سیاسی ہم شکل۔ غیر فطری رشتہ


پاکستان میں جیسے جیسے الیکشن کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ رہی ہیں وہیں قومی دھارے کی سیاست سے نکالی گئی پارٹیوں، یعنی عمران خان کی 9 مئی والی جماعت اور الطاف حسین کی 22 اگست والی پارٹی کروٹوں پہ کروٹیں بدل رہی ہیں۔ اگرچہ تحریک انصاف کے عمران خان اور الطاف حسین دو مختلف زاویوں کا نظریہ رکھتے ہیں، لیکن جب بات ریاست اور اس کے مفادات کی آتی ہے تو یہ دونوں کہیں اور ہی کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ آئیے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان دونوں میں کیا مماثلت ہیں۔

گزشتہ دنوں پاکستان کے سوشل میڈیا کے معروف سیاسی ماہر اور تحریک انصاف کے سابقہ سوشل میڈیا کرتا دھرتا فرحان ورک سے تفصیلی گفتگو ہوئی اور انہوں نے بھی ایسی ہی ملتی جلتی رائے کا اظہار کیا جس میں سے چند مشترکہ مماثلاتی نکات پیش خدمت ہیں۔

لوگوں کو یہ بات تو یاد ہے کہ بائیس اگست 2016 کو الطاف حسین نے پاکستان کے خلاف نعرہ لگایا تھا، لیکن وہ یہ بات بھول گئے کہ اسی خطاب کے دوران انہوں نے واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ اب اس اجتماع کا اگلا پڑاو کراچی میں رینجرز کے ہیڈ کوارٹر میں ہو گا اور مظاہرین وہاں موجود نفری پہ ٹوٹ پڑیں گے، گھیراؤ جلاؤ ہو گا اور مزاحمتی انقلاب بپا کرنا ہو گا۔

چونکہ یہ اجتماع کراچی کے ایک علاقے میں ہو رہا تھا تو وہاں پر فوری طور پر کوئی جی ایچ کیو یا کور کمانڈر ہاؤس دستیاب نہ تھا۔ یہ سہولت پی ٹی آئی کو مل گئی اور انہوں نے اپنے قائد کی گرفتاری پر ریاست یا قانون نافذ کرنے والوں سے احتجاج کرنے کے بجائے سیدھا عسکری تنصیبات، یادگار شہدا اور کور کمانڈر ہاؤس کو نشانہ بنانا اپنی اولین ذمہ داری سمجھی۔

واضح رہے کہ یہ ری ایکشن کوئی لمحہ موجود کا عوامی رد عمل نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے تحریک انصاف کی ذہن سازی تھی جسے الطاف حسین فکری نشستوں کے ذریعے گاہے بگاہے کرتے رہتے تھے۔ اندرونی فکری نشستوں میں اختتامیہ دعا میں ہاتھ اٹھا کر تمام ذمہ داران اور سینئر قائدین زور سے دعا کرتے تھے کہ اللہ ہمیں جلد از جلد اپنی منزل۔ تک پہنچا، تحریک کے صرف چند ہی سینئر ذمہ داران کو پتہ تھا کہ یہ منزل کیا چیز ہے۔

عمران خان نے اسی منزل کو بعد میں حقیقی آزادی کا روپ دیا، ایک جانب الطاف حسین نے منزل کے حصول کے لئے براہ راست بانیان پاکستان اور لاکھوں شہیدوں کی قربانیوں کو بالائے طاق رکھا تو دوسری جانب عمران خان نے ریاست مدینہ اور خلاف کے خواب کو اپنا حاصل زندگی بنایا اور اس کے راستے میں جو بھی نظر آیا انہوں نے اس سے ٹکر لے ڈالی۔

متحدہ کے عروج کے زمانے میں الطاف حسین نے ایک زیر زمین نیٹ ورک قائم کیا جو بھتہ خوری، بدمعاشی اور ٹارگٹ کلنگ کا ذمہ دار تھا، جبکہ عمران خان نے ٹائیگر فورس اور پھر اپنے افغان ہمدردوں کے ذریعے کنٹرول کرنے کی ٹھانی۔

الطاف حسین کو شروع سے ہی میڈیا پر زور زبردستی اور دھمکی سے اپنے پرچار کی شدید خواہش رہی اور یہ خواہش ففتھ جنریشن وارفیئر، نجی ٹی وی مالکان اور سوشل میڈیا کی شراکت سے عمران خان نے پوری کی۔ عمران خان نے بھی زمان ٹاؤن میں دیوار پہ پردہ لگا کر روز اپنا شوق پورا کیا اور الطاف حسین کے گھر کی دیوار پر نیلا پردہ آج بھی لگا روز ان کے شوق پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

عمران خان اور الطاف حسین دونوں ہی انتہائی خود پسند اور عدم تحفظ کی شکار طبیعت کے مالک ہیں، وہ اپنے سامنے کسی کی نہیں سنتے، کانوں کے انتہائی کچے ہیں اور ہمیشہ اپنے ہی وفاداروں کو نکال باہر پھینکتے ہیں۔ یہ بات لندن سیکریٹریٹ کے بہت سے لوگوں کے علم میں ہے کہ شہیدوں اور اسیروں کے نام پہ جمع ہونے والے چندے سے ایک بار پچیس ہزار پاونڈ ایک امریکی جریدے پہ خرچ کر کے سر ورق کی جگہ خریدی گئی جسے اب تک ریفرینس کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔

نیویارک اور ٹورونٹو کے بڑی بڑی شاہراہوں پر بل بورڈز اور چلتے ہوئے منی ٹرکس کے ذریعے عمران خان کا پرچار کیا جاتا ہے یہاں بھی شوکت خانم، نمل اور ڈیم فنڈ کے نام پر بڑی بڑی رقومات جمع کی گئی تھیں جن کا آج تک کوئی حساب نہیں مل پایا۔ اب آتے ہیں سب سے اہم مشترکہ مفاد کی مماثلت پہ جسے اتفاقیہ ماننا بہت مشکل کام ہے۔

جی ہاں، عمران خان نے اپنے دور حکومت میں جس طرح پاکستان کی داخلی، خارجی و معاشی میدان میں تباہی پھیری ہے اس پر ہندوستان کے میڈیا نے مکمل اطمینان کا بارہا اظہار کیا اور ایک ریٹائرڈ میجر ویلاگر نے تو یہاں تک کہا ہے جو کام انڈیا خود نہیں کر سکتا تھا وہ ان کے اپنے پردھان منتری شری عمران خان نے کر دکھایا۔ یہی میڈیا اب ان کی گرفتاری پر شدید پریشانی کا شکار ہے گویا ان کا اپنا کوئی آلہ کار زیر عتاب ہے۔

بھارتی چینلز پر الطاف حسین انتہائی مقبول رہے اور ان کا گایا "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” آج بھی یوٹیوب اور ویب سائٹس پر موجود ہے، ان کے لئے بھی اے این آئی کی سہولیات ہمہ وقت موجود رہتی ہیں اور بھارتی ویلاگرز ان کے گاہے بگاہے انٹرویو نشر کرنا اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں۔ اب اس مماثلت کو اتفاقیہ اس لئے نہیں مانا جا سکتا کہ مشکل کی اس گھڑی میں دو مختلف قطب پہ کھڑے لوگوں نے ہاتھ ملا لیا یا پھر یوں کہیے کہ ہاتھ ملوا دیا گیا۔

آج جب سوشل میڈیا پر ان دونوں حضرات اور ان کی جماعت کے کارندوں کی حرکات دیکھیں تو کچھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کنبھ کے میلے میں کھوئے ہوئے دو بھائیوں کو خون کی کشش ایک دوسرے کی جانب کھینچ رہی ہے، لیکن اصلیت میں تو یہ ایک یک طرفہ محبت ہے جو کہ الطاف حسین کی بائی پولر طبعیت کے باعث کروٹیں بدلتی دکھائی دیتی ہے جس پر عوام انگشت بدنداں ہیں کہ جائیں تو جائیں کہاں، اس مماثلت کو مفادات کی وقتی اور شخصیاتی ہم شکل پہچان تو کہہ سکتے ہیں لیکن یہ ایک غیر فطری رشتہ داری ہے جس کا انجام آج نہیں تو کل علیحدگی پر منتج ہے۔

Facebook Comments HS

انیس فاروقی، کینیڈا

انیس فاروقی ایک منجھے ہوئے جرنلسٹ، ٹی وی ہوسٹ، شاعر اور کالم نگار ہیں، اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔

anis-farooqui has 27 posts and counting.See all posts by anis-farooqui