لاہور کے ہرکشن لال اور ٹورنٹو کے سر ہنری پیلٹ: عروج اور زوال
بات عجیب سی لگتی ہے مگر میرے ساتھ معاملہ کچھ ایسا ہی ہوا۔ مختلف ملک، سینکڑوں ہزاروں کلو میٹر کے فاصلے مگر ایک جیسی کہانیاں سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ دو ہزار سات میں گھومتے کینیڈا کے صوبہ البرٹا کے سیاحت کے مرکز، بالکل پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے حسن والے علاقے صوبہ البرٹا کے بینف میں واقع لوئیس جھیل پہنچے تو لگا چوالیس برس قبل دیکھی جھیل سیف الملوک آ پہنچے۔ بالکل ایک جیسا ناک نقشہ۔ دور چوٹی سے آتا گلیشیر کا راستہ۔ ہاں ہر طرف سبزہ اور جنگل اور نیچے منصوبہ بندی سے بنی عمارتیں اور سیاحوں کے لئے تفریحات اور سہولیات۔ شاید پاکستان میں بھی اب کچھ ایسا ہی چکا ہو۔
دو ہزار بارہ میں اسی البرٹا کے شمال میں جیسپر کے علاقے میں انتہائی خوبصورت، ہر طرف سے اونچے پہاڑوں میں گھری وسیع جھیل میں موٹر بوٹ پہ سیر کرتے لاؤڈ سپیکر پر ایک چھوٹے سے ٹاپو کی طرف توجہ مبذول کراتے اس سر سبز، اونچے پہاڑ کے بالکل دامن میں واقعہ چند کنال کے اس کے اس ٹکڑے کا نام روحوں کا جزیرہ ( سپرٹ آئی لینڈ ) بتاتے گائڈ حرف بحرف وہی کہانی سنا رہا تھا جو جھیل سیف الملوک کے کنارے پتھر پہ بیٹھے بوڑھے گائڈ نے سنائی تھی پریوں کی شہزادی اور دور دراز کا راہ بھٹکا شہزادہ۔ بھر پور چاندنی میں نہائی خنک سہانی رات اور پری شہزادی کا سہیلیوں کے ساتھ جھیل میں غسل دیکھتے عاشق ہوا شہزادہ۔ محبت کی لا زوال داستان اور پہاڑ کے دیو کی رقابت۔ بس سیف الملوک اور پری کو بزرگ جن نے غار میں چھپا دیو کے غضب سے بچا لیا تھا۔ اور وہ ہنسی خوشی شہزادے کے دیس کو چل دیے تھے اور یہاں دیو نے پری شہزادی اور شہزادہ کو قتل کر دیا تھا مگر دونوں جگہ پورے چاند کی رات شہزادہ اور پریوں کی شہزادی کی روحیں دیکھی جاتی ہیں اور محبت کی داستان دوہرائی جاتی ہے۔
پچھلے برس جنوری میں وینکوؤر کے نواحی ڈسٹرکٹ وائٹ راک میں خوبصورت جھیل کے کنارے پڑی کوئی چھ سو ٹن وزنی سفید چٹان کے سامنے اس کی دیومالائی داستان پھر سیف الملوک کی کہانی سنا رہی تھی۔ بس اب کے سمندر کے دیوتا کا بیٹا اس جگہ سے ساٹھ میل مغرب میں واقعہ جزیرے کی شہزادی کو اپنی سہیلیوں سمیت سمندر میں غسل کرتے دیکھ اسے دل دے بیٹھا اور دونوں اسی محبت کی داستان دوہرانے لگے۔ ظالم سماج کو حائل دیکھ دیوتا زادہ نے اس جزیرہ کے ساحل پر ہزاروں سال سے پڑی سفید چٹان کو اٹھا زور سے ہوا میں اچھال اپنی محبوبہ کو بغل میں لئے سمندر میں چھلانگ لگا دی اور ساٹھ میل دور موجودہ جگہ پہ چٹان آ گری اور عین اسی وقت دیوتا زادہ اسی جگہ محبوبہ بغل میں دبائے نمودار ہو گیا۔ اور قریب ہی پہلی رات کے چاند کی شکل والے نزدیکی ساحل پہ یہ جوڑا آباد ہو گیا اور اپنے قبیلے کی بنیاد رکھی۔ یہ آبادی اب بھی اپنے آپ کو اس داستان سے منسوب کرتی ہے اور یقین رکھتی ہے کہ دیوتا زاد اور شہزادی کی روحیں چاند کی چودھویں اسی ہلال کی شکل والے سمندر کے ساحل پہ غسل کرنے آتے ہیں۔
