بلوچ خواتین کے ساتھ سلوک کو بلوچ روایات کے تناظر میں کیسے دیکھا جا رہا ہے


کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لئے متاثرہ فریق کے مزاج و نفسیات اور روایات کو سمجھنا بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ناواقفیت میں مسائل سلجھانے کی کوشش میں بھی اکثر اُلجھ کر مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ دروغ گوئی اور وعدہ خلافی اعتماد کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی طرح محکوم کو مزید دبانے اور مکمل زیر کرنے کے لئے طاقت کا استعمال اکثر اوقات محکوم کو ”تَنگ آمد بہ جنگ آمد“ کے مصداق طاقت ور کے مدمقابل کھڑا کر کے مرنے مارنے پر آمادہ کر تا ہے۔

مذکورہ بالا باتیں پاکستان اور بلوچ افراد اور بلوچستان کے حالات پر صادق آتی ہیں۔ 1948 میں پاکستان کے ساتھ بلوچستان کے ”الحاق“ سے لے کر تاحال حالات اسی ڈگر پر چلے آ رہے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہندوستان سے نووارد نوآبادی مائنڈ سیٹ سے لیس اور پنجابی مقتدرہ کے زیرِ اثر فیصلہ ساز قوتوں نے بلوچ و بلوچستان کے مسئلے کو اس کے تاریخی حالات و واقعات اور قومی روایات و نفسیات کے تناظر میں کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔

برطانوی قبضے سے پہلے بلوچستان کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت، انگریزوں کی آمد کے بعد انتظامی و سیاسی معاملات، مختلف بنیادوں پر بلوچستان کی تقسیم و نئی سرحدی حد بندیاں، انگریزوں کے انخلا کے بعد ریاست قلات کی سیاسی حیثیت، ”برٹش بلوچستان“ کا مسئلہ، پاکستان کے ساتھ الحاق کے بارے میں مملکتِ قلات کے ایوانِ کی متفقہ قراردادیں، پھر پاکستان کے ساتھ متنازعہ الحاق سے پیدا ہونے والی صورتحال جیسے اہم اور بنیادی واقعات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے۔

حقائق کی من پسندانہ تشریح کی جاتی ہے۔ پاکستان کے حکمران اور با اختیار قوتوں نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کہ بحیثیت قوم بلوچ کن روایات و اقدار کا مالک ہے اور اس کا قومی نفسیات اور مزاج کیا ہے؟ بلوچ سے کس طرح مخاطب ہوا جاتا ہے (یہ اہم معاملہ ہے ) اور اس کے ساتھ معاملات کو کس طرح آگے بڑھایا جاتا ہے؟ عوام کو تو رہنے دیں، پاکستان کا حکمران و با اختیار طبقہ، اس کے دانشور اور لکھاری و صحافی کی اکثریت نصف صدی سے زیادہ عرصے تک ”بلوچ“ اور ”بلوچی“ کے فرق سے ناآشنا ہیں۔

مجموعی طور پر پاکستان کا سب سے اہم اور گنجان صوبہ پنجاب کے پڑھے لکھے، اعلیٰ عہدوں پر براجمان افسران اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم نوجوانوں کی بلوچستان کے جغرافیہ و زمینی حالات و حقائق اور بلوچ قوم کے بارے میں معلومات نہ ہونے کے برابر اور مفروضوں پر مبنی ہیں۔ ایک محدود سروے کے مطابق ان کی اکثریت بلوچستان کے تین شہروں کے نام بھی نہیں بتا سکتے۔ پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے بے چارے عوام کی اکثریت کو یہ بھی نہیں معلوم کہ کوئٹہ بلوچستان میں ہے یا بلوچستان کوئٹہ میں!

یہ لاتعلقی اور لا علمی اتفاقیہ نہیں ہے، بلکہ اپنی غیر منصفانہ پالیسیوں کو دوام دینے کی خاطر باقاعدہ منصوبہ بندی پر مبنی ہے۔ دوسری جانب ذرائع ابلاغ کے توسط سے بلوچ اور بلوچستان کے بارے میں معصوم شہریوں کے ذہنوں میں کئی ایسی خودساختہ باتیں بٹھائی گئی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں بلوچ اور بلوچستان کی درست حالات کو سمجھنے کی کیونکر توقع کی جا سکتی ہے! دوسری جانب قبائلی و روایتی اقدار اور مزاج کے حامل بلوچوں کے ساتھ مسلسل حکمرانوں کی دروغ گوئی او وعدہ خلافیوں نے بلوچوں کے اعتماد پر شدید ضرب کاری کر کے مسائل اور حالات کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔

قرآن مجید جیسی مقدس کتاب پر ہاتھ رکھ کر اور واسطہ دے کر مسلح بلوچوں کو پہاڑوں سے اتارنے کے بعد اپنے وعدے کے برخلاف انہیں بیٹوں سمیت تختِ دار پر چڑھانا، ہر نئے آنے والا طاقت آزما اور نیم جمہوری حکمران کا اپنے پیشروؤں کے روا رکھے جبر اور ظالمانہ سلوک پر بلوچوں سے معافیاں مانگ کر حق تلفی اور جبر کے وہی تسلسل مزید دوام دینا اور اپنی زبان کا پاس نہ رکھنا روایتی بلوچ کے لئے جتنا حیران کن ہ اتنا ہی باعثِ تذلیل بھی اور فریقِ مخالف کی اخلاقی حیثیت اور رتبہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اپنی زبان اور عہد پر قائم رہنا بلوچ روایات کا بنیادی جز ہے۔ اسی لئے ایک عام اور روایتی بلوچ کے لئے فخر سے خود کو پاکستانی کہنا یا کہلوانا مشکل امر ہوتا جا رہا ہے اور اس کے لئے پاکستان کے حکمران معتبر نہیں رہے ہیں۔

بلوچ قوم اپنی خودمختاری سمیت نہ صرف جسمانی و مالی اور مادی طور اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی اور جبر پر شدید ردعمل کا اظہار کرتا ہے بلکہ اپنی انا، عزت نفس اور وقار کے حوالے سے حد درجہ حساس ہے اور ان کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ ان 75 سالوں میں بلوچ کی انا، عزت نفس اور قومی وقار پر نہ صرف بار بار حملے کیے گئے ہیں بلکہ شعوری طور پر اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت انہیں کچلنے کی کوششیں کی جار رہی ہے جو بلوچ کے لئے ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ قبول ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ بلوچ سماج خواتین کے لئے ایک مثالی اور خامیوں سے مبرا معاشرہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ مگر یہ ماننا پڑے گا کہ بلوچ عورت کا احترام بلوچ قومی وقار سے مشروط ہے۔ خواتین کی تقدس کا تحفظ کسی کے مہذب خاندانی پس منظر اور سماجی رتبہ کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس حوالے سے بلوچ سماج میں عورت کو ایک خاص اہمیت اور مقام حاصل ہے۔ بلوچ تاریخ و روایات میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اگر دورانِ جنگ مدمقابل فریقین کے درمیان کوئی خاتون صلح کے لئے آتیں تو جنگ وہیں پر روک دی جاتی تھی اور مخالف فریق کا کوئی سربراہ احتراماَ اس عورت کے سر پر اپنی چادر لپیٹ دیتا۔

کئی جگہ بلوچوں میں آج بھی یہ رسم موجود ہے کہ اگر کسی فرد، خاندان یا قبیلہ کو کسی دوسرے سے کوئی مسئلہ درپیش ہے، آپس میں دشمنی ہے یا قتل کے واقعات تک پیش آئے ہوں تو ایسے میں وہ خاندان یا قبیلہ اپنی سرکردہ خواتین ( یعنی اپنی عزت و غیرت) کو فریقِ مخالف کے گھر بھیج دیتے ہیں۔ میزبان خاندان یا قبیلہ میں سے ایک سربراہ اور ذمہ دار فرد ان خواتین کے سر پر چادر ڈال کر (عزت و آبرو کا استعارہ) اس کی عرض کو سنتا اور عموماً قبول کرتا ہے جو ایک اخلاقی برتری اور سماجی رتبہ اور فخر مانا جاتا ہے۔

اگر مخالف فریق صلاح پر راضی نہ ہو تب بھی وہ ان خواتین کی عزت و احترام اور جان و مال کی حفاظت کا غیر مشروط طور پر ذمہ دار ہو تا ہے۔ اس کی نظیر نہیں ملتی کہ کسی بلوچ نے صلح کے لئے یا اپنی مدعا پیش کرنے کے لئے آئی ہوئی عورتوں کے احترام میں کوئی کوتاہی کی گئی ہو یا کسی بھی طرح سے نقصان پہنچایا ہو۔ بلوچ روایات میں سرعام یا کسی مجمع میں عورت کے سر سے چادر کھینچنا ایک بلوچ کے لیے ناقابل تصور عمل اور سرعام خواتین پر تشدد اور اس کی تذلیل انتہائی حساس معاملہ ہے۔ بلوچ تاریخ کی دو سب سے بڑی جنگیں عورت کے تقدس تحفظ کے لئے لڑی گئی ہیں اور بلوچستان موجودہ شورش کی ایک بڑی وجہ ڈیرہ بگٹی میں ایک خاتون ڈاکٹر کی بے حرمتی اور اس کے خلاف شہید نواب اکبر خان بگٹی کا دو ٹوک اور سخت موقف تھا جو ان کے قتل پر منتج ہوا، اور بلوچستان میں وہ آگ برپا کی جو مزید پھیلتی چلی جا رہی ہے۔

بلوچستان کے مخدوش حالات میں حالیہ وقفوں سے بلوچ خواتین کے خلاف کارروائیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے جس ایک وجہ بلوچ تحریک میں خواتین کا سرگرم و قائدانہ کردار اور دو مسلح کارروائیاں میں برائے راست خواتین کی شمولیت ہو سکتی ہے۔ مگر اس شورش کے آغاز سے ہی بلوچستان میں ایسے واقعات رونما ہوتے آ رہے ہیں جن کا ہدف بلوچ خواتین ہیں۔ مثلاَ نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کے بعد زرینہ مری کا مبینہ واقعہ اور ڈیرہ بگٹی و کوہلو کے علاقوں میں خواتین و بچوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کا الزام، 2021 کو تربت میں شہید ملک ناز بلوچ کا قتل ( قاتلوں پر سرکاری اداروں کے حمایت یافتہ گروہ سے ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے ) ، تربت میں سیکیورٹی اہلکار کی گولی سے بلوچ خاتون کی ہلاکت کا الزام، کینیڈا میں کریمہ بلوچ کی پراسرار موت اور بلوچ رائے عامہ کا موقف، جنگجوؤں کو پریشرائز اور زیر کرنے اور دوسرے بلوچوں کو عبرت دلا کر مسلح بغاوت سے دور رکھنے کی خاطر بلوچ باغیوں کے خاندان اور دیگر بلوچ خواتین کی اغوا نما گرفتاریاں اور ان کا میڈیا ٹرائل ایسے واقعات ہیں کہ جن کے سنگین اور سرکار کی توقعات کے بالکل برعکس نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ان تمام واقعات نے بلوچوں کو ریاست سے مزید متنفر کر کے نوجوانوں کے جذبات کو ابھارا ہے اور بلوچ بغاوت کو جواز اور مزید ایندھن فراہم کیا ہے۔

حالیہ دنوں اسلام آباد میں بلوچ خواتین و بچوں اور بزرگوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ بلوچستان کے پرتشدد حالات کی دوام اور سنگینی میں کئی گنا اضافہ کرے گا۔ اپنے پیاروں کی بازیابی اور بلوچستان میں جاری غیرقانونی و غیر آئینی اقدام و پالیسیوں کے خلاف پرامن اور قاعدہ آئینی و جمہوری راستہ اختیار کر کے ایک نہتی لڑکی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی سربراہی میں بلوچ خواتین و بچیاں اور بزرگ سینکڑوں میل کا فاصلے طے کر کے شہرِ اقتدار میں آ کر اپنا مدعا پیش کرنا چاہتے تھے تاکہ ان کی داد رسی ہو سکے۔

