جنگ کے بارے میں ایک دکھی نوجوان سے مکالمہ
میں نے جب اپنی ہنستی ’مسکراتی‘ قہقہے لگاتی ’خوش مزاج مریضہ سے کہا ’ آج آپ بہت اداس دکھائی دے رہی ہیں؟‘
تو وہ کہنے لگیں ’ میں اس وجہ سے اداس ہوں کیونکہ میرا بیٹا آج کل بہت دکھی ہے۔ ماضی میں وہ اپنے دانا نانا سے دل کی باتیں کیا کرتا تھا لیکن پچھلے سال وہ فوت ہو گئے۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ آپ سے بات کرے‘
’کیوں نہیں۔ آپ اپنے بیٹے کو میرے پاس بھیج دیں‘
جب وہ نوجوان مجھ سے ملنے آیا تو اس کے کپڑے میلے اور داڑھی بے ترتیب تھی۔ اس کے چہرے پر اداسی کے سائے لہرا رہے تھے۔
میں نے اس سے پوچھا ’ آپ کو کس بات نے دکھی کر رکھا ہے؟
کہنے لگا میں ایک نرسنگ ہوم میں کام کیا کرتا تھا۔ میں وہاں بزرگوں کی خدمت کر کے بہت خوش رہتا تھا۔ میں ان کے علم ’تجربے اور دانائی سے بہت کچھ سیکھتا تھا لیکن پھر کووڈ کی وبا نے حملہ کر دیا۔ اور اس وبا نے سینئر سٹیزنز کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔
میں صبح ان بزرگوں کو ناشتے کے لیے جگانے جاتا تو پتہ چلتا کہ وہ کب کے ابدی نیند سو چکے ہیں۔ کووڈ کی وبا سے پہلے میرے نرسنگ ہوم میں ایک سو ایک بزرگ رہتے تھے۔ دو سالوں میں ان میں سے اکتالیس وبا کی نظر ہو گئے۔
ہم کووڈ کی وبا سے پوری طرح نکلے بھی نہ تھے کہ اسرائیل اور حماس کی جنگ شروع ہو گئی۔ میں ٹی وی پر جنگ کے مناظر دیکھتا ہوں تو بہت دکھی ہو جاتا ہوں۔ اس جنگ میں اتنے بم گرائے گئے کہ ہزاروں معصوم بچے جل کر کوئلہ ہو گئے۔ ہر روز سینکڑوں بچے مر رہے ہیں اور ساری دنیا خاموشی سے اس نسل کشی کو دیکھ رہی ہے اور خاموش ہے۔
میرا انسانیت سے اعتماد اور اعتبار اور ایمان اٹھتا جا رہا ہے۔ میں اس لیے دکھی ہوں اور اس دکھ کا کوئی ازالہ نہیں۔ کاش میں نہ زندہ ہوتا نہ اتنا دکھی ہوتا۔
یہ کہنے کے بعد اس نوجوان نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور خاموش ہو گیا۔
میں نے اس نوجوان کی دل کی باتیں بڑے تحمل ’بردباری اور صبر سے سنیں اور پھر میں نے کہا
مجھے تم پر فخر ہے کہ تم اتنے حساس انسان ہو اور تمہارا ضمیر ابھی مردہ نہیں ہوا۔ اس دنیا میں نجانے کتنے انسان ہیں جو سفاک اور سنگدل ہو چکے ہیں۔ وہ دوسروں کو دکھ پہنچاتے ہیں اور یہی نہیں کہ کوئی ندامت یا خجالت محسوس نہیں کرتے بلکہ اس پر خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ وہ اپنے دشمنوں کو قتل کر کے خوشی سے رقص کرتے ہیں اور اپنی کامیابی کا جشن مناتے ہیں۔
نوجوان نے کہا، میری والدہ نے کہا ہے کہ آپ ایک ڈاکٹر ہی نہیں ایک ماہر نفسیات اور امن دوست فلاسفر بھی ہیں۔ آپ بتائیں اتنا ظلم دیکھ کر کوئی کیسے خوش رہ سکتا ہے؟
میں نے کہا آپ کا سوال لاکھ ڈالر کا سوال ہے۔ میں اپنے خیالات آپ کے سامنے اختصار سے پیش کروں گا۔ یہ خیالات میری زندگی میں مجھے خوش رکھنے میں میری رہنمائی کرتے ہیں ہو سکتا ہے آپ بھی ان سے استفادہ کر سکیں۔
پہلی بات تو یہ ہے آپ جس کشتی میں سوار ہیں اس میں اس دور کے اور بھی بہت سے حساس اور با ضمیر انسان سوار ہیں جو خبریں پڑھ کر ’سن کر اور دیکھ کر خون کے آنسو بہاتے ہیں۔ میری کل ہی ایک پاکستانی ماں سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہا کہ مجھے ٹی وی پر معصوم فلسطینی بچے دیکھ کر اپنے بچے یاد آتے ہیں اور میں رو پڑتی ہوں۔ میں اتنی دکھی ہوں کہ رات کو نیند نہیں آتی اور نیند آ بھی جائے تو ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ اس لیے ساری ساری رات نہ میں سو سکتی ہوں نہ جاگ سکتی ہوں۔ میں بہت تھک گئی ہوں۔
میں ان تمام انسانوں اور مریضوں سے ’جو خبریں دیکھ کر دکھی ہو جاتے ہیں‘ کہتا ہوں کہ وہ ٹی وی دیکھنا بند کر دیں۔ وہ خبریں انہیں نفسیاتی طور پر مفلوج کر رہی ہیں۔ خبریں دیکھ کر وہ بالکل بے بس محسوس کرتے ہیں۔
