پی ٹی آئی اور انتخابات: ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ


وطن عزیز میں آنے والے انتخابات کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اس کی بڑی وجہ معاشی و سیاسی عدم استحکام ہے، مادر وطن میں غربت اور مہنگائی کی شرح میں روانہ کی بنیاد پر اضافہ جاری ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4.8، فرنیچر کے شعبے میں 60.27، آٹو موبائل میں 48.94 ٹیکسٹائل شعبے میں 15.47 کمپیوٹر الیکٹرانکس، آپٹیکل پراڈکٹس میں 25.11، الیکٹریکل آلات 13.29 اور آئرن، اسٹیل مصنوعات کی پیداوار میں 2.4 فیصد کمی ہوئی، معاشی بحران کے خاتمے کے لئے منتخب حکومت کا قیام ضروری ہے تاکہ سرمایہ کاری کے لئے راہ ہموار ہو سکے۔

اس کے لیے آئین و قانون کی حاکمیت تمام سیاسی فریقوں کو تسلیم کرنا اور یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتی۔ آج کا سیاسی فاتح کل کا شکست خوردہ اور آج کا شکست خوردہ کل کا فاتح بھی ہو سکتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی میدان میں ہیجان انگیزی، قول و فعل کا تضاد اور مخالفین کو دشنام دینا معمول بن چکا ہے۔ نسل نو کو اخلاقیات کی اس سطح تک پہنچا دیا گیا ہے کہ انہیں بڑے چھوٹے کی عزت و تکریم کا پاس ہے نہ ملک و قوم کے مفادات کا ۔ لیڈر شپ گوئبلز کے فلسفے پر عمل پیرا ہے۔ غالب نے کہا تھا۔

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا۔

یعنی جس طرح ستاروں کی حقیقت کچھ اور ہے اور وہ دکھائی کچھ اور دیتے ہیں اسی طرح دنیا میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو پاکبازی اور راست گوئی کا لبادہ اوڑھے لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما انتخابات کے انعقاد کے لئے شور مچا رہے تھے، ایک طرف ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیڈر نے عوامی مقبولیت میں بھٹو، نواز شریف تو کیا قائداعظم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے مگر دوسری جانب لیڈر شپ انتخابات کے التواء کے لیے منظم مہم چلا رہی تھی۔ دعویٰ تو یہی رہا کہ پی ٹی آئی انتخابات کروانا چاہتی ہے وہ ملتوی کیوں کروائے گی۔ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی اپنا مفاد اس میں دیکھ رہی ہے کہ انتخابات ملتوی ہوں اور وہ عوام کو گمراہ کر سکے۔

آر اوز کے خلاف عدالت میں جانے والے عمیر نیازی، پی ٹی آئی کے متحرک رکن ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ اس وقت آیا جب الیکشن شیڈول آنے میں چند گھنٹے تھے اور انہیں علم تھا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی چھٹیوں پر ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ عین اس وقت فیصلہ دیا گیا اور اگر چیف الیکشن کمشنر روایتی طریقے سے اسے چیلنج کرتے تو یقینی طور پر کئی دن ضائع ہو جاتے۔ پی ٹی آئی کے انتخابات نہ چاہنے کا ایک ثبوت یہ پٹیشن اور دوسرا یہ ہے کہ اس نے ابھی تک امیدوار فائنل نہیں کیے، اس کا تنظیمی ڈھانچہ تتر بتر ہے۔ انتخابی مہم کے لئے خان جی، دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت تک موجود نہیں۔ ایسے میں تحریک انصاف الیکشن جیتنے کے لئے کیا ان لوگوں پر انحصار کرے گی جن کے ایکس (ٹیوٹر) پر تو پچاس، پچاس اکاؤنٹ ہیں مگر ووٹ اپنا تو کیا پورے خاندان میں سے کسی ایک کا بھی نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس باقر نجفی نے اپنی حدود کا خیال رکھے بغیر پورے ملک میں ہی انتخابات کا عمل معطل کر دیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی فلائیٹ مس کر کے اس کیس کو فوری سماعت کے لئے مقرر کیا۔ جس کی سازشی ٹولے کو توقع نہیں تھی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی درخواست پر رات گئے سماعت کر کے ہائی کورٹ کا حکم معطل کیا۔ جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ اگر آر اوز انتظامیہ سے لینے کا قانون کالعدم ہو جائے تو کبھی الیکشن ہو ہی نہیں سکے گا۔ انتخابی عمل کو ڈی ریل کرنے کی یہ رٹ عمران خان کی ہدایت پر دائر ہوئی جو عدت میں نکاح، تحریک عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی توڑنے، آرمی چیف کی تقرری رکوانے کے لئے لانگ مارچ اور 9 مئی کو جی ایچ کیو سمیت دیگر فوجی تنصیبات پر حملوں کے غلط فیصلے کرچکے ہیں۔

تحریک انصاف کو ہر چیز پر اعتراض ہوتا ہے۔ 2013 ء میں عدالتی افسروں نے انتخابی ذمہ داریاں ادا کیں ’تو عمران خان نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیف جسٹس افتخار چودھری پر ہدایات دینے اور نگران وزیراعلیٰ پر 35 پنکچروں کا الزام لگایا۔ دھاندلی کا راگ الاپتے ہوئے وہ کنٹینر پر چڑھ گئے‘ لیکن اپنے الزامات ثابت نہ کرسکے البتہ 126 دن کے دھرنے میں عوام کو جلاؤ گھیراؤ ’بل جلانا‘ اور پولیس پر تشدد کرنا سکھا دیا۔ بیوروکریسی کے آر اوز کے خلاف پٹیشن دائر کرنے والوں نے 2018 میں بیوروکریسی کے آر اوز کے کروائے ہوئے انتخابات کے بعد حکومت سنبھالی۔

شاید پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ پولنگ سٹیشنوں پر لوگوں کو دن بھر کھڑا کر کے قوم کا وقت اور سرمایہ ضائع کرنے کے بجائے الیکشن سوشل میڈیا پر کرائے جائیں جہاں اسے یقین ہے کہ وہ دو تہائی سے زیادہ اکثریت سے جیت جائے گی۔ سپریم کورٹ نے عام انتخابات کیس میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (ڈی آر اوز) ، ریٹرننگ افسران (آر اوز) اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران (اے آر اوز) کو کام سے روکنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا، کہ لاہور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے اس واضح حکم کو ، کہ ”کوئی بھی جمہوری عمل میں خلل نہیں ڈالے گا“ ڈی ریل کیا۔ عمیر خان نیازی اس کے مرتکب ہوئے کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ ہائی کورٹ کا حکم جغرافیائی اختیار سے تجاوز ہے۔ سپریم کورٹ نے آرڈر معطل اور مزید کارروائی سے روکتے ہوئے قرار دیا کہ ہائی کورٹ کا حکم اس عدالت کے فیصلے سے متصادم ہے۔ موجودہ پٹیشن قابل سماعت ہی نہیں تھی۔ پٹیشنر وکیل آئین سے واقف تھے اور انہوں نے انتخابات کے بارے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو پڑھا ہو گا۔ جس میں واشگاف الفاظ میں قرار دیا گیا کہ کسی کو یہ اجازت نہیں کہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے لئے کوئی بہانہ تلاش کرے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ اس آدمی کا تعلق اس سیاسی جماعت سے ہے جس کی حکومت میں یہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رہا۔ ایک درخواست پر پورے ملک میں انتخابات روک دینا سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے۔ درخواست آئی ’لگ بھی گئی‘ حکم امتناع دینے والا جج ہی لارجر بینچ کا سربراہ بن گیا۔ اس سے تو بادی النظر میں انتخابات ملتوی کرانا ہی مقصد نظر آتا ہے۔

چھ صفحات کے حکمنامے میں چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ڈی آر اوز، آر اوز اور اے آر اوز کے معاملے پر ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو خطوط لکھے لیکن کسی ہائی کورٹ نے افسران نہیں دیے جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے معذرت کرتے ہوئے لکھا کہ جوڈیشل افسران کے سامنے 13 لاکھ مقدمات مقرر ہیں۔

ہائی کورٹ کے انکار کے بعد عدلیہ سے افسران لینے پر اصرار کا مطلب ہائی کورٹ کے انتظامی آرڈر کے خلاف آرڈر جاری کرنا اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

سپریم کورٹ مداخلت نہ کرتی تو یقینی طور پر انتخابات التوا میں جا سکتے تھے۔ یہ بات تحریک انصاف کے بیرسٹر علی ظفر نے بھی تسلیم کی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ جانے سے ایسا تاثر ملا کہ انتخابات سے راہ فرار اختیار کی جا رہی ہے۔

قاضی فائز عیسیٰ کے دور میں برسوں سے فائلوں میں دبی درخواستیں بھی زیر سماعت آ رہی ہیں ’فیض آباد دھرنا کیس اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس کی دو بڑی مثالیں ہیں۔ جسٹس صدیقی کے معاملے میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید اور بعض دوسرے افسران کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ قاضی فائز عیسیٰ نے شفافیت اور کھلے پن کی جو روایت قائم کی ہے اگر اسے برقرار رکھا گیا تو نہ صرف پاکستان کا نظام عدل مستحکم ہو گا‘ بلکہ دستور کے تقاضوں کو نظر انداز کرنے والوں کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی۔ ’انتخابات کے بغیر عوام کا حق حکمرانی روبہ عمل آ سکتا ہے نہ دستور کا تقاضا پورا ہو سکتا ہے۔ ہمارا نظم اجتماعی انتخابات کے ذریعے ہی استوار ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے انتخابی التواء کا دروازہ بند کر دیا ہے اس کی جتنی تحسین کی جائے کم ہے۔

Facebook Comments HS