25 دسمبر کے حوالے سے اپنی بیٹی عائشہ عروج کے ساتھ ایک مکالمہ
”یہ دنیا کتنی حسیں اور خوبصورت لگے اگر دنیا کے سبھی لوگ اپنے اپنے مذہب، رنگ و نسل اور ذات پات سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے تہوار مل بانٹ کے سیلیبریٹ کریں اور خوشیوں بھرے لمحات میں ان تمام نفرتوں، عداوتوں اور کدورتوں کو بالائے طاق رکھ چھوڑیں جو چند مفاد پرستوں نے اپنے اپنے مفاد کے لیے ہم انسانوں کے بیچ پیدا کی ہوئی ہیں۔
انسانیت کی معراج تو انسانوں کے درمیان مل بانٹ کے جینا ہے شاید اس حقیقت تک پہنچنے میں ابھی خاصا وقت درکار ہے۔ اس سطح تک پہنچنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ہم سب انسان ہیں اور اسی دھرتی ماں کے بچے ہیں جو مرنے کے بعد ہمارے جسد کو بلا تفریق اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ دھرتی ماں کبھی یہ سوال نہیں کرتی کہ تمہاری ذات پات، رنگ نسل یا مذہب کیا ہے؟
وہ خاموشی سے بغیر کوئی سوال کیے سب کو اپنے اندر اتار لیتی ہے، باقی ساری تو رسومات ہیں جو انسانوں نے ایک دوسرے پر اپنی برتری جتانے کے لیے قائم کی ہوئی ہیں اور اپنے اپنے فلسفہ حیات کے مطابق اپنے مردوں کی رسومات ادا کرلیتے ہیں ”
یہ خوبصورت سے الفاظ میری بیٹی عائشہ عروج کے ہیں جو ابھی میٹرک کی طالب علم ہے۔ لیکن اپنی ایک منفرد سوچ کی مالک ہے اور ذرا ہٹ کے سوچتی ہے۔
گزشتہ رات وہ اپنی اسٹڈی میں مصروف تھی اچانک سے کہنے لگی
” کہ آج ہم سہیلیاں 25 دسمبر کے حوالے سے گفتگو کر رہی تھیں اور اکثریت کا یہ ماننا تھا کہ ہمیں اس دن کو اہمیت اس وجہ سے دینی چاہیے کہ یہ دن بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش ہے نا کہ مسیحیوں کے بڑے دن کے طور پر“
جواز کے طور پر ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں اور ہمیں مسیحیوں کے تہوار تک کا تذکرہ بھی نہیں کرنا چاہیے، اگر ایسا کریں گے تو ہم گناہ گار کہلائیں گے۔
عائشہ کی اس گفتگو کے مخاطب اس کے ماما پاپا تھے۔ ماما نے تو عائشہ کی گفتگو سن کے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی لیکن میرے اندر کا استاد جاگ گیا۔
موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوراً اپنی بیٹی سے سوال کر ڈالا۔
” بیٹا چھوڑو اپنی سہیلیوں کو کہ وہ اس دن کے متعلق کیا سوچتی ہیں مجھے تو صرف تم سے جاننا ہے کہ میری اپنی بیٹی خود کیا سوچتی ہے؟ کیا وہ بھی دوسروں کی طرح سوچتی ہے یا اس کی خود کی بھی کوئی منفرد سوچ ہے؟“
میرے سوال کے جواب میں عائشہ نے ایک پورا گیان دے ڈالا اور اتنی پیاری گفتگو کی کہ میں نے اسے اپنے مضمون کا ابتدائیہ بنا دیا۔
جی ہاں مضمون کے شروع میں انورٹڈ کاماز کے اندر عائشہ کے خوبصورت سے الفاظ ہیں جنہیں میں نے ادبی پہناوا پہنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
