اپنوں کے ہاتھوں بے توقیر سائنسداں ڈاکٹر عبدالسلام (حصہ دوم)
ڈاکٹر عبدالسلام کی دوسری محبت مسلمان تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ مشرق کے مسلمان معاشرے بہترین تعلیم سے بہرہ مند ہو کر مغرب کے مقابلے میں آجائیں۔ ان کا ماننا تھا مسلمان سائنسی ترقی کی دوڑ سے صدیوں قبل دست بردار ہو چکے ہیں اور وہ اس بات پر دُکھی تھے کہ بہت سے دیگر مسلمان ممالک کی طرح پاکستان بھی شرح خواندگی کے اعتبار سے بہت کم درجے پر ہے۔ سلام مسلمانوں کے شاندار تعلیمی ورثے پر فخر کرتے تھے۔ وہ اکثر مسلمانوں کے اس سنہری دور کو یاد کرتے جب مسلمان سائنسدان طب، فلسفے اور سائنس میں دنیا بھر کے لیے رہنمائی کے مینار تھے۔ سلام اس وقت شدید یاسیت کا شکار ہو گئے جب روایتی مسلمانوں اور تنگ نظر حکومتوں نے نہ صرف ان کو نظر انداز کیا بلکہ ان پر مقدمہ چلانے اور سزا دلوانے کی کوشش کی۔
انھوں نے ایک دفعہ پچاس سے اوپر ممالک کے مسلمان علماء کو ایک خط لکھا جس میں یہ مشورہ دیا کہ وہ اپنے جمعے کے خطبے میں قرآن کی ان سینکڑوں آیات کا ذکر کریں جو انسانوں کو زندگی اور کائنات کے راز ہائے سر بستہ پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ بد قسمتی سے اس رائے کو کسی عالمِ دین نے در خور اعتناء نہیں جانا۔ ان کو جواب میں فقط ایک خط موصول ہوا۔ اس خط میں بھی مولانا نے اعتراف کیا کہ ان کی کوشش بسیار اور گہری تحقیق کے باوجود قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ملی۔ سلام ایک دفعہ پھر دل شکستہ ہو گئے۔ مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانی ہم وطنوں کی جانب سے بار بار مسترد کیے جانے کے باوجود وہ دونوں کے ساتھ آخری سانس تک وفادار رہے۔ بہت سے دیگر ممالک ان کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے تھے کئی ممالک نے ان کو شہریت کی پیشکش بھی کی مگر انھوں نے ایسی تمام ترغیبات سے معذرت کر لی۔ ایسی ہی ایک مثال بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کی ہے۔ جنھوں نے سلام کو ہندوستانی شہریت کی پیشکش کی تھی۔ نہرو سری نگر میں عبدالسلام یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرنے کے لیے بھی تیار تھے مگر سلام نے انکار کر دیا۔ نہرو کو احساس نہیں تھا کہ اگرچہ عبدالسلام کی پیدائش 1926 ء کی متحدہ ہندوستان کی تھی اس وقت تک پاکستان ابھی نقشے پر نمودار نہیں ہوا تھا مگر ایک مسلمان ہونے کے ناتے وہ اپنے آپ کو ہندوستان کی بجائے پاکستان کو اپنا وطن سمجھتے تھے۔
زندگی کے ایک اہم موڑ پر ان کے جگری دوست ظفر اللہ خان نے ان کو صلاح دی کہ وہ برطانوی شہریت قبول کر لیں کیونکہ وہ ایک عرصہ انگلستان میں رہے تھے، وہاں کام کیا تھا اور تدریس کی تھی، لیکن سلام نے انکار کر دیا۔ کچھ برس بعد اٹلی کی حکومت نے ان کو اعزازی شہریت پیش کی مگر سلام نے اس سے بھی معذرت کر لی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انھوں نے ہندوستان، برطانیہ اور اٹلی کی شہریت کیوں قبول نہ کی جبکہ ان ممالک میں بالترتیب: پیدا ہوئے (ہندوستان) اپنا تحقیقی کام کیا (برطانیہ) اور اپنا بین الاقوامی نظریاتی طبیعات کا مرکز قائم کیا (اٹلی) تو عبدالسلام نے اعتراف کیا کہ وہ اپنا نوبل انعام پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک سے منسوب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اور پاکستان وہ ملک تھا جس نے عبدالسلام کو نہ کبھی اپنا جانا اور نہ ہی کبھی ’خوش آمدید‘ کہا بلکہ اس کے برعکس خدا اور مذہب کے نام پر عبدالسلام کو قتل کرنا چاہا۔ سلام کو یہ محسوس کر کے دُکھ ہوتا تھا کہ ان کے روایتی قدامت پسند اور بنیاد پرست ہم وطن ان کی علمی کاوشوں کو نہیں سراہتے تھے۔ عبدالسلام اپنی ڈھارس بندھانے کے لیے اپنے آپ کو سر سید احمد خان سے منسوب کرتے جنہوں نے ساری زندگی ہندوستانی مسلمانوں کو علم کی دولت سے بہرہ مند کرنے کے لیے کوششیں کی تھیں۔ ایک تقریر میں عبدالسلام نے فرمایا: ”جب سرسید احمد خان نے علی گڑھ میں ایک تعلیمی ادارہ کھولنے کا ارادہ کیا تو ان کو اپنی ہی ملت کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حتی کہ سر سید کو کافر تک کہا گیا ان کو اس لیے ملحد بھی کہا گیا کہ وہ مسلمان طلباء کے لیے سیکولر (غیر مذہبی) سائنسی تعلیم کا فروغ چاہتے تھے۔“ سلام کا خیال تھا کہ وہ سر سید کے نقشِ قدم پر چل رہے تھے۔ ”
جب ہم ایشیائی مسلمانوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ نہ صرف سر سید احمد خان بلکہ علامہ محمد اقبال، سعادت حسن منٹو، فیض احمد فیض اور بہت سے دیگر مسلمان شعراء، ادباء اور دانشوران پر کفر کے فتوے ٰ لگائے گئے، مقدمے چلے اور ان کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ وہ بھی سلام کی طرح کے ایسے نابغے تھے جن کو اپنے دیسوں ہی نے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ بہت سے پاکستانی مسلمان نہیں جانتے کہ کینیڈا اور یورپ میں سلام کے نام کی سڑکیں موجود ہیں۔ جب ہم دنیا بھر کے مسلمانوں کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں پر محیط اکثر مسلمان دانشور جن سے سلام متاثر تھے اور اپنے آپ کو جن سے منسوب کرتے تھے ان میں سب کے ساتھ ان کے ہم وطنوں نے اچھا برتاؤ نہیں کیا تھا۔ وفات کے بعد اگرچہ وہ شہداء کہلائے مگر زندگی میں ان پر مقدمات چلا کر سزائیں دی گئیں۔ پاکستان کی معتبر دانشور ادیب اور شاعرہ زاہدہ حنا نے سلام کی سترہویں ( 70 ) سالگرہ پر تقریر کرتے ہوئے ”مسلمان صوفیاء اور دانشور اپنے وقت کے لوگوں کے ہاتھوں کیسے رسوا ہوتے رہے؟“ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
”ابن تیمیہ کی کتابیں جلا دی گئیں اور ابن رشد کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ جب کبھی ابنِ رشد کی تخلیقی حس بیدار ہوتی اور ان کا من لکھنے کا کرتا تو وہ اپنی انگلیوں کے ناخنوں سے جیل کی دیواروں پر لکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ منصور حلاج جیسے کتنے صوفیوں کو پھانسی کے گھاٹ اتارا گیا ان کا جُرم یہ تھا کہ انھوں نے بنیاد پرست روایات کے ماحول میں اپنا سچ بولا اور مسلمانوں کی بنیاد پر، سوچ پر سوالات اُٹھائے۔“
ایک سائنسدان کا دماغ رکھنے کے ساتھ عبدالسلام ایک شاعر کا دل بھی رکھتے تھے ان کو اُردو اور فارسی کے مشہور شعراء کے سینکڑوں شعر زبانی یاد تھے۔ ان کو زندگی کے حسن سے پیار تھا اور جمالیات کے لیے خصوصی اُنسیت رکھتے تھے۔ ایک فن کار کی حساسیت رکھنے والا سائنسدان ہی یہ لکھ سکتا ہے : ”جب میرے سامنے ایک بات کو ثابت کرنے کے لیے دو مختلف نظریات آئے تو ہمیشہ ایسا ہُوا کہ جو نظریہ جمالیاتی لحاظ سے مطمئن کرنے والا تھا وہی درست بھی نکلا“ سلام نے زندگی اور سائنس کی بہت سی روایات اور مستعملات کو توڑا اس لیے جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ ان کے پسندیدہ انگریزی ادیب آسکر وائلڈ تھے تو قطعی حیرانی نہ ہوئی۔ وائلڈ نے بھی سلام کی طرح ایک پُر آشوب زندگی گزاری تھی۔ سلام کی زندگی کی نمو ایک صوفی کے طور پر ہوئی تھی۔ ان کے ہاں ولیوں جیسی سخاوت تھی۔ ان کی زندگی ضرورت مندوں اور غرباء کی امداد کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال نوبل انعام کا ملنا تھا۔ جس کی ساری رقم انھوں نے غریب طلباء میں تقسیم کر دی۔ سلام دل ہی دل میں ایک سوشلسٹ بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا: ”اس سے زیادہ حوصلہ شکن کوئی اور بات نہیں کہ معاشرے میں معاشی نا انصافی موجود ہو۔“ ان کی تمام عمر سماجی تعصبات، نا انصافی اور غربت کے خلاف جنگ کرتے ہوئے گزری۔ ”
1996 ء میں جب ان کے دوست، رشتے دار، طلباء اور پیروکار، پاکستان میں ان کی سترہویں سالگرہ منا رہے تھے تو سلام نے خط کی صورت میں ان افراد کے لیے ایک پیغام بھجوایا۔ ان کو معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کا پاکستانیوں کے نام آخری پیغام ہو گا۔ اس خط میں انھوں نے لکھا: ”میں اپنے آبائی وطن کے لیے اُداس ہوں اور اپنے کنبے اور دوستوں سے ملنے کے لیے بے چین ہوں میں آج آپ لوگوں کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتا مگر جان رکھیے کہ آپ میرے دل میں ہیں۔ آج کے دن میں صرف آپ لوگوں کے بارے میں سوچوں گا۔ میں آخری خیال اور گزارش چھوڑے جا رہا ہوں آپ سب لوگ مل کر پاکستان کو ایک بہترین ملک بنانے کے لیے جد و جہد شروع کر دو۔“
اگر سلام کا پاکستان کے بارے میں خواب شرمندہ تعبیر ہو جاتا تو غریب کے لیے بہتر تعلیم، اقلیتوں کے لیے جذبہِ برداشت اور انسانی حقوق کا زیادہ احترام ہوتا۔ سلام کی زندگی کا آخری المیہ ان کی تجہیز و تکفین سے قبل پاکستان میں رُونما ہوا جب حکومتِ پاکستان نے ان کو وہ اعزاز و احتشام دینے سے رُو گردانی کی جو ان کا استحقاق تھا۔ احسان مسعود نے لکھا: ”ان کے جنازے پر حکومت کا کوئی نمائندہ موجود نہ تھا۔”
سلام کی کہانی المیوں کی داستان ہے وہ ایک محب وطن سائنس داں تھا جو پاکستان کی محبت میں مبتلا تھا مگر شاید اس کو احساس نہیں تھا کہ پاکستان ایک ایسا ملک تھا جہاں مذہب کو سائنس پر فوقیت حاصل ہے، جہاں اندھے عقیدے کا عقلی دلیل سے زیادہ پرچار ہے، جہاں جنرل سیاستدانوں سے زیادہ طاقت ور ہیں اور جہاں جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم جلا وطن یا پھر پھانسی پر لٹکا دیے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسے مومن کی کہانی ہے جو مسلمانوں سے بے پناہ محبت کرتا تھا۔ مگر یہ بھُول گیا کہ مسلمان ایک جذباتی قوم ہے۔ جو اپنے ہیرو کے ساتھ جس قدر پیار کرتے ہیں اس سے دگنے جذبے کے ساتھ نفرت بھی کر سکتے ہیں۔ جب یہ لوگ اپنے زعماء کی توصیف و تکریم کرتے ہیں تو ان کے نام کے ساتھ ”شہید“ لکھتے ہیں، ”رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں اور اپنے شہروں کے چاروں کونوں میں زندگی سے اونچے مجسمے نصب کرتے ہیں۔ مگر جب وہ ان کو حقیر جان کر مسترد کرتے ہیں تو کمینگی کی بھی انتہا کر دیتے ہیں۔ اس جذبے کے زیر اثر وہ ان کو رذیل، قابل تعزیر اور کافر تک کہہ جاتے ہیں۔ اس کے باوجود کے وہ اپنے آپ کو امن کے مذہب کا پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ایک ایسی تاریخ بھی رکھتے ہیں جس کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے کئی اہل علم، صوفیوں اور دانشوروں کو پھانسی چڑھا دیا تھا اور اپنے ہی خلفائے راشدین کو اور پیغمبر اسلام کے خاندان کو بے رحمی سے قتل کر دیا تھا۔ عبدالسلام کو اپنے وطن اور مسلمانوں کی محبت کی بھاری قیمت چُکانی پڑی۔ اس میں سزا زیادہ اور جزا کم تھی۔ انھوں نے اپنی جوانی کا زیادہ حصہ جلا وطنی میں گزارا۔ وہ اپنے گھر اور وطن کو لوٹنے کے حوالے سے زیادہ خوف زدہ تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں جو عقلمند لوگ کہتے ہیں کہ“ محبت اندھی ہوتی ہے۔ ”(ختم شد)
بحوالہ و شکریہ :
Book: Creative Minority, DREAMS AND DILEMMAS (Second Edition) ,
Author: Khalid Sohail MBBS, FRCP (C) , Publisher: Green Zone Publishing, Whitby, ON, Canada 2022.


