سلطان رشک اور گوجر خان
05 دسمبر 2023 ء دبستان راولپنڈی کے لئے غم و اندوہ کا دن تھا کہ اس روز وہ شخص دنیائے فانی سے رخصت ہوا جس نے کئی دہائیوں تک راولپنڈی کی ادبی فضا ء میں تلاطم برپا کیے رکھا، غالباً 2004۔ 05 کی بات ہے جب لیاقت روڈ پر گورڈن کالج کے سامنے اترائی میں پی ایم اے ہاؤس کے ساتھ ماہنامہ ”نیرنگ خیال“ کے دفتر میں سلطان رشک سے ملاقاتوں کا آغاز ہوا اور پھر کم ازکم پانچ سال تسلسل کے ساتھ کبھی نیرنگ خیال اور کبھی کسی ادبی تقریب میں سلطان رشک سے ملاقاتیں ہوتی رہیں، اسی پہلی ملاقات میں مجھ سے قبل برادرم شکور احسن بھی سلطان رشک کے پاس تشریف فرما تھے سو ان سے محبت اور دوستی کا رشتہ بھی وہیں پروان چڑھا، شام چار بجے کے لگ بھگ سلطان رشک دفتر آتے تو میں بھی پہنچ جاتا، چائے کے ادوار چلتے، ادبی گپ شپ ہوتی، میں نیرنگ خیال کی ترسیل اور تیاری میں تھوڑی بہت معاونت بھی کر دیتا، جس کا ذکر انہوں نے کسی سالنامے میں بھی کر رکھا ہے۔
میں یہاں بتاتا چلوں کہ اردو شاعری کی اصلاح پہلے پہل سلطان رشک اور پھر سید عارف مرحوم سے لی لیکن دیگر جزوقتی شاعروں کی طرح اس میدان میں کوئی کارہائے نمایاں سرانجام دینے سے قاصر رہا اس لیے اب شاعری پہلی ترجیح نہیں رہی، نیرنگ خیال کی ان ملاقاتوں میں کبھی کبھار عمران عامی، احمد رضا راجا، مختار مغل صائم، ارشد نذیر ساحل، عباس ثاقب، صابر ملک بھی شریک ہو جاتے، سینیئر شعراء میں شوکت مہدی، سید عارف، کرنل مقبول حسین وغیرہ تو اکثر آتے جاتے رہتے۔
2009 ء میں ”گوجر خان میں اردو نعت گوئی“ کے زیر عنوان ایک کتاب مرتب کرنے کا ارادہ کیا تو اس کے لیے کوائف جمع کرنا شروع کیے، کتاب کے لیے ایک باب ان شاعروں اور ادیبوں کے لئے بھی مختص کرنے کا ارادہ تھا جو گوجر خان سے تو نہیں تھے لیکن بسلسلہ ملازمت یا کسی اور وجہ سے کسی نہ کسی دور میں گوجر خان قیام پذیر رہے۔
سلطان رشک بھی چونکہ زندگی کے چند ابتدائی سال گوجر خان گزار چکے تھے اس لیے 21 ستمبر 2010 ء بروز بدھ شام 6 بجے نیرنگ خیال کے دفتر میں ہی ان سے سوانحی کوائف حاصل کیے اس ملاقات میں ان کا معاون شاہد ساکن دھیر کوٹ آزاد کشمیر بھی موجود تھا، کتاب تو بوجوہ شائع نہ ہو سکی لیکن سلطان رشک سمیت بہت سے شاعروں ادیبوں کے کوائف اسی بہانے جمع ہو گئے، سلطان رشک کا اصل نام سلطان احمد تھا، اجمیری گیٹ دہلی میں 10 اپریل 1943 کو شیخ برادری کے عبدالمجید کے گھر پیدا ہوئے، پانچ بھائیوں خورشید عالم، محمد سرور، شمیم احمد، اخلاق احمد اور چار بہنوں میں آپ کا نمبر پانچواں تھا۔
عبدالمجید پاکستان آمد سے قبل لکڑی کا کاروبار کرتے تھے، پاکستان قائم ہوا تو خاندان کے ہمراہ پہلے لاہور اور پھر گوجر خان منتقل ہوئے، سلطان رشک نے اسلامیہ سکول گوجر خان سے 1954 ء میں پرائمری پاس کی۔ عدالت حسین سکول ٹیچر اور نتھو خان سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے، 1957 ء میں والد کا انتقال گوجر خان میں ہی ہوا اور اس کے بعد یہ خاندان راولپنڈی منتقل ہو گیا، فیض الاسلام ہائی سکول ٹرنک بازار سے 1959 میں میٹرک کیا، گورنمنٹ کالج سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی سے 1961 میں ایف اے کیا، کالج یونین کے سیکرٹری بھی رہے، ایف اے کے طالبعلم تھے جب شاعری کا آغاز کیا، 1961 میں پہلی غزل لکھی جس کا مطلع یہ تھا
ان کی محفل میں کہاں جرات گویائی ہے
دل کی ہر بات نگاہوں میں سمٹ آئی ہے
گورڈن کالج راولپنڈی سے 1964 میں بی اے اور 1966 ء میں اسی کالج سے اردو ادب میں ایم اے کیا، ایم اے کے کلاس فیلوز میں پروین فنا سید، رشید امجد اور اسد منظور ہاشمی تھے۔ ایم اے کر نے کے بعد گورڈن کالج راولپنڈی میں بطور لیکچرار 3 ماہ ملازمت بھی کی۔ حکیم یوسف حسن کی زندگی میں ہی 1967 ء میں برصغیر کے قدیمی ادبی رسالے ماہنامہ ”نیرنگ خیال“ کی ادارت سنبھال لی تھی، نیرنگ خیال میں برصغیر پاک و ہند کے تمام نامور شعراء اور ادیبوں کی نگارشات تسلسل سے شائع ہوتی رہی ہیں۔
شاعری میں فوق لدھیانوی سے مشاورت کرتے، پہلے سلطان احمد قریشی تخلص کرتے تھے پھر جوش ملیح آبادی کے کہنے پر سلطان رشک لکھنے لگے، اختصاص اردو غزل تھا اور اہم ادبی دوستوں میں ضمیر جعفری، عبدالحمید عدم، کرنل محمد خان شامل تھے، طنز و مزاح پر مبنی رسالے ”اردو پنچ“ کے بھی مدیر رہے، 1974 ء میں والدہ کی مرضی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، سلطان رشک کا اولین شعری مجموعہ ”دریا کی دہلیز“ تھا بعد ازاں ”کاغذ کا گھر“ کے نام سے دوسرا شعری مجموعہ بھی شائع ہوا۔
2004 ء میں نمل اسلام آباد سے سمیرا حبیب نے ”سلطان رشک کی شاعری دریا کی دہلیز کے حوالے سے“ کے موضوع پر ایم اے اردو کا مقالہ تحریر کیا جس کے نگران پروفیسر احمد جاوید تھے، لیاقت روڈ پر نیرنگ خیال کا دفتر کئی دہائیوں تک ادبی سرگرمیوں کا مرکز رہا، صدر جی پی اوکے سامنے شیزان ہوٹل میں سلطان رشک کی معیت میں سید عارف، شوکت مہدی، کرنل سید مقبول حسین جیسی ادبی شخصیات روزانہ مغرب کے بعد محفلیں سجاتیں جو کئی گھنٹے تک جاری رہتیں، کئی سال قبل فالج کے مرض میں مبتلا ہوئے لیکن اسے مجبوری نہ بنایا اور علالت کے باوجود باقاعدگی کے ساتھ نیرنگ خیال کی اشاعت کا اہتمام کرتے رہے۔ نیرنگ خیال پبلی کیشنز کے زیر اہتمام کتب کی اشاعت اور بزم نیرنگ خیال کے زیر اہتمام ادبی تقریبات کا انعقاد کرتے تھے۔
سلطان رشک افراتفری کے دور میں بھی حالت کے بہتر ہو جانے کے بارے میں بہت پر امید رہے، انہیں یقین تھا کہ تاریکی بہت جلد ختم ہونے والی ہے اور ہر طرف صبح کی روشنی نے پر پھیلانے ہیں۔ اس حوالے سے چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔
یقین ہے روشنی صبح کا مجھے اے رشک
ہوں منتظر مرے دن رات کب بدلتے ہیں
……
ہمیں معلوم ہے جانبر نہیں ہونا مگر پھر بھی
تمنا کا قدم امید کے زینے میں رہنے دے
……
امید کا جادو بھی بہت خوب ہے لیکن!
میں خوف شب تار و سحر میں نہیں رہتا
……
پرندے چہچہانے ہیں، سحر ہونی ہے گلشن میں
مجھے پورا یقیں ہے یہ اندھیرا ختم ہونا ہے
……
سایہ خورشید محشر میں ہوں، اس امید پر
اس سفر میں سایہ ابر رواں بھی آئے گا
ملک میں عدل و انصاف کی عدم فراہمی پر آپ ہمیشہ کڑھتے رہتے، اپنے ارد گرد برپا نا انصافی اور جبر دیکھ کر سلطان رشک کو کسی طور چین نہیں پڑتا تھا، اپنی دلی کیفیات کا اظہار وہ اشعار میں یوں کرتے تھے۔
اک عدل ہی نایاب تھا بس شہر میں تیرے
منصف بھی تھے، مجرم بھی، کٹہرے بھی بہت تھے
……
نظام عدل، محروم سماعت اور بصارت ہے
بہت کرتی رہی خلق خدا فریاد پہلے بھی
……
اپنے نظام عدل کے بارے میں کیا کہوں
مجرم یہاں گناہ سے آگے نکل گئے
……
پھول ہیں نغمے ہیں، رنگ و نور و نکہت ہے مگر
لے اڑا اس سلطنت سے عدل کی میزان کون
سلطان رشک نے کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی اور نہ ہی لالچ اور مالی فائدے کے عوض اپنے فرائض سے کوتاہی برت کر دوسروں کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی، سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ لکھنا ان کا طرہ امتیاز رہا، یہ اشعار ان کی اسی روش کی عکاسی کرتے ہیں۔
دست ستم کو دست مسیحا نہیں لکھا
میں نے منافقوں کو فرشتہ نہیں لکھا
……
تمہاری طرح جو کرتے منافقت کو قبول
کبھی نہ طبع زمانہ پہ ہم گراں ہوتے
……
سلطان رشک فن ہو جہاں مصلحت کا نام
اس دور ناسپاس میں مر جانا چاہیے
……
ہم اہل دل کا تعلق ہے زیر دستوں سے
ہم اہل زر سے کوئی ساز باز رکھتے نہیں
……
مفاہمت ہی نہ کر پائے اہل دنیا سے
ہم اپنے کام کو خود ہی محال کرتے رہے
سلطان رشک اپنی انا اور خودی کی حفاظت جان سے بڑھ کر کرتا تھا، اس نے کبھی اپنی انا کو مجروح نہیں ہونے دیا اور انا کے پرچم کو ہمیشہ سر بلند رکھا، انا سلطان رشک کی غزل کا اہم جزو تھا جسے اس نے خوبصورتی سے اپنے شعروں میں بیان کیا ہے۔
ہم اہل انا دل کی حکایت کسی سے
کہتے تو کسی ڈھنگ سے توقیر سے کہتے
……
انا کو قتل، وفا کو فگار ہونا ہے
ہم ایسے لوگوں کے حالات کب بدلتے ہیں
……
ہم اہل انا، مر تو سکتے ہیں لیکن جھکیں گے نہیں
میرے دریا، رضا تیری کیا ہے بتا، تشنگاں کے لئے
……
بس ایک کام نخوردہ گزند کرتے رہے
تمام عمر انا کو بلند کرتے رہے
……
ٹکرا نہ مجھ کو میری انا کے پہاڑ سے
میرے لیے وہ ساعت برہم طلب نہ کر
سلطان رشک تمام عمر دوستوں سے شاکی بھی رہے اور خائف بھی، اسی لیے ان کی شاعری میں اس حوالے سے جا بجا اشعار ملتے ہیں۔
مجھے قریب کے لوگوں سے خوف آتا ہے
چھپے ہوئے مرے دشمن یہیں کہیں ہیں بہت
……
ساحل پہ دوستوں نے کرم یوں کیے کہ ہم
اک بار پھر کشاکش دریا میں آ گئے
……
کس سے امید وفا رکھیں یہاں سلطان رشک
اب تو یاروں کی محبت پر گماں کچھ اور ہے
……
دشمنوں نے تو عدالت میں گواہی دی سودی
دوستوں کا بھی پس پردہ بیاں کچھ اور ہے
……
جو کام میرے عدو کر نہ پائے رشک وہی
بصد خلوص میرے درد مند کرتے رہے
سلطان رشک کی غزل میں محبت کے لطیف جذبات کا اظہار بہت سی جگہوں پر نظر آتا ہے، وہ ظلمت کی تاریکیوں میں اپنی محبت کو اک چراغ سے تشبیہ دیتے ہیں، ان کا جینا اور مرنا محبت کے حوالے سے تھا، محبت کے بغیر وہ اپنی زندگی کو نامکمل تصور کرتے تھے۔
دنیا میں نہیں کچھ بھی محبت سے زیادہ
ہوتی ہے محبت تری قربت سے زیادہ
……
جلا ہی رہتا ہے دل میں دیا محبت کا
یہ نور، خیمہ ادراک میں نہیں رہتا
……
تنہا کھڑا ہوں دیر کی ظلمت کے سامنے
میرا چراغ تیری محبت کا جام ہے
……
جینا بھی محبت، مرا مرنا بھی محبت
کیا زیست محبت کے حوالے سے نہیں ہے
……
جو تیری عطا تیری رفاقت سے ملا تھا
رہتا ہوں اسی سحر محبت کے اثر میں
(نوٹ:مضمون نگار پوٹھوہاری زبان کے شاعر، محقق اور روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد میں سب ایڈیٹر ہیں )


