امریکہ میں، جہاں آج بھی ٹانگے چلتے ہیں


امریکہ، ٹیکنالوجی اور ایجادات کے اعتبار سے دنیا کی جدید ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے، گزشتہ دو صدیوں میں اس خطے نے ایسی بے شمار ایجادات کیں جس نے دنیا کا نقشہ ہی بدل ڈالا، ٹرانسپورٹیشن، میڈیکل سائنس، زرعی تجربات، فلم ہو یا لائف سٹائل، دنیا اسی خطے کو فالو کرتی ہے، اگر یوں کہا جائے کہ یہ معاشرہ روزمرہ کی سہولیات کے تناظر میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے تو شاید غلط نہ ہو گا۔

لیکن اسی معاشرے میں ایک ایسی کمیونٹی بھی بستی ہے جو نہ صرف ان تمام آسائشوں سے دور ہے بلکہ ان کے استعمال کو حرام بھی سمجھتی ہے، یہ لوگ سینکڑوں سال پرانے طرز زندگی سے اپنے آپ کو باندھ چکے ہیں، ان کے نزدیک جدید سہولیات کا استعمال ہماری معاشرتی اقدار کو کھا جائے گا۔

یہ لوگ کاریں استعمال نہیں کرتے بلکہ آج بھی ”بگھیوں“ پر سفر کرتے ہیں، ریڈیو اور ٹی وی کا استعمال سختی سے ممنوع ہے، بجلی کا استعمال محدود پیمانے پر ہوتا ہے وہ بھی ایسی بجلی جو یہ خود پیدا کر سکیں، ( مثلاً ہوائی پنکھوں یا پانی کے جنریٹروں سے پیدا کی جانے والی بجلی (ویسے آج کل ڈیزل جنریٹر اور سولر پینلز بھی کہیں کہیں دیکھے گئے ہیں ) ، سرکاری لائنوں سے بجلی کا حصول ان کے نزدیک غلط ہے۔

یہ کوئی چھوٹی موٹی کمیونٹی نہیں ہے بلکہ ان کی تعداد لاکھوں میں ہے، ویسے تو یہ امریکہ کی بہت سی ریاستوں میں پائے جاتے ہیں لیکن سب سے زیادہ تعداد پینسلوینیا اور اوہائیو میں ہے، ان لوگوں کو پینسلوینیا ڈچ، جرمن آمش یا ”آمش“ کہا جاتا ہے۔

مذہبی اعتبار سے یہ لوگ اینا بیپٹسٹ کرسچن چرچ سے جڑے ہوئے عیسائی ہیں، جو سادہ زندگی، مردوں اور عورتوں کے مخصوص لباس اور حلیے پر یقین رکھتے ہیں، طلاق انتہائی ناپسندیدہ عمل، بچوں کی تعلیم بھی مخصوص، کمیونٹی بانڈنگ عقیدے کی حد تک ضروری تصور کی جاتی ہے۔

ان لوگوں کا زیادہ تر پیشہ زراعت، مال مویشی، باغبانی اور ٹمبر یا فرنیچر سازی ہے، یہ نیچر کے قریب رہنے والے لوگ ہیں اس لیے ان کے پیشے بھی نیچر کے گرد ہی گھومتے ہیں، زراعت اور باغبانی کے لیے بھی یہ لوگ جدید آلات کا استعمال نہیں کرتے بلکہ اس کام کے لیے گھوڑوں اور دیگر جانوروں کا استعمال کیا جاتا ہے (مثلاً ہل وغیرہ چلانے کے لیے ) ۔

امریکی حکومت نے ان کے علاقوں کو ان کے طرز زندگی کے مطابق محفوظ قرار دے دیا ہے، اس لیے وہاں ایسی تمام سہولیات مہیا کر دی گئی ہیں جو ان کو اور ان کی اقدار کو متاثر نہ کر سکیں۔

میں نے ان کے بارے میں بہت سن رکھا تھا، پہلی بار جب مجھے آمش کمیونٹی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو یہ اتفاقا تھا، مجھے پینسلوینیا میں کسی کام سے جس شخص کو ملنا تھا وہ آمش تھا، چند منٹوں کا کام گھنٹوں، بلکہ پورے دن میں بدل گیا۔

میں صبح 10 بجے اس کے پاس پہنچا اور شام غروب آفتاب تک اس کے علاقے میں آوارہ گردی کرتا رہا، جو کئی میلوں پر مشتمل تھا، اس میں متعدد دیہات تھے۔

لوگ بے شمار بگھیوں میں ادھر سے ادھر آ جا رہے تھے، کھیتوں میں گھوڑوں کے ذریعے ہل چلایا جا رہا تھا، آمش عورتیں جو اپنے مخصوص لباس میں ہوتی تھیں کپڑے دھو کر باہر تاروں پر پھیلا رہی تھیں، بیچ بیچ میں کچی سڑکیں جو انتہائی عمدہ طریقے سے تیار کی گئی تھیں تاکہ گھوڑوں کے آنے جانے میں مسئلہ نہ ہو، بے شمار چھوٹی اور بڑی بگھیاں، کسی پر ایک نوجوان جوڑا بیٹھا ہے تو کسی پر بچوں کے ہمراہ ماں باپ، لیکن سب کے سب ہنس مکھ اور خوشی سے ہاتھ ہلا کر اپنے علاقے میں گھومنے والے پردیسی کو خوش آمدید کہتے ہوئے۔

وہاں چرند پرند اور جنگلی حیات عام جگہوں سے زیادہ اور نسبتاً خوش و خرم نظر آ رہی تھی، ان کی چہچہاہٹ کا سر بھی مختلف تھا یعنی نغمگی تھوڑی زیادہ ہی تھی، جا بجا سیب آلو بخارا اور دیگر بیریز کے باغات، گائیوں کے باڑے کے پاس سے گزرتے ہوئے گوبر کی سوندھی سوندھی خوشبو۔

اس وزٹ کے بعد میں نے پلان کر کے اوہائیو میں پائی جانے والی آمش کاؤنٹیز کے متعدد سفر کیے، گزشتہ ایک دہائی میں یہ امریکہ کی ٹورسٹ اٹریکشنز میں سے ایک بن چکی ہے، اب ان کے علاقوں میں بڑے بڑے ہوٹلز پائے جاتے ہیں، ان کا بنایا ہوا فرنیچر بہت مقبول ہے اور ہاتھوں ہاتھ بکتا ہے سو بڑے بڑے فرنیچر کے شو رومز آپ کا استقبال کرتے ہیں۔

ایک اتوار میں گھر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ ایک سکھ دوست کی کال آئی جو نیویارک شفٹ ہو چکا تھا، انتہائی ایکسائٹڈ آواز میں وہ بول رہا تھا

فرقان بھائی، میں کس دنیا میں آ گیا ہوں، یہاں تو آج بھی تانگے چلتے ہیں۔
وہ نیویارک سے اوہائیو آتے ہوئے اس وقت پینسلوینیا سے گزر رہا تھا اور کہیں بھٹک گیا تھا۔

Facebook Comments HS