نوید صبح ہیں، سارے جہاں کے بچے ہیں
خالد سہیل
حامد یزدانی
۔
خالد سہیل کا خط
……………..
میرے یار طرحدار حامد یزدانی
آپ سے پچھلے چند خطوط میں کینیڈا کے قوانین اور خاندان کی ذمہ داریوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے میں اپنی غیر روایتی زندگی اور باپ بننے کے تجربے کے بارے میں سوچنے لگا۔ چونکہ اب آپ کی اور ’ہم سب‘ کے قارئین کی دوستی میں بے تکلفی کا عنصر بڑھ رہا ہوں اس لیے اب آپ سے چند ذاتی تجربات شیر کرنا چاہتا ہوں۔
:میرا ایک شعر ہے
وہ جس کسی کی بھی آغوشِ جاں کے بچے ہیں
نویدِ صبح ہیں، سارے جہاں کے بچے ہیں
میری اکلوتی محبت کرنے والی بہن عنبرین کوثر نے ایک شام بڑے پیار سے مجھ سے ایک معصوم سا سوال پوچھا
سہیل بھائی آپ نے بچے کیوں نہیں پیدا کیے؟
میں نے کہا میں ماں یا باپ بننے کی ذمہ داری کو امریکہ کا صدر بننے کی ذمہ داری سے بھی زیادہ اہم سمجھتا ہوں۔ امریکی صدر تو چار یا آٹھ سال بعد وائٹ ہاؤس چھوڑ کر اپنے گھر چلا جاتا ہے اور اس کی صدارت کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے لیکن ماں یا باپ بننے کی ذمہ داری ساری عمر رہتی ہے۔ آپ جانتی ہیں کہ میں ایک شاعر منش درویش ہوں اور بچے پیدا کرنے کی بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر نہیں اٹھا سکتا۔ آپ کے چار بچے ہیں آپ آج کے بعد یہ سمجھیں کہ آپ کے بڑے دو بچے عفیفہ اور عروج آپ کے ہیں اور چھوٹے دو ذیشان اور وردہ میرے ہیں۔
میں نے تو یہ بات مزاح میں کہی تھی لیکن حسن اتفاق دیکھیے کہ ان کے بڑے دونوں بچے ان کے پاس پاکستان رہ گئے اور چھوٹے دو میرے پاس کینیڈا آ گئے۔
دونوں چند برس میرے پاس رہے اور پھر اپنے اپنے گھر چلے گئے۔
ذیشان اب سعودی عرب میں رہتے ہیں جبکہ وردہ بریمٹن میں رہتی ہیں۔
ویسے تو میں ان کا ماموں ہوں لیکن وہ مجھے بچوں کی طرح عزیز ہیں۔
ہمارا رشتہ محبت بھری دوستی کا رشتہ ہے۔
اب میری دو بیٹیاں ہیں
وردہ میری پاکستانی بیٹی ہیں اور ایڈرئینا میری کینیڈین بیٹی ہیں۔
کینیڈین بیٹی کی کہانی بھی دلچسپ ہے آپ بھی سن لیں۔
میری پرانی محبوبہ بے ٹی ڈیوس ’جو اپنی اولاد سے محروم تھیں‘ 1990 میں رومانیہ گئی تھیں اور ایڈرئینا کو اس وقت ایڈاپٹ کر کے لے آئی تھیں جب ان کی عمر صرف بارہ دن تھی۔
میری جب ایڈرئینا سے ملاقات ہوئی تو وہ بارہ برس کی تھیں۔
میں نے جب بے ٹی ڈیوس کو دعوت دی کہ وہ نیو فن لینڈ سے اونٹاریو ہجرت کریں تو میں نے ان کے ساتھ ایڈرئینا کو بھی دعوت دی تھی اور وہ دونوں ٹورانٹو چلی آئی تھیں۔
ایڈرئینا ہم دونوں اور وردہ کے ساتھ کئی برس تک ایک گھر میں رہیں۔
پندرہ برس کی رفاقت کے بعد جب بے ٹی ڈیوس اور میں جدا ہوئے تو میں نے ایک شام ایڈرئینا سے ڈنر کی میز پر کہا
ایڈرئینا آپ کی امی اور میں جدا ہو رہے ہیں اور اپنا گھر بیچ رہے ہیں۔ اب ہم علیحدہ علیحدہ گھروں میں رہیں گے۔ آپ کس کے ساتھ رہنا چاہیں گی؟
ایڈرئینا نے میری طرف دیکھا اور کہا
’آپ کے ساتھ‘
میں نے بے ٹی کی طرف دیکھا تو انہوں نے کہا
’مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ اس کے باپ کی طرح ہیں‘
چنانچہ میں نے ایک تین کمروں کا کونڈومینیم لیا جس میں
ایک کمرہ میرا تھا
ایک کمرہ ایڈرئینا کا تھا
اور ایک کمرہ مہمانوں کے لیے تھا۔
ایڈرئینا میرے ساتھ تین سال رہیں۔ پھر جب کووڈ کی وبا شروع ہوئی تو وہ اپنے بلغاریہ کے بوائے فرینڈ گیورگی کے گھر میں منتقل ہو گئیں۔
بے ٹی سے جب رومانوی رشتہ ختم ہوا تو میرا خیال تھا کہ وردہ اور ایڈرئینا کا رشتہ بھی ختم ہو جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اتنے برسوں کے بعد اب تک وہ ایک دوسرے کی بہنیں بھی ہیں اور سہیلیاں بھی ہیں۔
پچھلے سال جب وردہ کی کار کا ایکسیڈنٹ ہوا تو جن لوگوں نے وردہ کا خاص خیال رکھا ان مین ایڈرئینا بھی شامل تھیں۔
ایک سال بعد اب وردہ صحتمند ہو کر اپنے گھر بھی چلی گئی ہیں اور انہوں نے ایک کار بھی خرید لی ہے۔
پچھلے ہفتے وردہ کا فون آیا کہ وہ ایک شام میرے ساتھ گزارنا چاہتی ہیں تو میں نے انہیں وھٹبی کے گریک ٹائکون ریستوران میں ڈنر کے لیے بلایا۔
یہ پہلی دفعہ تھی کہ وہ خود اپنی کار چلا کر آئیں اور ہم نے مل کر ڈنر کھایا۔
ڈنر کے بعد میں نے وردہ کو ایک وینس کا مجسمہ دکھایا جو اس ریستوران کے کونے میں پڑا تھا۔
میں نے جب وردہ کو بتایا کہ میڈیکل کالج کے طلبا و طالبات کے شعری مقابلے میں جب میں نے پہلی دفعہ اپنی نظم
سرخ دائرہ
پڑھی تھی تو مشاعرے کے ججز نے ’جن میں احمد ندیم قاسمی‘ احمد فراز اور محسن احسان شامل تھے ’مجھے پہلا انعام دیا تھا اور وہ ایک وینس کا مجسمہ تھا۔
وردہ کو جب میرے وینس کے مجسمے کے ساتھ اس خاص تعلق کا پتہ چلا تو انہوں نے اس مجسمے کی تصویر اتاری اور میرے لیے ایک وینس کا مجسمہ آرڈر کر دیا جو وہ مجھے کرسمس کے تحفے کے طور پر دینا چاہتی ہیں۔
میں نے آپ سے یہ واقعات اس لیے شیر کیے ہیں تا کہ آپ کو میری دونوں بیٹیوں سے محبت پیار اور اپنائیت کے تعلق کا اندازہ ہو۔
اب میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کا باپ بننے کا تجربہ کیسا رہا؟
اور وہ تجربہ آپ کی توقعات سے کیسے مختلف تھا؟
آپ کا مداح
خالد سہیل
نومبر 2023
۔ ۔
حامد یزدانی کا جواب
۔ ۔
ڈئر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب
”باپ“ بننے کے تجربے سے متعلق آپ کا خط نظر نواز ہوا۔ آپ نے جس محبت، اپنائیت اور حُسنِ دیانت سے اپنی زندگی کے اس خوب صورت باب کو رقم کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس خط سے مجھے آپ کی شخصیت کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملا۔ وہ بچے یقیناً خوش قسمت ہیں جنھیں آپ کی پدرانہ شفقت اور تربیت حاصل ہوئی۔
”باپ“ بننے کا میرا تجربہ آپ کے تجربے کی طرح منفرد اور انوکھا تو نہیں مگر روایتی ہوتے ہوئے بھی اہم اور بامعنی ضرور ہے۔
جہاں تک اس حیات آفریں تجربے اِور اس کے حوالے سے میرے احساسات کا تعلق ہے تو عرض ہے کہ میں باپ 1992 کے موسمِ بہار میں بنا تھا جب ہمارا بڑا بیٹا زرناب پیدا ہوا۔ ان دنوں میں اور میری بیگم طاہرہ جرمنی کے شہر کولون میں مقیم تھے۔ دراصل اسی شہر میں ہم نے اپنی گھر گرہستی کا آغاز کیا تھا۔ ہماری شادی تو لاہور، پاکستان ہی میں ہوئی تھی مگر ملازمت کے سبب مجھے فوری جرمنی جانا پڑا تھا۔ بہرحال، میں سمجھتا ہوں کہ پہلے شوہر اور پھر والد بننے کا تجربہ میرے لیے زندگی بدل دینے والا تجربہ تھا کیونکہ میں تو لڑکپن سے ایک یارباش اور قدرے آوارہ گرد انسان رہا تھا۔ جس کا گھر لوٹنے کا کوئی متعین وقت نہ تھا۔ رات گئے تک لاہور کے چائے خانوں کی رونقیں دیکھنا، شہر شہر ادبی تقاریب میں شرکت کرنا، دن کو پڑھنا پڑھانا، ریڈیو، ٹی۔ وی، رات کو اخبارات کی ملازمت، چھٹی کے دن ادبی اجلاسوں میں شرکت اور دوست احباب سے لمبی لمبی ملاقاتیں اور باتیں، سٹیج ڈرامے اور فلمیں الگ سے۔
ایسے میں ایک دم سے جرمنی منتقل ہوجانا اور زندگی میں ایک مستقل ساتھی کا آجانا میرے لیے ایک مختلف تجربہ تھا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خوش گوار اور زندگی پرور تجربہ تھا یہ۔ ورنہ ہم۔ کار خواتین و حضرات کی موجودگی اور دل جوئی کے باوجود جرمنی کے شب و روز جلد ہی احساسِ تنہائی کے زیرِ اثر آ جاتے۔ طاہرہ کے ساتھ نے مجھے احساسِ تنہائی کے کرب سے بھی بچایا اور میری توجہ لکھنے پڑھنے کی جانب بھی مبذول رکھی۔ وہیں رہتے ہوئے میں نے اپنا اولین شعری مجموعہ ”ابھی اک خواب رہتا ہے“ ترتیب دیا۔ اور پھر ہماری زندگی میں آیا برخوردار زرناب جس نے زندگی، وقت اور رشتوں کے ضمن میں لاپروائیوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر دیا۔ زندگی کے جوش اور ولولہ کو یک گونا ٹھہراؤ اور سمت مل گئی تھی۔ یوں تو میں ہمیشہ سے اپنے خاندان کی بہتری کو افضلیت دیتا تھا مگر اب گویا ایک ذمہ داری کی صورت سامنے ابھر آئی تھی۔ زرناب کی پرورش کرتے ہوئے اور پھر عمید، اریب اور رابعہ کو پھلتا پھولتا دیکھتے ہوئے میں نے کئی بار پیچھے مُڑ کر دیکھا اور ماضی کے آئنے میں خود کو پہچاننے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ جانے کب میں بالکل بدل چکا تھا۔
ایسا بھی نہیں کہ اس سفر میں مشکلات نہیں آئیں۔ بچوں کی طرف سے ٹین ایج کے دنوں میں مزید آزادی کے لیے مسلسل کوششیں بھی ہوئیں۔ کھانوں کے ضمن میں اپنی پسند و ناپسند پر بحث و مباحثہ بھی کیا۔ ان کی تعلیم کے مراحل آسان نہ تھے۔ خاص کر پاکستان میں مگر یہاں کینیڈا آ کر بھی ان کی تعلیمی سفر پر نظر رکھی۔ جہاں انھیں مشورے کی ضرورت پڑی والدین کے طور پر ہم نے اپنی طرف سے اچھا مشورہ ہی دیا اور ان کی خواہشات کو کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ نہ ان پر کبھی اپنی پسند کے مضامین ٹھونسے اور نہ ہی کوئی غیر حقیقی ہدف مقرر کر کے انھیں کسی اذیت میں مبتلا کیا۔ چناں چہ انھوں نے جو جی چاہا پڑھا۔ جو سپورٹس ٹیم چاہی جائن کی۔ وڈیو گیمز کھیلیں۔ شہروں کی بلکہ ملکوں کی سیر کی اور ہم سے بھی مسلسل رابطہ رکھا۔ یہ بڑی خوش قسمتی ہے ہماری۔ اب شادی کے بندھنوں میں بندھنے کے باوجود ہمیں یاد رکھے ہوئے ہیں۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمارے بچوں میں محبت و احترام، طمانیت اور قناعت پسندی جیسے اوصاف بھی موجود ہیں جو میرے خیال میں میرے والد صاحب قبلہ یزدانی جالندھری کی جانب سے انھیں ودیعت ہوئے ہیں۔ اور پھر ان میں کسی نہ کسی انداز میں تخلیقی عنصر بھی موجود ہے۔ کہیں وہ پینٹنگز کی صورت میں بھی اجاگر ہوتا ہے اور کہیں فوٹو گرافی اور عالمی ادب میں دل چسپی کی شکل میں۔ الحمد للہ۔
ڈاکٹر صاحب،
سچ پوچھیں تو نہ ہم نے بچوں کو بے جا تنگ کیا اور نہ انھوں نے ہمیں۔ حتٰی کہ اپنا جیون ساتھی چننے کے لیے ہمارے مشرقی والدین جو روایتی دباؤ بچوں پر ڈالتے ہیں ہم نے اس سے بھی طبعاً اور ارادتاً اجتناب کیا۔ جس کا نتیجہ باہم اعتماد اور محبت کی صورت ہی میں برآمد ہوا۔ میرا مشاہدہ ہے کہ جو والدین بچوں پر تعلیم اور شادیوں کے لیے اپنی پسند و ناپسند مسلط کرتے ہیں وہ اکثر اپنی اور بچوں کی بے سکونی اور ناکامی کا سامان کرتے ہیں۔
رہی بات میری تخلیقی سرگرمیوں پر باپ بننے کے اثرات کی تو یقیناً معمولات تو متاثر ہوئے مگر دل چسپ بات یہ ہوئی کہ سوچ کی تبدیلی نے شاعری کا رُخ بھی قدرے بدل دیا۔ شاید بچوں کی پرورش اور نگہداشت کے توسط سے میں پھر سے اپنا بچپن جی رہا تھا مگر ان مشکلات اور چیلنجز کو راہ سے ہٹاتے ہوئے جن کا سامنا معاشی مجبوریوں کے باعث میرے بچپن کو کرنا پڑا تھا۔ تاہم توجہ اور محبت کی ’مقدار‘ کو کم نہیں ہونے دیا۔ تعلیم، کیریر اور حتّٰی کہ شادی کے ضمن میں بھی والد صاحب نے مجھے چناؤ کا آزادانہ موقع دیا۔ والدہ صاحبہ، البتہ، بعض تحفظات کا اظہار کرتی تھیں۔ مثلاً یہ کہ مجھے ڈاکٹر بننا چاہیے اور شادی رشتہ داروں میں کرنا چاہیے۔ میں بس ان کی یہ دو باتیں نہ مان سکا۔ اگرچہ بعد ازاں، انھوں نے میرے ان فیصلوں پر خوشی ہی کا اظہار کیا۔ سو، ہم نے بطور والدین بچوں کو اس دباؤ سے آزاد رکھا۔ شاید یہی سبب ہو کہ وہ تعلیم اور پیشہ ورانہ مصروفیات سے خوش ہیں۔ خوب محنت اور ترقی کر رہے ہیں۔
میں بات کر رہا تھا اپنے تخلیقی رُخ میں تبدیلی کی تو یورپ کے سفر و قیام نے ایک تو شاعری کے مضامین کو بدلنے پر مجبور کر دیا اور پھر رجحان بھی نظم کی جانب موڑ دیا اور پھر نظم میں بھی متنوع موضوعات۔ ان موضوعات میں اہلِ خانہ سے تعلق اور محبت بھی سمائی ہوئی تھی۔ مثلاً میرے پہلے شعری مجموعے کے آغاز ہی پر یہ خوشبو محسوس کی جا سکتی ہے جس کا انتساب والد صاحب کے نام ہے۔ دوسرا شعری مجموعہ میں نے امی جان کے نام کیا۔ پنجابی کتاب طاہرہ بیگم کے لیے تھی جبکہ حال ہی میں آپ کے تعاون سے میری اردو نظموں کے انگریزی تراجم کی جو کتاب شائع ہوئی ہے وہ بھی تو میرے بچوں اور پوتوں کے نام ہے۔ دوسرے مجموعہ میں ایک نظم بیٹے ”زرناب کے نام“ ہے۔ اس حوالہ سے شاید لاشعور میں پروفیسر عارف عبدالمتین صاحب کی شاعری رہی ہو جو خاندان کے افراد سے تعلق کی شان دار نمائندگی کرتی ہے۔
آپ نے دیکھا ہی ہو گا کہ خاندان کا موضوع اور خاندان کے افراد سے تعلقات کی نوعیت کی کہانیاں میرے افسانوں میں بھی بکھری ہوئی ہیں۔ گویا میری فیملی میری تخلیقی کائنات سے کٹی ہوئی نہیں ہے۔ وہ اسی آسمان کا حصہ ہے اور جابجا میری زندگی اور سوچ کو جگمگاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب،
میرا مشاہدہ یہ بھی رہا کہ ہمارے چاروں بچے محنتی، دیانت دار اور راست گو ہیں۔ ویسے یہ اوصاف میں نے یہاں پرورش پانے والے اکثر بچوں میں دیکھے ہیں۔ خیر، ہمارے بچے جیسے جیسے بڑے ہوئے انھوں نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کہیں نہ کہیں جُزوقتی کام بھی شروع کر دیے۔ کوئی علی الصبح کسی گرین ہاؤس یا گارڈننگ سینٹر کے لیے بھاگ رہا ہے اور کوئی رات ڈھلے کال سنٹر کے لیے اور کوئی افغان ریستوران میں نان اور کابلی پلاؤ بنا رہا ہے۔ اس طرح انھوں نے سکول کے بعد کالج اور یونی ورسٹی کے تعلیمی اخراجات بھی پورے کیے اور ہم والدین کی بھی دعوتیں کیں۔ ویسے میں نے بھی اپنے تعلیمی اخراجات کے لیے اپنے والدین کو کبھی زحمت نہ دی تھی۔ ٹیوشن، ریڈیو، ٹی وی وغیرہ سے اور پھر تعلیمی سکالرشپ سے سارے خرچے بآسانی پورے ہو جاتے تھے۔ بچوں میں محنت اور لگن دیکھ کر ہمارا دل بہت خوش ہوتا ہے۔
باپ بننے کا تجربہ ہر فرد کے لیے چیلینجز اور خوشیاں دونوں لے کر آتا ہے مگر ایک تخلیق کار کے لیے یہ تجربہ کچھ گہرے اثرات کا حامل ہوتا ہے۔ یہ اثرات مثبت بھی ہوسکتے ہیں اور منفی بھی۔ میرے لیے تو یہ مثبت اور تعمیری اثرات ہی کے حامل ثابت ہوئے جن سے میری سوچ اور اظہار کے زاویوں میں تبدیلی بھی واقع ہوئی اور انھیں وسعت بھی ملی۔
ڈئر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب
یہ چند بکھری بکھری باتیں ہیں جو آپ کے لیے ”جوابِ آں غزل“ کے طور پر درج کردی ہیں۔ شاید آپ کو اچھی لگیں کہ یہ ایک دوست کی زندگی کے ایک خاص گوشے سے متعلق ہیں۔
سدا خوش رہیں۔
دعا گو:
حامد یزدانی
یکم دسمبر 2023
واٹر ڈاؤن، کینیڈا
ٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴٴ


