یہودی مصنف کی کتاب ”فلسطینی تجربہ گاہ” کا ایک جائزہ
حال میں ہی شائع ہونے والی مذکورہ کتاب جامع طور پر یہ بیان کرتی ہے کہ در اصل کس طرح اسرائیل کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو جاسوسی، جنگی اور نگرانی کے ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کے لیے آزمائشی میدان، تجربہ گاہ یا لیبارٹری کے طور پر استعمال کرتا ہے اور پھر ان ہتھیاروں کو مکمل طور پر ٹیسٹ کرنے کے بعد دنیا بھر میں موجود حکومتوں ؛آمروں اور جمہوریتوں کو کس طرح مہنگے داموں برآمد کرتا ہے۔ کتاب فلسطین لیبارٹری کا مصنف کہتا ہے میرا مقصد یہ بتانا ہے کہ اسرائیل/فلسطین تنازعہ کو عالمی سطح پر کس طرح برآمد کیا گیا ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کو دبانے کے لیے جو اوزار اور ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے وہ دنیا بھر میں 130 سے زیادہ ممالک کو فروخت کیے جاتے ہیں۔
ہمیشہ سے دنیا بھر میں جنگ ایک بڑا کاروبار رہی ہے، اور اس کاروبار کا پیمانہ حیران کن طور پر اتنا بڑا ہے کہ جس کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیلی اسلحے کی پیداوار نہ صلاحیت نہ صرف اسرائیل کی معاشی بقا کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ بلکہ اسے سفارتی تحفظ حاصل کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔ ”صحیح اعداد و شمار حاصل کرنا تو ناممکن ہے۔ لیکن آج تین سو سے زیادہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور کئی ہزار ایسے اسٹارٹ اپس موجود ہیں جو لاکھوں لوگوں کو ملازمت دے رہے ہیں اور یہ کہ ان کارپوریشنوں کی کمائی ہمیشہ بلند ترین سطح پر رہتی ہے۔ “
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اطلاعات کے مطابق 2 اکتوبر 2018 کو جمال خاشقجی کو سعودی حکومت کے ایجنٹوں نے استنبول میں اس کے قونصل خانے میں قتل کر دیا تھا۔ سعودی امور بادشاہت سے اختلاف رائے رکھنے والے ایک صحافی کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بغیر کسی نشان کے بڑی آسانی سے ٹھکانے لگا دیا گیا تھا۔ سعودی بادشاہت مخالف لابی کے لئے فوری طور پر یہ کہنا آسان تھا کہ خاشقجی کا قتل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر کیا گیا۔
اور یوں رفتہ رفتہ یہ واضح ہوتا گیا کہ اس جرم کو کامیاب بنانے کے لیے اسرائیلی سائبر سیکیورٹی کمپنی NSO کے تیار کردہ پیگاسس (Pegasus) نامی فون ہیکنگ اسپائی ویئر کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس سب کچھ کے متعلق تو دنیا جانتی ہے لیکن جو نہیں جانتی وہ یہ ہے کہ اسرائیل کے سائبر سیکیورٹی اور نگرانی کے شعبے کی وسعت کیا ہے۔
سائبر سیکیورٹی سے مراد کمپیوٹرز، سرورز، موبائل ڈیوائسز، الیکٹرانک سسٹمز یا نیٹ ورکس کے ڈیٹا کو بدنیتی سے حاصل کرنے یا حملوں سے نقصان پہچانے کے عمل سے بچنا ہے۔ این ایس او سمیت بے شمار ہائی ٹیک کمپنیاں اسرائیل میں حکومت کی اشیر باد سے کام کر رہی ہیں۔ اسرائیل فلسطینیوں کو دبانے کے لیے جو ہتھیار، اوزار اور ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے جن میں جبر اور نگرانی کی تکنیک، اسپائی ویئر سے لے کر چہرے کی شناخت کرنے والے ٹولز اور ڈرونز شامل ہیں، کا کس طرح فلسطین میں ”جنگی تجربہ“ کیا جاتا ہے اور پھر اسے دنیا بھر کے ممالک کو ”ٹیسٹیڈ“ کہہ کر فروخت کیا جاتا ہے یہی اس کتاب کا بنیادی موضوع ہے جسے آسٹریلیا کے مشہور لکھاری انٹونی لوئین سٹین نے لکھا ہے جو اپنے آپ کو ایک ملحد یہودی کہتا ہے۔
