اپنے شوہر اور بچوں کو دہشت گردوں سے بچانے والی بی بی روشن
اللہ تعالیٰ نے ماں کی صورت میں عورت کو ایک خاص مقام دے رکھی ہے جو زندگی کے ہر مشکل اور کٹھن مرحلے میں اپنی اولاد کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ وہ اپنی مسکراہٹ سے اولاد کی پریشانی کو دور کرتی ہے اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں ہمیشہ حمایت کا سایہ ہوتی ہے۔ ماں بننے کے ساتھ قربانی کی ذمے داری اپنے کندھوں پر ایسے اٹھاتی کہ ایک فرض کو اتنے خلوص سے ادا کرنے کا کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اللہ رب العزت نے جنت ماں کے قدموں کے نیچے لا کے رکھ دی ہے۔
بیٹی کی صورت میں اپنے گھر کی شاعری ہوتی ہے جو کہ ہر طرف مسکان پھیلاتی ہے۔ وہ گھر کی رونق اور خوشیوں کا سبب بنتی ہے۔ بیٹی کی آمد گھر میں رحمت کی آمد ہوتی ہے اور بیٹی گھر کی خوشبو، محبت اور امیدوں کا سرور ہوتی ہے۔
ماں کے بعد اگر کوئی مشکلات میں ساتھ رہنے والی ہے تو وہ بہن کی صورت میں ہے۔ بہن کی موجودگی ہمیشہ دل کو بہترین طریقے سے چھو لیتی ہے اور ہمیشہ محبت کا حس مہیا کرتی ہے۔
پھر جب عورت بیوی کی صورت میں آتی ہے تو گھر کی بنیادی ستون ہوتی ہے جو محبت، حمایت اور تواضع کے ساتھ خاندان کو مضبوط بناتی ہے۔ اپنے خاندان کے لیے خود سے قربانی دینے کا دل رکھتی ہے۔ اس کی قربانیوں میں ہمیشہ خاندان کی ترقی اور بہترین مستقبل کا خواب چھپا ہوتا ہے۔
اسی طرح گلگت کی ایک خاتون جس نے دہشت گردوں کے گولیوں کے سامنے دیوار بن کر ہم سب کو یہ سبق دی ہے کہ ماں کے پیار کے آگے کوئی بھی چیز معنی نہیں رکھتی۔
دسمبر پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سیاہ ہی رہا ہے۔ 2 دسمبر 2023 کی وہ شام جب ضلع غذر سے راولپنڈی جاتے ہوئے دیامر ہڈور کے مقام پر بھری بس پر بزدل دہشت گرد فائرنگ کرتے ہیں۔ انہی بدقسمت مسافروں میں بہادر خاتون بی بی روشن اپنے خاوند سمیت پانچ سالہ بیٹی اور دو سالہ بیٹے کے ساتھ سوار تھی۔ جوں ہی بس دیامر ہڈور کا مقام پر پہنچتی ہے دہشت گردوں کی طرف سے فائرنگ ہوتی ہے۔ بی بی روشن گولیوں کی بوچھاڑ میں اپنے دونوں بچوں کو سیٹ کے نیچے چھپاتی ہے اور اپنے شوہر کو دھکا دے سیٹ کے پیچھے گرا کر خود منہ کے بل اس کے اوپر ڈھال بنتی ہے۔ بی بی روشن کو تین گولیاں لگتی ہیں۔ اور اس حالت میں جب فائرنگ ختم ہوتی ہے تو شوہر سے کہتی ہے کہ میری فکر نہ کرو بچوں کو کہیں محفوظ مقام تک لے جاؤ۔ بی بی روشن خود گولیاں کھا کر اپنی جان اور جسمانی خطرات کا سامنا کرتی ہوئی اپنی پیاروں کی حفاظت کے لیے اپنی روحانی قدرت کو دکھائی۔
اس لمحے کو سوچے کہ ممتا کے پیار کا وہ لمحہ جس میں وہ ایک دوسرے کو محبت سے دیکھتے ہیں۔ اور اسی لمحے اور محبت کا ثبوت دینے کے لیے ایک ماں گولیاں بدن پر برداشت کر رہی ہے۔ اور سامنے دو ننھے سے پھول یہ دیکھ کر چیخوں اور سسکیوں سے اپنے ممتا کے پیار کا حق ادا کرتے وقت منظر کا دیکھ رہے ہوں گے ۔ اس ماں کو وہ گولیاں اتنی تکلیف نہیں دی ہوں گی جتنی ان بے بس اور لاچار پھولوں کی چیخوں نے اس کو تکلیف دی ہوں گی ۔
اس لمحے کو صرف ایک ماں ہی محسوس کر سکتی ہے۔
اللہ بی بی روشن کو صحت کاملہ عطا فرما کر ان ننھے معصوم بچوں پر اس کا سایہ قائم و دائم فرمائے اور ملک خداداد ان بزدل دہشت گردوں سے پاک کرے۔ امین