ڈائیلاگ بھی کیا کمال کی چیز ہوتی ہے، بس پھر کیا تھا مجھے تو ویسے بھی بہانہ چاہیے ہوتا ہے بات چیت کرنے کا، ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہونے کا، بطور استاد میرا یہ ماننا ہے کہ ہر انسان منفرد ہوتا ہے اور اسی حساب سے سب کے تجربات بھی منفرد ہوتے ہیں اور بعض اوقات جب آپ بچوں سے گفتگو کرتے ہیں تو ان کے چھوٹے سے دماغ میں سے بھی آپ کو کچھ ایسا ”بڑا یا منفرد“ مل سکتا ہے جو آپ کی بہت ساری الجھنوں کو سلجھا سکتا ہے۔ میں نے اپنے 17 سالہ ٹیچنگ کیریئر میں اتنا کچھ کتابوں سے نہیں سیکھا جتنا اپنے اسٹوڈنٹس سے سیکھا ہے، کتابیں تو ایک طرح کی خاموش دوست ہوتی ہیں جو خاموشی سے آپ کے ذہن کو سیراب کرتی رہتی ہیں۔ لیکن چھوٹے بچے جنہیں ہم یہ کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یار یہ تو ابھی بچے ہیں ان سے کیا بات کرنی۔
نہیں جناب! یہ آپ کی بہت بڑی غلط فہمی ہے، یہ آج کے بچے ہیں۔
آج کا مطلب 21 ویں صدی کے بچے جو موبائل اور لیپ ٹاپ کے ساتھ جوان ہوئے ہیں، جو ہم بڑوں سے زیادہ جانتے ہیں، بس ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں ذرا شرم اور جھجک سی محسوس ہوتی ہے۔
ظاہر ہے ”بڑے پن“ کا اپنا ہی ایک الگ سا نشہ ہوتا ہے، ہم ایسے معاشرے میں تو بڑوں کے سامنے زبان کھولنے کو گستاخی اور بند رکھنے کو ادب کا اعلیٰ ترین درجہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے معاشروں میں بچے دولے شاہ کے چوہے بنے رہ جاتے ہیں اور بڑے ”بزرگ“ بن کر زندگی بھر ان کا استحصال کرتے رہتے ہیں۔
اب ایسے ماحول میں کوئی بچہ بڑا کیسے بن سکتا ہے؟
وہ تو بڑوں کی نظروں میں ہمیشہ بچہ ہی رہے گا چاہے وہ 70 سال کا بھی ہو جائے۔
ہمیں تو بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے
کہ استاد کا احترام کریں اور اس کے سامنے اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور زبان کو تالا لگا کر رکھیں۔ ماں باپ جنت کی ضمانت ہوتے ہیں۔
میری نظر میں تو یہ سارے بندوبست یا روایتی کنڈیشننگ ایک طرح سے بچے کی انفرادیت کو کچلنے کے مترادف ہوتی ہے۔ ظاہر ہے اب اتنے سارے بڑوں کی موجودگی میں کون سوال کرے؟
بچہ اپنے بڑوں کو کیسے کہے کہ جناب! آپ کا جواب غلط ہے۔ کیونکہ میں نے گوگل کر کے تصدیق کر لی ہے کون جرات کرے بھائی؟
کیسا عجیب سا سماج ہے نا!
اگر مولوی کے سامنے کوئی زبان کھولے تو بلاسفیمی کا مرتکب ٹھہرا دیا جاتا ہے اور بڑوں کے سامنے کھولے تو گستاخ یا بے ادب ڈکلیئر کر دیا جاتا ہے اور اگر استاد کے سامنے کھولے تو کم مارکس یا فیل کر دیے جانے کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
سب بڑوں کو اپنی اپنی ”پگ یا کلغی“ کی سلامتی کی پڑی رہتی ہے چھوٹوں کے متعلق کون سوچے؟
اتنے سارے نو گو ایریاز، ڈاگماز اور سماجی جبر تلے ہمارے بچے بونے بنتے جا رہے ہیں، ان کے معصومانہ سے سوال ان کے ذہنوں میں ہی دفن ہوتے چلے جا رہے ہیں، ان کی تخلیقی صلاحیتیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کی معصومیت کچلی جا رہی ہے اور ان کی معصومیت میں چھپے ہوئے وہ چھوٹے چھوٹے سے سوال جو وہ کبھی اپنے بڑوں سے پوچھنا چاہتے ہیں مگر ان کے رعب و دبدبے کی وجہ سے پوچھ نہیں پاتے تشنگی کی نذر ہو جاتے ہیں۔
معصوم سے ذہنوں میں سوال کلی کا روپ دھارنے سے پہلے ہی مرجھا جاتے ہیں۔
میں ایک استاد ہونے کی حیثیت سے انہی معاشرتی ”ٹیبوز“ کو ختم کرنے اور شجر ممنوعہ ایسے موضوعات کے گرد قائم کی گئی روایتی سی دیواروں کو مسمار کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور میری کوشش ہوتی ہے کہ ٹیچنگ کے دوران اپنے سٹوڈنٹس کی فی البدیہ سی گفتگو کو انتہائی غور سے سنوں اور جہاں انہیں میری ضرورت ہے ان کے کام آ سکوں۔
اسی اپنائیت والے ماحول میں نجانے ان کی کتنی الجھنیں دور ہو جاتی ہیں اور یہی فکر مجھے اپنے بچوں کے بارے میں بھی لاحق رہتی ہے کہ کہیں بطور باپ میں ان کا کسی بھی طرح سے استحصال تو نہیں کر رہا؟ میرے مضامین بھی جن کے متعلق میرے دوست احباب کا کہنا ہے کہ خاصے بولڈ ہوتے ہیں اور ایک استاد کو اس قسم کے موضوعات زیب نہیں دیتے لکھتا رہتا ہوں۔ اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ کوئی میرے متعلق کیا سوچتا ہے۔
زیادہ تر میرے مخاطب وہ بچیاں ہوتی ہیں جو معاشرتی جبر کی وجہ سے بول نہیں پاتیں، اپنے اندر کا سچ یا مطمح نظر کسی کے سامنے رکھ نہیں پاتیں، جنہیں نجانے کتنے اندھیروں میں قید کر کے اگلے گھر روانہ کر دیا جاتا ہے اور وہ ساری زندگی انہی روایتی اندھیروں کا طواف کرتے کرتے دھرتی ماں کا رزق بن جاتی ہیں۔ اسی لیے جب کبھی میری بیٹی عائشہ موڈ میں ہوتی ہے تو بہت خوبصورت سی گفتگو کرتی ہے اور ڈھیر سارے سوال پوچھتی ہے، جنہیں سن کر کے مجھے کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ نجانے کتنے ایسے سوال پوچھنے میں وہ ہچکچاہٹ سی محسوس کرتی ہوگی جو اس کے حساب سے پوچھے بھی جانے چاہئیں یا نہیں؟ یا وہ ان سوالات کو احترام یا تقدیسی پیرامیٹرز میں بیلنس یا ایڈجسٹ کرنے میں مشکل کا شکار ہوتی ہوگی۔
چونکہ وہ ابھی میٹرک کی طالب علم ہے اور اس کے بچپن کے وہ ”ایریاز“ جنہیں ان کے بڑوں نے اس کے معصوم سے ذہن کے گرد قائم کر دیے تھے انہیں ٹوٹنے میں وقت تو لگے گا نا۔
میں تو بس اتنا کرتا ہوں کہ جب کبھی وہ اپنے موڈ میں روایتی سا سوال کرتی ہے تو چپکے سے اسے غیر روایتی راہوں پہ لے جاتا ہوں، اس کے کچے سے ذہن میں بنے ہوئے سماج کے جبری سائیکوسس کو توڑنے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ بڑی حیرانی سے کہتی ہے
” پاپا کیا واقعی سماج میں اتنی گنجائش موجود ہے یا آپ مجھے بہادر بنانے کے چکروں میں اس قسم کی باغیانہ سی گفتگو کرتے رہتے ہیں“
میں اسے سمجھاتا ہوں کہ بیٹا جی سماج میں گنجائش آپ کی ذہنی وسعت کے مطابق پیدا ہوتی ہے، جتنا آپ کا ذہن وسیع اور کشادہ ہو گا اتنی گنجائش خود بخود بنتے چلی جائے گی۔ بس اتنا یاد رکھنا کہ وہ ”سب کچھ“ تم اکیلے اور بغیر کسی سہارے کے کر سکتی ہو جس کا ٹھیکہ شروع دن سے صرف مرد ہونے کی بنیاد پر مردوں نے اٹھا رکھا ہے۔
تم اپنے اندر ایک خوبصورت سا جہاں بسائے ہوئے ہو بس تمہیں اپنی صلاحیتوں کی مدد سے اسے خود کھوجنا ہے۔
25 دسمبر کا دن میری بیٹی نے یادگار بنا دیا، میرے ساتھ اتنے پیارے سے انداز میں گفتگو کر کے اس دن کو مزید شاندار بنا دیا ہے۔
آج کا مضمون ان تمام بیٹیوں کے نام کرتا ہوں جو اپنی انفرادیت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہیں، آگے بڑھیں اور سماج میں اپنی منفرد سوچ کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلائیں۔


