فلم ”لجا“ اور عورت کا شرم حیا کا تصور


عورت ذات کو روز اول سے ہر جگہ اور ہر رنگ میں زیربحث لایا گیا کبھی اس کے حق میں تو کبھی مخالفت میں۔ مذاہب بھی عورت کو مکمل حقوق دینے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں وہیں اس مسابقت میں بعض اسے ناقص العقل بھی قرار دیتے ہیں۔ جدید دور میں عورت کے حق میں کئی آوازیں بلند ہوئیں اور کہا گیا اسے مرد کے برابر حقوق دیے جائیں چونکہ یہ مرد سے کسی صورت کم تر اور کمزور نہیں۔ عورت کو مرد کے مقابل ہمیشہ ”دوسرا“ سمجھا گیا اور مرد کو ”پہلا“ ، عورت نے دراصل اپنے ”دوسرے“ ہونے کی جنگ لڑی ہے اور ابھی تک لڑ رہی ہے وہ اپنے آپ کو ”دوسرا“ نہیں سمجھتی اور ایسا بھی نہیں کہ وہ ”پہلے“ کی جگہ لینا چاہتی ہے بلکہ وہ ”پہلے“ کے مقابل ”دوسرا“ نہیں رہنا چاہتی وہ محض یہ ثنویت ختم کرنا چاہتی ہے۔ مختلف وقتوں میں فیمینزم کی کئی تحریکیں ابھر کر سامنے آئیں۔ یورپ میں ان تحریکوں کے حاصلات بھی ہوئے۔ فیمینزم تحاریک کی البتہ ژاک دریدا نے مخالفت کی چونکہ وہ سمجھتا تھا کہ چھوٹے بیانیے کے طور پر عورت خود کو ابھار رہی ہے اور ہر چھوٹے بیانیے میں ایک بڑا بیانیہ بننے کا رجحان موجود ہوتا ہے۔

فلم ”لجا“ بنیادی طور پر عورت کے حوالہ سے اس شرم، لحاظ کے تصور پر بنائی گئی ہے جس کا انہیں صدیوں سے سامنا ہے۔ اس کو شرم، لجا کے کھوکھلے تصورات کے نام پر اور لجا کے کڑوے کسیلے گھونٹ پلا کر محدود و محصور کر دیا جاتا ہے جب کہ مرد کو ہمیشہ ”پہلے“ کے طور پر ان سے ماورا قرار دیا جاتا ہے۔ عورت ہمیشہ سے ”دوسرا“ بن کر دکھ، کرب، جھیلتی، سہتی آئی ہے۔ اس کے غموں کا کبھی کوئی مداوا نہیں کیا جاتا، کبھی وہ چیختی، چلاتی ہے تو کبھی سب برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے، سسکارتی ہے، روتی ہے تو کبھی آہ و فغاں کرتے کرتے نڈھال پڑ جاتی ہے، بالائے ستم کبھی تو کڑھ کڑھ کے اس جہاں سے ہی مکتی پا جاتی ہے۔

اس کا حقیقی اظہار یقیناً وہ اپنی سسکیوں، ہچکیوں اور کراہوں کی صورت کرتی ہے۔ یہ فلم عورت کے سماج میں گھٹ گھٹ کر جینے کی کہانی کا اظہار ہے۔ ہم فلم لجا کا تنقیدی نقطہ نظر سے جائزہ لیں گے تاکہ اس لجا کے نام پر عورت کو جس طور محدود کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں جو سماج میں خلا پیدا ہوتا ہے اس کی درست طور پر نشاندہی ہو سکے۔

تنقید متن/سماج میں در شگاف کی طرف نشاندہی کرتی ہے، اسی طرح لاتشکیل متن کی حتمیت اور کمزور پہلووٴں کی طرف قاری کو متوجہ کرتی ہے۔ فلم میں انیل کپور ایک موقع پر چور کا کردار نبھاتا ہے، پولیس آ کر انہیں پکڑ لیتی ہے تب ان کی اداکاری کمزور معلوم پڑتی دکھائی دیتی ہے حالاں کہ پولیس جونہی آتی ہے وہ خوف کھاتا ہے اور نہ ہی بھاگنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ بڑے سہل انداز میں ان سے بات چیت کرنے لگ جاتا ہے بلکہ اپنے ہاتھ میں پکڑے پیکٹ سے انہیں بسکٹ نکال کر بھی پیش کر دیتا ہے، یہ اشارہ بہ ذات خود کلاکاری کے تناظر میں نقد ہے اور اس کمزور اداکاری کو نظر انداز نہ کرنا اور تگڑی کلاکاری کے مقابل اس کو اہمیت دینے کی بات دراصل اس کی لاتشکیل ہے۔

اس فلم کے کانٹنٹ میں مرد کی حتمیت سے جو عورت کا استحصال ہوتا ہے اس پر یعنی ”دوسرے“ نکتے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ دوسرا ہم اس میں کلاکاری کے حوالے سے بھی تجزیہ پیش کریں گے کہ اس کے زیروبم کیا ہیں۔ سردست بولی ووڈ انڈسٹری میں خواتین بے مثل فنکارہ ہیں جب کہ مرد (کچھ کلارکار کی اداکاری بھی بے مثل ہے جیسے سنجیو کمار، دلیپ کمار، پرتھوی راج، نصیر الدین شاہ، اے کے ہینگل، اوم پرکاش، اوم پوری اور نوازالدین صدیقی وغیرہ) اس طرح اداکاری کے وہ جوہر نہیں دکھا پائے جو مہلاوٴں نے کر دکھائے ہیں یعنی کلاکاری کی دنیا میں بھی وہ ”دوسری“ نہیں ہیں۔

اعلی فلم کچھ وقفے سے جب کئی بار دیکھی جائے تو ہر بار وہ ناظر پر تقلیب کے عمل سے گزرتی رہتی ہے اور یوں ناظر کے تصور و عمل کی سطح پر ہر بار مختلف تفہیم سے لاتشکیل کا عمل جاری رہتا ہے اور اس طرح جہاں تفہیم کی سطح پر لاتشکیل ہوتی ہے وہیں وہ لاتشکیل ناظر کے تصور میں ایک نئی تشکیل کو جنم بھی دیتی ہے اور یوں اگلے مرحلے پر وہ تشکیل پھر لاتشکیل میں منقلب ہو جاتی ہے۔

رگھو یعنی جیکی کی بیوی اسے اپنی دائروی کائنات سمجھنا چاہتی ہے یعنی ایسی کائنات جو اس کے اپنے دائروں میں ہو اور انہی دائروں میں وہ اپنی کائنات بسانا چاہتی ہے۔ رگھو اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے آپ سے بہت محبت ہے لیکن اتنا ہی پیار مجھے اپنی آزادی سے ہے اسی لیے میں اپنے باپ سے اتنا دور آ کر یہاں رہتا ہوں۔ وہ آگے سے کہتی ہے انیتا سے سب کیا تھا، چونکہ اس کی راہ و رسم انیتا سے بھی ہوتی ہے رگھو کہتا ہے انیتا کو چھوڑو تب اس کی بیوی طیش میں آتے ہوئے اپنی کائنات میں مداخلت پر احتجاج کرتی ہے۔ رگھو ہر طرح سے اسے انہی کی کائنات ہونے کا احساس دلاتا ہے مگر وہ سسکیوں، آہوں میں اپنا کہنا کہے جاتی ہے۔

عورت اپنے پتی/شوہر کو ہی اپنی کائنات سمجھتی ہے جب کہ مرد اپنی پتنی/بیوی کو اپنی ملکیت جانتے ہوئے اپنی دنیا اس کے علاوہ بھی جانتا ہے جب کہ ایک عورت کے لیے یہ بات قابل قبول نہیں۔ مرد اپنے کو حصار میں سمجھتا ہے اور نہ ہی اپنی بیوی کی ملکیت جانتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بابت عورت کا موٴقف درست ہے یا مرد کا۔ اگرچہ شادی ایک معاہدہ ہے تو اس کی پاسداری دونوں پر لازم ہے چونکہ اسے دونوں اطراف سے مساوی بنیادوں پر طے کیا جاتا ہے۔

پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہر دو طرح سے مرد کی آزاد دنیا کو جواز فراہم کیے جاتے ہیں جب کہ عورت کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ آپ مرد کی عزت/ حدود ہو جب کہ مرد اپنی حدود خود طے کرتا ہے۔ اگر مرد اپنے فیصلوں میں آزاد ہے تو پھر عورت پر سینکڑوں قدغنیں کاہے کی۔ اگرچہ لبرل دنیا میں اپنی حدود طے کرنے میں مرد و عورت دونوں آزاد ہیں۔ تاہم شادی کے معاہدے کی پاسداری بھی ناگزیر ہے۔ ایسا بھی ہرگز نہیں کہ شادی کا معاہدہ مرد و عورت کو آزاد نہیں رہنے دیتا وہ دونوں آزاد ہیں لیکن اس معاہدے کا پاس بھی لازم ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتا کہ عورت اپنے شوہر کی آزادی کے راستوں میں مخل ہو لیکن بہ عین شوہر بھی اسی اپروچ کا حامل ہو۔

دنیا میں بے بسی سے بڑھ کر کوئی دکھ نہیں۔ صدیوں کی سماجی اقدار نے مرد کو حاکمیت کے جواز بخشے ہیں۔ اس میں گھناوٴنا کردار مہابیانیے کا عطا کردہ بھی ہے لیکن ایک وقت وہ بھی تھا جب عورت حاکم تھی، زمانے کے تغیر نے پلٹا کھایا اور مرد حاکم ٹھہرا بہرحال مرد اپنی دنیا میں کسی ”دوسرے“ کو حائل نہیں ہونے دیتا یعنی ”دوسرے“ سے ”پہلا“ نہیں بننے دیتا وہ اسے اپنی لطافت کی شے سمجھتا ہے یہ بات عمومی طور پر ہمارے یہاں ”پہلے“ کے حوالے سے کر رہا ہوں۔

عورت مرد کو اپنی کائنات سمجھتی ہے اور سمجھنا چاہتی ہے مگر مرد اس سوچ کو بالائے طاق رکھے جاتا ہے۔ جیکی شیروف کی بیوی جب اس کے دوسری عورتوں کے ساتھ نہ جائز تعلقات پر برہم ہو کر غم و غصہ کا اظہار والد یعنی سسر سے کرتی ہے تو باپ بجائے اصل قضیہ پر اپنی بہو/بیٹی سے استدلال طلب کرنے کہ اسے نفسیاتی حوالے سے جیکی کے افعال کا جواز مہیا کرتا ہے کہ وہ بچپن سے ہی ایسا ہے، دس سال کا تھا تو اس کی ماں اس دنیا سے گزر گئی اور وہ بورڈنگ اسکول میں پڑھ کر بڑا ہوا جس وجہ سے اس پر یہ اثرات غالب ہیں مزید کہتا ہے کہ تم اس گھر کی عزت ہو۔

ویسے یہ بھی ایک عجب بات ہے کہ خانگی حوالہ سے عزت کا تصور عورت کے کھاتے میں کیوں کر ڈال دیا جاتا ہے جب کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ عزت کا تصور ہر فرد کے لیے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، انفرادی حیثیت کا حامل ہو۔ عزت ہر فرد کی اپنی ہوتی ہے یعنی جب فطری طور پر ہر انسانی وجود دوسرے سے الگ اور مختلف ہے تو یہ تصور بھی اپنی انفرادیت میں رہنا چاہیے۔ حیرت کا مقام تب آتا جب جیکی تمام حدود پار کرتے ہوئے اپنی بیوی سے یہ کہنے میں بھی باک نہیں آتا کہ تم کسی کی خوشی کو منطقی راستہ دے سکتی ہو۔

اس بات کا اگر مختلف پہلووٴں سے جائزہ لیا جائے تو ایک طرف تو یہ لبرل ازم کا عملی اظہار ہے جب کہ دوسری طرف لبرل دنیا میں بھی سماجی اقدار سے روگردانی کی اجازت آپ کو یا کسی کو ہرگز نہیں ہوتی۔ اگرچہ اس بات کو منطقی زاویے سے زیربحث لایا جائے تو اس نتیجے پر پہنچنا بعید نہیں رہتا کہ جدید دنیا میں بھی کوئی کسی کو مجبور محض نہیں کر سکتا کہ آپ فلاں کو راحت یا فلاں فلاں کے ساتھ ایسے کریں یا ایسے نہ کریں۔ ہر کوئی اپنے فعل میں آزاد ہے۔ فلم ”لجا“ چونکہ ہندوستانی کلچر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بنائی گئی ہے تو اس سیاق میں ہماری تان آخر عورت پر ہی آ کر کیوں ٹوٹتی ہے یہ بحث طلب موضوع ہے اب آگے اس بات کا مزید گہرائی میں جا کر جائزہ لیتے ہیں۔

حالات بدل گئے ہیں اب مرد جب عورت کے سامنے اپنی اوقات ترازو میں تولنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اسے جھٹ سے رد کر دیتی ہے چونکہ وہ اس طرح اپنی حتمیت و برتری ثابت کرنا چاہا رہا ہوتا ہے۔ اگر آپ غور کریں تو ہندوستانی کلچر میں عورت، مرد کے مقابل نہیں آنا چاہتی بلکہ مساوات کی قائل ہے وہ یہ چاہتی ہے کہ مرد اپنی تشکیل اس طور نہ کرے کہ جس سے ہایئرارکی قائم ہو بلکہ مرد اپنی طرح عورت کو بطور جنس سمجھے نہ کہ ”دوسرا“ سمجھے۔

اس کی منشا بس یہی ہے کہ اگر مرد خود کو ”پہلا“ سمجھ کر اپنی طاقت پر نازاں ہے تو پھر ہمیں بھی کمزور مت سمجھو۔ وہ اپنے جیون کے سامان پیدا کرنا چاہتی ہے جو کہ ”پہلے“ نے برس ہا برس سے چھین رکھے ہیں یا اپنے جبر سے اسے خارج پر آنے ہی نہیں دیے۔ عورت اپنی مریادا چاہتی ہے اور نہیں چاہتی کہ اسے بے وقوف سمجھا جائے۔ وہ کئی رنگ میں اپنے جیون نبھانا چاہتی ہے یعنی کبھی بیٹی کے روپ میں تو کبھی دوشیزہ کے طور پر اور ماں بنتی ہے تو نسلوں کو سنوارنا چاہتی ہے۔

بھائیو! دھرتی ماتا کی متنوع جہات اس سے فروزاں ہیں۔ وہ سندان سے مرد کو چور چور کر سکتی ہے جب ”پہلا“ اپنے کو حتمیت جانتے ہوئے سب ضابطے شکن کرنا روا سمجھنے لگ جائے۔

سماجی خلا اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سماج سے متعلقہ شے عدم فعال کا شکار ہو یا اپنی فعالیت سے وہ جوہر سامنے نہ لا رہی ہو جو اسے لانے ناگزیر ہوں یعنی وہ انسان سے متعلقہ ضرورت کو پورا کرنے سے عاجز آ چکی ہو تب لوگوں کے لیے وہ شے شگاف پیدا کرنا شروع کر دیتی ہے۔ سماجی خلا کو دو سطح پر دیکھا جا سکتا ہے اور پر بھی کیا جا سکتا ہے ایک جب عدم فعال شے کی جگہ فعال متبادل شے کو لایا جائے اور وہ نئی فعال شے معاصر تقاضوں کو پورا کرتی نظر آئے یا نظری سطح پر وہ دماغ جو سماجی خلا کو قبل از وقت جان لیں اور اس حوالہ سے اپنی فکر پورے استدلال کے ساتھ پیش کریں تاکہ آنے والے سماجی خلا کو بروقت پر کیا جا سکے۔

ان میں پہلے کا تعلق قطعی فطری ہے یعنی وہ خودرو ہے جب کہ دوسرے کا تعلق انسان کے ارادے سے وابستہ ہوتا ہے چونکہ یہ ارادہ یعنی تفکر تعبیری نوعیت کا ہوتا ہے، لہذا اس بابت تفکر ”ہو سکتا“ پر چلتا ہے اور یہ ”ہو سکتا“ مفروضہ کی مانند ہوتا ہے جس کی نفی و اثبات اپنے نتائج سے مشروط ہوتی ہے۔ نشان خاطر رہے دونوں کا اطلاق، تطبیق اور عملی صورت فطری ہے۔

ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ عورت سماج میں اپنے پورے کل کے ساتھ فعال نہیں ہے۔ اس کی عدم فعالیت کے پیچھے کئی ایک کارن ہیں۔ اس میں مہابیانیے کا کردار اپنی واضح پوزیشن قائم رکھے ہوئے ہے لیکن اس کے ساتھ قبائلی اور جاگیرداری سماج کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا چونکہ ایسے سماج میں سماجی اقدار بنیاد پرستی کی حد تک پختہ ہوتی ہیں۔ عورت کے عدم فعال ہونے کی وجہ سے جو سماجی خلا سامنے آتا ہے اس مسئلے کو قبائلی اور جاگیرداری طرز معاشرت کے تناظر میں رکھ کر دیکھا جائے تو بات کافی حد تک واضح ہو جاتی ہے۔

عورت ”پہلے“ کی جگہ نہیں لینا چاہتی بلکہ وہ ”پہلے“ کی پوزیشن پر آ کر اس تجربے سے خود گزرنا چاہتی ہے جو اس کے سامنے معاصر سماج میں ”دوسرے“ نے اپنے جوہر دکھا کر ”پہلے“ کی برتری و حتمیت کو چیلنج کیا ہے وہ محض اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہتی ہے۔ اس کے سامنے معاصر سماج میں کامیاب مثالیں موجود ہیں جو اس کے اپنے تحرک کا باعث بھی ہیں۔ وہ اس وقت محض یہ سوچ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کو تیار ہے کہ اس جگہ پر خود کو فعال کر کے کیا وہ جوہر سامنے لا سکتی ہے جو ”پہلے“ نے لائے ہیں وہ اپنی ملکیت نہیں چاہتی بس خود کو فعال کرتے ہوئے اپنے جوہر سامنے لانا چاہتی ہے۔ اگرچہ گھروں کی سیاست میں اس کے کردار کا بغور جائزہ لیں تو یہ اتنی بے بس نہیں، جتنی نظر آتی ہے۔ خیر یہ اس کا دوسرا پہلو ہے اور ہمارے پیش نظر اس وقت اس کا یہ پہلو نہیں ہے۔

سماج کی تشکیل محض ”پہلے“ سے مکمل نہیں ہوتی بلکہ حقیقی معنوں میں عورت و مرد دونوں کی فعالیت سے سماج متشکل ہوتا ہے۔ بالفرض ہم ”دوسرے“ کو سماج سے منہا کر دیں تو سماج کی فطری تشکیل اور ارتقا نہ ممکن ہے۔ ”دوسرے“ کی بے دخلی دراصل سماجی خلا کو جنم دے گی۔ اگر اس بات کو دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو ہم ”دوسرے“ کو مہابیانیے کے نام پر یا قبائلی و جاگیردارانہ سوچ یا ”پہلے“ کی حاکمیت کی بنیاد پر عدم فعال کر دیتے ہیں یا وہ ”دوسرا“ خود سے غیر فعال ہو جائے تو لازمی بات ہے وہ اپنا جوہر نہیں دکھا پائے گا اس کا جوہر سماج کے لیے ہونا تھا، یوں وہ اس کی غیر فعالیت سے پیدا ہی نہیں ہو گا یا سامنے نہیں آ سکے گا تو سماج میں اس جوہر سے جو ارتقا ناگزیر تھا وہ سرے سے ہی معدوم پڑ جائے گا تو اس صورت میں نتیجہ عیاں ہے کہ اس کی عدم فعالیت سماج میں خلا کو جنم دے گی، اس مذکورہ بات کے بعین الٹ جوہر کا ظہور ہوتا ہے تب سماجی ارتقا کا ہونا یقینی بات ہے۔

جہاں جہاں ”پہلے“ یعنی عورت کو ہر طرح کی آزادی دی گئی ہے وہاں اس نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنے کمالات دکھائے ہیں۔ اگر انتظامی حوالہ سے دیکھا جائے تو وہ کئی ممالک میں ریاستی امور کو احسن انداز میں بطور حکمران کے چلا رہی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں عورت کو ”دوسرا“ نہیں سمجھا گیا بلکہ اسے حقیقی آزادی دی گئی ہے۔ اس نے اپنے آپ کو معاشرے میں فعال کیا ہے اور اپنے تمام تر جوہر کے ساتھ خود کو منوایا ہے۔ یاد رہے اس کے جوہر ”پہلے“ سے کم یا کم تر نہیں ہیں بلکہ سماج کے حقیقی ارتقا کے عین مطابق ہیں۔

اس کے ساتھ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جن معاشروں نے ”دوسرے“ کو آزادی دی ہے اور فعال کیا ہے تو ان معاشروں کی صورت حال کیا ہے، یقیناً وہ معاشرے ترقی یافتہ ہیں اور جہاں ”پہلا“ مطلق العنان کی پوزیشن پر ہے اور ”دوسرا“ غیر فعال ہے تو وہ معاشرے ترقی کی لکیر سے پیچھے کیوں ہیں؟ بہرحال آخری تجزیے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ سماج کا حقیقی معنوں میں ارتقا تب تک ممکن نہیں جب تک کہ ”دوسرے“ اور ”پہلے“ کی تفریق ختم نہ کر لی جائے اور ”دوسرے“ کو آزاد و فعال نہ کیا جائے وگرنہ سماجی خلا کا در آنا غیر یقینی نہیں رہتا۔

Facebook Comments HS