عوام جنونی قاتلوں کے ہمدرد کیوں بن جاتے ہیں؟


پاکستانی عوام کیا سوچتے ہیں؟ جرم اور کرپشن کے مرتکب افراد کے لیے ان کے جذبات اور رجحانات کیا ہیں؟ راقم کے پاس یہ جاننے کے لیے دو ہی ذرائع ہیں۔ ایک تو عام ڈھابوں پہ بیٹھے لوگوں کی حالات حاضرہ پہ گفتگو سننا اور دوسرا سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک پر حالات حاضرہ پہ آنے والی پوسٹس پہ لوگوں کے کمنٹس پڑھنا۔ اس سے آپ کو عوام کی اجتماعی ذہنیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

انیس دسمبر 2023 کوایک معروف کالم نگار نے ایک سنڈیکیٹڈ کالم نگار کا کالم جو کئی اخبارات میں شائع ہوتا ہے اسے اپنی فیس بک آئی ڈی پر شیئر کیا ہوا تھا۔ اس کالم نگار نے اپنے کالم میں اپنے اس بیٹے کو عدالت کی طرف سے سزائے موت سنانے کے فیصلہ پہ اپنے دکھ اور صدمہ کو بیان کیا ہوا تھا جس نے ڈمبل مارکر اپنی بیوی کو قتل کر دیا تھا۔

اگرچہ ایک آدھ سطر میں انھوں نے اپنی مقتولہ بہو کا بھی ذکر کیا کہ وہ بہت معصوم اور بے ضرر تھی اور لکھا کہ شاید ان کے بیٹے کی تربیت میں کوئی کمی رہ گئی تھی لیکن ساتھ ساتھ بیٹے کو ملنے والی سزائے موت کی سزا پہ اپنے صدمے کو بھی بیان کیا ہوا تھا۔ تنقید کرنے والے کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے کالم میں ہمدردی سمیٹنے کی تکنیک استعمال کر کے اپیلیٹ کورٹ کے ججوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے کو کوشش کی تاکہ ان کے بیٹے کو ملنے والی سزا میں نرمی ہو سکے۔ چلیں، آپ کہہ لیں بیٹا چاہے کتنے ہی بڑے اور گھناؤنے ظلم اور جرم کا مرتکب ہو، ماں باپ اس کے لیے فطری طور پر ہمدرد ہی رہتے ہیں اور اسے سزا ملتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے۔

میں نے اس کالم پہ فیس بک کمنٹس بکس میں بڑی تعداد میں لوگوں کے جو کمنٹس پڑھے وہ حیران کن اور عجیب تھے تاہم میرے لیے غیر متوقع نہ تھے۔ کچھ لوگوں نے اس کالم کو کلاسک لکھا اور کالم نگار کے ساتھ پوری پوری ہمدردی کا اظہار کیا۔ تاہم ایک تھوڑی تعداد نے اختلاف کیا کہ اس بیٹی کے باپ کے کیا جذبات ہوں گے جس کو اس کالم نگار کے بیٹے نے ڈمپل مار کر قتل کر دیا۔ اس پہ کالم پہ واہ واہ کرنے والوں نے ٹرولنگ شروع کر دی اور سخت الفاظ استعمال کرنے شروع کر دیے۔

احباب! راقم گزشتہ کچھ سالوں سے مشاہدہ کر رہا ہے کہ پاکستانی عوام اور اسی طرح پاکستان کے ایک ارب اور چالیس کروڑ کے قریب آبادی رکھنے والے ہمسایہ ملک کی عوام کے مائنڈ سیٹ میں ظلم، جرم اور کرپشن کے مرتکب افراد یہاں تک کہ جنونی قاتلوں کے لیے وقتی طور پہ تو غصے کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں لیکن جب ان کو عدالت کی طرف سے سزا سنائی جاتی ہے تو یہی عوام اس سزا کے اعلان پہ افسردہ ہو جاتے ہیں اور ان کے اندر جرم کے مرتکب فرد کے لیے ہمدردی کے جذبات امڈ آتے ہیں۔ ”ہائے بیچارے کو سزائے موت نہ ہو جائے۔ ہائے بیچارے کی زندگی جیل میں ہی نہ گزر جائے۔ مقتول کے وارث کسی طرح اس کو معاف کر دیں اور یہ رہا ہو جائے“ ۔

اچھا، ایسا مائنڈ سیٹ صرف عوام میں ہی نہیں پایا جاتا بلکہ بعض اوقات یہ کچھ پولیس افسروں اور کچھ ججوں کے اندر بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ آپ ماضی پہ نظر دوڑائیں کتنے قاتلوں کو شک کی رعایت دے کر صرف اس لیے بری کیا جاتا رہا کہ اس بیچارے نے غیرت میں آ کر اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو قتل کیا تھا، اب اس کو پھانسی تو نہ ہو اب اس کی زندگی جیل میں تو نہ گزرے۔

نومبر اور دسمبر 2023 کے مہینوں میں پاکستانی پنجاب کی حکومت نے پولیس پہ زور ڈالا کہ چھوٹے بچوں کو گاڑی اور موٹر سائیکل کی ڈرائیونگ نہ کرنے دے کیونکہ اکثر یہ حادثات کا سبب بن جاتے ہیں۔ دو چار دن پولیس کی طرف سے کم عمر ڈرائیوروں کی پکڑ دھکڑ کی مہم چلی تو عوام ایک دم غصے میں آ گئے یہاں تک کہ میڈیا والوں نے بھی حکومت پر تنقید شروع کر دی۔

اٹھارہ دسمبر 2023 کو راقم بہاول پور میں ایک ڈھابے پہ چائے پینے گیا۔ اس ڈھابہ پہ کبھی کبھی پٹرولنگ پولیس بھی چائے پینے آجاتی ہے۔ ڈھابہ والے نے مجھے بتایا ”اکبر صاحب! میں نے پولیس والوں سے پوچھا کہ پولیس کم عمر ڈرائیوروں کے خلاف ایکشن کیوں لے رہی ہے؟“ تو پولیس والوں نے جواب دیا ”چوہدری! ان چھوٹے بچوں کو گرفتار کرنے کو ہمارا دل بھی نہیں کرتا۔ ہم ان کو موٹر سائیکل چلانے سے روکیں تو یہ بیچارے اسکول کیسے جائیں گے؟ ان کے گھر والوں کے لیے مارکیٹ سے سودا سلف کون لائے گا؟ لیکن کیا کریں اوپر سے حکومت کا دباؤ ہے ہم مجبور ہیں“ ۔

چلیں، مان لیا امریکہ اور یورپ میں سسٹم ہے کہ ہر اسکول اور تعلیمی ادارہ طلباء کو اسپورٹس گراؤنڈ اور پک اینڈ ڈراپ ٹرانسپورٹ سہولت مہیا کرنے کا پابند ہے جبکہ ہمارے ملک میں بھاری فیسیں وصول کرو اور سہولت ایک بھی نہ دو والا سسٹم ہے تاہم اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ چھوٹے بچوں کو مکمل چھوٹ دے دی جائے کہ وہ ایک سو بیس کلو میٹرز کی اسپیڈ سے شہر میں موٹر سائیکل اور کاریں دوڑاتے پھریں۔

ڈھابے والا چوہدری کہہ رہا تھا ”چلو یار، چھوٹی عمر دے نیانیا نوتھانے دی حوالات تے جیل اچ بند نہ کرن پر گڈی تے موٹر سائیکل دے اصل مالک وس تے کوئی سزا تے ہووے فر مڑ کے او چابیاں بچاں دے حوالے نہ کرے۔ اس بندے وس تے وی کوئی سزا ہووے جس نے بچاں نوں گڈی چلان سکھائی“ (چلو یار، کم عمر ڈرائیوروں کو تھانہ کی حوالات میں بند نہ کریں اور نہ ہی انھیں جیل بھیجیں لیکن گاڑی اور موٹر سائیکل کے قانونی مالک کے خلاف تو کوئی ایسی سزا ہو کہ وہ آئندہ گاڑی اور موٹر سائیکل کی چابی ان بچوں کے حوالے نہ کرے۔ ساتھ ساتھ اس شخص کے لیے بھی کوئی سزا ہو جس نے ان چھوٹے بچوں کو گاڑی کی ڈرائیونگ سکھائی) ۔

خیر۔ جس ملک میں عوام اور خواص جرم اور کرپشن کے مرتکب افراد کے لے ہمدردی کے جذبات محسوس کرتے رہیں گے اس ملک سے کبھی بھی ظلم اور کرپشن ختم نہیں ہو سکتے۔ آپ اپنے ملک کو امریکہ، یورپ، کینیڈا اور جاپان جیسا ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو اپنے عوام اور خواص کا مائنڈ سیٹ بدلنا ہو گا۔

Facebook Comments HS