پندرہ برس قبل اپنے محلہ کے سینئرز کے ساتھ ٹورنٹو کے کیسا لوما محل میں کئی گھنٹے گھومتے رہے۔ ٹورنٹو بلکہ پورے علاقے کے سب سے با اثر بیسیوں کاروباروں کو عروج کی انتہا لے جانے والا دربار تک تعلق والا ملکہ کی رائفل رجمنٹ کے اعزازی میجر جنرل، سر کا خطاب پانے والا ہنری پیلٹ نے اپنی محبوب اور خواتین کے ہر فلاحی ادارے کی روح رواں، گرلز سکاؤٹ کی سربراہ بیوی میری پیلٹ کے لئے کینیڈا کی آج تک کی سب سے بڑی رہائشی عمارت بنوانا شروع کی۔ جنگ عظیم کی کساد بازاری اور حاسدین کی ریشہ دوانیوں سے سرمایہ کی قلت کی وجہ سے چھ منزلہ یہ عمارت مکمل نہ ہو سکی اور اوپر والی دو منزلیں صرف ڈھانچے کی صورت آج بھی ویسی ہیں۔ دو ہزار چودہ میں نامکمل گھر میں بمشکل تین چار سال رہے۔ انقلاب زمانہ نے کوڑی کوڑی کا محتاج کر دیا۔ خرچہ سے بچنے ایک چھوٹے سے مکان منتقل ہو گئے۔ صرف چند سوٹ کیس لئے۔ انیس سو چوبیس میں میری پیلٹ صدمے سے اچانک وفات پا گئی۔ محل قرضوں اور ٹیکسوں کی مد میں شہری انتظامیہ کے قبضے میں چلا گیا۔ سر ہنری پیلٹ نے دوبارہ اس طرف رخ ہی نہیں کیا۔ اور آج سیر گاہ بنا یہ محل سو سال سے زائد عرصہ ہو چکا مکینوں سے محروم ہے۔
کیسا لوما محل دیکھتے ایسی ہی کہانی، ایسی ہی قسمت والا اپنے انتہائی بچپن میں اندر سے دیکھا انتہائی اعلی لکڑی کی نقاشی اور شیشہ گری لئے فن کاری اور تعمیر میں یکتا چنیوٹ کا چھ منزلہ عمر حیات محل یاد آ گیا۔ تہتر چوہتر سال قبل اس وقت بطور یتیم خانہ استعمال ہوتے اس گھر کو اندر سے میری والدہ نے دکھایا تھا، چنیوٹ کے روایتی ”کوٹھا، پراہ، چوک“ سے ملتے جلتے نقشے والے اس گھر کے چوک کہلاتے مسقف، آج کل کا فیملی روم کہہ لیں، ہال میں دو قبریں ذہن میں نقش ہیں۔ ( کیسا لوما کی طرح پچاسی چھیاسی سال سے اپنے مکینوں کو ترستا یہ محل آج کل تقریباً کھنڈر ہو چکا۔ اوپر کی دو منزلیں گرائی جا چکیں اور شہر انتظامیہ نے تزئین و آرائش کے نام سے جو کیا وہ بد ذوقی کی انتہا نظر آتی ہے ) ۔ متمول ماں باپ کا بیٹا عمر حیات پنڈی بھٹیاں کی علاقے بھر کی معروف ترین انتہائی خوب صورت رقاصہ اور مغنیہ فاطمہ سے دل ہار والدین کے سختی سے منع کرنے کے باوجود اسے بیاہ لایا تو عاق نامہ مل چکا تھا۔ میاں بیوی نے کلکتہ ڈیرہ لگایا اور عمر حیات اپنی کاروباری صلاحیتوں اور محنت سے جنگ عظیم اوّل کے ختم ہوتے چند برسوں تک انتہائی دولتمند ہو چکا تھا۔ تب اس نے اپنی محبوب بیوی کے لئے چنیوٹ میں ایک شاندار مکان کی بنیاد رکھی۔
قریباً چار لاکھ سے زائد سرمایہ، برما سے آئی لکڑی اور جاپان سے آئے رنگین شیشے اور چنیوٹ کے لکڑی کی نقش گری اور تعمیر کے ماہرین کا یہ ثمر انیس سو پینتیس میں مکمل ہوا مگر قسمت کہ عمر حیات تکمیل سے دو ماہ قبل اچانک اللہ کو پیارا ہو گیا۔ دو سال بعد فاطمہ نے بیٹے کی شادی پوری دھوم دھام سے کی۔ ولیمہ میں پورا شہر مدعو تھا تھا۔ ولیمہ کی شب دلہا غسل خانہ گیا اور چند گھنٹہ بعد لاش بن چکا تھا۔ میری والدہ اور شادی میں شریک بڑی بہن کے مطابق شام کھانے کے بعد کوئی نامعلوم دوست اسے پان پکڑاتے دیکھا گیا تھا جب کہ پولیس تحقیقات نے غسل خانہ میں کوئلہ کی گیس وجہ بیان کی تھی تاہم زہر خورانی کا شک زیادہ قوی خیال کیا جاتا ہے۔ ماں نے بیٹے کی قبر گھر میں ہی بنوائی۔ سب عزیز نوکر چاکر قبر کے سے خوف سے چھوڑتے گئے۔ جلد ہی فاطمہ بھی بیٹے کا غم نہ سہتے اس کے پاس جا پہنچی اور وصیت کے مطابق بیٹے کے ساتھ ہی قبر نشین ہوئی۔ یہ محل پھر آباد نہ ہوسکا اور ٹورنٹو کے کیسا لوما اور ہزار جزار کے باؤلٹ کیسل کی طرح ویران، آباد اور کھنڈر بنتا تزئین ہوتا مکینوں کو آج بھی ترس رہا ہے۔
پانچ برس قبل آٹووا جاتے رستے میں دریائے لارنس کی میلوں چوڑے پاٹ کے علاقے تھاؤزنڈ آئی لینڈز ( یہاں ایک مرلہ سے کم سے لے کئی مربع کلو میٹر تک کوئی ایک ہزار جزائر ہیں ) کی سیر کے لئے چھوٹے تفریحی بجرے میں سوار تھے۔ امریکی اور کینیڈا کی سرحد دریا کے وسط میں ہے۔ دور سے ایک اونچے ٹاورز والی پتھر سے بنی قلعہ نما عمارت نظر پڑی تو گائڈ کے قریب جا پہنچے۔ وہ خوبصورت نظاروں، سبزہ جنگل اور پہاڑوں سے مزین چھوٹے سے جزیرہ پہ بنے اس قلعہ کی کہانی جزیرہ کے گرد بجرے کو گھماتے سنانے لگا۔ پھر وہی درد ناک کہانی۔ عمر حیات محل اور کیسا لوما جیسی۔ ویسے ہی سو برس سے زائد سے مکینوں کے منتظر محل کی کہانی۔
نیو یارک کے ہوٹل والڈروف آسٹوریا کے مالک اور بزنس ٹائیکون جارج سی باؤلٹ نے دریائے لارنس میں اپنے گرمائی فارم ہاؤس والے جزیرے کے نزدیکی جزیرے (اب ہارٹ لینڈ کا نام پا چکا ) میں اپنی محبت اور جان سے پیاری بیوی کے لئے اس کی محبت کے شایان شان ایک ہر سہولت، بجلی گھر، سرنگوں، اٹالین باغات وغیرہ سے مزین وسیع قلعہ نما گھر بنانے کا ارادہ کیا۔ منصوبہ بندی میں کسی چیز کی کمی نہ چھوڑی گئی۔ سن انیس سو میں اس کی تعمیر شروع ہوئی۔ ایک سو بیس کمروں اور کئی تفریحی بلند ٹاورز پہ مبنی اس قلعہ کی تعمیر میں دنیا بھر سے آتے تعمیراتی سامان اور ماہرین تعمیرات کوئی تین سو افراد دن رات مصروف عمل تھے۔ انیس سو چار میں انہونی نے آ لیا۔ ابھی ڈھانچہ ہی بنا تھا کہ انچارج تعمیرات کو شام کو باؤلٹ کی طرف سے ٹیلیگرام ملا کہ تعمیر کا کام فوری روک دیا جائے۔ باؤلٹ کی محبوب بیوی لوئس باؤلٹ جس کے لئے سب کچھ بن رہا تھا اچانک ہی جاں بحق ہو چکی تھی۔ تعمیر وہیں رک چکی تھی۔
باؤلٹ نے زندگی بھر پھر اس طرف آنے کا سوچا بھی نہیں۔ ویران عمارت بغیر دیکھ بھال کوئی پینسٹھ سال برف اور برفانی طوفانوں اور سرد گرم موسموں، آندھیوں اور سیلابوں کے تھپیڑے سہتی ڈاکوؤں لٹیروں کی آماجگاہ رہی۔ انیس سو ستر میں نیویارک کے سرکاری سیاحتی اداروں نے کروڑوں ڈالر خرچ سے اسے مکمل کیا اور اب موسم گرما میں سیاحت اور تقریبات کے لئے کھلتا ہے۔ سردیوں کے مہینوں میں بھی بند رہتا ہے اور ایک سو بیس سال سے مستقل مکینوں کے لئے سسک رہا ہے۔ میں انتہائی اداس ہو چکا تھا اور کیسا لوما سے سینکڑوں اور عمر حیات محل نو دس ہزار کلو میٹر کے فاصلے ان کی ایک جیسی کہانی اور ایک جیسی قسمت دل چیر رہے تھے۔
نومبر کے آخری ہفتہ میں بی بی سی اردو میں شائع لاہور کے لالہ ہر کشن لال کے عروج و زوال کی داستان میرے سامنے تھی۔ جوں جوں میں اسے پڑھتا گیا، یوں لگا جیسے میں سوا صدی قبل کے لاہور بلکہ پنجاب بھر کے سب سے بڑے اور عروج کی آخری چوٹی پر پہنچے لالہ جی کی نہیں اسی دور کے ٹورنٹو سب سے بارسوخ اور قد آور اور کیسا لوما جیسی عمارت کھڑی کرنے والے سر ہنری پیلٹ کی داستان حیات دوہرا رہا ہوں۔ انتہائی تیز رفتار سے امارت اور شہرت کی بلندیوں اور پھر زوال کی طرف لڑھک کوڑی کوڑی کے محتاج ہونے تک دونوں بزنس ٹائیکون کی زندگیوں میں مماثلت حیران کر چکی تھی۔
اٹھارہ سو چونسٹھ میں پیدا ہونے والا کوٹ ادو کے مضافات سے تعلق رکھنے والا ذہین لائق مگر یتیم لالہ ہر کشن لال اٹھارہ سو بیاسی میں ہفتوں پیدل چلتے لاہور پہنچا۔ گورنمنٹ کالج میں وظیفہ پر داخل ہوا۔ بی اے میں پنجاب بھر میں دوم آ کے سرکاری وظیفہ پر کیمبرج میں تین سال گزارے واپس آیا۔ مختصر ملازمت کالج کی اور چند سال پہلے ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر لاہور میں وکالت کرتے کا روبا میں داخل ہوا۔ اٹھارہ سو پچانوے میں پنجاب نیشنل بنک، اگلے سال بھارت انشورنس کمپنی کی بنیاد رکھ، اخبار دی ٹریبیون کا ٹرسٹی ہو چکا لالہ ہرکشن انیس سو چھ تک کاروباری دنیا اور سماجی، حکومتی ایوانوں میں ہر شعبہ میں نام بنا چکا تھا۔ ایک سے بڑھ ایک کاروباری ادارہ بینکنگ، کاٹن پریسنگ، فلور ملز، صابن سازی، اینٹوں کے بھٹے، برف خانے، لانڈری قسم کے کاروبار قائم کر چکا تھا۔
انیس سو بارہ میں شاہدرہ کے مقام پر بنا بجلی گھر لاہور کے سرکاری اداروں اور گھروں کو روشن کرنا شروع ہو گیا تھا۔ شہرت اور سماجی حیثیت یوں تھی کے گورنر کے ساتھ ایک ہی ہاتھی پہ سوار نمائش کا افتتاح کیا۔ لاہور کی سب سے قیمتی دو کاروں میں سے ایک اس کی تھی۔ گورنر کے زیر استعمال اونٹ گاڑی جیسی گاڑی بھی تھی اور چار گھوڑوں سے چلتی فٹن یعنی بگھی بھی۔ اس کی شیریں بیانی اور انداز گفتگو وائسرائے کو اور قمیض پہ لگے ہیرے کے بٹن وائسرائن کو متاثر کرنے کے لئے کافی تھے اور حاسدوں کے سینوں کی جلن کے لئے بھی۔ ان کے خلاف ریشہ دوانیوں کی ابتدا انیس سو تیرہ میں امرت بازار پتریکا اخبار کی ان کے بنک کے خلاف کھاتے داروں میں اضطراب پیدا کرنے سے شروع ہوئی۔ لیفٹیننٹ گورنر مائیکل ایڈوائر کے ذاتی بیر اور پرخاش کا نتیجہ انیس سو پندرہ کے مارشل لاء میں گرفتاری اور جلاوطنی کے احکام سے سامنے آیا۔
چار سال بعد اس آزمائش سے نجات پاتے وزیر زراعت و صنعت پنجاب کا منصب سنبھالا۔ اس وقت کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ، بڑی کاروباری کمپنیوں کے چیئر مین شپ رکھنے والے لالہ کا اصل زوال انیس سو اکتیس کی کساد بازاری میں شروع ہوا۔ بھاری کاروباری نقصان ہو گئے۔ قرض خواہوں کے مطالبات ناقابل برداشت ہو گئے۔ ان کے دوست، محسن اور مثبت رویہ رکھنے والے سر شادی لال کی جگہ ان کے شدید مخالف سر ڈگلس ینگ چیف جسٹس پنجاب بن گئے۔ یہ مخالفت لالہ جی کے خلاف قانونی چارہ جوئی، توہین عدالت، دیوالیہ پن اور باقی داری، قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی وغیرہ کے مجرم ٹھہرائے جانے پہ منتج ہوئی۔ جلد ہی سب ثروت و دولت چھن گئی اور سب سے بڑا سرمایہ دار، کفایت شعار مگر دعوتوں، تقریبات پہ شاہانہ خرچ کرنے والا ہر کشن لال کوڑی کوڑی کا محتاج ہو موجودہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج والی جگہ پہ لاہور میں ٹورنٹو کے کیسا لوما جیسی شہرت والی کوٹھی کے بھکاریوں کی پینٹنگز سے بھرے ایک کمرے میں عزلت نشین ہو گیا۔ اور ”ہر آدمی ایک بھکاری ہے“ کا ماٹو دے چکا تھا۔ اور تیرہ فروری انیس سو سینتیس کو دار فانی سے کوچ کر چکا تھا۔ لاہور یوں کے لئے اس کی بس یادیں، کوٹھی، مال روڈ کی کمرشل بلڈنگز اور بجلی گھر آج بھی دلاتے ہیں۔
لالہ ہرکشن لا گابا ہی کی طرح کا قسمت کا دھنی، ( اور لالہ کی طرح قسمت کے ہاتھوں ڈوبا بھی ) ہر فن مولا، ایتھلیٹ، فوج میں جانے کا شوقین، فن کا اعلی قدردان، انتہائی ذہین، محنتی ”ہو سکے تو سب سے آگے“ کے خاندانی ماٹو کو سچا کر دکھانے والا ہنری پیلٹ برطانوی والدین کے ہاں، لالہ جی سے پانچ برس قبل اٹھارہ سو انسٹھ میں پیدا ہوا۔ سترہ سال کی عمر میں کالج چھوڑ باپ کے کاروبار میں شامل ہونے والا ہنری پیلٹ، تئیس برس کی عمر تک پہنچتا باپ کی اکثر بڑی کمپنیوں میں حصہ دار بن چکا تھا، اور اپنی پہلی محبت میری ڈاجسن کے ساتھ شادی کر چکا تھا۔ بیس سال کی عمر میں ایک میل کی دوڑ میں ملک بھر میں اپنی کیٹیگری میں دوم رہا۔ یورپی دوروں میں وہاں کے گاتھک طرز تعمیر اور فن پاروں کا شوق چڑھا جو انیس سو پانچ میں کیسا لوما محل کی بنیاد کا محرک بنا۔ فوجی بننے کا جنون ”کوئینز رائفلز“ رجمنٹ میں بھرتی ہو کیپٹن سے بڑھتے بڑھتے اعزازی میجر جنرل کے ستارے وردی پہ سجوا گیا، گو عملی طور سوائے ایک آدھ کسی معرکے میں شامل نہ ہونا پڑا۔ اٹھارہ سو نوے تک ممبر سٹاک ایکسچینج، کاروبار حصص، مارگیج، قرضہ جات، گورنمنٹ سٹاک اور پراپرٹی کے بزنس اسے دولت کے انبار مہیا کر چکے تھا۔ اور دو سال بعد باپ کے ریٹائر ہونے کے بعد کان کنی، ٹائر، بڑے زرعی فارم، کے ساتھ بیوی کے ساتھ خیراتی کاموں اور اداروں میں بڑھ کر حصہ لینے اور میری پیلٹ کو اس شعبہ میں سب سے آگے لے جا چکا تھا۔
ملکہ وکٹوریہ کی سلور جوبلی تقریبات میں شریک وفد کا ممبر تھا اور ملکہ سے نائٹ ہُڈ ( سر) کا خطاب مل چکا تھا۔ دولت کے بل ہر سیڑھی پھلانگتا لارڈ آف ٹورنٹو کے نام سے یاد کیا جاتا۔ انیس سو سات تک اکیس کمپنیوں کا چیئر مین بن چکا تھا جن میں اب انشورنس، بنک، بحری جہاز سازی، سٹیل، ریلوے انجن ریڈی ایٹر، بجلی، تعمیرات، کیمیکل، آئرن، تعمیرات سے متعلقہ کمپنیاں شام ہو گئی تھیں۔ انیس سو چھ سات میں نیاگرا میں پن بجلی بنانے کے منصوبے پہ کام شروع ہوا جو انیس سو بارہ تک ٹورنٹو اور گرد و نواح کو روشن کرنے لگا ( لالہ ہرکشن لال کا شاہدرہ بجلی گھر بننے کا بھی زمانہ ) کیسا لوما محل کی تعمیر زوروں پہ تھی۔ اور زیر تعمیر محل کے گیسٹ ہاؤس میں رہائش رکھی جا چکی تھی۔ دشمنوں اور حاسدوں کی جلن معراج تک پہنچی ہوئی تھی۔ سب سے پہلے ( لالہ کی طرح ) بجلی گھر کے خلاف پروپیگنڈا جنگ شروع ہونے تک شروع ہو مقدمات بنائے جا چکے تھے۔
جنگ عظیم اول شروع ہوتے ہی جنگ کی کساد بازاری رنگ دکھانے لگی۔ کچھ کاروبار ٹھپ ہونے لگے، کچھ میں بھاری نقصان۔ بلڈنگ میٹیریل بہت نایاب اور مہنگا ہو گیا۔ کیسا لوما محل کی تعمیر اوپر کی دو منزلوں کو صرف ڈھانچہ کی شکل چھوڑنا پڑی اور منتقل ہو گئے۔ تین سال بعد ٹیکسوں میں اضافہ کے ساتھ بنکوں اور قرض خواہوں کے مطالبات نے ناقابل برداشت بوجھ لاد دیا۔ تمام قیمتی آرائشی سامان بیچنے کے باوجود ٹیکسوں اور قرضوں کے بڑھتے بوجھ کے باعث انیس سو تئیس میں یہ خاندان ٹورنٹو کے شمال میں اپنے فارم ہاؤس میں منتقل ہو گیا۔ میری پیلٹ دکھ برداشت نہ کرتے اگلے سال اگلے جہان سدھار گئی۔ محل کو شہری انتظامیہ کے حوالے کیا گیا اور وہاں سامان کا نیلام لاکھوں کی اشیاء کوڑیوں کے دام بکتے عبرت اور نیرنگی زمانہ کی دکھ بھری کہانی بن گیا۔ پچھتر ہزار ڈالر کا خریدا میوزک آرگن چالیس ڈالر اور دس ہزار کا قالین چند ڈالر میں گیا۔ و علی ہذا القیاس۔
سر ہنری پیلٹ عزلت نشین ہو چکے تھے۔ محل کی طرف دوبارہ گزرے بھی نہیں۔ البتہ انیس سو انتالیس میں جب سر ہنری کا انتقال ہوا۔ ( لالہ ہرکشن لال کے دو سال بعد ) تو ٹورنٹو بھر کے لوگ ان کا جنازہ دیکھنے اور شہر کے لئے ان کی خد مات کو خراج عقیدت پیش کرنے سڑکوں کے دونوں طرف کھڑے پھول نچھاور کر رہے تھے۔
یہ مشابہتیں، اپنے دیکھے ایک جیسے واقعات، ایک جیسی کہانیاں تنہا بیٹھے اکثر زمانے کے رنگوں پہ سوچنے پہ مجبور کر دیتی ہیں۔
کیا وقت اپنی کہانیاں دہراتا ہے۔ کیا یہ قرۂ العین حیدر کے فلسفہ کے وقت قائم ہے اور کہانیاں، واقعات اپنے آپ کو زمانے کے ماحول میں ڈھلتے کو دہراتے رہتے ہیں۔ رات کو جوبن پہ کھڑے باغات صبح چورا چورا ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ دنیا یہی دنیا ہے


