خواجہ سرا، والدین اور ریاست


کھانا کھانے کے بعد ہم دوست چائے پینے کی غرض سے ایک دیسی ڈھابہ ڈھونڈ رہے تھے جہاں بیٹھ کر چائے پی جا سکے۔ چائے کا اصل مزہ دیسی ڈھابہ میں ہے۔ تلاش بسیار کے بعد ہمیں ایک ڈھابہ مل گیا۔ سیاسی و مذہبی گفتگو تو ہم ہوٹل میں کھانا کھاتے ہوئے کر چکے تھے۔ چائے کے انتظار میں ہلکے پھلکے مزاحیہ لطیفوں کا تبادلہ ہونے لگا۔ اتفاقاً ایک خواجہ سرا کا ادھر سے گزر ہوا۔ دوست نے اسے آواز دی۔ ابے، ادھر آؤ، وہ چلا آیا۔ دوست نے کہا:ذرا دو قدم دکھاؤ، وہ پہلے شرمایا، پھر تھرکنے لگا۔

میں نے کہا:بس ٹھیک ہے، یہ روپے لو اور جاؤ۔ دوست نے کہا :ایسے نہیں، وہ سٹیپ کر کے دکھاؤ، میں نے کہا: ارے یار! رات بہت ہو چکی ہے، بے چارا صبح سے یہاں وہاں خوار ہو رہا ہے، ابھی اسے جانے۔ دوست نے کہا : تمہیں بڑی ہمدردی ہو رہی ہے، کیا آج کی رات یہ تیرے پاس گزارنے والا ہے؟ بکواس بند کرو، میں نے غصے سے کہا، دوست نے کہا:اچھا بھائی جاؤ لیکن وہ سٹیپ کرتے جاؤ۔ خجالت سے غرق سر جھکائے وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔

خواجہ سرا کے بارے میں دوست کا یہ رویہ دیکھ کر میرا دل بہت رنجیدہ تھا۔ اس صنف کے بارے میں دوستوں سے میں اپنی آرا کا اظہار کر چکا ہوں لیکن یہ الٹا مجھ سے ہمدردی کرتے ہیں کہ تو بھی انھیں میں سے ایک ہمارے درمیان آ گیا ہے۔ مسلم سماج میں خواجہ سرا سے ایسا سلوک کیوں روا رکھا جاتا ہے؟ یہ ایک تلخ سوال ہے جس کا جواب دینے کی معاشرے کے پروردہ آلۂ کار میں حوصلہ نہیں ہے۔ رب تعالیٰ نے جنوں کے بعد انسانوں کو پیدا کیا۔

یہ علم نہیں کہ جنات میں بھی خواجہ سرا ہوتے ہیں یا نہیں، یہ تو کوئی ماہر جنات ہی بتا سکتا ہے۔ انسانوں میں مرد اور عورت کے درمیان یہ تیسری جنس بطور انسان پائی جاتی ہے جنھیں عورتوں اور مردوں کی طرف سے اپنی صنف میں شامل کرنے پر نہ صرف معذوری ظاہر کی جاتی ہے، مزید یہ کہ اس صنف کے لیے شدید نفرت اور بیزاری کا رجحان بھی ملتا ہے۔ ایک بات تو طے ہے کہ یہ صنف، کسی کھسرے، زنخے، شی میل اور نامرد کے ہاں پیدا نہیں ہوتی۔

انھیں پیدا کرنے والے پورے مرد اور پوری عورتیں ہوتی ہیں جن کے ہاں ان کی نارمل بچوں کی طرح پیدائش ہوتی ہے۔ ان کی پیدائش پر عضو تناسل کے ظاہراً نقص کو دیکھ کر ان کی صنف کا تعین کرنے والے ان کے والدین ہوتے ہیں جو کسی صورت نامرد، خواجہ سرا، کھسرے اور نامرد نہیں ہیں بلکہ یہ ہر لحاظ سے پورے مرد اور پوری عورت ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان پورے مرد اور پوری عورت کے ہاں اگر اس بچے نے جنم لیا ہے تو اس عمل میں اس بچے کا کیا قصور ہے؟

مجھے پیدا کرتے وقت میرا حسب، نسب، علاقہ، زمین، ملک، والدین، بہن، بھائی، رنگ، نسل، زبان، برادری، عمر، قد، شکل اور وضع کے بارے میں رب تعالیٰ نے نہیں پوچھا کہ بتاؤ! تمہیں کس جگہ، علاقہ، رنگ، نسل، ہیئت اور صنف میں پیدا کروں۔ مجھے یقین ہے اگر ان خواجہ سرا سے رب تعالیٰ سے پوچھا ہوتا تو یہ پورے مرد اور پوری عورت کے روپ میں دنیا میں تشریف لانے کو ترجیح دیتے۔ جب یہ اختیار رب تعالیٰ کا ہے تو اس اختیار کی عملی شکل کو رب تعالیٰ کی حکمت، مصلحت اور رضا سمجھ کر قبول کرنے میں کیا قباحت ہے۔

یہ تو رب تعالیٰ کی تقسیم پر اعتراض اٹھتا ہے جو انسان کو کفر تک لے جاسکتا ہے۔ اس صنف کی پیدائش پر آپ کا نفرین آمیز رویہ اس اعتراض کو سچ ثابت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ان معصوم انسانوں کو رب تعالیٰ نے اگر biological deficienciesکی بنا پر اس طرح پیدا ہونے دیا ہے تو ہیئت اور صنف کے تخصیصی عمل کے تعین میں ان سے یہ سلوک کسی صورت زیب نہیں دیتا۔ صدیوں سے ٹرانس جینڈر کے ساتھ بدقسمتی سے یہی سلوک کیا جا رہا ہے۔ انھیں گھر، رشتوں، زمین، جائیداد اور نسبت پدر سے برخاست و عاق کر دیا جاتا ہے۔

جگہ جگہ بھیک مانگتے اور مجبوراً جسم فروشی کر کے ایک عبرت ناک زندگی گزار کر سسک سسک کر مر جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں سنجیدگی سے عملی اقدامات کرنے کا حوصلہ کسی پیر، فقیر، اولیا، امرا، صاحب استطاعت اور ریاستی نمائندوں میں کبھی دیکھا اور نہ سنا۔ ان کی پیدائش کے بارے میں مسلم سماج میں ایک عام جاہلانہ تصور یہ پایا جاتا ہے کہ خواجہ سرا بطور آزمائش اعمال بد کی سزا کے طور پر پیدا ہوتے ہیں، ان سے ہر قسم کی علیحدگی اختیار کر لینے سے بقیہ اولاد کی صنف میں اس طرح کے نقص کی آمیزش سے بچا جا سکتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر آپ انھیں اسی طرح اپنے گھروں سے نکالتے رہیں گے اور یہ آپ جیسے مریض ذہنیت کے حامل افراد کی جنسی ہوس کا نشانہ بنتے رہیں گے اور بنیادی انسانی ضرورتوں کے حصول کے لیے ہر طرح کے اخلاقی، سماجی، مذہبی اور ریاستی جرم میں ملوث پائے جاتے رہیں گے تو اس کار گناہ میں سب سے زیادہ حصہ آپ یعنی ماں باپ کا ہے جن کے ہاں یہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر آپ ان بچوں کو بقیہ اولاد کی طرح biological deficienciesکے ساتھ قبول کر لیں اور ان کے لیے تھوڑی زیادہ توجہ اور محنت سے ان کی تربیت کا ذمہ لیں تو یہ صنف وحشی درندوں کی جنسی شہوت اور اخلاق سوز معاشرتی عناصر میں ملوث مجرموں کے ظلم سے محفوظ ہو سکتی ہے اور ایک نارمل انسان کی طرح زندگی گزار سکتی ہے۔

ریاست کے پاس اتنے وسائل یقیناً ہیں کہ وہ ان کے لیے مثالی اقدامات کر سکتی ہیں لیکن ریاست کو اور بہت کام ہیں، ان کے نزدیک یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، جہالت کی تاریکی آہستہ آہستہ چھٹ رہی ہے۔ میڈیکل سائنس کی بدولت ہم بہت سے جسمانی عوارض اور biological deficienciesکی وجوہات کے بارے میں جاننے لگے ہیں۔ ٹرانس جینڈر صنف میں پیدا ہونا کوئی آزمائش، مصیبت اور اعمال بد کا ردعمل نہیں ہے۔ یہ نارمل بچوں کی طرح ہی پیدا ہوتے ہیں، ان کی خواہشیں، آرزوئیں اور تمنائیں نارمل مرد اور عورت والی ہیں۔

خدا کے لیے اس صنف سے مزید نفرت اور بیزاری کا رویہ ترک کریں، انھیں گھروں سے نکالنے کی بجائے عزت سے گھر میں رکھیں اور ان کی پرورش کے ساتھ تربیت پر توجہ صرف کریں۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق پانچ سے سات لاکھ حقیقی نوعیت کے ٹرانس جینڈر موجود ہیں جن میں ہر طرح کی ذہنی و جسمانی صلاحیت، لیاقت اور قابلیت کا وصف موجود ہے جو ملک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ جن والدین کے ہاں یہ بچے پیدا ہوتے ہیں، ان سے روز قیامت یہ سوال کیا جائے گا کہ ہم نے جس بھی مصلحت کے تحت انھیں پیدا کیا تھا، آپ نے ان کے ساتھ والدین کی حیثیت سے کیا سلوک کیا؟

آپ کو اس سوال کا جواب دینا پڑے گا۔ روز قیامت آپ کی نیکیاں، حج، عبادت اور فلاحی کام اس سوال کے جواب سے بچا نہ سکیں گے، اگر آپ نے اپنا رویہ، سوچ اور نیت کو درست نہ کیا تو قیامت کے دن آپ کے گریبان ان کے ہاتھوں میں ہوں گے۔ مظلوم کو انصاف مل کر رہتا ہے۔ ظلم ڈھانے والے خواہ و الدین ہوں، ریاست کے نمائندے ہوں، ان سے ہمدردی کرنے او ران کے نام پر چندہ لے کر ان کے بنیادی حقوق کا استحصال کرنے والے بونے ناسور ہوں، روز قیامت سب کے سب دھر لیے جائیں گے۔ رب تعالیٰ کی میزان عدل کے سامنے آپ کی کوئی التجا اور گڑگڑاہٹ نہیں سنی جائے گی۔ واللہ! ہوش میں آئیے، انھیں ڈھونڈیے، عزت سے گھر لائیے۔ اسی میں آپ کی بھلائی اور ان کی خوشحال زندگی کا مستقبل پنہاں ہے۔

Facebook Comments HS