استقامت میں کرامت ہے


مالی لحاظ سے اس کا تعلق ایک انتہائی غریب خاندان سے تھا، اس کا باپ معذور تھا اور گاؤں کی مسجد کا امام تھا جس پر ایک بڑے کنبے کا بوجھ تھا۔ اپنی ایک بہن اور پانچ بھائیوں میں وہ ایک انتہائی ذہین اور لائق طالبعلم تھا، سکول کے امتحانات میں ہمیشہ پوزیشن حاصل کرتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ چمک اور کچھ کر گزرنے کی جستجو جھلکتی رہتی تھی۔ میٹرک کے بعد باوجود وسائل کی کمیابی کے اس کے والد نے اس کی خواہش پر اسے لاہور کے کسی کالج میں مزید تعلیم کے لئے داخلہ دلوا دیا۔

وقت گزرتا رہا یہاں تک کہ کالج کے دوسرے یا تیسرے سال نعیم احمد پر انکشاف ہوا کہ اس کی پیاری اور محترم والدہ کسی موذی مرض غالباً کینسر کا شکار ہو گئی تھی۔ یہ خبر اس کے تمام گھر والوں کے لئے انتہائی صدمے کا باعث بنی اور انھوں نے اپنی استطاعت کے مطابق علاج معالجے کے لئے بھاگ دوڑ شروع کر دی لیکن وسائل کی کمی آڑے آئی کیونکہ علاج معالجے کے لئے خطیر رقم درکار تھی۔ نعیم احمد کی اب پڑھائی میں دلچسپی کم ہو گئی اور اسے ہر وقت یہ فکر کھائے رہتی تھی کہ کسی طرح اپنی ماں کی زندگی بچا لے۔

اسی تگ و دو میں وہ پڑھائی چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے کی خاطر کسی طرح جنوبی افریقہ پہنچ گیا۔ اس نے سر توڑ کوشش کی کہ اس کی والدہ صحت یاب ہو جائے لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں اور جس کی امانت تھی اس نے اسے اپنے پاس بلا لیا۔ نعیم احمد کی گویا دنیا ہی اجڑ گئی لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور غربت کو اپنی محنت، لگن اور استقامت سے شکست دینے کا فیصلہ کر لیا جس غربت نے اس سے ماں جیسی نعمت کو چھین لیا تھا۔ اس نے جنوبی افریقہ میں اپنے کیریئر کا آغاز صفر سے کیا تھا۔

لمبے عرصے تک محنت، مزدوری کرتا رہا، کئی بار بھوکا سویا، سڑکوں پر جوتے بیچتا رہا، تنگدستی میں اپنے اور غیروں کے رویوں اور زمانے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتا رہا۔ اس سب کے ساتھ ساتھ اس نے خدا پر کامل یقین رکھتے ہوئے مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کو جاری رکھا یہاں تک کہ قدرت اس پر مہربان ہونے لگی اور اس نے چھوٹے پیمانے پر اپنا ذاتی کاروبار شروع کر دیا۔ اپنی محنت، لیاقت، مستقل مزاجی اور ہار تسلیم نہ کرنے والی طبیعت کے باعث اسے آہستہ آہستہ کامیابیاں ملنے لگیں اور اس کا کاروبار وسیع ہونے لگا۔

اور اب محض بیالیس سال کی عمر میں وہ جنوبی افریقہ میں بلڈنگ، ٹرانسپورٹ اور سٹیل کی پانچ کمپنیاں قائم کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے جن کی ملکیت کئی ملین ڈالرز ہے جہاں ہزاروں ملازمین کام کرتے ہیں جن میں مقامی گورے اور کالوں کے ساتھ سینکڑوں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ نعیم احمد کا کاروبار اور رہائش تو جنوبی افریقہ میں ہے لیکن اس کا دل اب بھی پاکستان کے لئے دھڑکتا ہے۔ بیرون ملک مقیم بہت سے پاکستانیوں کی طرح وہ بھی اپنے ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ پاکستان کے ناسازگار حالات پر کڑھتا ہے جو محنتی اور اس کی طرح کے سیلف میڈ لوگوں کے لئے موافق نہیں، جہاں ہمیشہ بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کے شکار کی تاک میں رہتی ہیں۔

لیکن پھر بھی وہ اپنے علاقے کے غریب اور نادار لوگوں کی بڑھ چڑھ کر خدمت کرتا ہے اور اپنے پاکستانی بھائیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں رہتا ہے، متعدد پاکستانیوں کو ساؤتھ افریقہ میں ملازمت اور روزگار کی فراہمی اس کی چھوٹی سی ایک مثال ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں کتنا ٹیلنٹ موجود ہے اور اگر انھیں سازگار ماحول مہیا ہو تو وہ مٹی کو بھی سونا بنا سکتے ہیں۔ انسان اگر جسمانی طور پر صحت مند ہو اور اس کے تمام اعضاء سلامت ہوں تو وہ ان سے کام لے کر کوئی بھی انہونی کر سکتا ہے۔

لیو ٹالسٹائی روس کا ایک مشہور فلسفی اور عظیم لکھاری ہے جس کی شہرہ آفاق کتاب کا نام وار اینڈ پیس (War & Peace) ہے۔ ٹالسٹائی کا تعلق ایک جاگیر دار گھرانے سے تھا لیکن اپنی حساس اور غریب پرور طبیعت کے باعث اس نے اپنی جاگیر غریب ہاریوں میں تقسیم کردی۔ ٹالسٹائی جب اپنی جاگیر غریبوں میں بانٹ چکا تو اس کے پاس ایک غریب نوجوان پہنچا اور ٹالسٹائی سے درخواست کی کہ اس کی غربت کو دیکھتے ہوئے اسے بھی زمین کا ٹکڑا عنائیت کیا جائے تاکہ وہ بھی باعزت زندگی بسر کر سکے لیکن اب بے مثال دانشور اور عظیم لکھاری کے پاس غریب نوجوان کو نصیحت کی دولت کے سوا دینے کے لئے کچھ نہیں بچا تھا۔

ٹالسٹائی نے نوجوان سے کہا، ”اچھا تو نوجوان تم غریب ہو“ نوجوان نے کہا ”جی میں غریب ہوں اور بے انتہا ضرورت مند بھی“ ۔ ٹالسٹائی نے نوجوان کو کہا کہ ”پھر ایسا کرو کہ مجھے اپنا ایک ہاتھ کاٹ کے دے دو اور اس کے بدلے بیس ہزار روبل لے لو“ نوجوان حیران ہو کر ”جناب آپ کیسی بات کر رہے ہیں، میں اپنا ہاتھ ایک لاکھ روبل میں بھی فروخت نہ کروں“ ٹالسٹائی اس نوجوان سے دوبارہ مخاطب ہو کر کہتا ہے ”۔ اچھا نوجوان، اگر تم اپنا ہاتھ نہیں بیچ سکتے تو ایک ٹانگ ہی بیچ دو اور بدلے میں مجھ سے ایک لاکھ روبل لے لو“ نوجوان پریشان ہو کر ”جناب کمال کرتے ہیں آپ، آپ مجھے دس لاکھ روبل بھی دے دیں، میں اپنی ٹانگ آپ کو نہ بیچوں گا“ ۔

ٹالسٹائی دوبارہ اس سے مخاطب ہوتے ہوئے ”اچھا تو نوجوان اگر آپ اپنی ٹانگ بھی نہیں دینا چاہتے تو پھر اپنی ایک آنکھ مجھے دے دیں اور اس کے بدلے میں بیس لاکھ روبل لے لیں“ ۔ اب کی بار نوجوان کو غصہ آ گیا اور وہ بولا ”جناب میں نے تو آپ کے بارے میں سنا تھا کہ آپ بہت ہی عقلمند، مہربان اور سخی ہیں لیکن آپ تو پاگلوں والی باتیں کر رہے ہیں، خواہ آپ مجھے ایک کروڑ روبل کی پیشکش بھی کر دیں میں آپ کو اپنے جسم کا کوئی حصہ نہیں دوں گا“ ۔

ٹالسٹائی مسکراتے ہوئے اس نوجوان سے مخاطب ہوا، ”نوجوان تم تو کہتے ہو کہ تم بہت ہی غریب اور ضرورت مند ہو جبکہ تم اپنے جسم کا کوئی بھی حصہ لاکھوں اور کروڑوں میں بیچنے پر آمادہ نہیں ہو، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ درحقیقت تم کروڑ پتی ہو۔ جاؤ اور اپنے ان کروڑوں کی قیمت کے جسمانی اعضاء، جسمانی طاقت اور ذہن سے کام لو، محنت کرو اور اپنا مقدر سنوارو“ ۔ بولنے، سوچنے، سمجھنے اور تخلیقی صلاحیتوں کی بنیاد پر ہی انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے۔

اپنی ان صلاحیتوں کی بدولت ہی آج انسان کائنات کو تسخیر کر رہا ہے۔ جو لوگ اپنی صلاحیتوں کا استعمال نہیں کرتے وہ زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور جو لوگ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا ہنر جان جاتے ہیں وہ ایسے پانی کی طرح ہوتے ہیں جو اپنا رستہ خود بناتا چلا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق آئن سٹائن دنیا کا سب سے ذہین شخص مانا جاتا ہے حالانکہ اس نے اپنے دماغ کا صرف چار فیصد حصہ استعمال کیا تھا۔

قدرت نے ہر انسان کو بے شمار صلاحیتیں عطا کی ہوئی ہیں اور اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچان لے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔ نعیم احمد کی کامیابیوں کی داستان تو ایک مثال ہے، ایسی کئی مثالیں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ کامیابی کے لئے مسلسل محنت، بلند حوصلہ منصوبہ بندی شرط ہے اور استقامت کسی بھی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے لئے کرامت کا کردار ادا کرتی ہے۔ پھر خدا بندے سے خود ہی کہتا ہے کہ ”بتا تیری رضا کیا ہے“ ۔ کسی عرب دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ ”استقامت میں کرامت ہے“ ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments