہادت کے بعد ملنے والی تمام مالی مراعات اور گھر، جن کی مالیت اس وقت بھی کروڑوں میں تھی اس پراجیکٹ کو وقف کر دیے تھے۔ راشد کی شہادت کے ٹھیک ایک سال بعد راشد آباد کا قیام عمل میں آیا جو پاک فضائیہ سے تعلق رکھنے والے دو شہیدوں اور دو غازیوں کی یاد دلاتا ہے۔ یہ ایدھی کی طرح بے غرض کامیابی کی ایسی مثال ہے جس میں عام اور صاحب ثروت لوگوں نے مل کر حصہ ڈالا اور معاشرے کے کمزور افراد کی مدد کی۔

تعلیمی مراکز۔

( 1 ) راشد آباد میں کیڈٹ کالج طرز کا سرگودھین اسپرٹ پبلک اسکول ہے۔ جس میں 500 لڑکے انٹر اور اے لیول تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ جس میں سے 35 فی صد سے زائد مستحق بچوں کی تعلیم مفت ہے۔

( 2 ) یہاں یعقوب خواجہ اکیڈمی بھی ہے جہاں ایک ہزار بچے اور بچیاں میٹرک تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
( 3 ) سٹیزن فاؤنڈیشن اسکول ہے جہاں لگ بھگ ہزار طالب علم ہیں جن میں ساٹھ فی صد تک بچیاں ہیں۔

( 4 ) راشد آباد میں بہرے یعنی سماعت سے محروم بچوں کے لئے ڈیف ریچ اسکول ہے۔ جہاں 500 سے زائد بچے خصوصی اور فنی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اب تک اس ادارے سے پانچ ہزار سے زائد بچے فارغ التحصیل ہو کر خود کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے قابل ہوچکے ہیں۔

( 5 ) تین سو سے زائد نابینا بچوں کو تعلیم اور فنی تربیت سے لیس کرنے والا سلطان علی کیمپس۔ جہاں دور دراز سے آنے والے سو بچوں کو رہائش بھی فراہم کی جاتی ہے۔

( 6 ) حاجیانی اشرف خاتون ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ۔ جہاں ایک برطانوی ادارے کے اشتراک سے چند ماہ سے لے کر ایک سال تک کے ٹیکنیکل کورسز اس طرح کرائے جاتے ہیں کہ طالب علم عالمی منڈی میں بہ آسانی نوکری تلاش کرسکے۔ اس میں الیکٹریکل وائر مین یا جنرل الیکٹرک، مکینک، پلمبنگ، ویلڈنگ، ائر کنڈیشننگ، کارپنٹر، الیکٹرانکس رپیئر، کار اور موٹر سائیکل مکینک، ٹریکٹر رپیئر بھی شامل ہیں۔ یہاں سے ٹرینڈ سینکڑوں ٹیکنیشین صرف یورپ میں اب کام کر کے نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پاکستان کی ترقی میں بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

( 7 ) خواتین کی ٹریننگ کے لئے ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ۔ جس میں مقامی عورتوں کو سلائی، کڑھائی، سویٹر بننے کے علاوہ مقامی اشیا اور دست کاری بنانے کی تربیت دی جاتی ہے۔

صحت کے مراکز۔

1۔ بلقیس مصحف اسپتال۔ 200 بستروں کے اس اسپتال میں گائنی، بچوں اور خواتین کے آپریشن کے علاوہ ایک جدید ٹیسٹنگ لیب، ایکس رے سے لے کر ظہیر حسن ڈائیلیسز سینٹر بھی موجود ہے جہاں مفت سے لے کر معمولی رقم کے عوض بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔

2۔ لیٹن رحمت اللہ آنکھوں کا اسپتال۔ یہاں 50 بستروں کا اسپتال بھی موجود ہے جو روزانہ ہونے والے پچاس آپریشنز کے مریضوں کے لئے ہے۔ جبکہ یہاں 400 سے زائد لوگوں کی آنکھوں کا علاج بھی ہوتا ہے۔

3۔ بلڈ بنک اور ٹرانسفیوژن سینٹر۔

4۔ رجب علی کلثوم بھائی، دار السکون۔ جہاں ذہنی اور جسمانی معذور لوگوں کو چھت فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں 250 بچے اور 100 بالغ افراد کی گنجائش ہے۔

5۔ مقامی گاؤں کے لوگوں کے لئے موبائل ڈسپنسریز اور ہمارا کلینک۔

راشد آباد کے صحت اور تعلیم کے مراکز میں آنے والے غریب لوگوں کے لئے یہاں روزانہ پراجیکٹ المائدہ کے تحت، انتہائی کم قیمت پر کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

راشد آباد میں ایک بڑی مسجد اور ایک بڑا واٹر فلٹریشن پلانٹ بھی موجود ہے جو طلبا اور مریضوں کے علاوہ یہاں آنے والے لوگوں کو بھی صاف اور صحت مند پانی مہیا کرتا ہے۔

راشد آباد میں صرف تعلیم اور صحت ہی نہیں۔ یہاں ٹریک اینڈ فیلڈ اور انڈور اسپورٹس کی ایک لمبی سہولت بھی موجود ہے جن میں ریحانہ نذر اسکواش کمپلیکس بھی شامل ہے جہاں عالمی معیار کے ٹورنامنٹ بھی منعقد ہوتے رہتے ہیں۔

راشد آباد ریلوے کی مین لائن کے نزدیک واقع ہے اس لئے حکومت کی خصوصی اجازت راشد آباد ٹرسٹ نے اپنے خرچ پر ایک ریلوے اسٹیشن بھی بنایا۔ جہاں راشد آباد آنے والے مریض، طلبا اور ان کے رشتہ دار سستی ٹرین کے ذریعے پورے ملک سے راشد آباد پہنچ سکیں۔

——-

ایم ایم عالم، وفات تک کسی نا کسی حیثیت میں راشد آباد سے منسلک رہے۔ جبکہ اس کی قیادت ائر کموڈور شبیر احمد خان کر رہے تھے۔ مارچ 2013 میں عالم صاحب کی وفات کے بعد ٹرسٹ کے لوگوں کو ان کی کمی شدت سے محسوس ہونے لگی اور یوں راشد آباد کی طرز پر ایک اور ماڈل ولیج کی ضرورت کا خیال پیش آیا۔ جس کا مقصد کسی اور علاقے کے غریب و نادار لوگوں اور بچوں کی مدد کے ساتھ غازی ایم ایم عالم کو خراج عقیدت پیش کرنا بھی تھا۔

پاک فضائیہ کے ریٹائرڈ لوگوں کی کاوش راشد آباد کو دیکھتے ہوئے، پنڈی پشاور موٹر وے پر صوابی کی تحصیل نبی کے ایک گاؤں لاہور کے مخیر لوگوں نے اس کارخیر کے لئے لگ بھگ ایک ہزار کنال زمین جمع کی اور پاک فضائیہ کو عطیہ کردی۔ یوں لب دریا ایک نیا راشد آباد، بشکل عالم آباد وجود میں آنے کو ہے۔ اسی 80 سالہ شبیر صاحب کے ولولے ابھی بھی جوان ہیں اور عالم آباد میں مفت ہسپتال، کیڈٹ کالج، اچھے اسکول، تعلیمی اور فنی تربیت کے مراکز قائم کرنے کے لئے سرکردہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ پاک فضائیہ کی اصغر خان اکیڈمی رسالپور میں نوجوان افسروں کی راہ نمائی اور تربیت کے لئے بھی خدمات انجام دیتے رہتے ہیں۔

ائر کموڈور ایم ایم عالم اور شبیر صاحب کی خدمات کو دیکھتے ہوئے پاکستانیوں بالخصوص اہالیان کراچی اور ملک سے باہر رہنے والوں نے مدد کر کے راشد آباد کے خواب کو حقیقت میں تبدیل کیا۔ یوں 25 سال میں راشد میموریل ٹرسٹ آج اعتماد کا دوسرا نام بن چکا ہے۔ راشد آباد اور عالم آباد میں مخیر حضرات نے ان ماڈل ولیج کو حقیقت بننے میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ کسی نے پورے کے پورے اسکول یا مرکز صحت کی عمارت یا مشینری کا ذمہ لیا اور اپنے والدین کے نام کر دیے۔ جنہیں اب کسی اور این جی او نے گود لے کر اس کا کام سنبھال لیا۔ آج بھی صاحب اختیار آگے بڑھ کر کسی سڑک، کوئی دیوار، فلٹر پلانٹ، وارڈ یا کوئی عمارت اپنے والدین، بزرگ یا محسن کو موسوم کر کے ان کے ناموں کو امر کر سکتے ہیں۔

راشد آباد میموریل ویلفیئر ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر جاکر رابطہ اور عطیات کی تفصیل حاصل کی جا سکتی ہیں۔

ان یادوں کو سمیٹتے دکھ کی چند باتیں۔

شبیر صاحب سے کچھ عرصے پہلے جب میں نے پوچھا راشد آباد اور ملک کے لئے اتنا کچھ کیا۔ کبھی افسوس تو نہیں ہوا۔ کہنے لگے ہاں جب 2007 میں راولپنڈی میں بے نظیر کا قتل ہوا تو راشد آباد کے اردگرد رہنے والے سندھ کے لوگوں نے راشد آباد کی کئی عمارتوں، جن میں مفت ہسپتال، فنی تربیت کے مراکز اور اسکول شامل تھے کو یہ کہہ کر آگ لگا دی کہ یہ فوجیوں نے بنائی ہیں۔ قریب ہی ایک پٹرول پمپ کے مالک نے لوگوں کو تیل اور کنستر مفت فراہم کیے، جدید ایمبولینس، گاڑیاں اور قیمتی مشینری جو بمشکل منگوائی گئی تھیں اور سب سے بڑھ کر ٹرسٹ نے اپنے خرچ پر علاقے کے لوگوں کے لئے جو ریلوے اسٹیشن قائم کیا تھا۔ سب تباہ کر دیا۔ یہ سب عام پاکستانیوں کے عطیات تھے۔ اور سب سے بڑھ کر ملک کے لئے جان دینے والے دو شہیدوں کے نام سے جڑا ایک خراج تھا۔ جو ہم نے تباہ کر کے ثابت کر دیا کہ ہم کتنے بے وقوف اور احمق ہیں۔ یہ ایک غازی کا نوحہ تھا۔

یہ شبیر صاحب جیسوں کا ہی حوصلہ تھا جو انہوں نے مخیر حضرات کے خود یہ کہنے کے باوجود کہ جو کچھ بچ گیا ہے اسے بم سے اڑا کر کچھ سال بعد یہاں ہاؤسنگ سوسائٹی بنا دیجئے گا۔ ہمیں کوئی شکوہ نہیں۔ باز نہ آئے اور دس سال کی بربادی کو دوبارہ سے انہی کے لئے تعمیر کیا جنہوں نے اسے تباہ کیا تھا۔

ایم ایم عالم آج زندہ نہیں ورنہ 9 مئی کو ان کی آنکھیں بھی یہ دیکھ کر اشک بار ہوتیں کہ میانوالی شہر کے جس فضائی اڈے پی اے ایف بیس ایم ایم عالم کو ان کے نام سے موسوم کیا گیا تھا۔ لوگوں نے اس کے نام کی حرمت کا پاس رکھے بغیر اِس ائر بیس اور مصحف سرگودھا کے اّس ائر بیس پر بھی حملہ کیا جہاں سے انہوں نے 65 کی جنگ میں اڑان بھر کر ہندوستان کی زمینی اور فضائی فوجوں کو یہ سبق دیا تھا کہ خبردار۔ پاکستانیوں کی فضائی فوج سے ہوشیار۔

واقعی ہم کتنے بے وقوف اور احمق ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments