امریکی ویٹو: یہ تو ہونا ہی تھا


اتوار 10 دسمبر 2023 :امریکا نے ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انسانی بنیادوں پر غزہ میں جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی قرارداد ویٹو کردی۔ عرب امارات کی جانب سے فوری جنگ بندی کی قرارداد پر 15 میں سے 13 ارکان نے حمایت میں ووٹ دیا جبکہ برطانیہ غیر حاضر رہا، فرانس اور جاپان جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت کرنے والوں میں شامل تھے۔ اقوام متحدہ میں نائب امریکی سفیر رابرٹ وڈ کا کہنا تھا کہ قرارداد کا مسودہ غیر متوازن ہونے کے علاوہ حقیقت سے ہم آہنگ نہیں ہے، ہم اس قرارداد کی حمایت نہیں کر سکتے جو غیر پائیدار جنگ بندی کا مطالبہ کرتی ہے اس سے صرف ایک نئی جنگ کا بیج بویا جا سکتا ہے ’قرارداد کو بہتر بنانے کے لیے اس میں حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کی مذمت کو شامل کیا جائے جس میں 1200 اسرائیلی ہلاک اور 240 سے زائد یرغمال بنا لیے گئے تھے۔

تیسرا مہینہ آغاز ہے غزہ تباہ اور برباد کردینے والے حملوں کی زد پر ہے۔ ہزاروں لا کھوں بے گھر افراد دشوار ترین حالات میں امن کے سفید جھنڈے لہراتے، جو کچھ وہ سمیٹ سکتے تھے اٹھائے، گھسیٹتے ہوئے میلوں پیدل چلتے ہوئے، کٹے پٹے جسمانی اعضا ء کے ساتھ، لاشوں کے درمیان سے گزرتے جن کی وہ تدفین سے بھی قاصر ہیں، عالمی امداد کے منتظر ہیں۔ پچھلے ہفتے پیر کو روس کی طرف سے اور بدھ کو برازیل کی طرف سے سلامتی کونسل میں غزہ میں لاکھوں انسانوں کی زندگی بچانے کے لیے امدادی سامان پہنچانے کے لیے انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفہ کی قراردادیں بھی امریکا نے ویٹو کردی تھیں۔

بدھ کی قرارداد کو امریکا نے ویٹو کر دیا تھا جب کہ برطانیہ اور فرانس نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ ووٹنگ سے پہلے امریکی سفیر نے رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا ”ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم چٹکیاں بجائیں اور جنگ رک جائے“ امریکی سفیر نے یہ بات اس وقت کہی جب غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے بیس ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ 80 فیصد آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔ جب کہ خوراک، ایندھن، پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

آج امت مسلمہ صرف خرافات میں ہی نہیں مسلم ممالک کے ایجنٹ حکمرانوں کے درمیان کہیں گم کردہ راہ ہے۔ اس پر طرفہ تماشا یہ کہ غزہ کے مسلمانوں پر مظالم کو روکنے کے لیے وہ امریکا اور اس عالمی برادری سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں جو مشرق وسطی میں یہودی وجود کی سلامتی کے لیے 75 برس سے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔ یہودی وجود غزہ میں مسلمانوں کے قتل عام سے اپنے اس امیج کی بحالی چا ہتا ہے جس نے اس کے ناقابل تسخیر ہونے کے مفروضے کو پرزہ پرزہ کر کے رکھ دیا ہے۔

حماس کے مٹھی بھر مجاہدین جو یہودی وجود کے ساتھ لڑ رہے ہیں، اسرائیل کی افواج کے مقابل ان کی تعداد اور وسائل کا کوئی تقابل نہیں لیکن خوفناک اور لا محدود فوجی قوت کا حامل اسرائیل دو مہینے سے زائد گزر جانے کے باوجود غزہ جیسے محدود جنگی میدان میں انھیں شکست نہیں دے سکا۔ اسرائیل اور مغربی ممالک غزہ سے مسلمانوں کا مکمل صفایا اور انھیں مستقل نکالنے کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ تنہا اسرائیل کا نہیں اسرائیل اور مغربی ممالک کا مشترکہ ہدف ہے۔ اس معاملے میں اقوام متحدہ محض چٹکیاں بجانے اور بجوانے تک محدود ہے۔ اس معاملے میں امریکا، یورپی ممالک اور اقوام متحدہ کے درمیان اختلاف محض طریق کار کا ہے، قتل عام اور تباہی کے پیمانے کا ہے۔

موجودہ قومی ریاستیں برطانیہ، فرانس اور امریکا جیسے مغربی ممالک کی ترتیب دی ہوئی ہیں جن کی جڑیں ویسٹ فیلیا میں ہیں۔ یورپ میں احیائے ثانیہ کے مختلف مراحل میں بادشاہ اور پوپ کے درمیان اقتدار کے حصول کی جنگ اور کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کے درمیان تیس سالہ طویل جنگ، ایک معاہدہ امن پر ختم ہوئی تھی۔ اس معاہدہ امن کو پیس آف ویسٹ فیلیا 1648 کہتے ہیں۔ جس کے بعد چھوٹی چھوٹی جدید ریاستوں کا تصور قائم ہوا، یورپ میں جمہوریت کو پنپنے کا موقعہ ملا، مذہب اور سیاست الگ الگ ہو گئے اور عیسائیت کا اثر و رسوخ اقتدار کے ایوانوں سے ختم ہو گیا۔

اس جدید ریاستی نظام کی زد میں مسلم ممالک بھی آئے جنھیں 56 چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ ساتھ ہی اسرائیل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ اس تقسیم سے امت مسلمہ کی وحدت پارہ پارہ ہو گئی اور مسلمانوں کی فوجی طاقت جہاد کے ذریعے امت مسلمہ کی حفاظت کی بجائے چھوٹے چھوٹے ممالک کی سرحدوں کی حفاظت تک محدود ہو گئی۔

اس محدود وطنیت کی فکر کا نتیجہ ہے کہ پچھلے دنوں مصر کے صدر جنرل سیسی نے کہا تھا ”مصر کی فوج مصر کی حفاظت کے لیے ہے“ دو دسمبر کو آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کہا تھا کہ (پاکستان کی ) مسلح افواج کی توجہ مادر وطن کی سرحدوں کے دفاع پر مرکوز ہے ”۔ پاکستان یقیناً ایک مسلم سرزمین ہے جس کی حفاظت ایک شرعی فریضہ ہے لیکن وطنیت کے غیر اسلامی تصور کے تحت خود کو صرف پاکستان کی سرزمین کی حفاظت تک محدود کر دینا ایک غیر شرعی عمل ہے۔

اگر آج خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ پر حملہ کر دیا جائے تو کیا افواج پاکستان کو یہ کہہ کر متحرک کرنے سے روک دیا جائے گا کہ ان کا فرض صرف پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ جب کہ ہمارے لیے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ کی حفاظت پاکستان کی سرحدوں سے زیادہ مقدم ہے۔ آج امت مسلمہ نے وطنیت کے مغربی تصور کو مسترد کر دیا ہے اور ہر اسلامی ملک میں ایک ہی مطالبہ ہے کہ اہل فلسطین کی حفاظت اور یہودی وجود کے مقابلے کے لیے مسلم افواج کو متحرک کیا جائے۔

عرب ممالک عراق، متحدہ عرب امارات، اردن، سوڈان، مصر، فلسطین، شام، یمن او ر کویت کے قومی پرچموں کے رنگ اور ڈیزائن ملا حظہ کیجیے۔ عراق، مصر، یمن، شام اور سوڈان پانچ ممالک کے جھنڈوں پر اوپر سرخ اور نیچے کالی چوڑی پٹی ہے اور درمیان میں سفید پٹی ہے۔ عراق کے جھنڈے پر سفید پٹی پرا اللہ اکبر، مصر کے جھنڈے پر عقاب، شام کے جھنڈے پر دو ستارے ہیں جب کہ یمن کی جھنڈے پر کوئی نشان اور تحریر نہیں ہے، جب کہ سوڈان کے جھنڈے پر تینوں پٹیوں کے ساتھ بائیں جانب سبز رنگ کا تکون بنا ہوا ہے۔

اردن اور فلسطین کے جھنڈوں پر اوپر سیاہ درمیان میں سفید اور نیچے سبز رنگ کی پٹی ہے اور بائیں طرف سرخ رنگ کا تکون کا نشان بنا ہے۔ اردن کا سرخ تکون کا نشان سائز میں بڑا ہے اور جھنڈے کے وسط تک آتا ہے۔ اس پر پیلے رنگ سے ایک چھوٹا سا ستارہ بنا ہوا ہے جب کہ فلسطین کے جھنڈے پر سرخ تکون، جھنڈے کے سائز کے چوتھائی حصے تک محدود ہے اور اس پر ستارے کا نشان نہیں ہے۔ کویت اور متحدہ عرب امارات کے جھنڈوں پر اوپر سبز اور درمیان میں سفید پٹیاں ہیں جب کہ کویت کے جھنڈے پر نیچے سرخ اور متحدہ عرب امارات کے جھنڈے پر نیچے کالے رنگ کی پٹی ہے۔

عرب امارات کے جھنڈے پر بائیں جانب سرخ مستطیل اور کویت کے جھنڈے پر بغیر نوک کے تکون ہے۔ ان تمام الگ الگ ممالک کے جھنڈوں پر سرخ، سفید، سیاہ اور سبز رنگ کی پٹیاں ہیں جن میں مشترکہ طور پر سفید پٹی درمیان میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام ممالک کے جھنڈوں میں یہ یکسانیت کیوں ہے؟ اس لیے کہ ان تمام ممالک کے جھنڈے ایک ہی برطانوی ڈپلومیٹ مارک سائیکس کے ڈیزائن کردہ ہیں جو امت مسلمہ اور خلافت عثمانیہ کو پارہ پارہ کرنے کے بعد وجود میں آئے۔ غزہ کے مسلمانوں کی تنہائی اور ان کی بربادی اسی سازش کا شاخسانہ ہے لیکن کب تک؟ جلد ہی امت ایک بار پھر اسلامی خلافت کے جھنڈے تلے یکجا ہوگی؟ اس میں کسی کو شک ہے تو وہ اپنے دماغ کا علاج کروائے۔

Facebook Comments HS