کشمیر اور محدود آپشنز :یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے


”اٹوٹ انگ“ کے معنی ہیں کسی چیز کا جدا نہ ہو سکنے والا حصہ، جزو لاینفک جو الگ نہ ہو سکے، مستحکم اور ناقابل تقسیم۔ اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی آئینی خود مختاری کے خاتمے اور ریاست کشمیر کو تحلیل کر کے دو مرکزی زیر انتظام علاقے بنانے کے خلاف درخواستوں پر بھارتی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے 11 دسمبر 2023 ء کو مودی حکومت کے اقدام کو جائز ٹھہرایا اور آرٹیکل 370 کے تحت ریاست کو حاصل ”خصوصی حیثیت“ اور اس کے آئین کے خاتمے کے ساتھ، لداخ کو علیحدہ یونین ٹیرٹرٹی تسلیم کرتے ہوئے ستمبر 2024 میں انتخابات کا حکم دیا ہے۔ یوں جن سنگھ کا قدیمی خواب اس کی وارث بھارتیا جنتا پارٹی نے پورا کر کے جموں و کشمیر کو بھارت کا ”اٹوٹ انگ“ بنا دیا۔ اس فیصلے سے ہندو راشٹر

ایجنڈے کو تقویت ملے گی اور اگلے انتخابات (اپریل 2024 ) میں مودی انضمام کو وننگ کارڈ بنائیں گے۔ سپریم کورٹ کے سامنے یہ سوالات تھے۔

1۔ آرٹیکل 370 کو عارضی یا مستقل حیثیت حاصل ہے اور، کیا دستاویز الحاق پر دستخط کے وقت مہاراجہ کشمیر نے کچھ اختیارات اپنے پاس رکھے، جو ریاستی حکومت کو منتقل ہو گئے؟

2۔ قانون آئین ساز اسمبلی نے بنایا و ہی اس میں ترمیم کر سکتی ہے۔ اگست 2019 کو مودی نے پارلیمنٹ کو پہلے قانون ساز اسمبلی میں بدلا اور پھر اس کے ذریعے دفعہ 370 میں ترمیم کروائی۔ کیا آئینی میکانزم میں اس کی گنجائش ہے؟

3۔ کیا آرٹیکل 370 ( 1 ) (d) کے تحت بھارت کا مکمل آئین ریاست پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔
4۔ کیا جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی سفا رش کے بغیر بھارتی صدر آرٹیکل 370 منسوخ کر سکتا ہے؟
5۔ کیا 2018 میں گورنر کی قانون ساز اسمبلی کی تحلیل اور ریاست میں صدارتی راج جائز اقدام تھا؟
6۔ کیا تنظیم نو ایکٹ 2019 کے تحت ریاست کو دولخت کرنا آئینی طور پر درست تھا؟
7۔ کیا ریاستی حدود ریاستی اسمبلی کے مشاورت کے بغیر تبدیل ہو سکتی ہیں؟
8۔ کیا کسی فعال ریاست کو راتوں رات مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے؟

عدالت نے فیصلہ دیا کہ دفعہ 370 ایک عارضی انتظام تھا اور یونین آف انڈیا میں شمولیت کے وقت مہاراجہ نے کوئی اختیار اپنے پاس نہیں رکھا تھا۔ اس لئے ریاست جموں و کشمیر کسی بھی ایسی داخلی خودمختاری کا دعویٰ نہیں کر سکتی، جو دیگر صوبوں کو مہیا نہ ہو۔ آرٹیکل 370 ( 1 ) (d) کے تحت صدر کے متعدد آئینی احکامات جو آئین کی مختلف دفعات میں ترامیم کا اطلاق کرتے ہیں اس بات کی نشاندہی ہے کہ ستر سالوں میں، یونین اور ریاست نے باہمی تعاون سے آئینی طور پر ریاست کو یونین میں ضم کر دیا۔

آئین کی تمام دفعات کو لاگو کرنے کے لیے آرٹیکل 370 ( 1 ) (d) کے تحت ریاستی حکومت کی رضامندی کی ضرورت نہیں تھی، اس لیے صدر نے بھارتی حکومت کی رضامندی حاصل کی۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ریاستی آئین غیر فعال ہو گیا ہے ۔ عدالت کو حکومت نے یقین دہائی کرائی ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا اور مرکزی انتظام والی حیثیت عارضی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کو ”اٹوٹ انگ“ ٹھہرایا تو وطن عزیز میں مذمتی بیانات کے ساتھ وزارت خارجہ کے کئی ریٹائرڈ افسر یہ یقین دلاتے رہے کہ ”عالمی ضمیر“ اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا۔ کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے خلاف ہے۔ نگران وزیر خارجہ جلیل جیلانی کے بقول بھی ”عالمی ضمیر“ جھنجھوڑا جائے تو کشمیری عوام کے دکھوں کا مداوا ہو سکتا ہے۔

رواں صدی کے آغاز سے ہی بھارت مسئلہ کشمیر پر ”کچھ لو اور کچھ دو“ کا رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہو چکا تھا۔ ہمارے سفارت کار اور پالیسی ساز اس کا بروقت ادراک نہ کرپائے اور بالآخر ”ہندوتوا“ کے پرچارک مودی نے کشمیر کو اپنی ترجیح کے مطابق ”حل“ کر لیا۔ مودی کی حکمت عملی کا توڑ تو دور کی بات ہے، اس کے ادراک میں بھی ہم ناکام رہے۔ ٹرمپ کو افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے لیے پاکستان کی مدد درکار تھی۔ ہمارے پالیسی ساز اس ”مجبوری“ کا بھی کماحقہ اندازہ نہ لگا پائے۔

22 جولائی 2019 ء کو ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان کو خوش آمدید کہا۔ دونوں راہنما میڈیا کے سامنے آئے تو امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ”دو ہفتے قبل“ بھارتی وزیر اعظم نے مجھ سے ملاقات میں درخواست کی کہ کشمیر قضیے میں ”ثالث“ بنوں۔ عمران خان خوشی سے یہ سمجھ ہی نہ پائے کہ ”ساقی نے کچھ ملا ہی نہ دیا ہو شراب میں“ فوراً گویا ہوئے کہ اگر آپ نے مسئلہ کشمیر حل کرا دیا تو برصغیر کے ”اربوں افراد“ دعائیں دیں گے۔ ٹرمپ کی پیش کش پر عمران خان نے وطن واپسی پر کہا کہ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ وہ ”ایک بار پھر ورلڈ کپ جیت کر“ وطن لوٹے ہیں۔

ہم اس مغالطے میں مبتلا رہے کہ ٹرمپ عمران خان کی کرشماتی شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو گئے ہیں اور وہ بھارت پر مسئلے کے حل کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔ افغانستان میں ”اپنا کام“ نکلوانے کے بعد ٹرمپ کا انکشاف:

”کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں“ کا مصداق تھا۔ نام نہاد ”عالمی ضمیر“ جو یوکرین اور فلسطین کے واقعات نہیں روک پایا اس فیصلے پر کیسے توجہ دے گا۔

بھارت کے یک طرفہ اقدامات سے لگتا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پاکستان سے چھین لے گا۔ بھارت پانچویں بڑی معیشت ہے۔ اس کی برآمدات پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار سے دوگنا سے بھی زیادہ ہیں۔ 2045 تک بھارت 30 کھرب ڈالر کی معیشت بننے کی طرف رواں ہے۔

چین کے مقابلے میں بھی انڈیا امریکہ کی ضرورت ہے اس لئے اس کے خلاف عالمی دباؤ کی امید بے کار ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلے کے بعد وہی صورت حال ہے جو نوے کی دہائی میں کانگریسی وزیراعظم نر سہما راؤ کے دور میں تھی۔ کشمیر میں مزاحمتی دباؤ کے باعث بھارتی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد میں کشمیر کو بھارت کا ”اٹوٹ انگ“ قرار دیا تھا۔ اس قرار داد کی بین الاقوامی حیثیت تھی نہ یہ اقوام متحدہ کی کارروائی کا متبادل تھی۔

مگر بھارت نے اس قرارداد کا ہر فورم پر سہارا لیا۔ اب بھارت اپنے موقف کو مزید بے لچک بناتے ہوئے پارلیمنٹ کی قرارداد کے ساتھ سپریم کورٹ کے فیصلے کا راگ بھی الاپے گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی کشمیر نام کا کوئی حصہ نہیں بلکہ یہ سب جموں وکشمیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت اب آزاد کشمیر پر اپنا دعویٰ آگے بڑھاتے ہوئے اس آڑ میں سری نگر میں پاکستان کو نیوٹرل بنانے کی کوشش کرے گا تاکہ پاکستان کشمیر سے مصر، اردن اور دوسرے عرب ممالک کی طرح لاتعلق ہو جائے۔

پاکستان کو معاشی خوش حالی اور ایک تصوراتی جنت کا وہی سراب دکھایا جائے گا جو کیمپ ڈیوڈ میں مصر کو دکھایا گیا جس کے نتیجے میں مصر بدستور معاشی بدحالی کی زد میں ہے۔ پاکستان کے آپشن محدود ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی کشمیر پالیسی ردعمل پر مبنی ہے جس میں وہ گہرائی اور گیرائی نہیں ہوتی جو اس پالیسی میں ہوتی ہے جو سوچ بچار، گہری منصوبہ بندی، کے بعد بنتی ہے۔ پاکستان کا جھکاؤ پھر امریکہ کی طرف ہے حالانکہ امریکہ کے جنوبی ایشیائی ایجنڈے اور چین مخالف بارات کا واحد دولہا بھارت ہے پاکستان کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ امریکہ سے فاصلہ پیدا کر کے چین کی پالیسی کی طرف جھکاؤ رکھے۔

چین کی پالیسی یہ ہے کہ بھارت خطے کی ڈرائیونگ سیٹ سے دور رہے۔ اس پالیسی میں ہی پاکستان کے لئے بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے سنجیدہ چیلنجز کا آغاز ہو چکا ہے۔ روایتی جلسے جلوسوں سے ان کا مقابلہ ممکن نہیں۔ ”اٹوٹ انگ“ قرار دیے جانے کے بعد مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے محدود ہوتے آپشنز پر میر تقی میر کے الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے :

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

Facebook Comments HS