تحقیقی مضمون نگاری: مبادیات و رسمیات


2016 کی بات ہے جب اس ادارہ میں ایم فل کے مقالہ کے مواد کے سلسلے میں جانا ہوا۔ میں نے بی۔ اے اور ایم اے پنجاب یونی ورسٹی سے کیا ہے۔ یہ دونوں امتحانات نجی حیثیت سے پاس کیے ہیں۔ ایم اے (اردو) کے بعد تدریس کے شعبہ کو مستقل اختیار کر لیا۔ اوائل میں اردو ادبیات کے استاد ہونے کی خوشی اپنی جگہ تھی۔ تاہم اس مضمون کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھی۔ ملازمت کے انتہائی معقول مواقع بھی دستیاب نہ ہونے کے پیش نظر اپنے علاقہ کو خیرباد کہا۔

آنکھوں میں ڈھیروں خواب لیے مضطرب و سرگرداں شہر لاہور وارد ہوئے۔ لاہور شہر کو کالجز کا شہر کہا جاتا ہے۔ پاکستان بھر سے طالب علم یہاں تعلیم و روزگار کے حصول کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ بہت کم واپس لوٹتے ہیں۔ اکثر و بیشتر یہی رہ جاتے ہیں بلکہ اسی شہر کی دھول میں گم ہو جاتے ہیں۔ عملی زندگی میں قدم رکھا۔ دو، چار نجی تعلیمی اداروں میں ڈیمو دیے۔ کہیں بات نہ بنی۔ خواری و شرمساری ایک طرف۔ اپنے تئیں منہ میاں مٹھو اردو ادبیات کے اس استاد کو جس سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے مجھ کندہ ناتراش کو خودکلامی پر مہمیز کیا کہ یار! اب تو بھی ایم فل کر ہی لے۔ لاہور میں گلی محلے کے سکول میں بھی ایم فل اساتذہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایم فل کے لیے مالی استعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ ان دنوں کھانا پینا اور روٹی کپڑا پورا ہو جائے تو بڑی بات تھی۔ ایم فل کا خلجان بھوت بن کر ایسا سوار ہو گیا۔ ناردرن یونی ورسٹی نوشہرہ میں ایم فل کا داخلہ لینے سے اس آسیبی کیفیت سے نجات ملی۔ سرکاری جامعات میں جان پہچان ہو تو داخلہ کے حصول میں آسانی ہو جاتی ہے۔ سنا ہے۔ ان جامعات میں اپنی نگہبانی سے تراشے ہوئے نونہالوں کو مزید تعلیم و آگہی کے لیے ترجیحاً فوقیت دی جاتی ہے۔ یہ ایک عوامی تاثر تھا۔ تجربے سے گزارا تو جیسے مہر لگ گئی۔ جیسے تیسے ایم فل کا کورس ورک مکمل کیا۔ مقالہ کی تدوین کا معاملہ اتنا آسان نہ تھا۔ موضوع بھی لسانیات کا لے لیا۔ جس پر کتب بہت کم اور مشکلات پاؤں پاؤں راستہ کاٹتی ہیں۔ لاہور کی جملہ سرکاری و نجی جامعات کے شعبہ ادبیات سے متصل لائبریریوں میں مقالہ کے مواد کے حصول کے سلسلے میں جانے کا اتفاق ہوا۔

ان جامعات میں ایک ہی نوع کے روئیے کا سامنا کرنا پڑا۔ سبھی نے کہا :یونی ورسٹی سے اجازت نامہ لکھوا کر لاؤ۔ پھر ہم آپ کو لائبریری تک رسائی دیں گے۔ یونی ورسٹی سے رابطہ کیا۔ انھوں نے کہا۔ یہ محقق کی ذمہ داری ہے۔ وہ اپنے موضوع سے متعلقہ مواد کے حصول میں اپنے تئیں کیا کچھ کر سکتا ہے۔ ہر طرف سے یاسیت اور نا امیدی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ایک دن حوصلہ کر کے اورینٹل کالج چلا گیا۔ گارڈ نے اندر جانے سے روکا۔ مشکل سے جان پہچان کروا کے اندر داخل ہوا۔

پہلے جو کمرا دکھائی دیا وہیں گھس گیا۔ ایک صاحب کتاب لیے بیٹھے تھے۔ ان سے سلام کا تبادلہ کیا۔ انھوں نے پوچھا! فرمائیے! کیسے آنا ہو؟ میں نے عرض کیا :شاعر ہوں۔ سنا ہے، آپ بہت عمدہ شاعری کرتے ہیں۔ نیز اس ادارہ میں شعر و سخن کی محفل جماتے ہیں۔ اتفاقاً ادھر سے گزر ہوا۔ خیال آیا۔ آپ سے مل لیا جائے۔ اس لیے چلا آیا۔ انھوں نے کہا: تشریف رکھئیے۔ چائے لیں گے یا کافی! ہم نے کہا:بس! پانی پلا دیں۔ سو، اس طرح ان میجر صاحب سے گفتگو کا سلسلہ طول پکڑ گیا۔

ہم نے مناسب موقع دیکھ کر التماس کیا کہ ہمیں لائبریری میں جانا ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو تھوڑا وقت لائبریری میں گزارنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے بخوشی ہماری خواہش کو سراہا۔ ہمارے ساتھ لائبریری تشریف لے گئے۔ دل کی مراد پوری ہوئی۔ ہم وہاں جم کر بیٹھے اور اپنے موضوع سے متعلقہ مواد جس قدر مل سکا۔ اس کے عکسی نقول کمرے کی آنکھ میں محفوظ کیے۔ مقصد کے حصول کے بعد کون کسے جانتا ہے۔ خاموشی سے یہ گئے، وہ گئے ہوئے۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے اس ادارہ کے بیرون اور اندرون کے ماحول کے تفاوت کو مجھ پر اس انداز سے ظاہر کیا کہ حقیقت اور افسانہ میں حد فاصل کا ایک مستقل بعد گراں حائل ہو گیا۔

تب سے اب تک وقت سبک روی سے خوب سے خوب تر کی تلاش میں گزر گیا۔ خوشی قسمتی سے 2018 میں لیکچرر منتخب ہوئے۔ سیالکوٹ چلے گئے۔ 2021 ٹرانسفر ہو کر لاہور آ گئے۔ امسال 12 دسمبر 2023 کو ایک بار پھر اسی ادارہ میں تحقیقی مضمون نگاری:مبادیات و رسمیات کی ورکشاپ میں شرکت کی غرض سے جانے کا اتفاق ہوا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ جیسا پہلے دیکھا اور محسوس کیا تھا۔ ایک واضح فرق اب یہ تھا کہ تب ہر کوئی روکتا، پوچھتا، ٹوکتا اور گھور کر دیکھتا تھا۔ اب کسی نے روکا، ٹوکا اور گھورا نہیں بلکہ خوش آمدید کہا۔ مرکزی دروازے کے داہنی رخ پر سر راہ ڈاکٹر منور مل گئے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال جاوید کو فون کر کے بلوا لیا کہ ہمارے ساتھ شریک ہو جائیں۔ خیر و عافیت کا تبادلہ کرتے ہم دونوں بی ایس میقات ہشتم کے کمرہ میں چلے گئے۔ ڈاکٹر ناصر عباس نئیر پڑھا رہے تھے۔ نگاہی سلام ہوا۔ اتنے میں محمد اقبال تشریف لے آئے۔ رمشا میڈیم کو بالائی خانہ سے جھانک کر آواز دے کر اوپر بلوا لیا۔

ڈاکٹر عابدہ بتول بھی تشریف لے آئیں۔ یوں ہم پنج تنی علم و آگہی کے رسیا ایک جگہ جمع ہوئے۔ ورکشاپ سے قبل شیرانی ہال میں رائے محمد خان ناصر پنجابی اور سرائیکی کے مشہور شاعر کے اعزاز میں تقریب میں چند منٹ گزارے۔ ورکشاپ کا آغاز ڈاکٹر ناصر عباس نیئر کا علمی نثر کے حوالے سے پر مغز لیکچر سے ہوا۔ ڈاکٹر شازیہ رزاق نے ملخص لکھنے کے حوالے سے لیکچر دیا جو زیادہ تر سطحی قسم کی معلومات پر مبنی تھا۔ ڈاکٹر سلطانہ فاروقی، ڈاکٹر ساجد جاوید نے ریسرچ جنرل میں شائع ہونے والے مضامین کے سلسلے میں ایک مدیر کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر زاہد منیر عامر، ڈاکٹر ہارون عثمانی نے تحقیقی مضمون نگاری کی مبادیات اور رسمیات پر سیر حاصل گفتگو کی جو معیار و وقعت کے اعتبار سے یقیناً لائق تحسین تھی۔ نظامیت کے فرائض ڈاکٹر محمد نعیم نے بخوبی نبھائے۔ ڈاکٹر ساجد جاوید نظامی نے پوری ورکشاپ کو عمدہ طریق سے انجام کو پہنچایا۔ اختتامی کلمات ڈاکٹر محمد کامران نے ادا کیے۔ شرکا میں سند شرکت تقسیم کیں۔ اورینٹل کالج کی صدیوں پرانی تاریخ ہے۔ یہاں ایسے ایسے علما، محقق، دانشور، عاقل، فاضل اور حازق نے پڑھایا اور تخلیقی و تنقیدی اور تحقیقی کام کیا ہے جن کا ایک زمانہ معترف ہے۔

اس ادارہ کے در و دیوار میں شعور، آگہی، علم، تعقل، بصیرت، وجدان، سادگی، تمکنت اور رعب و دبدبہ کی کستوری بھری ہے جس کی مہک سے روح سرشار اور بدن مہک بار ہو جاتا ہے۔ اس ادارہ کی عمارت کو دیکھ کر آپ پہلے حیران ہوتے ہیں پھر از خود رفتہ ہو جاتے ہیں۔ یہاں سے نکلنے کو جی نہیں چاہتا اور آنے کو روح ترستی رہتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ طالب علم جو یہاں پڑھتے ہیں۔ ان اساتذہ کو سلام، جو یہاں پڑھاتے ہیں۔ علم و ادب کا یہ گہوارہ اپنے باطن میں درس و تدریس کے تسلسل کی صدیوں پر محیط تاریخ لیے پوری آن، بان اور شان کے ساتھ ہنوز معلم اور تعلم کے درمیان ایک مضبوط وسیلہ بنا ہوا ہے۔

پاکستان کی جملہ جامعات میں تعلیم کا معیار خوا کچھ بھی ہو۔ تعلیم کی تحصیل کا عمل تو جاری ہے نا! معلم اور تعلم کا یہ انضباط بہت خوبصورت ہے۔ کسی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تعلیمی ادارے ماں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ تعصب سے بالاتر ہو کر معماران قوم کو اپنے نونہالوں کی تربیت پر توجہ صرف کرنی چاہیے۔ ہمیں ایسے معماران قوم کی سخت ضرورت ہے جو ایک ہجوم ناہنجار کو درست راہ پر گامزن کرتے ہوئے انھیں زندگی کے اصل نصب العین سے شناسا کر دیں۔ علامہ اقبال بجا کہہ گئے ہیں :

؎ یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آداب فرزندی

Facebook Comments HS