معلومات تک رسائی کا قانون، عوام کو آگاہی کی ضرورت ہے
دنیا کے 132 ممالک میں معلومات تک رسائی کا قانون موجود ہے۔ پاکستان میں معلومات تک رسائی کے حق کا قانون 2002 میں منظور کیا گیا۔ 2010 میں آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات منتقل کیے گئے۔ 2013 میں صوبہ خیبر پختون خواہ اور پنجاب نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کو نافذ کیا۔ سندھ میں 2018 اور بلوچستان میں 2021 سے یہ قانون نافذ العمل ہے۔
رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کا مقصد عوام کو با اختیار اور محکموں کو ان کے سامنے جوابدہ بنانا ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شہری کسی محکمے سے درخواست کے ذریعے مطلوبہ معلومات تحریری صورت میں حاصل کر سکتا ہے۔ ایسے منصوبوں اور سکیموں کی تمام تر معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہیں جن پر اٹھنے والے اخراجات قومی خزانے سے ادا کیے گئے ہوں۔ معلومات حاصل کرتے وقت شہری کوئی وجہ یا مقصد ظاہر کرنے کا پابند نہیں ہوتا۔
متعلقہ محکمہ درخواست موصول ہونے کے بعد دس دنوں میں شہری کو مطلوبہ معلومات مہیا کرنے کا پابند ہوتا ہے اگر کوئی تکنیکی رکاوٹ حائل ہو تو متعلقہ نمائندہ شہری سے رابطہ کر کے مزید 10 دنوں کی توسیع مانگ سکتا ہے۔ یہ قانون محکموں کو پابند بناتا ہے کہ بغیر کسی رکاوٹ اور لیت و لعل کے مقررہ مدت میں تمام تر مطلوبہ معلومات شہری کو تحریری صورت میں بذریعہ ڈاک ارسال کی جائیں۔
اگر مقررہ مدت میں شہری کو طلب کی گئی معلومات محکمہ کی جانب سے مہیا نہ جائیں تو شکایت کے لیے صوبائی سطح پر انفارمیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ جس کے ڈویژنل سطح پر بھی دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں تعینات انفارمیشن کمشنرز متعلقہ محکمہ سے مطلوبہ معلومات شہری کو فراہم کرواتے ہیں اور بے پرواہی کی صورت میں متعلقہ سرکاری محکمے کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی عائد کر سکتے ہیں۔
معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت کسی کی نجی یا ذاتی تفصیلات، ملکی سیکیورٹی سے متعلق حساس معلومات اور ملکی سالمیت و دیگر ممالک سے تعلقات متاثر کرنے والی معلومات حاصل نہیں کی جا سکتیں۔
اس قانون پر عملدرآمد کے باعث ملک کا ہر شہری حکومتی اقدامات اور معاملات سے آگاہ و باخبر رہ سکتا ہے۔ محروم طبقات کو قومی و سماجی ترقی میں شمولیت کے مساوی مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ اداروں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنا کر کرپشن کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ احتساب کے عمل کو فروغ دے کر انداز حکمرانی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
معلومات تک رسائی کے قانون سے مستفید ہونے کے لیے عوام کو آگاہی کی ضرورت ہے۔ انفارمیشن کمیشن اور سماجی تنظیمیں ملکی، صوبائی اور مقامی سطح پر صحافیوں، عوامی نمائندوں اور عوام کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں۔ غیر سرکاری تنظیموں سی پی ڈی آئی اور آئی ایل نے جرید سمیت دیگر علاقائی این جی اوز کے اشتراک سے خیبر پختون خواہ میں مختلف تربیتی ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا ہے جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
حال ہی میں راقم نے اس قانون کے تحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس ہری پور کو صحت کی سہولیات کے متعلق کچھ معلومات کے حصول کے لیے درخواست دی۔ متعلقہ دفتر نے مقررہ مدت کے اندر تمام مطلوبہ معلومات کی تفصیل بذریعہ ڈاک ارسال کی۔ فراہم کی گئی معلومات کے مطابق ضلع ہری پور میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کی زیر نگرانی کل 71 سہولیات فعال ہیں۔ کون سی ہیلتھ سہولت کہاں موجود ہے ہر علاقے کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔ مختلف یونین کونسلز میں 38 بنیادی مرکز صحت، 11 سول ڈسپنسریاں، 2 میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹرز، 6 سیکنڈری ہیلتھ کیئر، 7 رورل ہیلتھ سینٹرز، ایک سول ہسپتال، 4 ٹائپ ڈی ہسپتال اور ایک ٹی بی سی کے ذریعے عوام تک خدمات پہنچائی جا رہی ہیں۔
صحت کی ان سہولیات میں ڈاکٹروں کی منظور شدہ تعداد 230 ہے جن میں سے 159 ڈاکٹرز فرائض سر انجام دے رہے ہیں جب کہ 71 آسامیاں خالی ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت مانگی گئی مزید معلومات بھی فراہم کیں جن میں سال 2022,23 کے لیے ملنے والی ادویات کی فہرست بشمول اقسام، مقدار، تیار کرنے والی فرم اور سپلائرز کی تفصیلات، فارمولا اور برانڈ کا نام وغیرہ کی تفصیلات بھی مہیا کی گئی ہیں۔ ڈی ایچ او آفس ہری پور کو 70 اقسام کی ادویات جن میں انجکشن، کیپسول، گولیاں، شربت اور دیگر آئٹم شامل ہیں فراہم کی گئی ہیں جن کی کل مالیت 3 کروڑ 60 لاکھ 28 ہزار سے زائد بتائی گئی ہے۔ اس طرح ہر قسم کی دوائی کی مقدار اور قیمت الگ الگ بھی مہیا کی گئی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ادارے، سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور باشعور افراد عوام کو دستیاب ذرائع سے آگاہی فراہم کریں تاکہ عوام معلومات تک رسائی کے قانون پر عمل کر کے ملکی و قومی معاملات میں اپنی شمولیت یقینی بنائیں۔ شہری با اختیار ہوں اور طرز حکمرانی اچھی ہو۔


