شوہر بھی کبھی مرد تھا


اس شوہر کی اذیت کوئی نہیں سمجھ سکتا جسے بیوی نے بند کمرے میں بیلن سے مارا ہو اور وہ بیچارہ آواز بھی نہ نکال سکے۔ دل پہ ہاتھ رکھیئے اور بتائیے اس شوہر کا کیا حال ہوتا ہو گا جس کی بیوی اس پہ رات ناخنوں سے قاتلانہ حملے کرنے کے بعد صبح آنکھوں میں آنسو بھر کے دوسروں کو بتاتی پھرے یہ دیکھیں میرے بازو پہ نشان۔ اس پہ مزید رونی صورت بنا کر یہ کہہ دے، اب خدا کے لیے پوچھنا مت کیا ہوا تھا، نہیں بتا سکوں گی۔ اور بیچارہ شوہر کسی کو یہ بھی نہ بتا سکے، یہ تو صرف سیلف ڈیفینس کا نتیجہ ہے۔ اس دکھ سے بڑا دکھ کیا ہو سکتا ہے کہ شوہر پانچ کلو سول مچھلی لائے اور بیوی اپنے بھائیوں کو بلا کر ساری کھلا دے۔ یہ شوہر ہی ہے جو گلاس ٹوٹنے پہ بیوی کی جھڑکیاں بھی کھاتا ہے اور سونے سے پہلے بیوی کی ٹانگیں بھی دباتا ہے۔ پھر بھی شوہر برا۔

بیوی کی قسم جھوٹ نہیں بولوں گا۔ ان گنہگار آنکھوں نے وہ منظر بھی دیکھا ہے جب بیوی شوہر کا لایا ہوا جوڑا پہن کر ہمسائی کو کہہ رہی تھی حرام ہے جو کبھی شوہر نے عید پر بھی کوئی جوڑا دلایا ہو، یہ جوڑا تو میری امی نے لے کر دیا تھا۔ بیوی کو ہر فنکشن کے لیے نیا جوڑا چاہیے ہوتا ہے۔ حَتّیٰ کہ فوتگی پر بھی جانا ہو تو پہلے مارکیٹ سے نیا جوڑا خریدنے چلی جائے گی۔ جبکہ شوہر بیچارہ تو شادی میں بھی پرانے کپڑے پہن کے چلا جاتا ہے۔

شوہر اللہ کی ایسی سیدھی مخلوق جو صرف بیوی کے رحم و کرم پہ ہوتی ہے۔ باہر کوئی کتنا ہی رعب داب والا ہو، لیکن گھر میں شوہر کی حقیقت یہی ہے کہ وہ ٹی وی چینل تک اپنی مرضی سے نہیں لگا سکتا۔ کہنے کو شوہر پورے گھر کا مالک ہوتا ہے لیکن اللہ جانتا ہے یا پھر شوہر، کہ ایک بیڈ تک اس کی ساری ملکیت نہیں ہوتا۔ بیوی پورے بیڈ پہ قابض ہوکے ایک ذرا سا کنارہ شوہر کو عطا کر دیتی ہے۔ شوہر بیچارہ اتنا مظلوم ہے کہ اکثر بغیر ناشتے کے کام پہ چلا جاتا ہے۔ رات دیر سے گھر آئے تو بیوی کو اٹھانے کی جرات نہیں کرتا۔ بیوی لنگوٹیے یار تک چھڑا دیتی ہے اور خود بڑھاپے میں بھی سہیلیوں کے ساتھ مستیاں کرتی پھرتی ہے۔ بیوی شوہر سے وہ کام کرواتی ہے جو کبھی اس کی ماں نے بھی نہیں کروائے ہوتے۔ جیسا کہ برستی بارش میں مونگ پھلی لینے بھیج دیتی ہے۔ پزا ہوم ڈلیوری بھی کروائے تو رائیڈر کو گھر سے دو محلے دور کا ایڈریس بتاتی ہے۔ شوہر برسات میں پکوڑوں کی فرمائش کرے تو بیسن گھول کے اسے ہی چولہے کے آگے کھڑا کر دے گی کہ آپ بنائیں آپ زیادہ اچھے بناتے ہیں۔

یہ شوہر ہی ہے جو باہر جتنا مرضی مرد بنے لیکن گھر میں صرف شوہر بن کے رہتا ہے۔ بیوی کے ساتھ گزارہ کرنا صرف شوہر ہی کا کام ہے، ورنہ اس کا تو دوسری عورت کے ساتھ بھی گزارہ نہیں ہوتا۔ یہی دیکھ لیں شوہر صبح ساس بہو کو گھر چھوڑ کے جاتا ہے اور واپسی میں گھر کا نقشہ ہی اور ہوتا ہے۔ بیوی کے ساتھ رہنا آسان کام نہیں لیکن دیکھ لیں رہتا ہے۔ نہ رہے تو لوگ نامرد سمجھتے ہیں، رہ لے تو بھی مرد نہیں سمجھتے، شوہر سمجھتے ہیں۔ فرمانبرداری کا دوسرا نام شوہر ہے۔ شوہر کے فرائض تو سارے مردوں کو ازبر ہوں گے۔ مگر کسی مرد میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ بیوی کو بھی اس کے دو چار فرض یاد کرا سکے۔

میں ایک شوہر ہوں اور آپ میرا دکھ نہیں سمجھ سکتے، خواتین تو بالکل نہیں۔ اس لیے کہ وہ شوہر نہیں ہیں۔ شوہر ہوتیں تو انھیں احساس ہوتا کہ ہم شوہر کس مشکل سے گزارہ کرتے ہیں۔ بس اتنا سمجھ لیجیے شوہر بھی کبھی مرد تھا اور پھر اس کی شادی ہو گئی۔ اللہ جانتا ہے آج تک بیوی نے جو کہا چپ کر کے سنا، سہا اور خاموش رہا۔ کبھی اسے مڑ کے جواب نہیں دیا، لیکن اب میرا صبر جواب دے گیا ہے۔ یہ سب پڑھ کر اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ میں بغاوت پہ اتر آیا ہوں۔ تو پھر ایسا ہی سمجھ لیں۔ آپ مجھے کہہ لینے دیجیئے، ہاں میں باغی ہوں۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اور بیوی میکے سے واپس لوٹ آئے۔ آپ مجھے کھل کے دل کی بھڑاس نکال لینے دیں۔

Facebook Comments HS