تفہیم اقبال، ولایت اور اقبال شناسی


یہ سوال ایک عرصہ سے میرے ذہن میں کلبلا رہا ہے۔ علامہ اقبال کو کیوں پڑھا جائے؟ علامہ اقبال کو پڑھنے کی جہاں سیکڑوں وجوہات ہیں، وہاں علامہ اقبال کو نہ پڑھنے کی بیسیوں وجوہات بھی موجود ہیں۔ علامہ اقبال کی شاعری کا ماخذ ”خودی“ بتایا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے شاعری کو ایک مخصوص صورتحال کے اظہار کے لیے بطور وسیلہ استعمال کیا تھا۔ جب یہ مقصد کب کا پورا ہو چکا تو علامہ اقبال کو اب کیوں پڑھا جائے؟ علامہ اقبال کے اردو شعری مجموعے مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب ہیں۔

یہ مجموعے اشاعت اور معیار کے اعتبار سے اس قدر خراب اور اغلاط سے بھرپور ہیں کہ شعر کے وزن اور نظمیات کی ترتیب میں من چاہی گڑ بڑی ملتی ہے۔ اقبال اکادمی ادبیات کے نسخے کسی حد تک درست اور معیاری ہیں تاہم ان کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ کوئی صاحب خریدنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ علامہ اقبال کے فارسی مجموعے چھپے ضرور ہیں لیکن کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ علامہ اقبال کا پی ایچ۔ ڈی کا مقالہ بھی موجود ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، لیکن اسے پڑھنے کی بجائے چھپا کر رکھا جاتا ہے تاکہ اس پر کسی کی نظر نہ پڑ جائے۔

علامہ اقبال کی ری کنسٹریشن آف ریلیجیئس تھاٹ والی تصنیف سب سے زیادہ اہم ہے جس میں علامہ کی فکر کا ماخذ مجتمع ہے، اسے بھی پڑھنے اور پڑھانے حتی الا امکان گریز کیا جاتا ہے۔ علامہ اقبال کے وہ اشعار جو عوام الناس اور خواص میں زبان زد عام ہیں، ان کی کل تعداد بیس سے پچیس کے درمیان ہے۔ یہ وہ اشعار ہیں جو اسلام کے احیا کی بات کرتے ہیں، کفر و شرک میں تفاوت پیدا کرتے ہیں، نوجوانوں کا جوش ابھارتے ہیں اور تقاریر و سیمینارز وغیرہ کے آغاز و اختتام میں بطور تبرک ٹانک دیے جاتے ہیں۔

علامہ اقبال کی شاعری کی اشاعت اور اس کی پڑھنت کا معاملہ تو مذکور ہو چکا۔ اب آتے ہیں اقبال شناسوں کی طرف۔ اقبال شناس حلقہ کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم نے اقبال شناسی میں ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جو اس سے پہلے کبھی ممکن نہ ہوئے تھے۔ پاکستان بھر میں بیس کے قریب چھوٹے موٹے اقبال شناسی کے ادارے موجود ہیں جو کروڑوں روپے کا چندہ دعوتوں، ضیافتوں، سمینار کے انعقاد اور لایعنی تالیفات کی اشاعت پر خرچ کرنے کے باوجود اقبال کی اصل فکر کی شناسائی اور پیغام آگہی سے محروم ہیں۔

پاکستان کی جامعات میں اقبالیات کے نام پر ایم فل اور پی ایچ۔ ڈی کی ڈگریاں دی جا رہی ہیں۔ ان مقالات کے عنوانات سے آپ ان پروگرام کی تحقیق کے معیار اور کمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اسلامیہ یونی ورسٹی بہاولپور نے اقبالیات پر پوسٹ ڈاکٹریٹ شروع کی ہے جس کے پہلے بیج میں اسی یونی ورسٹی کے اقبالیات کے شعبہ سے متصل اساتذہ موجود ہیں۔ یہ اساتذہ گھر بیٹھے خود ہی پڑھ کر خود کو ڈگری دے کر اقبالیات میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کر لیں گے۔

اسی طرح کی قباحتیں بقیہ اقبال شناس اداروں، تنظیموں اور گروپس میں تسلسل سے جاری ہیں۔ حکومت پاکستان نے علامہ اقبال کو رحمتہ اللہ علیہ بنا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ علامہ اقبال ایک شاعر نہیں بلکہ ولی اللہ ہیں۔ اب ان کا دربار بھی بنا دیجیے، تاکہ اقبال شناس وہاں جا کر دنیاوی ترقی کے حصول میں مناجات کریں اور ماتھا رگڑیں۔ علامہ اقبال کی شاعری میں جہاں دین کی تعلیمات کا ذکر ہے، وہاں دیگر سیکڑوں موضوعات پر بھی اقبال کا شاعرانہ تبصرہ اور تجزیہ موجود ہے۔

سوال یہ ہے، کیا علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں صرف دین اسلام کی تعلیمات کا درس دیا ہے؟ اگر یہ بات صد فیصد درست اور مبنی بر حقیقت ہے تو پھر میں بھی انھیں ولی اللہ سمجھ لیتا ہوں اور ان کی درگاہ پر حاضری دے کر اپنا فرض پورا کر لیتا ہوں۔ اگر یہ بات صد فیصد درست نہیں ہے تو خدا کے لیے ان سیکڑوں شعرا کو بھی ولی اللہ کا خطاب دے دیجیئے جن کے کلام میں دین کی تعلیمات کا تذکرہ موجود ہے۔ عدل اور انصاف کا تقاضا تو یہی ہے کہ سبھی شاعروں کو یہ عزت دیجیے۔

صرف علامہ اقبال کو اس عزت کا مستحق کیوں ٹھہرایا جا رہا ہے؟ اقبال شناس حلقہ کے ہاں علامہ اقبال کی فکر کی جو تفہیم ملتی ہے وہ سرے سے لایعنی اور بناوٹی تفکر کے خودساختہ تیقن پر مبنی ہے، جسے پڑھ کر لکھنے والے کے علم و تعقل پر حیرانی ہوتی ہے اور ترس آتا ہے کہ اقبال کے نام پر کیسی کیسی جھک ماری جا رہی ہے۔ اس پر ستم یہ کہ اس تحقیق کو کمال شوق سے شائع کیا جا تا ہے اور اسے اقبال شناسی کے باب میں اہم ترین اضافہ قرار دے کر یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ہم ہی اصل وارثان تفکران اقبال ہیں۔

اقبال چیئر کا معاملہ بھی عجب ہے۔ اس عہدے کا قصہ یہ ہے کہ اس عہدے پر براجمان شخص کو تحقیق کی مد میں لاکھوں روپے فنڈ دیے جاتے ہیں۔ اس چیئر پر براجمان سال بھر ایک دو سیمینار کروا کے کتب شائع کروا کے سوشل میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دیتا ہے کہ علامہ اقبال کی فکر کے فروغ کے لیے ہم نے بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے جو اس سے پہلے تاریخ میں دیکھنے میں نہیں آیا۔ ان چیئرز پر گریڈ، انیس، بیس اور اکیس کے جید محقق بٹھائے جاتے ہیں جن کے بارے میں ان کے ہم عصر کی رائے پڑھ لینے سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ صاحب علامہ اقبال کے بارے میں ذاتی کیا رائے رکھتے ہیں اور عہدہ کے حصول کے لیے کتنے لوگوں کا حق مار کر ، مستحقین کا گلہ گھونٹ کر ، محض سیاسی سفارشوں اور لجاجتوں کے بعد یہاں تک پہنچے ہیں۔

میں یہ نہیں کہہ رہا کہ علامہ اقبال کو پڑھایا نہ جائے اور ان پر تحقیق کا سلسلہ موقوف کر دیا جائے۔ میرا یہ موقف ہے کہ علامہ اقبال کو یا تو ولی اللہ سمجھ لیا جائے اور ان کی شاعری میں دین کی تعلیمات سے متعلق مواد کو علاحدہ کتابی صورت میں شائع کر کے ایک طرف کر دیا جائے اور بقیہ کو رد کر دیا جائے اور یہ کہہ دیا جائے کہ علامہ اقبال ایک شاعر نہیں ہیں بلکہ ایک ولی اللہ ہیں۔ انھوں نے شاعری کو دین کی تعلیمات کے حصول کے لیے بطور وسیلہ استعمال کیا ہے۔

اقبال ولی پہلے ہیں، شاعر بعد میں ہیں۔ اگر یہ بات ہضم نہیں ہوتی تو پھر یہ اعتراف کر لیں کہ علامہ اقبال ایک شاعر ہیں جنھوں نے دین کی تعلیمات کے ساتھ دنیا وی معاملات و مسائل اور تصورات دیگران کو بھی برابر اور یکساں اہمیت دی ہے اور اس پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے جو غلط اور درست ہو سکتی ہے۔ اس طرح علامہ اقبال ایک انسان کی حیثیت سے قاری کے سامنے پیش ہوں گے، جن کی شخصیت میں کسی نقص کے ظاہر ہونے سے قاری کی عقیدت پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔

علامہ اقبال ایک بہترین شاعر ہیں، ولی اللہ نہیں ہیں۔ جو لوگ علامہ اقبال کو ولی اللہ سمجھتے ہیں، وہ علامہ کو شاعر نہ کہیں اور جو علامہ کو شاعر سمجھتے ہیں وہ علامہ کو ولی نہ کہیں۔ میرا یہی مقدمہ ہے۔ اقبال شناسوں نے دباؤ ڈال کر صاحب اقتدار لوگوں سے اقبال کے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ لکھوا کر انھیں ولی بنا لیا ہے، لیکن میں اور میرے جیسے ہزاروں طالب علم علامہ اقبال کو ایک بہترین شاعر مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایک شاعر اپنی شاعری میں دین، دنیا، سیاست، معیشت، تہذیب، تمدن سمیت ہر مکتبہ فکر اور ہر میدان عمل کے بارے میں اپنا ایک خاص نکتہ نظر رکھتا ہے۔

اس طرح تو مولانا ظفر علی خاں، مولانا الطاف حسین حالی، ماہر القادری، امیر مینائی وغیرہ کے نام کے ساتھ بھی رحمتہ اللہ علیہ لکھیں اور انھیں بھی ولی اللہ بنا لیں۔ جس شاعر کے ہاں دین اسلام سے متعلق شاعری موجود ہے، اس کے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ علیہ لکھا جا نا چاہیے۔ اگر اقبال شناسوں کا یہ دعویٰ ہے کہ علامہ اقبال نے دو قومی نظریہ کا تصور پیش کیا ہے، مسلمانوں کی آزادی کے لیے انھوں نے شاعری کی ہے اور مسلمانوں کی فکر اور ان کے انفرادی تشخص کے تحفظ کے لیے انھوں نے قلمی جہاد کیا ہے تو پھر مجھے یہ بتائیے کیا مسلمان آزاد ہو گئے ہیں؟

کیا مسلمانوں کو اس خطہ میں آزادی مل گئی ہے؟ مسلمانوں کو انگریزوں سے جسمانی آزادی ملی ہے، ذہنی آزادی نہیں ملی ہے۔ جس دن پاکستانی سماج کو ذہنی غلامی سے رہائی ملے گی، اس دن حقیقی، سچی اور اصلی آزادی اس خطہ کو نصیب ہو گی۔ علامہ اقبال کے اصل پیغام کو آپ لوگوں نے سمجھا ہی نہیں ہے۔ اگر آپ اقبال شناس ہیں تو پھر میدان میں آئیں اور پاکستانی سماج کو ذہنی غلامی سے آزاد کروانے کی کوشش کریں۔ جس دن آپ نے یہ کام کر لیا، اس دن گردن اتروانے کی قطار میں سب سے آگے آپ مجھے پائیں گے۔

ایک مقالہ لکھ لینے سے اور متفرق مضامین کو مرتب کر کے اقبال شناس بن جانے سے آپ نے اقبال شناسی کا حق ادا نہیں کیا ہے۔ یہ رویہ اقبال شناسی کی بجائے اقبال کشی کے زمرے میں آتا ہے۔ علامہ اقبال کون تھے اور ان کی شاعری کی بنیاد کس چیز پر ہے؟ اس کے بارے میں آپ نے کبھی پڑھنا، سوچنا، پرکھنا، ٹٹولنا، بولنا اور لکھنا گوارا ہی نہیں کیا۔ آپ بہت اچھے سے جانتے ہیں کہ یہ راہ بہت مشکل ہے، یہاں گام اولیں پر جان سے جان پڑے گا۔ آپ کی تو ایک جان ہے۔ آپ اس جان کو بچا کر رکھیں۔

Facebook Comments HS