ووٹ کی طاقت
نعمان میرے بہت اچھے دوست ہیں ان کا تعلق پشاور سے ہے۔ زیادہ وقت ان کا لندن میں گزرتا ہے لیکن اپنے وطن سے ان کو بے انتہاء محبت ہے۔ اگر بات ذہانت اور عقل کی کریں تو عقل و فکر کے آخری درجے پر دوران گفتگو پہنچ جاتے ہیں اگر مذاق کریں تو فوراً امانت چن اور ببو برال کے چھوٹے بھائی بن جاتے ہیں۔ وہ آج کل ایک شکوہ شدت کے ساتھ کر رہے ہیں کہ مجھے میری گیس دو، مجھے میری گیس دو، پشاور سمیت پورے ملک میں سردی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سردی ہو اور پاکستان میں گیس کی لوڈشیڈنگ نہ ہو ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ میں نے کہا یار لاہور میں گیس نہیں آتی تو تمہیں کیسے گیس ملے گی۔ وہ پھر شکوہ کرتا ہے گیس ہمارے صوبے سے نکلے، بجلی ہم پیدا کریں پھر بھی ہمیں دونوں چیزیں نہیں ملتی۔ نعمان پختون ہے وہ اپنے روایتی پختون لہجے میں بات کرتا ہے تو انجوائے کرنے کا بھی مزہ آتا ہے۔ ایک ہماری دوست شازیہ نواز ہے جو پھر اسی کے پختون لہجے میں شرارت کرتے کہتی نعمان تمہارے حصے کا گیس ہم غبارے بیچنے والے پٹھانوں کو دے دیتے ہیں جو سارا دن گیس کی ٹنکی لے کر گلیوں میں غبارے بیچتے ہیں پھر نعمان کو تپ چڑھتی ہے۔
ایک ہماری دوست تبسم ہے جس کو سب پیار سے تبو کہتے ہیں اس کو نعمان کی گیس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اسے تو بس میوزک پسند ہے، اس کو لتا، رفیع، کشور وغیرہ کے گانے سارا دن سناتے رہو وہ بہت خوش اور پرسکون رہے گی، اس کا تعلق لاہور سے ہے۔ رہتی مغرب میں ہے لیکن پنجابی لاہور کے سٹائل میں ہی بولتی ہے اردو بہت کم بولتی ہے۔ میں نے کل ان کو کہا نعمان جیسے تم روز اپنی گیس مانگتے ہو مجھے خدشہ ہے کہی کوئی کراچی والا نہ کہے کہ مجھے میرا پانی دو کیونکہ بلاول بھٹو جن کی گزشتہ پندرہ سال سے سندھ پر مسلسل حکومت رہی وہ خود کہتے ہیں میں پانی خرید کر پیتا ہوں۔
ایسے ہی بلوچستان والے نوجوانوں کا بھی شکوہ ہے کہ ہمیں ہمارے بنیادی حقوق نہیں ملتے۔ ہمیں اچھی تعلیم و صحت جیسی بنیادی سہولیات نہیں ملتی۔ ہمارے نوجوانوں کو لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا پختونوں، بلوچوں اور سندھیوں کے تمام مطالبات جائز ہیں جو حقوق پنجاب والوں کو ملتے وہ بلوچستان، کے پی، سندھ، گلگت اور کشمیر والوں کو بھی ملنے چاہئیں لیکن کیا کبھی آپ لوگوں نے اپنے ایم پی اے اور ایم این اے سے سوال پوچھا؟
ہرگز نہیں پوچھیں گے۔ آپ جن کو ووٹ دیتے ہو وہ ہر پانچ سال بعد الیکشن سے پہلے آپ کے پاس آئیں گے، آپ کو بھائی، بیٹا، ماں، بیٹی تک بنانے کو تیار ہوں گے کیونکہ انہوں نے آپ سے ووٹ لینا ہے۔ آپ ان کی نرم دلی اور خلوص سے متاثر ہو کر ان کو ووٹ دیں گے پھر ان سے شکوہ کریں گے آپ ہمارے کام نہیں کرتے، الیکشن کے بعد بھی ان کو جاکر ملیں وہ ووٹ لینے آپ کے پاس آسکتے ہیں تو آپ اپنے بنیادی حقوق کے لئے بھی ان کے پاس کیوں نہیں جا سکتے؟
پاکستانیوں کو ایک بار پھر اپنے ووٹ کی طاقت کے استعمال کا موقع ملنے جا رہا ہے۔ سب پاکستانی اپنے ووٹ کا درست استعمال کریں۔ جو جماعت اور اس کا ایم پی اے اور ایم این اے کے محلے، گلی، شہر، صوبے اور ملک کے لئے اچھے کام کرتے ہیں صرف ووٹ انہی کو دیں۔ یا جن سے امید ہے کہ وہ آپ کے بنیادی مسائل حل کر سکتے ہیں صرف ان کو ووٹ دیں جو آپ کے ووٹ کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ ووٹ لے کر اگلے پانچ سال کے لئے اسلام آباد شفٹ ہو جاتے ہیں ان کو ہرگز ووٹ مت دیں۔
خصوصاً جو لوگ آپ کو خیالی پلاؤ اور سبز باغ دکھائیں ان سے بچیں۔ الیکشن کے وقت آپ کو موسمی سیاستدان بہت ملیں گے جو آپ سے جذباتی باتیں کریں گے اور بلند و بانگ دعوے کریں گے پہلے ایک بار غور کر لیں کیا وہ اس قابل ہے کہ آپ اپنی بات یا وعدہ پورا کر سکتا ہے۔ سندھی، بلوچی اور پختونوں کا پنجابیوں سے ہمیشہ ایک ہی شکوہ رہا ہے کہ یہ ہمارا حق کھا جاتے ہیں، میں اگر لاہور میں رہتا ہوں تو مجھے کوئٹہ، پشاور، کراچی، گلگت یا مظفر آباد کے شہری کے لیے بھی وہی سہالیات چاہئیں جو مجھے مل رہی ہیں۔ پنجابیوں کے دل بڑے ہیں اور لاہوری تو ویسے بھی زندہ دل ہیں۔ لاہوری سب کو گلے سے لگاتے ہیں۔ نفرت اور تقسیم کی بات نہیں کرتے۔ بس تمام بلوچوں، پختونوں اور سندھیوں سے گزارش ہے اپنے ووٹ کا درست استعمال کریں۔ آپ کے ووٹ میں بڑی طاقت ہے یہی ووٹ پاکستان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔


