مکھوٹا


ڈاکٹر نجیبہ عارف اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والی معتبر اور کثیر الجہت شخصیت کے طور پر شناخت رکھتی ہیں۔ آپ بطور افسانہ نگار، سفرنامہ نگار، مضمون نگار اور شاعرہ کے طور پہ مستحکم پہچان رکھتی ہیں۔ مکھوٹا کی اشاعت کے بعد آپ اردو ناول نگاروں کی صف میں شامل ہو گئی ہیں۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف تین دہائیوں سے زائد عرصے سے درس و تدریس سے منسلک ہیں آپ اردو کی استاد ہیں اور کامیاب ماہر تعلیم ہیں۔ اس کے علاوہ جرائد کی ادارت کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں۔ آپ اکادمی ادبیات کی موجودہ چیئرپرسن ہیں۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا مکھوٹا مصنفہ کا پہلوٹھی کا ناول ہے۔ ناول کو ایک کرداری ناول بھی کہا جاسکتا ہے۔ جس کا کبیری کردار سلیمہ، غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی ہے۔ معمولی شکل و صورت کی حامل یہ لڑکی غیر معمولی ذہن کی مالک ہے۔ غیر معمولی ذہن کی یہ لڑکی گہری سوچ رکھتی ہے۔ اشیا کی ماہیت اور خاص طور پر مابعد الطبعیاتی نوعیت کے سوالات اس کے ذہن میں اٹھتے ہیں لیکن جوابات کی جگہ ایک دھند ہے جو اس کے ذہن کو گھیر لیتی ہے۔ مثلا

اس نے سن رکھا تھا کہ یہ سکول پاکستان بننے سے پہلے کوئی مندر ہوا کرتا تھا۔ اور کچھ لڑکیاں تو یہ بھی کہتی تھیں کہ صحن کے بائیں طرف لگے ہتھی والے نلکے اور بیت الخلا کے ساتھ جو بہت اونچی کھجی ہے اس پہ روحیں رہتی ہیں۔ اس کے اندر شدید خواہش تھی کہ کسی روز کھجی پہ رہنے والی قدیم روحوں سے ملاقات کرے اور ان سے بات چیت کرے۔ ان سے پوچھے کہ جب یہ عمارت مندر تھی، تو کیسی لگتی تھی؟ اس کے اندر کیا ہوتا تھا؟ اس میں جس خدا کو پکارا جاتا تھا وہ کیسا تھا؟

کیا وہ بھی اپنے پکارنے والوں کو جواب دیتا ہے، ان کی دعائیں سنتا ہے؟ کیا وہ بھی ویسا خدا ہے جیسا اس کا خدا؟ یہ سوالات ایسے غیر معمولی نہیں لیکن ایک پرائمری سکول کی بچی کے حوالے سے غیر معمولی ضرور ہیں کہ جس عمر میں بچوں کو کھیلنے کودنے سے فرصت نہیں ہوتی اس عمر میں اس کا ذہن سوالات اٹھاتا ہے اسے سوچنے پہ مجبور کرتا ہے اس سے اس بچی کی غیر معمولی اٹھان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ حساس دل کی مالک ہے۔

ریت جب اڑتی ہے تو عجیب ویرانی کا احساس ہوتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ زندگی کی ساری رونق، ہماہمی اور شادابی چوس لے گی۔ لوگ، اشیا اور چاہے جانے والے منظر مٹتے ہوئے، بچھڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بسے بسائے شہر خرابے لگنے لگتے ہیں۔ ریت کا اڑنا دل پہ بوجھ ڈال دیتا ہے۔ بے ثباتی کا بوجھ، فنا کا یقین، ہجر کا ملال، اڑتی ہوئی ریت کے ذروں کے بالمقابل لاچاری اور انفعالیت کا جبر، ہستی کے بے پایاں خلا میں فقط نیستی کی بازگشت، ریتلے علاقوں کے لوگ دکھی رہتے ہیں۔

جنوبی علاقوں کے رہنے والوں کی نفسیات پر ماحولیاتی اثرات کو کس خوبصورتی سے کیا ہے۔ جنہیں دوسرے علاقوں کے رہنے والے کبھی نہیں جان سکتے بجز اس طرح کے تجزیوں کے۔

یہ ناول ایک آئینہ حیرت ہے۔ گنجینہ معنی کا طلسم ہے۔ مصنفہ کی دیدہ بینا کا اعجاز ہے کہ قطرے میں دجلہ دکھائی دیتا ہے۔ 128 صفحات کے اس ناول میں سلیمہ کا تعلق اس قصبے کے نچلے طبقے سے ہے جہاں وہ آ کر آباد ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے وہ شتر بانوں کے محلے میں کرائے کی کچی کھولی میں رہائش پذیر تھے لیکن سکول سے واپسی پہ آوارہ لڑکے کے ہاتھوں سلیمہ کے ہراسانی کا شکار ہونے پہ سلیمہ کی ماں نے وہ محلہ چھوڑ دیا تھا اب نیا قصبہ مہاجروں والی گلی تھا سلیمہ اس آوارہ کی دست درازی سے تو محفوظ رہی لیکن ایک مستقل خوف اس کے اندر بیٹھ گیا۔

نو عمر بچیوں کے ایسے مسائل کو مصنفہ نے ایک چھوٹی بچی کے زاویہ نگاہ سے بیان کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سماج کے رویے کو بھی اجاگر کیا ہے کہ جہاں جنسی استحصال کرنے والے کے لئے معاشرہ چشم پوشی سے کام لیتا ہے وہیں مظلوم چھوٹی بچیاں بے قصور ہوتے ہوئے بھی سزا کی حقدار ٹھہرائی جاتی ہیں۔ جس میں اولین سزا تو ان کا سلسلہ تعلیم کو منقطع کرنے کی صورت میں دی جاتی ہے اور پھر ان کی کم عمری میں شادی کر کے والدین ان کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ انہی اندیشوں کے پیش نظر یہ کم عمر بچیاں اس ہراسانی کو خاموشی سے برداشت کرنے پہ مجبور ہیں کہ انھیں اپنے خاندان کی طرف سے تحفظ ملنے کی امید نہیں۔ بلکہ اس مسئلے کا سیدھا سادا حل ایسے والدین کے پاس انھیں سکول سے اٹھا لینا ہے۔

ناول کا جائزہ سماجی حقیقت نگاری کے حوالے سے لیا جاسکتا ہے جہاں پیش کردہ سماج طبقات میں منقسم نظر ہے۔ مصنفہ نے اس میں محنت کش طبقات کے شب و روز کو یوں پیش کیا ہے کہ ان کے دکھ سکھ ان کی کسمپرسی، ان کا زندگی بسر کرنے کا چلن ان کے کام اور پیشے اور اسی حساب سے معاشرے میں ان کا مرتبہ ان کے تہوار ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں سب کی واضح تصویر سامنے آجاتی ہے۔

ناول کی اہم بات اس میں دلچسپی کا عنصر ہے یہ قاری کو اپنے ساتھ جوڑے رکھتا ہے۔ بلاشبہ یہ کتاب ان کتب میں شامل ہے جنہیں ایک بار ہاتھ میں لینے کے بعد ختم کیے بنا چارہ نہیں۔ لیکن 79 صفحات پڑھنے کے بعد قاری پہ منکشف ہوتا ہے کہ یہ ایک قسط وار چھپنے والے ناول کا پہلا باب ہے۔ جو راوی نے بہت عرصہ پہلے کہیں لکھا تھا۔ اب ایک ادبی رسالے کے ایڈیٹر کی فرمائش پہ جب اسے بھیجنے کے کچھ اور نہیں ملتا تو پرانے کاغذات کے پلندے میں سے اسے ناول کا یہ پہلا باب ملتا ہے جسے مکمل کرنے کی اسے کوئی خواہش نہیں تھی۔

پہلے باب کا خاتمہ سلیمہ جو ناول کا کبیری کا کردار ہے کے میٹرک میں ضلع بھر کے سکولوں میں ٹاپ کرنے اور لاہور کالج میں داخلے کی نوید پہ ہوتا ہے۔ سلیمہ کے کردار کی بنت مصنفہ نے بہت خوبصورتی سے کی ہے۔ وہ ایسی لڑکی کا کردار ہے جو نہایت حساس اور ذہین ہے اسے اپنی معاشی حیثیت کا بخوبی احساس ہے اور یہ احساس اسے معاشرہ اچھی طرح دلاتا ہے۔ اسے اپنی معمولی شکل و صورت کا بھی بخوبی اندازہ ہے۔ اس کی یک طرفہ محبت کی ناکامی اس پہ مستزاد ہے۔ اس کے سامنے کئی کاش ہیں لیکن ان ساری خامیوں جن کی وہ ذمہ دار نہیں کے ازالے کے لئے وہ محنت کا رستہ منتخب کرتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ زندگی میں اپنی اہمیت اور معنویت اسے خود دریافت کرنی ہوگی۔ بہرحال یہ ایک اولعزم اور آدرشی لڑکی کا ایسا جیتا جاگتا کردار ہے جو پسندیدہ ہے اور جس سے محبت کی جا سکتی ہے۔

اس پہلے باب کے بعد راوی اس ناول لکھنے کا احوال بیان کرتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ کبیری کردار سلیمہ کی وجہ تسمیہ کو بھی بیان کرتی ہے اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کردار راوی نے اپنی ایک غیر اہم کلاس فیلو کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھا ہے۔ لیکن ناول میں ٹوئسٹ اس وقت آتا ہے جب سلیمہ لاہور پڑھنے کے لئے جاتی ہے جہاں اس کی ملاقات ایک نامی گرامی وکیل سے ہوتی ہے۔ یہاں راوی کبیری کردار کا نام بدل کے رخسانہ رکھ دیتی ہے۔

دراصل اسے صحیح سے یاد نہیں کہ اس کی اس غیر اہم کلاس فیلو کا نام رخسانہ تھا کہ سلیمہ۔ یہ کوئی نام بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال وکیل صاحب کی آمد اس چھوٹے قصبے میں ایک بھونچال ثابت ہوتی ہے۔ اس کے متعلق طرح طرح کی چہ مگوئیاں ہوتی ہیں رخسانہ کا تعلق وکیل صاحب سے جوڑا جاتا ہے۔ لیکن اصل بات اس وقت سامنے آتی ہے ہے جب رخسانہ کے باپ مرزا شمیم بیگ (جو ریڑھی پہ نان چنے بیچنے کا کام کرتا ہے ) کی کہانی رنگین تصویر کے ساتھ اخبار میں چھپتی ہے جس کے مطابق مرزا شمیم بیگ دراصل ایک نواب زادہ تھا ہندوستان کی ایک چھوٹی مگر خوشحال ریاست کے نواب کا ولی عہد اور اکلوتا وارث جس کی ریاست دوران فسادات خاندانی عداوت کا شکار ہو گئی اور مرزا شمیم بیگ ایک خاندانی ملازم کی مہربانی بمشکل جان بچا کر پاکستان آ گئے اور اس ملازم کا بچہ رحمانی بھائی بھی ان کے ساتھ رہا۔ اب وکیل صاحب کی معاونت سے انھیں ان کی ریاست کے بدلے سو مربعے وسطی اور جنوبی پنجاب میں اراضی الاٹ ہو گئی جس کا نصف وکیل کو حسب وعدہ دینے کے باوجود ان کی سماجی حیثیت یکسر تبدیل ہو گئی۔ یہیں راوی سماجی رویوں کا تجزیہ بھی عمدگی سے کرتی نظر آتی ہیں اور سماجی اقدار کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتی ہیں

ناول کی کہانی اس ٹوئسٹ سے کچھ فلمی سی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن ناول کا اختتام فکر انگیز ہے زندگی کی بے ثباتی، ظاہری خوبصورت کی بے معنویت اور دیگر مادی پیمانوں کی بے وقعت کو آشکار کرتا ہوا۔ دعوت فکر دیتا ہوا کہ اگر اختتام یہی ہے تو زندگی میں یہ ساری تگ و تاز کس لئے۔ سب کچھ بے معنی۔ وجود کی ساری آویزش کس لئے جینے کی ہوس کیوں۔ اور اس ہوس سے آزادی ہی اصل زندگی ہے۔

Facebook Comments HS