حامد سراج۔ گھنا پیڑ۔ سفر آخرت بخیر یاران چمن


کچھ لوگ اتنے بے ضرر اور شفاف ہوتے ہیں کہ آپ جب انھیں لکھنے بیٹھیں تو سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ ان کی تصویر لفظوں میں کیسے اتاری جائے مگر جب وہ رتیں لوٹتی ہیں جو ان کو آپ سے جدا کر گئی تھیں تو رگ جاں پہ رکھے قرض آپ کو ستاتے ہیں کہ اس قرض کو اتار لیا جائے اس سے پہلے کہ نقارہ بج اٹھے۔ آج ایسا ہی قرض مجھے برسوں بعد اتارنا ہے اور اس شخص پہ لکھنا میرے لیے آسان نہیں ہے، اس کی موت، اس کی جدائی نے مجھے ایک عرصہ کے لیے چپ لگا دی، ایک دھند بھری بے حسی اور جامد خاموشی میرے اوپر چھائی ہوئی تھی کیونکہ موت پہلے ہی مجھے بہت بار ڈس چکی تھی۔

تین ماہ قبل علامہ ضیاء حسین ضیاء صاحب کی موت نے میرے اندر اتنی توڑ پھوڑ کردی تھی کہ میں خود بقا کی جنگ لڑ رہی تھی۔ مجھے یاد ہے علامہ صاحب کی وفات پہ انھوں نے مجھے کال کی تھی اور کہا ”سیمیں کیا واقعی ضیا حسین ضیا چلے گئے، اوہ خدایا بہت قیمتی بہت بڑا شخص چلا گیا، مجھے یقین نہیں آ رہا، سیمیں بہن آپ کا تو واقعی بہت بڑا نقصان ہو گیا“ ۔ ان حالات میں کوشش کے باوجود میں کچھ لکھنے پہ خود کو آمادہ نہیں کر پائی اور اس نومبر میں میں نے روز لکھنے کا ارادہ کر کے توڑا اور پھر خود کو یکجا کیا حالانکہ اس کی موت اس وقت نوشتہ ء دیوار کی طرح سامنے لکھی نظر آ رہی تھی۔ ڈرامہ ختم ہو چکا تھا اور مجھ سمیت بہت سے لوگ دم سادھے پردہ گرنے کے انتظار میں تھے کہ ایک عرصے سے وہ بہت سے موذی امراض کے ساتھ اب کینسر سے بھی لڑ رہا تھا۔

اپنے کینسر کی فون پہ بہت شگفتہ انداز سے مجھے اطلاع دیتے ہوئے کہا ”سیمیں بہن پتہ نہیں کون سا رنگ برنگ قسم کا کینسر ہو گیا ہے“ ۔ آواز میں کھنک، زندگی کی ویسی ہی چمک۔ مجھے یوں لگا کہ بس یہ خبر جھوٹ ہی ہے بھلا کون کینسر کی اطلاع یوں دیتا ہے۔ میں نے کہا حامد بھائی آپ اس سے بھی جیت جائیں گے مگر کینسر سرعت سے اپنا کام دکھا رہا تھا خبریں اچھی نہیں آ رہی تھیں آخر پردہ گر گیا اور مجھے یوں لگا کہ وہ جو روز بچھڑنے کا خوف مجھے اذیت سے کاٹ رہا تھا اس کا اختتام ہو گیا ہے۔ میں نے خود غرضی سے ایک آسودہ سانس لی اور اس کے بعد پھر ایک سناٹا اور خاموشی تھی۔

مجھے یاد ہے، بہت اچھی طرح یاد ہے کہ یہ میرے ادبی سفر کا آغاز تھا، پہلے ناول کے بعد میرے افسانے کچھ ادبی پرچوں میں چھپ چکے تھے جب بھی حامد سراج جیسے سینئر ادیب سے میرا رابطہ ہوا اور میں نے بہت مؤدب ہو کر محترم، جناب یا حامد سراج صاحب کہہ کر بات کی، مخاطب کیا۔ حامد بھائی نے کچھ دفعہ تو برداشت کیا اور اس کے بعد سیدھے سبھاؤ کہا، نہیں سیمیں یہ اتنے بھاری القابات مجھ جیسا سیدھا سادہ دیہاتی آدمی برداشت نہیں کر سکتا یا تو رشتہ بنا لو اور حامد بھائی کہو اور اگر یہ گوارا نہیں تو انسان دوستی کا رشتہ ہمیں باندھنے کو کافی ہے، ہم ہمعصر ادیب ہیں، ادبی دنیا میں یہ پہلا شخص تھا جس نے مجھے بہن کہا اور نبھایا بھی، دوسرا شخص کون ہے یہ کسی اگلے خاکے میں سہی۔ بس وہ دن تھا کہ حامد سراج میرے حامد بھائی بن گئے۔

ان سے تعارف و رابطہ ہوا تو پتہ چلا کہ یہ شخص کس قدر ہمت والا ہے اور زندگی کی تمام تر کٹھنائیوں کے باوجود زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑ رہا ہے۔ بائی پاس جیسی پیچیدہ سرجری کے ساتھ ساتھ گردہ ٹرانسپلانٹ جیسے مشکل مرحلے سے گزر چکا ہے اور بہت رقت سے کہتا ہے ”جب میرے بیٹے اسامہ نے مجھے گردہ ڈونیٹ کر دیا اور میں بچ گیا تو میرے ضمیر نے مجھے کٹہرے میں کھڑا کر دیا اور میں ڈپریشن میں چلا گیا کہ یہ میں نے کیا کر دیا اپنے بچے کے ساتھ“ ۔

ان تمام تکلیف دہ امراض کے باوجود روز بیسیوں گولیاں پھانکنے کے باوجود انتہائی متحرک شخص، ایک بہادر، دلیر زندہ دل شخص، مطالعے کا رسیا، کتابوں کے حصول کے لئے بے چین و حریص، جنہیں چھو کر بچوں کی طرح خوش ہو جانے والا معصوم سا شخص۔ پھر میں نے دیکھا کہ وہ ہر چھوٹے بڑے ادیب کا بلا استثناء دوست تھا، شاید ہی کوئی ادیب ایسا تھا جو حامد سراج کو نہ جانتا ہو یا حامد سراج ان سے ملنے نہ پہنچا ہو۔ ایک مقبول اور ہر دلعزیز شخص۔ ایک ایسا شخص جس کے بارے منفی لوگ بھی کچھ برا کہنے کی ہمت نہیں کر پاتے تھے۔

کتابوں کے تبادلے کے بعد حامد بھائی نے وعدہ کیا، سیمیں بہن میں جب میانوالی سے سرگودھا آیا تو آپ کی جانب بھی حاضری دوں گا جس کا مجھے یقین نہیں تھا کہ اتنا سینئر ادیب بھلا مجھے ملنے کیوں آئے گا مگر ایک روز حامد بھائی اور شگفتہ بھابھی نے مجھے واقعی حیران کر دیا، سیدھی سادی شگفتہ بھابھی جو ادب میں کوئی خاص دلچسپی نہ رکھتے ہوئے بھی دل و جان سے میاں کے ساتھ ہیں اور کہتی ہیں اب میاں کا ساتھ تو دینا پڑتا ہے۔ حامد بھائی سفر کی تھکاوٹ اتارنے کی خاطر اجازت لے کر کچھ دیر صوفے پر آرام کرنے کو لیٹ گئے۔ ان کی ہمت اور توانائی نے مجھے پل بھر کو بھی احساس نہیں ہونے دیا کہ یہ شخص کتنا بیمار ہے۔

سیدھا سادہ نورانی چہرے والا اور پنج وقتہ نماز پابندی سے پڑھنے والا شخص جس میں کہیں کوئی مصنوعی پن نہیں تھا مگر مذہبی لوگوں والا تعصب بھی نہیں تھا۔ نماز جس مسلک کے حساب و وقت سے ملی پڑھ لی اور کسی کو نہ تبلیغ کی نہ ناصح بنا بلکہ سامنے دکھتے عیبوں سے بھی پردہ و گریز کا رستہ اپنایا۔ ایک بہت مشہور شاعر کافی نوجوانی میں اچانک وفات پا گئے تھے گردش خبر ان کی شراب نوشی تھی میں نے بھی یہی کہا تو ہنس کے کہنے لگے سیمیں بہن وقت پورا ہو گیا تھا ورنہ لوگ بہت پی کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ ایک درویش ادیب۔ مگر جب وہ گفتگو کرتا تھا تو ادب پہ اس کا مطالعہ اور با خبری مرعوب کن تھی، ایک ایسا ادیب جو ادب کا مطالعہ بغیر کسی تعصب یا کسی خاص فریم کے کرتا تھا۔

مجھے بہت سے ادبی رسائل کے ایڈریسز اور نمبرز مہیا کیے بلکہ انڈیا سے چھپنے والے ثالث کے لیے میرا افسانہ ”طاہرہ سنو“ بھی اقبال حسن آزاد کو حامد بھائی نے ہی بھیجا کہ اس وقت میرے پاس نہ تو کمپوزنگ کی سہولت تھی اور نہ سکینر، اور انڈیا کے مدیر جب رابطہ کرتے تو میں بے چارگی سے بتا دیتی کہ میرے پاس افسانہ کمپوز نہیں ہے حامد بھائی نے سکینر خریدنے کی جانب توجہ دلائی۔ سرحد پار تک ہر کس و ناکس سے رابطے، کتب کے تبادلے، باہمی خلوص کے رشتے بنانے والا بہت فعال و متحرک ادیب۔

میانوالی جیسے دور افتادہ علاقے میں اپنا ایک گھنا چھاؤں دار ادبی ڈیرہ بنا رکھا تھا جس میں بہت چاؤ، شوق اور محبت سے کتابیں جمع کی گئیں تھیں اور مجھے اکثر و بیشتر دعوت دی جاتی کہ میں آؤں اور چاہوں تو کتب خانے سے کتابیں چرا کر لے جا سکتی ہوں۔

ان کے صبح بخیر، دس بجے کی چائے بھنے چنوں یا کسی دیسی سوغات کے ساتھ بخیر، بارش بخیر، شام بخیر، ہر پل بخیر ان کے یاران چمن کو ان کا وسیع حلقہ کیسے بھولا ہو گا بھلا اور جب حامد سراج نے آخری میسج کیا ہو گا ”یاراں چمن ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہے اجالا بخیر“ تو ان سے محبت کرنے والے دل بھی کپکپا اٹھے ہوں گے۔ اس کے ان تخلیقی محبت، روایت اور ثقافت سے بھرے پیغامات میں عجب چاشنی و افسانویت تھی جن میں کتابوں، چائے، بارش، دالان پیڑ پودے، خوبصورت نظموں یا اشعار موتیوں کی مانند پروئے ہوتے۔

میرا دل چاہتا ہے کسی روز ان کے صاحبزدگان اسامہ یا قدامہ کو کہوں حامد بھائی کے یاران چمن کے بھیجے پیغامات کو کتابی شکل دے دیں مگر پھر کتاب کی ناقدری بھرے ماحول کو دیکھتی ہوں تو خاموش ہو جاتی ہوں۔ وہ شخص جو کبھی کبھار کال کرتا اور کہتا آئیں سیمیں بہن کچھ چغلی کر لیں اور اس ساری گفتگو میں سوائے مختلف ادبی خبروں، توصیف اور، محبت کے کچھ بھی نہ ہوتا۔

