دمبی سٹی مار مہم سے امریکی سنڈی کے خلاف آپریشن تک


اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ تحریک انصاف والوں کے بعض لیڈروں کے علاوہ نمایاں کارکنوں کے ساتھ بہت ظلم ہو رہا ہے۔ ایسا ہی ظلم 2018 کے الیکشن میں نون والوں کے ساتھ شروع ہوا تھا، لیکن وہ تجربہ کار سیاسی کارکن تھے، جانتے تھے کہ یہ وقت زیادہ دن نہیں رہے گا۔ انہیں وہ قدیم حکمت یاد تھی کہ ظالم سونامی تن کر کھڑے تناور درختوں کو تو تباہ و برباد کر دیتا ہے لیکن عاجز و لچک دار گھاس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ ویسی آفات سے بچ گئے جن کا انصافی سامنا کر رہے ہیں اور وہ آج دوبارہ حکومت بنانے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

تحریک انصاف والوں کی سیاسی ناتجربہ کاری اور جذباتی پنا انہیں مشکل میں مبتلا کر گئے۔ یہ ظالم موسم ہمیشہ تو نہیں رہے گا لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ جائے گا تو جنگل میں کتنے درخت باقی بچیں گے اور کتنے ہمیشہ کے لیے ڈھے چکے ہوں گے۔

انجیل مقدس میں مرقوم ہے کہ جو تلوار کے بل پر جیتا ہے وہ تلوار کے گھاٹ اترتا ہے۔ سونامی سے ساری اپوزیشن برباد کر دینے کے خواہاں اب خود طوفانِ بلاخیز کا سامنا کر رہے ہیں۔

تحریک انصاف کی لیڈر شپ نے تو اقتدار کے مزے لوٹ لیے اور خوب فیض پایا، مجھے اس سے کوئی خاص ہمدردی نہیں۔ وہ اب اس مستعار شدہ فیض کا کرایہ ادا کر رہی ہے جو اسے 2018 میں ملا تھا۔ مجھے ہمدردی ہے تو حاشر درانی جیسے عام مخلص کارکنوں سے جن کا مستقبل برباد ہو گیا، اور جب کبھی یہ موسم ختم ہونے پر تحریک انصاف کی دوبارہ باری آئے گی تو نہ کوئی انہیں پوچھے گا نہ پہچانے گا۔ وہ پکڑے جانے سے قبل خود ایک ویڈیو میں کہہ رہا ہے کہ پکڑا تو صرف کارکن جاتا ہے باوسائل لیڈروں نے تو بیل کروا لینی ہے۔

پکڑے جانے سے قبل اس کی نو مئی سے بیس مئی تک کی مندرجہ ذیل ٹویٹس پاکستان کی کسی بھی پارٹی کے مخلص لیکن جذباتی سیاسی کارکن کا حال بیان کرتی ہیں۔ وہ نو مئی کو اپنے لیڈر کے لیے جان دینے کو تیار تھا، لیکن بیس مئی تک وہ اپنے لیڈروں کو برا بھلا کہتے ہوئے بتا رہا ہے کہ وہ اس محبت میں تباہ ہو گیا۔


9 مئی:
کور کمانڈر ہاؤس نہیں، عمران خان ہاؤس
آج لاہور چھا گیا ہے۔ پولیس بھاگنے پر مجبور
جان دیں گے

10 مئی:
کور کمانڈر ہاؤس نہیں یہ خان ہاؤس ہے
عوام کے پیسوں سے خریدا ہوا مال عوام کورکمانڈر ہاؤس سے لے کر جاتے ہوئے۔

11 مئی:
آئی جی پنجاب کے بیان، ”کریکٹر سرٹیفکیٹ، پولیس ویریفکیشن پہ نوکریاں اور ویزے لگنے ہیں، ریکارڈ بن رہا ہے، ان کو کبھی کوئی نوکری نہیں ملے گی جو لڑکے لڑکیاں یہ حرکتیں کر رہے ہیں“ ، پر حاشر درانی کا تبصرہ: نہ دیں جناب جس کے پاس سکلز ہیں وہ فری لانسنگ کر لے گا۔

ماشاءاللہ! ہماری تحریک انصاف کی خواتین پی ڈی ایم کی ایسی کتوں والی کرتی ہیں کہ اس لیول پر تحریک انصاف کے مرد بھی نہیں پہنچ سکتے۔

نہتے تھے لیکن سب کے جذبے نے ریاستی ظلم و جبر کو شکست دی۔

15 مئی: اس تاریخ سے حاشر درانی کو اپنوں کی دغا کا احساس ہوتا ہے اور مایوسی کا سفر شروع ہوتا ہے۔

خان صاحب، میں نے کور کمانڈر لاہور کے گھر سے پاکستان کا پرچم اتار کر پی ٹی آئی کا جھنڈا لہرایا اور اس گھر کے اندر سے انقلاب کی نوید سنائی، اب خدا کے لئے ہمارا بھی سوچیں۔ پولیس ہمارے گھر پر ریڈ کر رہی ہے، میں اور میرے ساتھی چھپے ہوئے ہیں۔ مجھے اب ڈر لگ رہا ہے کہیں پکڑا نہ جاؤں

خان صاحب میرے بھاگنے کے بعد میرے گھر والوں کا خیال رکھنے کے لیے کسی کو بول دیں۔ آپ کے اقتدار کے لیے ہی میں نے یہ سب کچھ کیا اور اپنا مستقبل، اپنے والدین کا سکون آپ پر قربان کر ڈالا۔ میں چار دنوں سے سو ہی نہیں پایا، گھر سے فرار ہونے کے بعد اور والدین علیحدہ مجھے گالیاں دے رہے ہوں گے

16 مئی:
میں خان صاحب کی محبت اور ان کی تقاریر سے متاثر ہو کر وہ کر چکا ہوں جو شاید مجھے نہیں کرنا چاہیے تھا۔ جو آج کہتے ہیں کہ کوئی بات نہیں حوصلہ کرو یا جو میرے اوپر اعتماد نہیں کر رہے کہ شاید میں پکڑا جا چکا ہوں یا اب سیاسی فائدہ کے لیے کہتے ہیں کہ مکر جاؤ، میں پوچھتا ہوں کیسے کر لیتے ہو

17 مئی:
مرتا جو ہے وہ پھر کارکن ہے، جو لیڈرز ہیں انہوں نے تو اپنی بیل کروا لینی ہے، ان کے پاس وسائل بھی ہیں۔

20 مئی:
بدقسمتی سے خان صاحب کو نہ تو حقائق کوئی بتاتا ہے اور نہ ہی وہ سچ بولنے والوں کو اپنے قریب آنے دیتے ہیں۔ ہم کارکن پارٹی کے لئے محض توپ کے گولے کی طرح ہیں جس سے توپچی محض اپنے دشمنوں کو مارتا ہے۔ پارٹی نے میری اس مصیبت میں کسی کو میرے خاندان کے پاس مدد یا دلجوئی کے لیے نہیں بھیجا۔

میری دوستوں کو نصیحت ہے کہ اپنا اور اپنے خاندان کا سوچو۔ جس پارٹی اور اس کے لیڈروں کے لئے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگاتے ہو ان کا مقصد محض اپنے لئے اقتدار کا حصول ہے۔ الٹا جب آپ کوئی کام کرتے ہیں اور وہ کام بگڑ جائے تو پارٹی یہ کہے گی کہ اپ اس کے ورکر ہی نہیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔

میری جگہ اپنے آپ کو رکھ کر سوچیں۔ میں تو تباہ ہو گیا ہوں۔ فون بند ہے، روز جگہ بدلنی پڑتی ہے، دوست دروازے پر دیکھ کر کہتے ہیں کہ گھر مہمان ہیں پھر آنا، وی پی این سے کام کرتا ہوں۔ ہر روز گھر پر دو تین مرتبہ پولیس ریڈ کر رہی ہے۔ دو دن بعد والدہ سے بات ہوتی ہے۔ اور پارٹی کہتی ہے کہ ہم ان کے ورکر نہیں۔


یہ تھا حاشر خان درانی کا جانفروشی سے مایوس کن حقیقت پانے تک کا سفر۔

لیکن بات صرف سیاسی کارکن ہی کی نہیں۔ بعض لیڈروں کو بھی حاشر کے الفاظ میں ”توپ کے گولے“ کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ توپ کا گولا چل جانے کے بعد سکریپ قرار پاتا ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں نون لیگ کو زندہ رکھنے اور ڈٹ کر کھڑے ہونے والے جاوید ہاشمی کو اقتدار ملنے پر جو صلہ دیا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔

تحریک انصاف نے نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کر کے بہت بڑی حماقت کی تھی۔ لیکن اس سے بھی بڑی حماقت یہ تھی کہ بعد میں ڈیمیج کنٹرول نہیں کیا۔ ایک طرف تو ان کارکنوں سے اظہار لاتعلقی کر کے ان کا دل توڑا، اور دوسری طرف اس کی بروقت مذمت نہ کر کے آسمان کو اپنا دشمن بنا لیا۔ تحریک انصاف کے حامی نہ ہوئے، انوری ہو گئے، اب آسمان سے جو بھی آفت نازل ہوتی ہے، وہ ان کا پتہ پوچھتی ہے۔

جمہوری اصولوں کے مطابق تحریک انصاف والوں سے ہمدردی کرنے کا دل تو کرتا ہے، لیکن پھر ہٹلر یاد آ جاتا ہے۔ ہٹلر نے سنہ 1923 میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے فوجیوں اور نازی پارٹی کے کارکنوں کی مدد سے بغاوت کر کے حکومت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسے بغاوت کا مجرم قرار دے کر پانچ سال کی سزا دی گئی، لیکن ایک سال بعد ہی اسے معافی دے دی گئی۔ اس مقدمے کے دوران ملکی اور عالمی میڈیا کی توجہ اس پر مرکوز رہی تو اس نے ریاست کے خلاف جوشیلے بیانات دے کر اپنی مقبولیت میں خاطر خواہ اضافہ کر لیا جن سے گواہ اور جج یرک گئے۔ اس نے جرمنی کے مصائب کا ذمہ دار اپنے سیاسی مخالفین، یہودیوں اور سرخوں کو ٹھہرایا۔ اس کے محض دس برس بعد اس نے جرمنی کی حکومت حاصل کر لی اور اپنے تمام سیاسی اور غیر سیاسی مخالفین کو چن چن کر ختم کیا۔

تحریک انصاف والوں کے نزدیک بھی ان کے مخالف سیاسی لیڈر کرپٹ، بلکہ غدار ہیں، اور ان لیڈروں کے حامی درحقیقت پاکستان کی تباہی کے ذمے دار ہیں جو انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔ سنہ 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف نے محض 32 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ یعنی تحریک انصاف کو اس کی مرضی کا آمرانہ اقتدار ملا تو باقی 68 فیصد ووٹر اپنی خیر منائیں۔ کپتان کو ویسے ہی چینی، سعودی اور ایرانی ماڈل پسند ہے اور وہ ان تمام افراد کو پھانسی پر لٹکانا چاہتا ہے جو اس کے خیال میں کرپٹ ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں کون سا نمایاں اپوزیشن لیڈر تھا جو جیل نہیں گیا؟ کیا یہ جمہوری طریقہ ہے؟ یا پھر ہٹلر کا فاشسٹ طریقہ؟ جمہوریت تو سب حامیوں اور مخالفوں کو ساتھ لے کر چلنے کا نام ہے۔ بس اس ڈر سے رکنا پڑ جاتا ہے کہ اگر ہم سیاسی مخالفوں نے بھی اس وقت ویسے ہی کپتان کی حمایت کر دی اور اس نے ہٹلر جیسی طاقت پکڑ لی، تو کہیں ہمارا بھی وہی حشر نہ ہو جو ہٹلر نے اپنے مخالفوں کا کیا تھا۔

جہاں تک کل کے آن لائن جلسے کی بات ہے تو یہ ضرور اچھا شو ہوا ہو گا۔ انٹرنیٹ کی بندش سے اس کا حکومت پر اثر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جس موسم میں یہ شو ہوا وہ کوئی اتنا اچھا نہیں۔ مجھے تعجب نہیں ہو گا اگر اس میں بولنے یا شرکت کرنے والے ہماری سیاسی روایت کے مطابق بھینس چوری کرنے کے مجرم قرار پا کر سزا پائیں۔

ایسا سوچنے کی وجہ یہ ہے کہ سنہ 2018 کے انتخابات سے پہلے جب کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا مرحلہ درپیش تھا تو اس وقت محکمہ زراعت نے دمبی سٹی پر سپرے کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ اب دسمبر 2023 میں انتخابی گندم کی بجائی کا موسم ہے تو امریکی سنڈی کی شامت آنی لازم ہے۔ بخدا میرا اشارہ امریکہ میں مقیم شہباز گل صاحب کی طرف ہرگز نہیں ہے۔ وہ سو فیصد محفوظ ہیں۔ جو محکمہ زراعت کے سامنے موجود ہیں، بس ان کی شامت آنی ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar