مریم نواز خاتون کے لئے مشعل راہ
پاکستان میں قدآور سیاسی خواتین لیڈر و شخصیات میں فاطمہ جناح، بیگم نسیم ولی خان، بینظیر بھٹو، کلثوم نواز کے نام سب سے نمایاں ہیں۔ یہ خواتین اپنے دور کے ڈکٹیٹروں سے ٹکرائی اور عوام کی آواز بنی رہی۔ اس کے ساتھ انہوں نے اپنی جماعتوں کے وجود کو ختم نہ ہونے دیا۔ ان چاروں خواتین کی جمہوریت کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ تاریخ میں ہمیشہ ان کو اچھے الفاظ سے یاد کیا جاتا رہے گا بلکہ آج بھی ان کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ کیونکہ یہ سیاسی جدوجہد کرنے والی خواتین کے لئے مشعل راہ ہیں۔
ان نمایاں خواتین کے بعد پاکستان کی سیاست میں کسی خاتون نے اپنی پہچان اور لوہا منوایا ہے تو وہ مریم نواز ہے۔ مریم نواز چار سال کے عرصے میں بغیر کوئی جرم کیے، بغیر کوئی سیاسی عہدہ رکھتے ہوئے دو بار جیل گئی۔ جس انداز میں ان کو نا اہل کیا گیا وہ ہماری عدالتی تاریخ کا ایک افسوسناک پہلو ہے۔ نواز شریف تو وزیر اعظم تھے سیاسی عہدے پر تھے ان کو تو نا اہل کرنا یا انتقام لینا سمجھ میں آتا ہے لیکن مریم نواز کو بغیر پبلک آفس ہولڈر ہوتے ہوئے نا اہل کرنا سمجھ سے بالاتر تھا۔
مریم نواز کو دونوں بار ان کے والد کے سامنے گرفتار کرنے کا مقصد ایک ہی تھا کہ نواز شریف کو توڑا جائے اور ان کو زچ کیا جائے لیکن نواز شریف نے دونوں بار بیٹی کو کہا اللہ ہمارا امتحان لے رہا ہے بیٹی صبر کرنا، ہمارا یقین اللہ پر ہے وہی ہمارا انصاف کرے گا۔ مریم نواز کو دوسری بار جب نیب نے گرفتار کیا تھا تو نیب آفس میں ایک افسر نے مریم نواز سے کہا تھا آپ ہمیشہ کے لئے لندن چلی جائیں آپ کے تمام کیسز ختم ہو جائیں گے، جواباً مریم نواز نے کہا میرے باپ کے کیسز؟ وہ افسر بولا ان کے کیسز ابھی نہیں ختم ہوسکتے، مریم نواز بولی پھر میری طرف سے انکار سمجھیں، افسر نے کہا باقی عمر پھر جیل میں رہنے کے لئے تیار رہیں، مریم نواز بولی میں تیار ہوں۔
مریم نواز نے ایک ماں، ایک بیٹی ہوتے ہوئے دوران قید جو مشکلات برداشت کیں کبھی عورت کارڈ نہیں کھیلا۔ بلکہ ہمیشہ ایک جرات مند اور دلیری ماں اور بیٹی کی طرح ریاستی جبر و ستم کا مقابلہ کیا۔ مریم نواز کو ایک بار نیب لاہور آفس کے باہر جان سے مارنے بھی مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔
ان کی خوش قسمتی تھی کہ وہ بلٹ پروف گاڑی میں سوار تھی۔ ان تمام حالات کے باوجود مریم نواز نے نہ ملک چھوڑا نہ پارٹی کو ختم کرنے دیا۔ بلکہ وہ اپنے والد کو جیل سے نکلوانے اور پھر زندہ سلامت پاکستان لانے میں کامیاب ہوئی، ایک بار مریم نواز نے کہا تھا میں اپنے والد کو مرسی نہیں بننے دوں گی۔ مصر کے سابق صدر محمد مرسی عدالتی کٹہرے میں کھڑے انتقال کر گئے تھے، نواز شریف نے 100 سے زائد پیشیاں بھگتی لیکن ہمت نہیں ہاری کیونکہ ہر پیشی پر ان کے ساتھ ان کی بیٹی ہوتی تھی جو ان کا سہارا بنی رہی۔
آج وقت ایک بار پھر بدل چکا ہے دو دہائیاں قبل جس کو ہائی جیکر قرار دیا گیا پھر 2017 سسلین مافیا اور گاڈ فادر کے القابات دیے، آج ملکی سیاست پھر اسی نواز شریف کے گرد طواف کر رہی ہے، اس کا کریڈٹ مریم نواز کو جاتا ہے۔ ممکنہ طور پر مریم نواز پنجاب کی پہلی وزیراعلیٰ بن سکتی ہیں۔ اگر مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب بنتی ہیں تو یہ ان کے سیاسی کیرئیر کا اچھا آغاز ہو گا کیونکہ پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے اگر یہاں وہ بہتر ڈیلیور کرتی ہیں تو آنے والے وقت میں اگر ان کو پاکستان کی خدمت کرنے کا موقع ملا تو ان کو بطور وزیراعظم کام کرتے مشکلات پیش نہیں آئیں گئیں۔
پنجاب ایک بڑا صوبہ ہے جہاں ڈلیور کرنے کے مواقع زیادہ ہیں وہاں مسائل اور طاقت کا توازن بھی زیادہ ہے۔ یہاں تقرریاں و تبادلے سب سے ہم چیز سمجھتے جاتے ہیں پھر ترقیاتی کام کی نگرانی اور ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ایک اہم ذمہ داری ہے اس کے لیے سب سے ضروری ہے کہ وزیراعلیٰ عوامی ہو جس تک عام آدمی کی رسائی ہو ناکہ وہ بند کمروں میں بیٹھ کر حکم صادر کرنے والا ہو۔ پنجاب کے عوام دوسروں صوبوں کی نسبت تھوڑی مختلف ہے یہ کارکردگی پر زیادہ نظر رکھتے ہیں ناکہ بڑھکیں مارنے اور فلمی ڈائیلاگ سننے پر یقین رکھتی ہے۔
مریم نواز کو اگر وزیراعلیٰ پنجاب کام کرنے کی ذمہ داریاں ملی تو ان کی ٹیم ہی فیصلہ کردے گی کہ وہ کام کرنے آئے ہیں یا بڑھکیں مارنے آئے ہیں۔ اس لیے مریم نواز کو ایڈوانس مشورہ دے رہا ہوں اگر اللہ تعالیٰ آپ کو پنجاب میں خدمت کرنے کا موقع دیتا ہے تو اپنی ٹیم اچھی اور بے داغ بنائیں اور عوامی لوگوں پر مشتمل ٹیم بنائیں، اپنے ورکرز پر وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے کھولے رکھنے ہیں ساتھ عوام کے لئے بھی۔ اگر آپ عوامی لیڈر بن گئی عوام کا اعتماد جیت لیا تو آنے والے کل میں آپ کے لئے ملکی نظام چلانا مشکل نہیں ہو گا۔ آپ مریم نواز سے ہزار بار اختلاف کر سکتے ہیں لیکن بطور خاتون انہوں نے جو جدوجہد کی اور مشکلات برداشت کیں یہ ان کے دلیری عورت کا ثبوت ہے۔ آج مریم نواز سیاسی اور سماجی خواتین کے لئے مشعل راہ بن چکی ہیں۔ مریم نواز نے ثابت کر دیا اگر عورت اپنے مقصد پر ڈٹ جائے تو وہ منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتی ہے۔