مجھے یاد ہے جب مشرف عالم ذوقی صاحب نے میرے ایک افسانے کی بابت مجھ سے استفسار کیا تو میں ان کے نام سے بے خبر تھی ان کی بابت مطلع کرنے والے حامد بھائی ہی تھے اور پھر یہ حامد سراج ہی تھے جن کے ذریعے میں نے انڈیا سے مشرف عالم ذوقی صاحب کی کتب کی خریداری کی۔

یہ سطور لکھتے ہوئے میں سوچ میں مبتلا ہوں کہ حامد سراج کو کیا لفظ و تشبیہ دوں کہ اس کی تصویر و خاکہ کھچ جائے۔ میرے سامنے میرا چھوٹا سا لان ہے، یہاں ایک سفیدے کا پیڑ ایستادہ ہے اونچا لمبا نازک سا، مغرب کی اذان ہو چکی ہے، پرندوں کی چوں چوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں یقیناً اس میں کچھ پرندوں نے کوئی گھونسلہ بنا رکھا ہے، پرندوں کا کوئی خاندان آباد ہے اور اب شام ڈھلے محو آرام ہے۔ یک لخت میرے ذہن میں خیال ٹکراتا ہے۔

درخت۔ ہاں حامد سراج ایک درخت۔ پیڑ۔ شجر سایہ دار نما شخص تھا جس کی موجودگی بہت اودھم مچاتی پر شور ندی کی مانند نہیں تھی بس وہ پورے وقار سے مانند درخت کھڑا تھا ہر تلخی گرمی سردی کو اپنے وجود پہ برداشت کرتے ہوئے مگر اپنے گھنے سائے اور اس میں بہت سے پرندوں کو خاموشی سے سمیٹے ہوئے اور جب یہ درخت گر گیا تو دور تک دھوپ اور سناٹا پھیل گیا۔ وہ پرندے جو اس کی شاخوں پہ آ کر بیٹھتے تھے یا گھونسلہ کیے ہوئے تھے وہ اب بھی اسے ہجر کے گیتوں میں یاد کرتے ہیں جن میں میں بھی شامل ہوں۔

حامد سراج میں اک اور صفت تھی جو ادیب برادری میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے، وہ اک وسیع ظرف اور کشادہ دل کا مالک تھا جو سراہنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتا تھا، میرے کئی افسانوں پہ انہوں نے نہ صرف فون پہ بلکہ فیس بک پہ کھل کر لکھا اور کہا سیمیں بہن آپ کا یہ افسانہ اپ کو اردو ادب میں زندہ رکھنے کو کافی ہے۔

بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی کچھ عرصے بعد حامد سراج جیسے کہنہ مشق ادیب نے بہت کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے کہا سیمیں آپ بہت برق رفتاری سے مجھ سے آگے نکل گئیں ہیں۔ میں یہاں یہ کہوں کہ مجھے یہ سن کر شرمندگی ہوئی تو یہ جھوٹ و مصنوعی پن ہو گا۔ سچی بات ہے کہ حامد سراج جیسے سینئر و معتبر ادیب کے یہ لفظ میرے لئے بہت بڑا اعزاز تھے اک سرشار کر دینے والی خوشی تھی، مجھے یاد ہے میرا میاں پاس ہی بیٹھا تھا اس جیسے پکے پیٹھے کاروباری آدمی کے لئے یہ ادب سراسر خسارے کا سودا ہے بقول اس کے کھایا نہ پیا گلاس توڑا بارہ آنے۔ وہ حامد بھائی کے یہ الفاظ سن کر کہنے لگا تم ادیب لوگ بس خود ہی ایک دوسرے کی واہ واہ کر کے خوش ہو جاتے ہو بھلا ملتا کیا ہے اس بے کار کے کام میں۔

بات یہیں تک محدود نہیں رہی حامد بھائی نے مجھے اپنے کزن بشارت ملک صاحب کے بارے بتایا کہ سیمیں وہ آپ کی تحریر کے بہت مداح ہیں جب کہ مجال ہے کہ کبھی توصیفی کلمہ میرے لیے نکلا ہو بلکہ مجھے فرمایا جاتا ہے کہ یہ دیکھو افسانہ ایسے لکھا جاتا ہے۔ سیمیں بہن آپ بشارت سے ضرور بات کیجیے گا اور ان کے حوالے سے جس سے بھی بات ہوئی وہاں سے بہت عزت و احترام ملا۔ اتنا حوصلہ کس میں ہوتا ہے بھلا کہ اپنے حلقے کو یوں بانٹ لے اور خود اعتراف کر لے۔

ایک وسیع دل و ظرف رکھنے والا مروت سے گندھا انسان، دوسروں کو اعتبار دے کر اونچا کرنے والا شخص اور یہ کیسا اتفاق ہے کہ جس وقت جس لمحے حامد بھائی نے دنیا کو خدا حافظ کہا میں بہت پریشانی سے بشارت ملک صاحب سے ان کی خیریت دریافت کر رہی تھی اور کہہ رہی تھی میرا ان کو دیکھنے کو ملنے کو دل چاہتا ہے میں آنا چاہتی ہوں کہنے لگے آ جائیں مگر ان کو دیکھنا اب اتنا خوشگوار نہیں ہے ابھی بات ہو رہی تھی کہ انہوں نے بتایا کہ حامد بھائی نے آپ کا انتظار نہیں کیا اور چلے گئے۔

بشارت صاحب نے ہی مجھے بتایا کہ ان کی حامد سراج کی وفات سے کچھ گھنٹے قبل شام کو ملاقات ہوئی تھی۔ بہت باتیں ہوئیں، اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے پہ تبصرہ کیا، ایک لطیفہ سنایا، جس روز وقت رخصت تھا رابعہ نے کال کی تو پوچھنے لگے کیا آج عید ہے؟! پہاڑ جیسے حوصلے، خوش مزاجی، صبر و قناعت اور مثبت توانائی سے بھرا ہوا انسان جس نے زندگی کی آخری رمق تک موت سے پنجہ لڑایا بہ ہر حال موت برحق تھی انھیں اپنے ساتھ لے گئی۔

اس شخص کی ناراضگی میں بھی شائستگی و محبت تھی مثال پبلشر کے عابد صاحب سے بہت پرانی دوستی تھی میرے گھر جب تشریف لائے تھے تو عابد صاحب نے ہی پہنچانے کی ذمہ داری نبھائی تھی پھر کچھ کتابوں کو لے کر رنجش ہو گئی تو حامد بھائی نے اس کے سوا ایک جملہ نہیں کہا کہ سترہ سالہ دوستی چند کتابوں پہ قربان نہیں کی جا سکتی اور عابد صاحب میرے شہر کے مقامی میری کتاب ”بات کہی نہیں گئی“ کے پبلشر ہیں۔ نہ ان کی جانب سے کوئی لفظ کہا گیا، کم از کم مجھ سے نہیں کہا جھگڑے یوں بھی ختم ہو سکتے ہیں باب نا شائستگی بند ہو ہو جیسے۔

اس وقت مختلف کتب پہ جن میں کچھ میری پسندیدہ ہوتیں اور کچھ پہ بھیجنے والوں کا اصرار ہوتا کہ کچھ لکھوں تو یہ میرے تاثراتی تجزیے بھی مختلف جرائد میں چھپ رہے تھے، حامد بھائی نے فون کرتے او ر بہت سراہتے اور کہتے کہ سیمیں تم وہ ایمانداری سے لکھ جاتی ہو جو ہمارے دلوں میں ہوتا ہے سچ یہ ہے کہ مروت مجھے اجازت نہیں دیتی یہ سب کہنے کی اور یہ حامد بھائی ہی تھے یہ حوصلہ حامد سراج میں ہی ہو سکتا تھا کہ وہ خود سے بہت جونیئر کو یہ مان دے، اپنا افسانہ مجھے بھیجا اور کہا سیمیں بھول جانا کہ یہ حامد سراج کا افسانہ ہے، اس پہ مجھے کھرا اور کڑا تبصرہ چاہیے میں کچھ عرصے سے افسانہ نہیں لکھ پاتا، قلم کو زنگ لگ رہا ہے اور مجھے یاد ہے کہ ہم نے افسانے کو لے کر طویل گفتگو کی تھی۔

آج سوچتی ہوں ان یادوں کو لکھ رہی ہوں تو دل کانپ اٹھتا ہے، ایسا حوصلہ، ایسا ظرف ایسی کمٹمنٹ کہاں ملتی ہے اور کیا ایسے انسان بھی قبیلہ ادب میں ہوا کرتے ہیں؟!

حامد سراج وہ ادیب تھا جس نے ”میا“ جیسا شاہکار خاکہ کہوں یا پھر ایک عجیب انوکھے ڈھنگ کی سوانح عمری، نثری نظم کی صورت لکھی۔ انھیں ادبی دنیا میں زندہ رکھنے کو میا ہی کافی ہے۔ ایک ایسا خاکہ روز کی وہ یادداشتیں ماں کو لے کر اور احساس کی وہ انچ کہ دل آنکھوں میں پگھلتا ہے میں نے جب اس پہ ریویو لکھا تھا تو لکھا تھا کہ احساس کی یہ انچ تو بیٹیوں کا خاصہ ہوا کرتی ہے، حامد سراج کے وجود میں ایک حساس بیٹی چھپی ہوئی ہو جیسے جس کی نظر چھوٹے چھوٹے جذبات پہ ہے اور جو جالیوں کے پیچھے فنا کی وادیوں میں گم ہوتی ماں کو لے کر اشکبار ہے۔

حامد سراج کے نوک قلم سے بہت سے زندہ جاوید رہنے والے افسانے نکلے جن میں ہوٹل، نماز قصر، پانچ روپے کا ایک متروک نوٹ، برادہ وغیرہ نمایاں ہیں۔ ایک سطر سیدھی لکھ کر اترانے والے بد دماغ ادیبوں کے لیے حامد سراج کا کردار ایک تمثیل کے طور پہ پڑھانا چاہیے گر ادب کا بھی کوئی سلیبس ہوا مگر حامد سراج وہ ادیب تھا جس نے اپنی رائے بھیجے گئے مسودے پہ لکھ کر کئی لوگوں کو معتبر کر دیا۔

مجھے یاد ہے میرے بچوں کے سکول میں بک فیئر پہ بیٹے کو ان کی کتاب ”آشوب گاہ“ ملی تو وہ میرے لیے خرید لایا اور خوشی سے بتانے لگا انکل آئے تھے نہ ہمارے گھر۔ یہ ان کا ناولٹ تھا۔ حامد بھائی کو بتایا تو وہ بچوں کی طرح خوشی سے کھل اٹھے۔

حامد سراج کی تحریر میں مشکل مضامین و فلسفیانہ گتھیوں کی جگہ ایک رومانوی چاشنی، ناسٹیلجیا اور دیہاتی زندگی کی بھر پور عکاسی ملتی ہے اور وہ بلا شبہ ایک صاحب اسلوب ادیب تھے۔

مجھے یقین ہے حامد سراج نے جس لمحے خاکی بدن کو چھوڑ کر لمبے سفروں کو روانگی پکڑی ہوگی تو یاران چمن کو یاد کیا ہو گا اور کہا ہو گا سفر آخرت بخیر یاران چمن۔

Facebook Comments HS

One thought on “حامد سراج۔ گھنا پیڑ۔ سفر آخرت بخیر یاران چمن

  • 16/12/2023 at 11:24 شام
    Permalink

    دلگداز تحریر

Comments are closed.