ایاز میلو کا ”ماہ رنگ“
”شاعر کے دو نمایاں فرض ہیں، نہ صرف یہ کے جیسی دنیا ہے اس کا آئینہ ہو، بلکہ جیسی دنیا ہونی چاہیے وہ اس کا تخیل بھی پیش کرے“ ۔ (شیخ ایاز)
برصغیر کے بڑے شاعر شیخ ایاز کے تخیل کا پاکستان بننا تو ابھی ایک مہنگا خواب ہے مگر حیدرآباد کی تین جرات مند بیٹیوں امر سندھو، عرفانہ ملاح اور حسین مسرت نے سندھ کو ایاز کے تخیل جیسا بنانے کی ایک جھلک ایاز ہی کے نام پر میلہ سجا کر پیش کر دی ہے۔ افراسیاب خٹک، ڈاکٹر طاہرہ کاظمی، رفعت عباس، ناظر محمود، اصغر ندیم سید اور ڈاکٹر جعفر احمد جیسی شخصیات نے خانہ بدوش رائٹرس کیفے کے آنگن میں آباد کیے گئے ایاز کے تخیل کا سندھ اپنی آنکھوں سے دیکھا لیا ہے۔
خانہ بدوش رائٹرس کیفے حیدرآباد نے اپنی روایت کو جاری رکھتے ہوئے رواں سال نہ صرف پانچ دن کا (دسمبر 21 سے دسمبر 25 تک) نواں ایاز میلو منعقد کیا مگر اس کو شیخ ایاز کا صد سالہ ( 1923۔ 2023 ) جشن بھی کر کے منایا۔
فنونہ لطیفہ کے اس میلے کے سیشنز میں ہونے والی گفتگو سن کر گاتے اور ناچتے نوجوان دیکھ کر افراسیاب خٹک نے کہا یہ میلہ پی ٹی وی ( پاکستان ٹیلیویژن) پر کیوں نہیں دکھایا جا رہا۔ کاش ایسا ہوتا! اس دھرتی کے لوگوں کا پاکستان پی ٹی وی پر دکھایا ہی کہاں جاتا ہے؟ دکھانے والے تو وہ پاکستان دکھانا چاہتے ہیں جو انہیں ابھی ریاست مدینہ میں تبدیل کرنا ہے۔ ایاز میلو میں جہاں ماحولیاتی تبدیلیاں، پانی، پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت پیدا کرنے کے لیے لگائی ہوئی فیکٹریاں، آنے والے انتخابات، میڈیا کے حالات و رجحانات، خواتین کے حقوق اور پاکستان میں خواتین کا مستقبل، خودکشیاں، پیار، ادبی تنقید، ملکی وفاقیت میں صوبائی اکائیوں کے معاملات، فن و ثقافت کا گلا کیوں اور کیسے گھونٹا گیا ہے جیسے معاملات زیر بحث رہے وہاں غزہ میں جاری اسرائیلی ظلم، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی سربراہی میں تربت سے اسلام آباد تک مارچ کرنے والے بلوچ مارچ اور کارونجھر کی کٹائی پر بھی بات چیت ہوئی۔
ماہ رنگ بلوچ کی سربراہی میں تربت سے آنے والے مارچ پر اسلام آباد پولیس کے تشدد کی نہ صرف مخلتف سیشنز میں مذمت کی گئی مگر دو بلوچ طالبات ماہ رنگ کے ساتھ یکجہتی اور لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے مطالبے لکھ کر پلی کارڈ لے کر مرکزی اسٹیج والے ہال میں کھڑی رہیں۔ کسی نے کہا یہ ہی ہے ”ایاز میلو کا حقیقی ماہ رنگ“ ۔
ایاز میلو کا افتتاح پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور ملک کے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں دانشوروں، شاعروں، لکھاریوں اور فنکاروں سے اپیل کی کے پاکستان کو رہنے جیسی، جینے جیسی، گانے اور ناچنے جیسی جگہ بنانے کے لیے ان کا ساتھ دیں۔ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی اور شہادت کے حوالے سے سحر امداد کی طرف سے پیش کیے گئے نظم پر بلاول کی آنکھیں نم ہو گئی اور وہ اجرک کے رومال سے آنسو پوچھتے رہے۔
اگلے دن اپنے ایک سیشن میں ممتاز دانشور ڈاکٹر ناظر محمود نے احتیاط کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے کہا کے بلوچ خواتین پر اسلام آباد میں ہونے والے ظلم پر بلاول کو آنسو کیوں نہیں آتے؟ اس کی مذمت کیوں نہیں کرتا؟ بینظیر ہمیں بھی بہت عزیز ہے۔ ناظر محمود کے مطابق اپنے لوگوں کے لیے آنسو بہائے جاتے ہیں مگر جو ظلم ملکی شہریوں کے ساتھ ہو رہا بلوچ بیٹیوں پر ہو رہا ہے اس سب کچھ کو ہم اپنے دکھ کے آنسؤں میں چھپا نہیں سکتے۔
ایسی ہی ایک فریاد اصغر ندید سید نے بلاول بھٹو کے سامنے کارونجھر کو بچانے کی رکھی تھی جس کو کاٹنے کے لیے ہر آئے دن قانون اور دلائل تلاش کیے جا رہے ہیں۔
ایاز میلو میں انگریزی، سندھی، سرائیکی اور اردو کی تقریباً پندرہ کتابوں کی رونمائی کی گئی۔ کتابوں میں اصغر ندیم سید کی کتاب ”جہاں آباد کی گلیاں“ مشہور صحافی زاہد حسین کی کتاب ”فیس ٹو فیس وتھ بینیظر“ اور ناصر عباس نیئر کی کتاب نئے نقاد کے نام خطوط شامل ہیں۔ تصاویر اور پینٹنگ کی ایک نمائش بھی تھی۔ کتابوں کے اسٹال تھے، شیخ ایاز کی لکھی ہوئی ایک کہانی کو تھیٹر میں پیش کیا گیا۔ ایاز کے گیتوں پر رقص پیش ہوا۔ پانچوں راتیں روزانہ رات کو راگ کی محفل سجائی گئی، صنم ماروی، سیف سمیجو، صابری قوال گروپ، رجب فقیر و دیگر فنکاروں نے ایاز کے گیت گا کر ان کو خراج پیش کیا۔ محفل میں سندھ کے نوجوان اور خصوصاً خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت دیکھنے کو ملی۔ ) محفل اس لنک پر دیکھی جا سکتی ہے : https://fb.watch/pan9reAXtF/)