انٹونی لوئین سٹین نے دراصل سائبر سیکیورٹی اور نگرانی کے اس شعبے، اس کی سرگرمیوں، اس کی ابتدا، اس کی طاقت اور اس کے اثرات کے بارے میں معلومات کے ایک وسیع ذخیرے کو اس کتاب میں اکٹھا کیا ہے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں بڑے پیمانے پر شہری نگرانی اور اچانک چھاپہ مار کارروائی میں بمباری کرنے، سائبر ہیکنگ سے سرحدی کنٹرول تک کو ڈرون امداد مہیا کرنے کا عمل شامل ہے۔
کتاب کا مرکزی خیال، اس کے عنوان سے جھلکتا ہے، جو کہ یہ ہے کہ اس شعبے میں اسرائیل کی مہارت۔ یعنی اس کا منفرد سیلنگ پوائنٹ (Selling Point) ۔ جو فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو دبانے کے لیے، خاص طور پر مقبوضہ علاقوں میں اس کے استعمال کے تجربہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر ہیبرونؔ میں فلسطینیوں کی نگرانی کے لیے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کامیابی کے ساتھ استعمال کی جا سکتی ہے تو جنوبی امریکہ، میانمار یا یوگنڈا میں کیوں نہیں استعمال کی جا سکتی؟
جیسا کہ صیہونی قابضین نے دیکھا، جتنی زیادہ ان کی ریاست کے زیر انتظام علاقے میں دشمن کی موجودگی تھی، اتنی ہی زیادہ اس کی نگرانی اور آبادی پر قابو پانے کے لئے اتنے ہی بڑے نیٹ ورک کی انہیں ضرورت تھی۔ اس طرح فوج اور پولیس کی حکمت عملیوں کی تکمیل کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کو تیار کرنا اور استعمال کرنا ان کی سب سے بڑی ضرورت تھی۔ لوئین سٹین کے خیال میں ”1990 کی دہائی کے بعد سے اسرائیل واشنگٹن سے کہیں زیادہ اس ٹیکنالوجی میں خود مختار ہونے کی طرف بڑھ گیا ہے“ ۔
عالمی سائبر سیکیورٹی (Cyber Security) یا سائبر ان سیکیورٹی (Cyber insecurity) یعنی سائبر تحفظ یا عدم تحفظ، کے شعبے کے تمام کھلاڑی عالمی ساہوکار ہیں۔ ان کمپنیوں اور اسرائیلی ریاست کے درمیان تعلقات لوئین سٹین کی تحقیقات کا مرکزی پہلو ہیں جیسا کہ اس شعبے اور اس کے امریکی ہم منصبوں کے درمیان نہ صرف پیچیدہ شراکت داری ہے بلکہ حریفانہ مقابل بازی بھی موجود ہے۔
ان کمپنیوں کی رسائی واقعتاً عالمی ہے۔ لوئین سٹین کا کہنا ہے، ”ان ہتھیاروں سے بحرینی اور عمانی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ روانڈا نے پیگاسس کا استعمال مخالفین پر نظر رکھنے کے لیے کیا۔ اسی طرح مراکش نے صدر ایمانوئل میکرون سمیت سینئر فرانسیسی سیاست دانوں کی جاسوسی کے لیے پیگاسس کا استعمال کیا گیا۔ ہنگری کے صدر وکٹر اور بان نے مخالف سیاست دانوں اور تنقید کرنے والے صحافیوں کی جاسوسی کے لیے پیگاسس کو خریدا۔ سپین کے کاتالان زبان بولنے والے آزادی پسند سیاستدانوں کی جاسوسی کی گئی اس کے علاوہ بھی بہت سارے ممالک ہیں جنہوں نے اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا۔“ یہ ٹیکنالوجی کی انڈسٹری کا صرف ایک شعبہ ہے۔
مؤرخ اے۔ جے۔ پی ٹیلر کے قول کا اکثر یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا جاتا ہے کہ جنگ ”ہمیشہ ایجاد کی ماں رہی ہے“ ۔ لوئین سٹین کے مطابق اس لحاظ سے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف گرم جنگ اور اس کے ناقدین کے خلاف اس کی گوریلا سرگرمیاں اسے فوجی اور جابرانہ تکنیکوں سے لیس کئی ایک نئے ہتھیار بنانے، جانچنے اور انہیں بہتر بنانے کی طرف لے جاتی ہیں جس کا انحصار اکثر جاری ڈیجیٹل انقلابی تبدیلیوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ان ہتھیاروں کے بننے کے بعد ، ان کی باقاعدہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر ٹیسٹنگ کی جاتی ہے اور پھر ان کی دنیا بھر میں یہ کہہ کر مارکیٹنگ کی جاتی ہے کہ یہ اسرائیل کی فلسطین مخالفین کے خلاف دیوار بنانے اور نگرانی سے سیکھی گئی تکنیکی مہارت سے لیس ہتھیار ہیں۔
