علامہ فضل حق خیر آبادی، الثورۃ الہندیہ اور جنگ آزادی


ہندوستان میں مغلوں کی تمکنت اور جلالت کے ٹمٹماتے چراغ ابھی آخری سانسیں لے رہے تھے۔ جو اگرچہ زمانے کے دستبرد او ر تند و تیز ناموافق ہواؤں سے دور رکھے گئے تھے۔ تاہم ان کا گل ہو نا نوشتہ تقدیر ٹھہرا تھا۔ جا بجا انسانی سروں کے مینار بنا کر اور سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر ہند پر قبضہ کرنے والے ظہیرالدین بابر کے خانوادہ کے آخری تاجدار کی زمام اقتدا ر محض اپنے قلعہ کی چاردیواری تک محدود تھی۔ بے بسی، نا امیدی او ر کوتاہ اندیشی کی تصویر بنے، سیاست کے داؤ پیچ سے نا آشنائے محض، ابو ظفر محمد سراج الدین بہادر شاہ ظفر کی تمام تدبیریں کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھیں۔ ایسے میں درباروں سے ملحق اور با اثر لوگوں نے ہی سیادت و قیادت کے لئے اٹھنا ہی تھا۔ ان میں منطق و فلسفہ میں ید طولی رکھنے والے ایک علامہ فضل حق خیر آبادی بھی پیش پیش تھے۔

ان پر آشوب ایام سے متعلق دوران اسیری موصوف کی لکھی ہوئی کتاب۔ ’۔ الثورۃ الہندیہ ( باغی ہندوستان)‘ وہ حکایت خونچکاں ہے۔ جس پر مولانا عبدالشاہد خان شیروانی کے مطابق روسی مستشرقہ کوپونسکایا نے عثمانیہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ اور ڈاکٹر قمر النساء بیگم حیدرآبادی۔ مولانا فضل حق خیر آبادی کے حیات اور اسی کتاب سے متعلق جامعہ عثمانیہ حیدر آباد سے تحقیقی مقالہ تحریر کرچکی ہیں۔ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کی تحریک سے متعلق ’الثورۃ ا لہندیہ‘ سب سے اولین او ر مستند دستاویزی ثبوت سمجھا جاتا ہے۔ کہ مصنف نہ صرف خود اس تحریک کا حصہ رہے۔ بلکہ نتائج و عواقب سے آگاہ ہونے کے باوجود سیادت و عزیمت کے جوہر بھی دکھاتے رہے۔

مسلم یونیورسٹی کے جناب شیروانی نے الثورۃ الہندیہ کے اردو ترجمہ کے ساتھ ساتھ علامہ صاحب کے سوانح بھی تفصیلاً لکھے ہیں۔ متن عربی کو دیکھ کر قاری فضل حق خیر آبادی کی عربیت کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ ایک ہی جملہ میں ایک ہی مادہ کے مختلف صیغے متعدد معنوں میں بلا تکلف استعمال کرتے ہیں۔ اور علم و ادب اور زبان دانی کے نئے در وا کرتے ہیں۔ درد و الم کو متشکل اور مجسم کر کے سامنے لاتے ہیں۔ جاری جبر و ستم کو تاریخ کا حصہ بناتے ہیں۔ اور صبر و استقامت میں قرون اولی ٰ کی یاد دلاتے ہیں۔

قید میں ان کے پاس مفتی عنایت احمد کاکوروی بھی تھے۔ جنہوں نے دوران قید ’علم الصیغہ‘ جیسی اہم کتاب تصنیف کی۔ اور نگران گورے افسر کی فرمائش پر فتوح البلدان کا ترجمہ دو سال میں کیا۔ جو رہائی کا سبب بنا۔ مفتی عنایت کاکوروی نے روہیلہ حاکم حافظ رحمت خان کے پوتے نواب بہادر خان کی ’۔ تنظیم حریت کو مضبوط کرنے اور انگریزوں کی مخالفت کا فتوی دیا تھا۔ جو سبب گرفتاری ہوا۔ اس جرم کی پاداش میں 24 مارچ 1860 ع اس مزاحمتی تحریک کے متحرک کردار بہادر خان روہیلہ کو کو توالی پیدل لے جا کر صبح سات بج کر دس منٹ پر پھانسی دی گئی۔ اور فساد خلق کے خدشہ کے پیش نظر بغیر کفن ہی کے ہتھکڑی اور بیڑی سمیت ضلع جیل میں دفن کر دیا گیا۔‘