دراصل یہ تحریک ریاست سے متنفر زخم زدہ بلوچستان کے ان لوگوں کی نمائندہ ہے جو اب بھی ریاستی اداروں سے توقعات وابستہ کیے ہوئے اور بلوچستان میں پاکستان کے آئین و قانون کا اطلاق چاہتے تھے۔ یہ ان حقوق کا مطالبے کر رہے ہیں جو آئینِ پاکستان میں درج ہیں۔ ماورائے آئین و قانون اقدام کا خاتمہ اور ان کا ازالہ چاہتے ہیں۔ دانشمندی تو یہی تھی کہ اس لانگ مارچ کے شرکا کا اس طرح استقبال کیا جاتا کہ متضاد بیانیہ و طریقۂ کار پر عمل پیرا اور حامی طبقے کا موقف کمزور پڑتا، انھیں اخلاقی شکست کا احساس ہوتا، جبکہ ریاست اور ریاستی اداروں سے توقعات وابستہ کیے ہوئے لوگوں کے لئے مثبت مثال اور نئی امید پیدا ہوجاتی، مگر ہوا اس کے بالکل برعکس!

مظالم اور اپنے عزیز کی جدائی کا غم کا بوجھ اٹھائے اور سالوں سے غائب اپنے عزیزوں کی تصویریں ہاتھوں میں اٹھائے جب ”بلوچ لانگ مارچ“ کے شرکا شہرِ اقتدار کے دروازے پر پہنچے تو ایسا تاثر دیا گیا ہے جیسے کہ کوئی غیر ملکی شرپسند شہر پر حملہ آور ہونے آئے ہیں۔ شہر میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی۔ سینکڑوں میل کا فاصلہ طے کر کے آئے ان بے بس بلوچ بہن بیٹیوں ماؤں، شیرخوار بچوں اور بزرگوں نے لاچار ہو کر سخت سردی کے باوجود شہر کی داخلی شاہراہ کے ایک کنارے بیٹھنے کا فیصلہ کیا تو ان پر ٹھنڈا پانی برسایا گیا، آنسو گیس کے شیل داغے گئے، بلوچ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ”سر سے چادریں“ تک کھینچی گئیں، انھیں برہنہ سر کر کے گھسیٹا اور مارا گیا، زندانوں ڈھال کر جسمانی تشدد کے ساتھ ناقابل بیان حد تک ان کی تذلیل کی گئی اور ذہنی اذیتوں سے گزارا گیا۔

بہت سے بلوچ ایک متاثرہ تیرہ سالہ بچی ماہ زیب بلوچ کے ساتھ قید کے دوران ہونے والے سلوک کے بارے میں عائد کیے جانے والے الزامات کو سچ مانتے ہیں۔ رہائی کے بعد ماہ رنگ بلوچ کے لہجے اور چہرے کے کرب کو ہر بلوچ نے دیکھا اور محسوس کیا ہے اور اس کے پس منظر کے بارے میں بہت دلخراش الزامات سننے میں آ رہے ہیں۔ اس پورے واقعہ کے ناقابل یقین حد تک بہیمانہ مناظر سوشل میڈیا پر برائے راست نشر ہو رہے تھے۔ اس سے زیادہ برا کیا ہو سکتا ہے؟

”حب الوطنی اور اسلامی جذبے سے سرشار پاکستانی میڈیا“ کشمیر اور فلسطین میں اپنے مسلم بھائیوں پر ہونے والے مظالم دکھانے میں مصروف رہا، مگر بین الاقومی میڈیا بلوچ لانگ مارچ پر ہونے والی بربریت بھی دیکھ رہا تھا۔ انسانی حقوق کے عالمی ادارے و شخصیات اور بین الاقوامی برادری اس غیر انسانی و غیر جمہوری عمل کی مذمت اور لانگ مارچ شرکا کی آئینی و انسانی حقِ کی حمایت کر رہا تھا۔ اس واقعہ کی گونج یورپی یونین اور برطانیہ کے ایوان میں بھی سنائی دی گئی۔ اس کے علاوہ پاکستان کا انسان دوست اور باشعور طبقہ اور عوام کی اکثریت دکھ و شرمندگی اور افسوس و مذمت کا اظہار کرتا رہا اور میلوں دور سے آئے اپنے مظلوم بلوچ ماں بہن بیٹوں بزرگوں اور شیر خوار بچوں کا ہمدرد و ہمنوا بن بن گیا۔

اس واقعہ کا سب سے اہم اور قابل غور بات یہ ہے اسے تمام بلوچوں نے دیکھا! اس کی تصویریں اور ویڈیوز بلوچستان کے ہر گھر اور جھونپڑی سمیت دنیا میں بھر میں پھیلے بلوچوں تک بھی پہنچی ہیں۔ بلوچی کہاوت ہے کہ (ترجمہ) ”آگ کی شدت کو وہی محسوس کرتا ہے جو جل رہا ہو“ صنف و عمر، قبیلہ اور طبقہ کی تفریق کے بغیر اسلام آباد میں لگی اس آگ کی تپش اور جلن کو ہر بلوچ نے اپنے گھر کے آنگن اور اپنے وجود پر محسوس کیا ہے۔ اس واقعہ کے فوری ردعمل میں بلوچستان میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ حالات کی سنگینی کا غماز ہے۔

اس دوران بلوچستان کا زمینی رابطہ ملک کے دیگر حصوں سے کٹ چکا تھا۔ ہر شہر ہر علاقہ سراپا احتجاج تھا اور معمولاتِ زندگی مکمل درہم برہم ہو گئے تھے۔ کراچی سمیت ملک کے دیگر صوبوں کے بلوچ اکثریت علاقوں اور دیگر ممالک میں مقیم بلوچوں نے احتجاج اور شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ بلوچستان میں عملاَ ایسی صورت حال پیدا ہو چکی ہے کہ بلوچ پارلیمانی پارٹیاں انتخابی مہم چلانے سے قاصر ہیں۔ حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ اگر کوئی سیاسی کارکن ہمت سمیٹ کر عوامی فورم میں بات یا سوشل میڈیا پر اپنی پارٹی کی حمایت یا ووٹ کاسٹ کرنے کے حق میں کوئی پوسٹ یا درخواست شیئر کرتا ہے تو اسے عوام کے شدید غم و غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلی مرتبہ مذہبی طبقہ (جس کی اکثریت کو سرکار کا حامی سمجھا جاتا ہے ) اس واقعہ کی مذمت کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ آڈیوز اور ویڈیوز کے علاوہ نمازِ جمعہ کے خطبات میں اس عمل کی مذمت اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ تو اسلام آباد واقعہ کے فوری ردعمل ہیں۔ لیکن یہ غم و غصہ تھما نہیں ہے بلکہ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ادوار میں بلوچ و بلوچستان کے ساتھ جو کچھ ہوا یا ہوتا آ رہا ہے وہ سب اپنی جگہ، مگر 22 دسمبر سے 23 دسمبر تک اسلام آباد میں بلوچ لانگ مارچ کے شرکا اور خاص کر خواتین و بچوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، وہ کسی بھی طرح سے ریاست کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہاں مجھے ملکی فیصلہ ساز قوتوں کی ذہنی استعداد اور پالیسیوں کے بارے میں پاکستان کی حقیقی محب الوطن عظیم خاتون مرحوم عاصمہ جہانگیر کے یہ جملے بار بار یاد آ رہے ہیں کہ ”جتنی ان کی عقل ہے وہ اتنا ہی کریں گے، انہی کی پالیسیوں نے ملک کو اس نہج پر لاکر کھڑا کر دیا ہے“ ۔

حالانکہ ریاستی فیصلہ ساز با اختیاروں کے لئے بلوچوں کی اعتماد سازی اور عوامی سطح پر کافی حد تک دوریوں کو نزدیکیوں میں بدلنے کا نادر موقع تھا۔ مگر ”طاقت کا غلط استعمال طاقتور کی سب سے بڑی کمزوری ہے“ اور ریاست کے طاقتور فیصلہ سازوں نے اسلام آباد واقعے سے بلوچوں کو جو پیغام دیا ہے، وہ پیغام بالکل ایک متضاد شکل میں بلوچوں تک پہنچ گیا ہے۔ دوراندیشی سے محروم طاقت آماؤں کے تنبیہ آمیز پیغام کے نتائج ان کے مطلوبہ نتائج کے برعکس اور عشروں پر محیط ہوں گے اور نسلوں تک چلیں گے۔ کیونکہ نہ صرف آج کے بلوچ بزرگ و نوجوان اور بچوں بچیوں نے یہ سب کچھ دیکھا ہے بلکہ حسبِ روایت یہ واقعہ اشعار اور داستانوں کی شکل میں آنے والی نسلوں میں بھی منتقل ہوتی رہے گی۔

Facebook Comments HS