21 ویں صدی کے ہندوستان میں مسلمانوں کی ذمہ داری
جب ہم تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو چیزیں بالکل مختلف نظر آتی ہیں۔ مسلمانوں کو تعلیم، ملازمت اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ سچر اور مشرا جیسی کمیٹیوں اور کمیشنوں نے دکھایا ہے کہ کس طرح مسلمانوں کو کئی علاقوں میں خام سودا مل رہا ہے۔ قاری کو اس مضمون سے یہ سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور کس طرح ایک کمیونٹی کے طور پر مسلمان ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے سب کے لیے چیزوں کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔
آئیے اس کا حل قرآن پاک میں تلاش کرتے ہیں۔ سورۃ 17 بنی اسرائیل، آیت: 70 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ( ہم نے بنی آدم کو تکریم بخشی اور بحر و بر ان کے لیے ہموار کیے اور ان کو حلال و طیب اشیا میں سے رزق دیا۔ اور اکثریت کو ان میں سے بعض پر خصوصی فضیلت عطا کی ہے۔ ”) اسی طرح سورۃ الحجرات 49، آیت 13 میں ارشاد ہوا کہ: ( 13 )“ (اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک ہی مردو عورت سے پیدا کیا ہے اور تمھارے خاندان اور قبیلے اس لیے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ تم میں اللہ کے نزدیک قابل احترام وہ ہے جو پرہیزگار ہے۔ اور اللہ تعالیٰ علیم و خبیر ہے۔ ”)
اس میں ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو انفرادی طور پر ایک دوسرے کا احترام کرنے کا حکم دیا ہے اور دوسری جانب انسانوں کے مختلف طبقوں کو ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور احترام کا حکم دیا ہے۔ قرآن کریم کی 12 مختلف سورتوں کی متعدد آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام مضمرات، فلسفوں اور کامیاب ذاتی اور معاشرتی زندگی کے اصولوں سے پر ہے۔ ان تینوں امور میں حکم الٰہی کی اہمیت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ ہدایات تمام انسانوں کے لیے یکساں اہم اور کارآمد ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد کی تاریخ واضح طور پر بتاتی ہے کہ مسلمان دیگر تمام مذاہب کے ماننے والوں کے مقابلے سماجی، تعلیمی اور معاشی لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔
سچر کمیٹی اور مشرا کمیشن کی دستاویزی رپورٹوں اور یکے بعد دیگرے آنے والی دیگر تحقیقات منظر عام پر آ جانے کے بعد اب کچھ بھی پوشیدہ نہیں رہا۔ بلکہ اب تو ان عناصر کی بھی نشان دہی ہو چکی ہے جو اس پسماندگی کا سبب ہیں۔ وہ حسب ذیل ہیں :
درج فہرست ذاتوں کی شناخت سے متعلق 1950 میں صدر جمہوریہ کے جاری کردہ حکم کے ذریعے مسلمانوں کو 15 فیصد حصے سے محروم کیا جانا؛مسلمانوں کی اکثریت والے انتخابی حلقوں میں سازشاً درج فہرست ذاتوں کو الاٹ کیا جانا؛ مسلمانوں کے ساتھ ہر میدان میں دائمی امتیازی سلوک برتنا۔ دکھاوے کے طور پر گنتی کے چند مسلمانوں کو ایوانوں کے گلیاروں یا ان کے آس پاس آنے جانے کی اجازت دینا ہی کافی سمجھنا۔
گزشتہ 75 برسوں میں مسلمانوں کو ان کے وجود کے منفی پہلوؤں میں الجھا کر رکھا گیا ہے۔ مسلمانوں کے ووٹ ان کی سلامتی کی ضمانت کے بدلے مانگے جاتے ہیں۔ دوسری طرف غیر مسلموں سے یہ کہہ کر ووٹ مانگے جاتے ہیں کہ اگر آپ نے ہمیں ووٹ نہ دیا تو مسلمان تمھیں بھسم کر دیں گے۔ مسلمانوں کو غیر ملکی یا دہشت گرد قرار دینا تو گویا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ مسلم نوجوانوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت برسوں جیلوں میں رکھنا اور پھر عدالت میں جرم ثابت نہ ہونے پر خفیہ طور پر رہا کر دینا قومی ثقافت کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
مسلم علاقوں کو ٹارگیٹ کر کے وہاں فسادات کرانا اور ان کی معیشت کو برباد اور نسلوں کو دیر پا اذیت دینے کے لیے آزادی کے بعد سے لے کر آج تک تباہ و برباد کرنے کا سلسلہ دراز ہے۔ میرٹھ، ملیانہ، ہاشم پورہ، اورنگ آباد، بھیونڈی، ممبئی، مظفر پور، گجرات، مظفر نگر، دہلی فسادات کی سیاہ تاریخ اور یک طرفہ کارروائیوں سے ہر کوئی واقف ہے۔ نصابی کتابوں میں بالواسطہ طور پر مسلمانوں کی تذلیل کرنا، قومی نصاب کا خفیہ اصول بن چکا ہے۔
غیر مسلم اکثریتی طبقوں کی نسلیں اسی قومی مزاج کے سائے میں پروان چڑھتی ہیں۔ ان مسلسل منصوبہ بند چھاپوں کی صورت میں ہندستان میں ملت کی سلامتی اور وقار پر مختلف مواقع اور مقامات پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ملت مسلسل اپنے دفاع میں مصروف ہے، تو وہ اپنی ترقی اور بہتری پر کس طرح توجہ مرکوز کر سکتی ہے؟ اس سازش کے تحت کچھ قوتیں بھارتیہ کبڈی کے میدان میں مسلمانوں کے پالے میں گھس کر انہیں اپنے تحفظ کا کھیل کھیلنے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ اکیسویں صدی کے آغاز کے ہم ہندستانی مسلمانوں پر ایک بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ ہمیں اس مسلم دشمن قومی رجحان کی منفی پالیسیوں کو مثبت بنانے کے لیے سوچ سمجھ کر اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس کے لیے ہمیں حکمت عملی سے کام کرنا ہو گا۔
1950 میں صدر جمہوریہ کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے کے پس پشت سرکاری فائلوں میں کی گئی کارروائی کا خلاصہ حکومت ہند 2013 کے حکم نامے ”رائٹ ٹو انفارمیشن“ کے تحت بھی تفصیلات دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ اسی طرح حکومت مسلم اکثریتی حلقوں کو بھی ریزرویشن سے آزاد کرنے کو راضی نہیں ہے۔ نیز آئی پی ایس کے 1400 اضافی افسران کی تقرری کے لیے امتیازی محدود امتحان سے بھی دستبردار ہونے کو بھی حکومت تیار نہیں۔
ہم ہندستانی مسلمانوں کو ملک کی انتخابی سیاست میں پیادوں کا کردار ادا کرتے ہوئے 65 سال گزر چکے ہیں۔ اس چال سے ہمیں سنچری بنانے کی خواہش کو بھی اپنے ذہن میں بھی نہیں آنے دینا چاہیے۔ اب تک ہم بری طرح ناکام اور ذلیل و خوار ہوچکے ہیں۔ لہٰذا ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کی سماجی زندگی سے کھیلنے کا کوئی حق نہیں۔ ملت کی حکمت عملی کے رویے کو تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اب ہمیں ریوڑ کے بجائے میر کاروان بننے کی ضر ورت ہے۔
1950 میں ہمارے آئین نے 20 فیصد دلتوں کو اور بعد میں 24 فیصد دیگر پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دیا۔ جس کی وجہ سے معاشرے کی اتھاہ محرومیوں میں پڑی ملک کی اس قیمتی آبادی کی تعلیمی اور معاشی سطح میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن ان کی سماجی سطح میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ معاشرے میں اس کا مقام وہیں کا وہیں ہے۔ اس لیے آزادی کے 75 سال بعد بھی وہ زبردست ناراضگی، درد، محرومی اور پسماندگی کے ایک پیچیدہ ذہنی اضطراب میں مبتلا ہیں۔
درج فہرست ذاتوں اور پسماندہ طبقات کے تئیں غیر درج فہرست ذاتوں اور پسماندہ طبقوں کی سوچ، دانش یا تخیل میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے، کیونکہ اس کے لیے کروڑوں لوگوں کو ہزاروں سال پرانی تہذیب کو بدلنا ہو گا۔ اسی وجہ سے برادران وطن ذہنوں میں ضروری تبدیلی لانے کے لیے 1950 کا پورا آئینی ڈھانچہ اور اس میں کی گئیں بعد کی ترامیم بھی کچھ نہ کر سکیں۔ اس کے لیے ہمارا آئین اور تفصیلی قانونی ضابطے کیلائڈو اسکوپ نہیں بن سکے۔ یعنی وہ کھلونا جس کو دائرے میں گھما کر اس میں دیکھنے سے مختلف رنگوں کی مختلف ڈرائنگز نظر آنے لگتی ہیں۔
درج فہرست ذاتوں اور پسماندہ لوگوں کی اس نفسیاتی تکلیف کو دور کرنے، اس پر مرہم لگانے اور انھیں ذہنی و قلبی تسکین دینے کے لیے محسن انسانیت جناب محمد مصطفی ﷺ نے آج سے تقریباً 1600 سال پہلے ایک تیر بہ ہدف نسخہ دیا تھا۔ جس کے ذریعے غلامی کا خاتمہ ہوا اور سماجی مساوات قائم ہوئی۔ تو کیوں نہ ہم بھی اس اکیسویں صدی میں اپنے ملک واسیوں میں ذہنی انقلاب کے لیے جدوجہد کریں اور اس یقینی نسخے سے فائدہ اٹھائیں جس نے صحرا سے نکل کر روم و یونان کی سلطنت کو نہ صرف پلٹ دیا تھا بلکہ مشرق و مغرب تک ہر جگہ جہاں تک گیا، چھاپ چھوڑتا گیا۔