زبان دانی اور علم کے علاوہ یہ نوشتہ ظلم و جبر کے اس داستان کو بھی بیان کرتا ہے۔ جس سے سب مزاحمت کار بے پناہ مظالم و شدائد کا نشانہ بنے۔ تاریخی لحاظ سے یہ اہم دستاویز بظاہر نظر سے اوجھل ہے۔ جنگ آزادی کے اس تاریخی سانحہ نے اس کے تمام محرکین و معاونین کو ایسی جان لیوا مصیبت کی طرف دھکیل دیا۔ جو کبھی ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ لیکن مزاحمت و تصادم کے بغیر کوئی چارہ تھا ہی نہیں۔

جناب پرویز اشرفی اپنے مضمون۔ ’ذرا یاد کرو‘ (مطبوعہ، دہلی، 2017 ع) میں رقمطراز ہیں : ’کہ بغاوت کے بعد جنرل بخت خان سے ملاقات و مشورہ کے بعد علامہ نے اپنے ترکش سے آخری تیر چلایا۔ بعد نماز جمعہ جامع مسجد دہلی کے سامنے تقریر کی، استفتاء پیش کیا۔ جس پر مفتی صدرالدین آزردہ، مبارک شاہ رامپوری، مولانا فیض احمد بدایونی، مولوی وزیر خان اکبر آبادی، مولوی عبدالغنی اور دیگر زعماء نے دستخط کیں۔ فتوی نے جاری شورش مزید بھڑکا دی۔‘ ۔

علامہ فضل حق خیر آبادی کی حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے تلمذ اور صحبتیں رہیں۔ اور مرزا غالب سے قریبی تعلقات تھے۔ شیروانی صاحب۔ ’تذکرہ غوثیہ‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ: علامہ عربی اشعار شاہ عبدالعزیز، رحمہ اللہ، کو دکھایا کرتے تھے ’۔ اوائل عمری کا واقعہ ہے۔ اشعرا لشعراء امرؤ القیس کے ایک قصیدے کے طرز پر قصیدہ لکھ کر شاہ صاحب کو جاکر سنایا۔ مولانا غوث علی شاہ قلندر کا بیان ہے۔ کہ شاہ صاحب نے ایک مقام پر اعتراض کیا۔ جواب میں علامہ نے متقدمین کے بیس اشعار سنا دیے۔ مولانا فضل امام بھی اس وقت موجود تھے، فرمانے لگے، بس، حد ادب! علامہ نے کہا کہ حضرت! یہ کوئی علم تفسیر و حدیث تو ہے ہی نہیں۔ فن شاعری ہے۔ اس میں بے ادبی کی کیا بات ہے؟ شاہ صاحب نے فرمایا، برخوردار تم سچ کہتے ہو، مجھ کو سہو ہوا‘ ۔

پندرہ سے زیادہ تصنیفات، جن میں زیادہ تر معقولات پر ہیں، علامہ کی تبحر علمی اور عبقریت پر دال ہیں۔

اپنے آبائی وطن خیرآباد میں 1797 ع کو پیدا اور 1861 ع کو جزائر انڈمان میں وفات پانے والے علامہ پر 1859 ع میں لکھنو میں مقدمہ چلا۔ دوسرے روز عدالت نے حبس دوام بعبور دریائے شور کا حکم سنایا۔ پرویز اشرفی صاحب اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’مولانا متعدد امراض میں مبتلا ہو گئے۔ صبح و شام اس طرح بسر ہوتی کہ تمام بدن زخموں سے چھلنی ہو چکا تھا‘ ۔ ان کے برخوردار مولانا عبدالحق انہیں آزاد کرانے کے لئے پورٹ بلیئر 1862 ع کو پہنچ گئے۔ لیکن ایک دن قبل ان کے والد کو پھانسی دی گئی تھی۔ شیروانی صاحب لکھتے ہیں : ’علامہ صاحب کی قبر انڈمان کے ساوتھ پائنٹ ( جسے عرف عام میں نمک بھٹہ کہتے ہیں ) ایک بستی میں ہے۔ علامہ کی قبر کے ساتھ مولوی عنایت علی کی قبر بھی ہے۔ جس کا ذکر‘ تواریخ عجیب۔ ’از جعفر تھانیسری میں ہے‘ ۔

مرزا غالب ایک خط میں شیخ لطیف احمد بلگرامی کو علامہ صاحب کی وفات سے متعلق لکھتے ہیں :

’کیا لکھوں اور کہوں؟ ، نور آنکھوں سے جاتا رہا، اور دل سے سرور۔ ہاتھ میں رعشہ طاری ہے، کان سماعت سے عاری۔

عتاب عروساں درآمد بجوش صراحی تہی دست و ساقی خموش
فخر ایجاد و تکوین، مولانا فضل حق خیر آبادی ایسا دوست مر جائے، غالب نیم مردہ، نیم جاں رہ جائے ’۔

Facebook Comments HS