کچھ بھولے بسرے گلوکاروں کے لازوال گیت!

اس تحریر میں ہم کچھ ایسے گلوکاروں کا تذکرہ کریں گے جنھوں نے کم ہی گایا جو کسی ایک گیت یا غزل کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے اور پھر لوگ انہیں بھول بھال گئے۔ لیکن اس سے ان کے موسیقی کے فن کے لیے خدمات کم نہیں ہو جاتیں۔
مائے نی میں کینوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
دکھاں دی روٹی، سولاں دا سالن
آہیں بالن بال نی
حامد علی بیلا کی آواز میں شاہ حسین کا عارفانہ کلام سنیے۔ حامد علی بیلا نے گلے میں بڑی سی مالا پہنی ہوئی ہوتی تھی۔ ملنگوں جیسا حلیہ اور یوں آواز کا تاثر دیتے کہ محسوس ہوتا تھا، کہ جیسے ایک دکھی بیٹا اپنی ماں کو اپنا دکھ بیان کر رہا ہو۔
احمد جہانزیب
احمد جہاں زیب نے ”اک بار کہو تم میری ہو“ کیا زبردست غم۔ میں ڈوب کر گایا ہے۔ یہ گیت سننے والوں پر غم کا گہرا تاثر اجاگر کرتا ہے۔ احمد جہاں زیب نے کم گیت گائے ہیں لیکن یہ گیت ان کی پہچان بن گیا ہے۔
جمال شاہ
جمال شاہ گلوکار و اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مصنف، ہدایت کار اور پینٹر بھی ہیں۔ ان کا شکیلہ ناز کے ساتھ گایا پشتو گیت کیا ہی زبردست ہے۔
مائی بھاگی
”کھڑی نیم کے نیچے ہو ہے بھلی“ مائی بھاگی نے اسے گاتے ہوئے چرخہ چلا کر اندرون سندھ کی ثقافت کو نمایاں کیا ہے۔
خلیل حیدر
خلیل حیدر نے ناصر کاظمی کی لکھی غزل ”نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے“ گا کر دھوم مچا دی تھی۔ یہ غزل گاتے ہوئے ان کے چہرے کے تاثرات، آواز کے زیرو بم کے ساتھ مطابقت رکھتے تھے۔
ریشماں
ریشماں نے اردو نہ جاننے کے باوجود ”میری ہمجولیاں“ کیا ہی زبردست انتہائی سوز و گداز کے عالم میں گایا ہے۔
ثریا ملتانیکر
ثریا نے ویسے تو بہت سے گیت گائے لیکن دیبو بھٹاچاریہ کی موسیقی میں ”بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے“ کی کیا ہی بات ہے۔ خاص طور پر یہ شعر کہ ”میرے دل کے زخموں کو نیند آ رہی ہے انہیں تم جگانے کی کوشش نہ کرنا“ کیا ہی اعلی ہے۔
روبینہ قریشی
مصطفی قریشی کی بیگم روبینہ قریشی نے ایک پنجابی زبان کا گیت گایا اور کیا ہی خوبصورت گایا ہے۔ ”ڈاچی والیا، موڑ مہاڑ وے، تیڈی ڈاچی دے گل وچ ٹلیاں، میں تہ پیر مناون چلیاں“
روبینہ بدر
روبینہ بدر نے ویسے تو کافی گیت گائے لیکن ان کا سب سے مشہور گیت پی ٹی وی کے لیے ”تم سنگ نیناں لاگے، مانے نہ ہی جیا را“ ہے۔ ساڑھی پہنے اور گلے میں موتیے کے پھولوں کے گجرے کے ساتھ یہ گیت گاتے ہوئے وہ بہت پروقار نظر آتی ہیں۔
فیصل لطیف
فیصل لطیف نے سنہ نوے کی دہائی میں کچھ گیت اور غزلیں گائی ہیں۔ جن میں پی ٹی وی کے سلسلے ”ایک محبت، سو افسانے“ کے کھیل ”آنکھیں“ کے لیے ایک غزل نما گیت ”بے قراری کیوں ہو رہی ہے“ گایا جو بہت مقبول ہوا۔
صدف اقبال
صدف نے بھی نوے کی دہائی میں ٹی وی اور فلموں کے لیے کچھ گیت گائے جیسے پی ٹی وی کے ڈرامے کے لیے ”زندگی اک بار ملتی ہے، بن جاؤ میری زندگی اک بار تم“ لیکن ہمیں ان کی فیصل لطیف کے ساتھ پی ٹی وی کے ایک دوسرے ڈرامے کے لیے گائی گئی نظم ”فرض کرو ہم اہل وفاء ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں“ بہت اچھی لگتی ہے۔
مسعود ملک
فاروق قیصر کی لکھی ہوئی غزل ”ہم تم ہوں گے باد ہو گا، رقص میں سارا جنگل ہو گا“ کو مسعود ملک نے کیا ہی خوبصورت انداز میں گایا ہے۔ پھر اس کی پی ٹی وی نے کیا ہی زبردست ویڈیو بنائی تھی جس میں مسعود ملک کی اداکاری، حلیہ اور ساتھ ہی بادلوں کی گھن گرج کی آواز کو بہت ہی موقع محل کی مناسبت سے استعمال کیا گیا تھا۔
بیگم عزیز
بیگم عزیز کے کل دو ہی گیت اس وقت دستیاب ہیں۔ ”شکست ساز کا نغمہ ہے التجاء میری سنو گے، پھر نہ سنو گے کبھی صدا میری“ اور ”اب دو عالم سے صدائے ساز آتی ہے مجھے“ جو عبدالحمید عدم کی غزل ہے۔ جبکہ شکست ساز کا نغمہ سنتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بیگم عزیز اپنی زندگی کا غم بیان کر رہی ہیں۔
