ریاست ماں تو ہے مگر سروگیٹ ماں
احمد فراز نے ایک نظم کہی جس کا عنوان ”ہندوستانی دوستوں کے نام“ ہے۔ اس نظم کے ایک بند میں فراز اپنی مجبور اور ہے نوا مخلوق جو نصف صدی سے زائد اندھیرے میں رہ چکی کا نوحہ بیان کرتے ہیں۔ فراز اس مجبور مخلوق کے لیے چراغ کی آرزو لیے گزر گئے۔ اب فراز کو گزرے بھی ڈیڑھ دہائی ہو چکی یوں یہ بے نوا مخلوق نصف صدی سے پوری صدی تک تاریکی کے سفر پر نکل پڑی ہے اور وہ چراغ کے جس کی آرزو تھی اسی اندھیرے میں کہیں ڈوبتا دکھائی دیتا ہے۔
ملک میں ایک جانب انتخابات کا شور ہے جہاں ایک پارٹی کو تو انتخابی عمل کے لیے ہی خطرہ بتا کر دور رکھا جا رہا ہے تو دوسری جانب بلوچ مظاہرین سے ریاست کو شدید خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ بلوچ مظاہرین کے خلاف ریاستی تشدد دیکھ کر حیرانی کا اظہار کرنا بھی اب بے معنی سا عمل لگتا ہے اور اس کی وجہ نہایت سادہ سی ہے کہ کچھ بھی تو نیا نہیں ہے، کچھ بھی خلاف معمول نہیں۔ کراچی سے کشمیر تک جب بھی کسی نے حقوق کے بات کی ریاست کو اپنے وجود کا پیشگی خطرہ لاحق ہی رہا اور ریاستی جوابی وار ہمیشہ ایسا ہی رہا جیسا اب ہم بلوچ مظاہرین کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں۔
منظر عام پر ریاست اپنی کافی قوت اس امر پر صرف کرتی دکھائی دیتی ہے کہ ریاستی ادارے انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے سرگرم ہیں اور تمام کام تیزگام چل رہا ہے، یعنی عوام اپنی پسند کا سیاسی نمائندہ آسانی سے چن سکیں، بظاہر یہی منشا ریاست کی بھی ہے۔ دوسری جانب ریاست شہری کو اتنا حق بھی دینے کو تیار نظر نہیں آتی کہ شہری اپنے ساتھ ہوئی زیادتی اور ظلم کی داستان اپنے ساتھی شہریوں کو دکھا یا بتا سکے۔ اگر شہری اتنا حق استعمال نہیں کر سکتا تو خدا جانے اس انتخابی عمل سے اپنے پسندیدہ سیاسی نمائندے چن کر ایک شہری کی زندگی میں کون سی بنیادی تبدیلی آئے گی۔
جس کا کوئی والی وارث نہیں ریاست اس کی وارث ہے ریاست ماں ہے، ایسا لفظی شور تو ہم سنتے آ رہے ہیں مگر کراچی سے کشمیر تک ریاست کے ہر ستائے ہوئے شہری کو اس بات کا ادراک اب ہوا کہ ریاست ماں تو ہے مگر ’سروگیٹ‘ جس نے اپنی کوکھ بھی کسی آڑھت کے اصول پر دی۔ ریاست عام شہری سے ٹیکس لینے کو تیار ہے مگر روزگار کی فراہمی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات ریاست اپنے دائرہ کار سے آگے کے معاملات سمجھتی ہے۔ کوئی غریب اس مہنگائی کے عالم میں اپنی دیگچی میں پتھر ابال رہا ہو اور اپنی اس مفلسی پر ریاست کے وجود کو محسوس کرنا چاہے، جو پوچھنا چاہے، دکھانا چاہے کے میری وارث، والی، میری ماں، تو کہاں ہے؟ وہ ریاست کو خود سے دور ہی پائے گا البتہ جب یہ آبلوں والی زبان ریاست کو دکھائی جائے گی تب شہری ریاست کو اپنے سامنے تنا ہوا محسوس کرے گا اور ریاست ڈنڈے کے زور سے اپنے وجود کا معجزہ شہری کی پیٹھ پر دھر دے گی۔
ایک عام شہری جس نے بلوچستان کے پہلے تعارف میں چاغی کے پہاڑوں کا کردار ریاستی قوت کو بڑھانے کے ساتھ سنا یا پڑھا ہو، وہ شہری اس سرزمین کے باسیوں کو ریاستی جبر کا نشانہ بنتے دیکھ کر اپنے اعصاب پر کیسے قابو پا سکتا ہے۔ جس قوم نے ریاست کا تشخص اجاگر کیا آج وہی ریاستی جبر کے تازیانے کھا رہی ہیں۔ وہ مظاہرین جو ہزاروں کلو میٹر کا سفر کر محض اس لیے آئے کے ریاست کو اپنا درد دکھا سکیں، ساتھی شہریوں کو بتا سکیں کے اب درد اتنا ہے کے برداشت کی حس بے حس ہو چکی، جن کے پاس تن ڈھانپنے اور سخت سرد موسم سے نمٹنے کے خاطر خواہ انتظامات نہیں، ان کا آنا ریاست اپنے لئے خطرہ اور وفاق پر قابض ہونے سے تعبیر کرتی ہے۔
ریاست غالباً اس فکر کو پس پشت ڈال چکی ہے کہ ریاست کی اپنی بقا ریاستی استحکام کے مرہون منت ہے۔ اگر ریاست جائز سوال پوچھتے، حق مانگتے ہر شہری کے خلق میں دہکتے انگارے بھر دینے کی مشق جاری رکھے گی تو عدم استحکام کی فضا قائم رہے گی۔ ساتھ ہی ساتھ اب ریاست کو یہ ریت بدلنا ہوگی کہ جب کوئی درد مند شہری، گروہ، قبیلہ یا قوم ریاست کو اپنا درد دکھائے تو ریاست اپنی جانب سے درد کی دوا دینے کے بجائے غدار، ایجنٹ، بیرونی پرزے، علحدگی پسند گروہ وغیرہ جیسی اصطلاحات کا بے دریغ استعمال کرے۔ ریاست کو اس اندھیرے کو پاٹنے کے لیے خود چراغ بننا پڑے گا ورنہ ہمارا سفر امید سحر کی آرزو لیے اسی دائرے کے سفر میں تمام ہو گا جہاں سے حاصل وصول محض ندامت ہی ہوگی۔