اگر وہ حالات حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ٹی وی پر خبریں دیکھنے کی بجائے ہفتے میں ایک دفعہ انٹرنیٹ یا اخبار میں خبریں پڑھ لیں کیونکہ پرنٹ میڈیا کا انسانی ذہن پر اثر تصویروں سے کم ہوتا ہے۔
میں اپنا خیال یہ کہہ کر رکھتا ہوں کہ میں ان چیزوں پر اپنی توجہ مرکوز کروں جو میرے بس میں ہیں۔ ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے میں ہر روز اپنے کلینک آتا ہوں اور دس مریضوں کے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے کی کوشش کرتا ہوں
اسی طرح ایک لکھاری ہونے کے ناتے میں ہر ہفتے ایک کالم لکھتا ہوں۔ جنگ کی مذمت کرتا ہوں اور امن کی باتیں کرتا ہوں۔ امید کا دیا جلاتا ہوں۔ میں نہ تو کسی ملک کا صدر ہوں نہ کسی ریاست کا وزیر اعظم اور نہ ہی اقوام متحدہ کا جنرل سیکرٹری اس لیے میں اپنا اثر و رسوخ اپنے وسائل کے مطابق استعمال کرتا ہوں۔
میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح پچھلے چند ہفتوں مین جتنا ساری دنیا کے عوام نے اپنی حکومتوں پر جنگ بندی کا دباؤ ڈالا ہے وہ قابل صد داد و تحسین و ستائش ہے۔
میں نے اس نوجوان سے کہا کہ جنگ کے مسئلے کا ایک پہلو فلسفیانہ ہے جس کا تعلق ساری انسانیت سے ہے اگر اس کی فلسفے میں دلچسپی ہے تو میں اپنا موقف بیاں کروں۔
اس نوجوان کے لہجے میں مثبت تبدیلی آ رہی تھی۔ وہ میری باتوں کو بڑے غور سے سن رہا تھا کہنے لگا ضرور بتائیں۔
میں نے کہا میری نگاہ میں انسانیت اپنے ارتقا کے سفر میں لڑکپن سے گزر رہی ہے۔ میں اپنے موقف کی وضاحت کے لیے پوری انسانیت کا ایک انسان سے تقابل کرنا چاہتا ہوں۔
جیسے دو سال کا بچہ خود کشی نہیں کر سکتا لیکن جب وہ لڑکپن تک پہنچتا تو کسی غصے یا اداسی یا نفرت کے جذبات سے مغلوب ہو کر خودکشی کر سکتا ہے۔ بعض دکھی نوجوان اقدام خودکشی کرتے بھی ہیں لیکن اکثر نوجوان زندگی کو موت پر ترجیع دیتے ہیں اور ایک خوشحال اور کامیاب زندگی گزارتے ہیں۔
بیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے انسانیت لڑکپن تک پہنچ گئی ہے۔
ماضی میں جب تیروں اور بندوقوں سے جنگیں لڑی جاتی تھیں تو چند سو انسان مرتے تھے لیکن بیسویں صدی میں ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم بنانے کے بعد اگر چند ممالک کے سیاسی و مذہبی رہنما چاہیں تو وہ پوری انسانیت کو ملیامیٹ کر کے اجتماعی خود کشی کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔
اکیسویں صدی میں انسانیت ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک راستہ جنگ و جدل و قتل و غارت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ محبت اور پیار اور امن و آشتی کی طرف جاتا ہے۔ اس صدی میں انسان انفرادی و اجتماعی طور پر فیصلہ کریں گے کہ وہ کون سا راستہ اپنائیں گے
میں امن پسند انسان ہوں میری خواہش میری آرزو میرا خواب اور میرا آدرش یہ ہے کہ ساری دنیا کے انسان یہ جان لیں کہ ہمارے دشمن بھی ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں
چاہے وہ فلسطینی بچے ہوں یا اسرائیلی بچے
چاہے وہ پاکستانی بچے ہوں یا ہندوستانی بچے
چاہے وہ امریکی بچے ہوں یا افغانی بچے
وہ سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔
میں نے اس نوجوان کو اپنی کتاب
PROPHETS OF VIOLENCE, PROPHETS OF PEACE
پڑھنے کو دی تا کہ اسے اپنے چند سوالات کے جوابات مل سکیں۔
میں نے اسے کہا کہ ہم سب اپنی صحت اور خوشی کے ذمہ دار ہیں۔ میں نے خوش رہنے کے لیے ایک راز پایا ہے اور اس راز جاننے کی وجہ سے
I LIVE ON A GREEN ISLAND IN THE RED SEA
کہنے لگا کہ میں کتاب پڑھ کر دوبارہ آپ سے ملنے آنا چاہتا ہوں تا کہ اس سبز جزیرے کا راز جان سکوں
میں نے کہا۔ بصد شوق
جب وہ نوجوان مجھ سے گلے مل کر میرا شکریہ ادا کر رہا تھا اس وقت اس کا چہرہ کھل اٹھا تھا اور اس کی اداس آنکھوں میں امید کے دیے جل رہے تھے۔