اسلحہ ساز کمپنی ایلبٹ سسٹمزؔ نے ابتدائی طور پر اسرائیلی ٹینکوں اور ہوائی جہازوں کے لیے ساز و سامان کی فراہمی شروع کی تھی اور بعد ازاں ایلبٹ ”جمہوریتوں اور آمروں“ دونوں کو ہتھیاروں کا ایک بڑا برآمد کنندہ بن گیا، جس نے ڈرون سے لے کر نائٹ ویژن چشموں تک بہت سے آلات تیار کرنے کے لیے امریکی فوج اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا اور زمینی نگرانی کے نظام سے منسلک مہلک ہائی ٹیک جنگی ساز و سامان بنایا۔
لبنان میں جاری جنگ میں عسکری طور پر ناکام ہونے کے باوجود، اسرائیل نے جنگ کو اپنے ہتھیاروں اور حکمت عملیوں کے لیے سیلنگ پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے پروپیگنڈے نے ان قوموں کے لیے ایک پرکشش اکثیر پیش کیا جنہوں نے یہ سراب خرید لیا تھا کہ یہودی ریاست ان کی مدد کر سکتی ہے۔
یورپی یونین نے ایک قابض ملک ہونے کے باوجود کبھی بھی اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ کام نہیں روکا۔ نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ”یورپی یونین کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ آیا وہ زندہ رہنا چاہتی ہے اور ترقی کرنا چاہتی ہے یا مرجھا کر ختم ہو جانا چاہتی ہے“ ۔ ”آپ حیران ہوں گے کیونکہ میں سیاسی طور پر درست نہیں ہوں۔ ہم یورپی ثقافت کا حصہ ہیں۔ یورپ کا خاتمہ اسرائیل پر ہوتا ہے۔ اسرائیل کے مشرق میں، کوئی یورپ نہیں ہے۔“
یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور نیتن یاہو کے دور میں اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین نے اپنے تعلقات کو مزید گہرا کیا اگرچہ اس دور میں فلسطین پر قبضہ مزید سخت ہوتا چلا گیا۔ نیتن یاہو کے وزیر اقتصادیات اور انتہائی دائیں بازو کی یہودی ہوم پارٹی کے رہنما نے مغربی کنارے میں کھڑے ہو کر کیمرے سے براہ راست بات کی اور انتباہ کے بعد کہا کہ اسرائیل ہر طرف سے مسلمان دہشت گردوں میں گھرا ہوا ہے، اس کا کہنا تھا کہ، ”اسرائیل دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں سب سے آگے ہے۔
“ اسرائیل آزاد اور مہذب دنیا اور بنیاد پرست اسلام کے درمیان فرنٹ لائن ہے۔ ہم بنیاد پرست اسلام کی لہر کو ایران اور عراق سے یورپ تک جانے سے روک رہے ہیں۔ جب ہم یہاں دہشت گردی سے لڑتے ہیں تو ہم لندن، پیرس اور میڈرڈ کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں ”۔ وزیر اعظم بینیٹ نے دلیل دی کہ مغربی کنارے کو چھوڑنا ناممکن ہے کیونکہ“ اگر ہم زمین کا یہ ٹکڑا ترک کر کے اسے اپنے دشمنوں کے حوالے کر دیتے ہیں، تو رانانا [اسرائیل کا ایک شہر] میں موجود میرے چار بچے خطرے میں ہوں گے۔
یہ ان کے مارنے کے لئے صرف ایک میزائل کی دوری پر ہیں۔ ”اس نے یورپیوں کو تنبیہ کرتے ہوئے، اور مغرب کے کسی بھی فرد کو جس نے یہ نشاندہی کرنے کی جرات کی کہ اسرائیل کا قبضہ غیر اخلاقی ہے، اسرائیل کو جمہوریت کی عالمی جنگ میں نیزے کی نوک کے طور پر سامنے رکھ کر نتیجہ اخذ کرتے ہوئے اس نے یہ کہا کہ جمہوریت کے لیے آپ کی جنگ یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ آپ کی آزادی اظہار کی جنگ یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ آپ کے وقار اور آزادی کی جنگ یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ اگست 2021 میں طالبان کے افغانستان پر دوبارہ قبضہ کرنے کے بعد ، نیتن یاہو نے فیس بک پر لکھا کہ انھوں نے تجربے سے جو سبق سیکھا وہ یہ ہے کہ“ صحیح نظریہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، ہمیں کسی بھی خطرے کے خلاف اپنی طاقت سے اپنا دفاع خود کرنا چاہیے۔ ”
کوئی بھی ملک اسرائیلی نگرانی کی ٹیکنالوجی خریدنے کا اعتراف نہیں کرتا، لیکن شواہد موجود ہیں کہ یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کی متعدد ممالک نے انہیں خریدا۔ ”جنگ جہنم ہے لیکن واضح طور پر یہ کاروبار کے لیے اچھی ہے“
صیہونی عسکریت پسندی کی تاریخ اور ایک قابل عمل، مقامی دفاعی شعبے کی تعمیر کا آغاز اسرائیل کے قیام سے بھی پہلے ہو چکا تھا۔ یہودی ریاست اور اس کے حامی اپنے فائدے کے لیے ہتھیاروں کی تیاری اور پھر انہیں عالمی منڈی میں فروخت کرنے اور فروغ دینے کی صلاحیت کو تیزی سے بھانپ چکے تھے۔ یوں فلسطین کی تجربہ گاہ نے جنم لیا۔
1948 میں اسرائیل کی پیدائش ارد گرد کے بہت سے یہودیوں کے لیے ایک معجزہ جب کہ فلسطینی آبادی کے لیے ایک تباہی تھی۔ 14 مئی 1948 کو یہودی ایجنسی کے چیئرمین ڈیوڈ بین گوریون نے دو ہزار سالوں میں پہلی یہودی ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا۔ امریکی حکومت نے اسی دن اس کی قانونی حیثیت کو تسلیم کر لیا۔ 1967 میں اسرائیل کے مغربی کنارے، غزہ، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں پر تیزی سے قبضے نے ملک کو ایک ایسے نہ ختم ہونے والے فوجی راستے پر ڈال دیا جو کبھی نہیں رکا۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ اسرائیلی اسلحہ اور سیکورٹی کی صنعت عالمی مارکیٹ میں بڑی قوموں کے خلاف مقابلہ کر سکتی ہے کیونکہ ”اسرائیلی فوج کی طرف سے جنگ میں ’جدید ترین ٹیکنالوجی‘ کا تجربہ کیا گیا ہے“ ۔ فلسطین کی تجربہ گاہ تقریباً اس وقت تک ریاستی پالیسی رہے گی جب تک کہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کا قبضہ رہے گا۔ امریکا نے ڈرونز کے اسرائیلی استعمال کو نوٹ کیا، سی آئی اے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، بھارت، شام، اور جنوبی کوریا بھی انہیں خریدنے کے خواہشمند تھے۔
اسرائیل میں یہودی ہونا زمین پر کسی بھی دوسری جگہ یہودی کے طور پر رہنے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ حفاظت کا یہ فقدان یہودیت کی وجہ سے نہیں بلکہ قوم کی سیاسی اور فوجی اونچ نیچ کی وجہ سے ہے۔ اسرائیل کو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ اس عرصے کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، فیس بک سے یوٹیوب اور ٹک ٹاک سے لے کر ٹویٹر تک، کمپنیاں معمول کے مطابق ایسے مواد کو بلاک کر دیتے ہیں جو اسرائیل پر تنقید کرتا ہو یا فلسطینی نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہو۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسرائیل کو الگ تھلگ کرنے کی ایک بڑی بین الاقوامی مہم کے بغیر، یا اسرائیلی ہتھیاروں کی فرموں کے خلاف کچھ ٹارگٹڈ کورٹ کیسز کے بغیر، صنعت ترقی کی منازل طے کرتی رہے گی۔ اخلاقیات کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور یوں یہ ہتھیار فلسطینیوں پر ٹیسٹ ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔




