قومیں ناکام کیوں ہوتی ہیں؟
آج اگر ہم اپنی دنیا کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ ہماری دنیا تین طرح کے ممالک میں تقسیم ہے۔ ایک وہ ممالک ہیں جو زندگی کی دوڑ میں بہت آگے نکل گئے ہیں اور ہر طرح سے دنیا کی قیادت کر رہے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جو زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں مگر منزل ابھی دور ہے، یہ ممالک کسی نا کسی لحاظ سے دنیا میں کوئی کردار ادا کر رہے ہیں۔ تیسرے وہ ممالک ہیں جو زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں، کچھ تو ان میں سے ناکام ہوچکے ہیں اور کچھ ناکامی کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔
پہلے گروہ میں امریکا، مغربی یورپ کے ممالک، جاپان، جنوبی کوریا اور چائنہ شامل ہیں۔ دوسرے گروہ میں کچھ ممالک ایشیا سے، کچھ لاطینی امریکہ سے اور کچھ مشرقی یورپ سے شامل ہیں۔ تیسرے گروپ میں تقریباً سارا افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کا بڑا حصہ شامل ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جدید دنیا کی یہ تقسیم صنعتی انقلاب کے بعد کی ہے یعنی صرف تین سو سال پرانی ہے۔ اس تقسیم کو دیکھ کر یہ سوال تو قدرتی طور پر پیدا ہوتا ہے کہ کچھ قومیں آگے کیوں نکل گئیں اور دوسری پیچھے کیوں رہ گئیں۔ بہت سے لوگوں نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے، اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ آج جس کتاب کے تناظر میں ہم اس سوال کا جواب تلاش کریں گے اس کا نام Why Nations Fail؟ ہے جسے جیمز رابنسن اور ڈئیرن اسمگلو نے تصنیف کیا ہے۔ کتاب اس موضوع پر ابھی تک کی سب سے جامع اور معروضی کوشش ہے۔
کتاب کا آغاز امریکہ اور میکسیکو کے تقابلی جائزے سے ہوتا ہے کہ کیسے دو ممالک اتنے قریب ہوتے ہوئے بھی اتنے دور ہیں۔ ایک طرف کے عوام کو صحت، انصاف، تعلیم، ترکی، اظہار کے جو مواقع حاصل ہیں دوسری طرف اس کا تصور بھی مشکل ہے۔ کتاب جنوبی اور شمالی کوریا کی مثال دیتی ہے کہ کیسے ایک طرف زندگی اٹکھیلیاں کر رہی ہے اور دوسری طرف سسک رہی ہے۔ وہ افریقہ جہاں شاید جانور بہتر زندگی گزارتے ہیں وہاں جنوبی افریقہ میں انسانی زندگی پھر بھی ممکن ہے۔
مصنفین کا خیال ہے کہ وہ تھیوریاں جو جغرافیہ، تہذیب و تمدن اور قیادت کی جہالت کو اس فرق کی وجہ سمجھتی ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ اگر جغرافیہ اس فرق کی وجہ ہے تو ساتھ جڑے ہوئے ممالک میں اتنا فرق کیوں ہے۔ اگر جغرافیہ میں کوئی مسئلہ ہے تو جو آج ناکام ہیں وہ کچھ صدیوں پہلے کامیاب کیوں تھے۔ یہی دلیل تہذیب و تمدن کے معاملے میں بھی درست ہے، خاص طور پر مذہب کے معاملے میں۔ اور تیسری دنیا کی قیادت تو بالکل بھی جاہل نہیں ہے بلکہ بہت چالاک ہے۔
اچھا اگر یہ وجوہات نہیں ہیں تو آخر قومیں ناکام کیوں ہوتی ہیں۔ مصنفین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ ادارے ہیں جو اگر ہوں تو قومیں کامیاب ہو جاتی ہیں اور اگر نہ ہوں تو قومیں ناکام ہو جاتی ہیں۔ ان میں سب سے اوپر ایک توانا اور جاندار سیاسی ادارہ ہوتا ہے جس میں طاقت کا مرکز ایک جگہ نہیں ہوتا بلکہ تقسیم ہوتا ہے۔ سب سے اوپر پارلیمان ہوتی ہے جو منتخب اور تمام طبقوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ کوئی قانون لوگوں کی خواہشات کے بغیر نہیں بنتا اور کوئی ایک شخص یا طبقہ یا گروہ اپنی من مانی نہیں کر سکتا۔
حکومت بھی منتخب ہوتی ہے جو پارلیمان اور عدالتوں کو جواب دہ ہوتی ہے، عدالتیں آزادی کے ساتھ قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ جب سیاسی ادارے درست کام کر رہے ہوتے ہیں تو دوسرے ادارے اپنے دائروں میں سب کی ایک جیسی خدمت کر رہے ہوتے ہیں۔ سب کو اظہار کی آزادی ہوتی ہے اور یکساں مواقع ملتے ہیں۔ قومی دولت میں زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوتے ہیں اور استحصال کے امکانات کم سے کم ہوتے ہیں۔ ادارے شخصیتوں کے گرد نہیں گھومتے بلکہ اصولوں اور ضابطوں کے پابند ہوتے ہیں۔
اسکے مقابلے میں وہ ممالک جو ناکام رہ گئے ہیں وہاں آپ کو ادارے نہیں ملیں گے بلکہ اشخاص یا گروہ یا طبقے ہوتے ہیں جو معاملات پر قابض ہوتے ہیں، اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں۔ دولت چند ہاتھوں میں رہ جاتی ہے۔ اداروں کا کام لوٹ مار اور استحصال کرنا ہوتا ہے۔
ویسے تو کتاب دلچسپ واقعات سے بھری پڑی ہے، یہاں صرف دو واقعات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ بین الاقوامی مالی ادارے اپنی سی کوشش کرتے ہوئے ایسے ممالک مرکزی بینکوں کو خودمختار بنواتے ہیں، کم از کم کاغذوں میں۔ اب وہ کتنے خود مختار ہوتے ہیں اس کا اندازہ اس واقع سے لگائیے۔ زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے مرکزی بینک کے صدر کو کوئی ایڈوائس بھیجی جو اس نے خود مختاری کا جواز دے کر رد کردی، اگلی صبح لفٹ میں اس کی لاش ملی۔
اس واقع نے دوسرے افریقی ممالک کے خود مختار مرکزی بینکوں کے صدور کو ایسا سبق سکھایا کے پھر کبھی کسی سربراہ کی ایڈوائس رد نا ہوئی حالانکہ بینک خودمختار ہی رہے۔ دوسرا واقع بھی زمبابوے کا ہی ہے، قومی سطح پر ہزار ڈالر کی لاٹری کا قرعہ نکالا گیا تو وہ بھی رابرٹ موگابے کے نام کا ہی نکلا۔ اسے اندازہ لگائیے کے قومیں ناکام کیوں ہوتی ہیں۔
کتاب یہ بھی بتاتی ہے کہ ادارے جو قوموں کو آگے لے جاتے ہیں وہ ایک دن میں نہیں بنتے بلکہ ان کی تشکیل دہائیوں پر محیط تاریخی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ان اداروں کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں آتی ہیں جو قیادت اور لوگ مل کر ہٹاتے چلے جاتے ہیں۔ وہ یورپ جس پر آج سب فخر کرتے ہیں اس کا ایک ایک ادارہ صدیوں میں بنا ہے۔ برا مت مانیے گا، ہم اور ہمسایہ بھارت اکٹھے آزاد ہوئے مگر وہ کسی بھی بڑے حادثے کے بغیر آگے نکل گیا ہے، اور فرق صرف اور صرف یہ ہے کہ وہاں ادارے ہم سے بہتر بن گئے ہیں۔
کتاب یہ بھی بتاتی ہے کہ قوموں کی زندگیوں میں خوبیوں اور خامیوں کے دائرے ہوتے ہیں جو اداروں کے بننے اور ٹوٹنے کا سبب بنتے ہیں۔ کتاب کا حاصل یہ ہے کہ اگر کسی قوم نے ناکامی سے بچنا ہے تو پھر اسے ادارے بنانے ہوں گے، اور ادارے اپنی تشکیل کے لیے فہم و فراست کے ساتھ قربانیاں مانگتے ہیں۔ کیا ہم وطن عزیز کو ناکام ہونے سے بچا سکتے ہیں، جواب آپ پر چھوڑتے ہیں