ہمیں بنیادی اسلامی احکام کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہو گا۔ ملک میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو مسلمانوں کی تعمیر و ترقی کی وکالت کرتے ہیں اور اس بات کو شد و مد کے ساتھ اٹھاتے ہیں کہ ملک کے ہر شہری کو پنپنے اور آگے بڑھنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ہمیں ایسے افراد کو بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم صرف اپنی آواز نہ اٹھاکر ملک میں ہو رہی نا انصافی اور حق تلفی پر دوسروں کی بھی آواز اٹھائیں۔
کئی جگہوں سے 1950 میں صدر جمہوریہ کے حکم سے جاری کردہ حکم نامے سے پیرا۔ 3 اور درج فہرست ذات سے مذہب کی قید کی بھی آواز اٹھتی رہی ہے۔ تو کیوں نہ ہم اپنا یقینی نسخہ استعمال کر کے وطن عزیز میں 75 برسوں سے دندناتے مسلم کھانے والے اس چوپائے کو اس کے سینگوں سے پکڑ کر قابو کرنے کی کوشش کریں۔ اس موضوع پر مسیحی رہنماؤں سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔ وہ بھی 75 سال سے جاری اس محرومی سے سخت پریشان ہیں اور اس مہم میں ہر طرح سے ساتھ دینے کو تیار ہیں۔
اگر 1950 میں صدر جمہوریہ کی جانب سے منظور کیے گئے حکم نامے سے پیرا۔ 3 کو ہٹا دیا جاتا ہے، تو مسلم نائی، مسلم لوہار، مسلم موچی وغیرہ کو وہی سہولیات حاصل ہوں گی جو غیر مسلم نائی، غیر مسلم لوہار، غیر مسلم موچی وغیرہ کو حاصل ہیں۔ یعنی وہ لوک سبھا، راجیہ سبھا، قانون ساز اسمبلی، ضلع پر یشدوں، پنچایت سمیتیوں اور گرام پنچایتوں میں ریزرو سیٹوں پر الیکشن لڑنے کے حقدار ہوں گے اور سول سروسز کے امتحان کے ذریعے بیوروکریسی میں حصہ لینے کے لیے مخصوص نشستوں کے حقدار ہوں گے۔ مزید وہ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے مخصوص نشستوں کے بھی حقدار ہوں گے اور سرکاری اداروں کے ذریعہ تعمیر کردہ مکانات کے الاٹمنٹ کے بھی حقدار ہوں گے۔
اس کے لیے ہم ہندستانی مسلمانوں کو بہتر مسلمان بننا ہو گا۔ ہمیں اپنی بصیرت میں نگاہ شوق پیدا کرنی ہوگی۔ علامہ اقبال نے نگاہ شوق کے پیدا ہونے کی آرزو کی ہے۔ اقبال کی اصطلاح میں نگاہ شوق کا مطلب بروز قیامت اللہ سے ملنے کا شوق ہے۔
غور کیجئے کہ اگر ہمیں بروز قیامت اللہ سے ملاقات کا شوق ہو جائے، یعنی ہم اللہ کے پیارے بندوں میں شامل ہونے کا شوق پیدا کر لیں تو ہم دنیا میں انسانیت کے حق میں کیا کیا کر سکتے ہیں۔ اس وقت ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ ہم مسلمان اسلام کے مساوات کے پیغام کو عملی جامہ پہنائیں اور اپنے ہم وطنوں کے پسماندہ طبقات کی طرف بھی پیار و محبت کا ہاتھ بڑھائیں، مساوات کے فلسفے سے ان کے دکھی دلوں کو نرم کریں۔ اس طرح وہ ہمارے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل سکتے ہیں۔
تب ہماری مشترکہ سیاسی طاقت آبادی کے اعداد و شمار کو مناسب سمجھتے ہوئے بھی 35.9 فیصد تک جا سکتی ہے۔ اس لیے ہمیں ان کی وہ قدر دانی کرنی چاہیے اور ان کا وہ احترام کرنا چاہیے جس کی تعلیم ہمیں دی گئی ہے۔ احکامات الٰہی کی کھلی بغاوت کے بعد بھی ’ترے محبوبﷺ کی امت میں ہیں‘ کے منتخب قوم ہونے کے یہودیوں جیسے خود فریبی اور نا انصافی پر مبنی تصور سے آزاد ہونا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صاف صاف فرما دیا: ”درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔“ (الحجرات آیت نمبر 13)
اس بات کو اس کے حبیب ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں اور آسان کر دیا اور فرما دیا: ”کسی عربی کو کسی عجمی پر ، کسی عجمی کو کسی عربی پر ، کسی گورے کو کسی کالے پر ، کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے۔“


